جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار نہایت مہارت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور وہ اپنے مؤقف کو مضبوط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں جرمن چانسلر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ان کی حکمت عملی منظم نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی پوزیشن سفارتی سطح پر مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکا کی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ واشنگٹن اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جرمن چانسلر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک بھی ایران امریکا مذاکرات کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اس کے نتائج عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایرانی مذاکرات کار مہارت سے آگے بڑھ رہے ہیں، جرمن چانسلر
-

واٹس ایپ میں نیا ببل فیچر، بات چیت ہوگی مزید آسان
واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور کارآمد فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت بات چیت کا انداز مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق میٹا کی ملکیت میں موجود اس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں نوٹیفکیشن ببلز کی آزمائش جاری ہے۔
یہ فیچر دراصل اینڈرائیڈ 10 میں پہلے سے موجود ببل سسٹم پر مبنی ہے، جسے اب واٹس ایپ میں شامل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے جب بھی کسی صارف کو نیا میسج موصول ہوگا تو وہ اسکرین پر ایک فلوٹنگ ببل کی صورت میں ظاہر ہوگا، چاہے صارف کسی اور ایپ میں مصروف کیوں نہ ہو۔
اس ببل میں متعلقہ کانٹیکٹ یا گروپ کی پروفائل تصویر کے ساتھ واٹس ایپ کا چھوٹا آئیکون بھی دکھائی دے گا، جس سے فوری اندازہ ہو جائے گا کہ نیا پیغام آیا ہے۔ صارف اس ببل پر کلک کر کے براہ راست چیٹ کھول سکے گا، جہاں وہ میسج پڑھنے اور جواب دینے کی سہولت حاصل کرے گا، بغیر مکمل ایپ کھولے۔
اس نئے فیچر سے صارفین کو ملٹی ٹاسکنگ میں خاصی آسانی ملے گی۔ مثال کے طور پر ویڈیو دیکھتے ہوئے یا کسی اور ایپ کا استعمال کرتے ہوئے بھی چیٹس کا جواب دیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایک وقت میں متعدد چیٹس کو سنبھالنا بھی آسان ہو جائے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگا جو بیک وقت کئی کام انجام دیتے ہیں اور فوری ردعمل دینا چاہتے ہیں۔ -
ایران نے اسٹیل برآمدات عارضی معطل کر دیں
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے اسٹیل سلیب اور شیٹس کی برآمدات کو 30 مئی تک عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اسے حالیہ حالات سے جوڑا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی اسٹیل انڈسٹری کو حالیہ کشیدگی کے دوران شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ملک کی سالانہ اسٹیل پیداوار کی صلاحیت کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ بند ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موبارکہ اسٹیل کمپنی اور خوزستان اسٹیل کمپنی جیسے بڑے صنعتی ادارے بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اپریل کے آغاز میں خوزستان اسٹیل کمپنی کے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت اور آپریشنز کی بحالی میں 6 سے 12 ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹیل ایران کی اہم غیر تیل برآمدات میں شامل ہے، اس لیے اس شعبے میں رکاوٹ نہ صرف ملکی معیشت بلکہ زر مبادلہ کی آمدن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ برآمدات کی معطلی سے عالمی مارکیٹ میں بھی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو ایرانی اسٹیل پر انحصار کرتے ہیں۔ -

جمعہ کی چھٹی ختم، اسکول معمول پر آئیں گے
صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اسکولوں میں جمعہ کی چھٹی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چھٹی مستقل نہیں رہے گی اور جلد ختم کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو دوبارہ معمول کے ہفتہ وار شیڈول پر لایا جا رہا ہے۔
وزیر تعلیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جمعہ کی چھٹی کو مستقل بنانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں یہ سہولت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور طلبہ کو روایتی شیڈول کے مطابق اسکول آنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ فیصلے کو بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عارضی نوعیت کا تھا جسے مخصوص حالات کے تحت متعارف کروایا گیا تھا۔
رانا سکندر حیات نے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بھی وضاحت کی اور کہا کہ چھٹیوں کے دورانیے یا شیڈول کے بارے میں حتمی فیصلہ 15 مئی کے بعد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے کوئی بھی اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔
یاد رہے کہ عالمی سطح پر توانائی بحران اور پیٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی دی گئی تھی، جس کے تحت طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اب حالات میں بہتری کے بعد حکومت نے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ -

آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی، پاکستان کو قسط متوقع
پاکستان کے قرض پروگرام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر سے زائد رقم کی منظوری دی جا سکتی ہے، جو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور آر ایس ایف کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس رقم کا مقصد پاکستان کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنا اور مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، جبکہ آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے بعد مزید 210 ملین ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ فنڈز زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد اب اس پروگرام کو اگلے مرحلے میں لے جانے کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اس قسط کی منظوری پاکستان کے لیے مثبت اشارہ ہوگی، جس سے نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔ -

نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم
اسرائیل کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں نے آئندہ انتخابات کے لیے مشترکہ اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ نے اپنی جماعتوں کو یکجا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد موجودہ حکومت کو شکست دینا اور ایک مضبوط متبادل قیادت سامنے لانا ہے۔
یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کو متحد کرنا، اختلافات کو ختم کرنا اور تمام تر توانائیاں آئندہ انتخابات جیتنے پر مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک واضح سمت دینے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی سیاسی جماعت کا نام ’ٹوگیدر‘ رکھا گیا ہے، جو مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی علامت ہے۔
یاد رہے کہ بینیٹ اور لیپڈ اس سے قبل بھی اتحاد کر چکے ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں انہوں نے نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا، تاہم ان کی مشترکہ حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور تقریباً 18 ماہ بعد ختم ہو گئی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اتحاد نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل داخلی اور خارجی سطح پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ -

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، 85 شدت پسند ہلاک
خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 85 شدت پسند مارے گئے، تاہم ان واقعات میں جانی نقصان بھی قابلِ تشویش رہا۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے مجموعی طور پر 119 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 67 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق صوبے کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر 475 مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں 1427 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 107 ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 27 اہلکار فرنٹیئر کور کے شامل ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی ان حملوں کا نشانہ بنی۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات میں 298 شہری اور 45 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق عوام کے تعاون سے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ -

وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت
واشنگٹن میں صحافیوں کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں نے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوری اقدار اور صحافتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ امریکی صدر، خاتون اول اور دیگر شرکا اس واقعے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اداروں اور آزاد صحافت کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے صدر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت اور تشدد کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس حملے کو افسوسناک قرار دیا۔
جرمن چانسلر کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف ایک ملک بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
عالمی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں جمہوری نظام اور صحافتی آزادی کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔ -

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عاصم منیر کی اہم ملاقات
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس موقع پر باہمی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے امور بھی زیر بحث آئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ دراصل مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سے قبل بھی ایرانی وزیر خارجہ مختلف ممالک کے دورے کر چکے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ -

ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جلد ختم ہوگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور امریکا اس میں کامیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور معاملات فون کے ذریعے بھی طے کیے جا سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں کچھ عناصر ایسے ہیں جن سے بات چیت ممکن ہے جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو معاملات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کشیدگی کم کرنے کی جانب قدم بڑھائے گا۔
امریکی صدر نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مذاکرات کا حصہ ہوگا اور امریکا اس حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔ انہوں نے چین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر مایوس نہیں ہیں، تاہم چین مزید مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صورتحال ختم ہونے کے قریب تھی تو برطانیہ کی جانب سے بعد میں مدد کی پیشکش کی گئی، جو ان کے مطابق مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنی پوزیشن بھی مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس صورتحال میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔