امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ چند روز میں جنگ بندی کے لیے ایک نیا ترمیمی منصوبہ پیش کر سکتا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے دورے کے بعد تہران واپس جا کر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کریں گے تاکہ نئے منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی محدود دستیابی کے باعث رابطوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہے۔
سی این این کے مطابق اس سے قبل ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی جس میں جوہری پروگرام کے معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور فاصلہ اتنا زیادہ نہیں جتنا ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جاری بات چیت ایک مرحلہ وار حکمت عملی پر مبنی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنا اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ یا ٹیکس کے کھولنا شامل ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے گی۔
ایران جلد جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کرے گا
