امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایرانی وفد کی پاکستان آمد کی خبر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بہتری پیدا کر دی ہے۔ منفی رجحان کے بعد مارکیٹ میں اچانک تیزی دیکھی گئی اور ہنڈریڈ انڈیکس نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 1 ہزار 498 پوائنٹس کے اضافے کے بعد ایک لاکھ 70 ہزار 672 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل پہلے سیشن میں صورتحال مختلف تھی جہاں انڈیکس 2 ہزار 165 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 67 ہزار 7 پوائنٹس تک گر گیا تھا، تاہم سفارتی پیش رفت کی خبر سامنے آتے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ مثبت زون میں آ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی کی امید سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہوتی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 2 ڈالر کمی دیکھی گئی اور یہ 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی اور سفارتی پیش رفت دونوں عوامل نے مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں امن کی فضا قائم ہوگی بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران امریکا مذاکرات کی خبر پر اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی
-

آبنائے ہرمز مشن سے قبل امریکی اہلکار بندر کے حملے میں زخمی
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تلاش کے مشن پر جانے والے امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کو تھائی لینڈ میں بندر کے حملے کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحری جہاز جنوب مشرقی ایشیا میں رکے ہوئے تھے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس چیف اور یو ایس ایس پائینیئر نامی مائن سویپر جہازوں کو اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ تاہم تھائی لینڈ کے شہر پھوکٹ میں قیام کے دوران ایک نیوی الیکٹرانکس ٹیکنیشن پر ساحل کے قریب ایک بندر نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اسے معمولی خراشیں آئیں۔
رپورٹس کے مطابق زخمی اہلکار کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں بہتر علاج کے لیے جاپان کے شہر ساسیبو میں واقع امریکی بحریہ کے فارورڈ بیس منتقل کر دیا گیا۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ اہلکار کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسے احتیاطی تدابیر کے تحت واپس بھیجا گیا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے مائن سویپر جہاز یو ایس ایس چیف کے مشن پر کوئی اثر نہیں پڑا اور آپریشن اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ ان جہازوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانا ہے تاکہ عالمی بحری راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سکیورٹی کے کسی بھی خطرے سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ -

ایران مذاکرات میں جوہری ماہرین کی شمولیت ضروری، یورپی یونین کا مطالبہ
یورپی یونین نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت میں جوہری ماہرین کو شامل کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر ایک کمزور معاہدہ سامنے آ سکتا ہے جو خطے کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالس نے قبرص میں یورپی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھے جائیں اور اس میں ماہرین شامل نہ ہوں تو حاصل ہونے والا نتیجہ ماضی کے جوہری معاہدے سے بھی کمزور ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ڈیل میں صرف جوہری پہلو ہی نہیں بلکہ دیگر اہم معاملات کو بھی زیر غور لانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت، اور یورپ میں سائبر و ہائبرڈ سرگرمیوں جیسے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کاجا کالس کا کہنا تھا کہ اگر ان تمام پہلوؤں کو مذاکرات کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ایک زیادہ خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ کی سکیورٹی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
یورپی یونین کے اس مؤقف کو ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی طاقتیں ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی تلاش میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مذاکرات میں تکنیکی ماہرین کی شمولیت نہایت اہم ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو عملی اور مؤثر بنایا جا سکے اور مستقبل میں تنازعات سے بچا جا سکے۔ -

ایران کے پاس اب بھی سفارتی راستہ موجود ہے: وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ
امریکا کے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم واشنگٹن نے دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران 34 تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا جبکہ دو ایسے جہازوں کو تحویل میں لیا گیا جو ایران سے روانہ ہوئے تھے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی شرائط کے تحت ہی گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خلیج عمان پہنچ جائے گا، جس سے خطے میں امریکی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔
امریکی وزیر جنگ نے ایران کی پاسداران انقلاب پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحری قزاقوں جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پکڑے گئے جہاز امریکا یا اسرائیل کے نہیں تھے، بلکہ غیر مسلح تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمندری حدود میں اس نوعیت کی سرگرمیاں عالمی قوانین کے خلاف ہیں اور امریکا ان کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کوئی بھی چھوٹی کشتی اور اسلحہ استعمال کر کے غیر مسلح جہازوں پر قبضہ کر سکتا ہے، جسے روکنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ -

تنازعات کے پُرامن حل کا اعادہ: یومِ امن پر وزیراعظم کا پیغام
وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جن کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری میں مضمر ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن، مذاکرات اور باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پاکستان کی جاری ثالثی کوششیں اسی سوچ کی عکاس ہیں، جہاں اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت اپنی مستقل وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی قوانین کی پاسداری کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں عالمی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو کشیدگی کو کم کریں اور پائیدار امن کی بنیاد رکھیں۔ وزیراعظم کے مطابق مذاکرات، اعتماد سازی اور تعاون ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے دنیا کو درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ -

نیتن یاہو کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس کا بروقت اور کامیاب علاج کر لیا گیا ہے اور اب وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے بتایا کہ ان کی سالانہ طبی رپورٹ جاری کی گئی ہے لیکن انہوں نے اس کی اشاعت کو دو ماہ تک مؤخر رکھنے کی درخواست کی تھی تاکہ جنگ کے دوران اس خبر کو اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پروسٹیٹ کا ایک معمولی مسئلہ لاحق تھا جس کا مکمل علاج کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اس وقت بہترین جسمانی حالت میں ہیں اور صحت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔
نیتن یاہو نے مزید بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل ان کا پروسٹیٹ کے سائز میں اضافے کا کامیاب آپریشن بھی کیا گیا تھا۔ حالیہ طبی معائنے کے دوران پروسٹیٹ میں ایک چھوٹا سا نشان سامنے آیا جو ایک سینٹی میٹر سے بھی کم تھا۔
انہوں نے کہا کہ مزید جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ کینسر کا ابتدائی مرحلہ تھا اور خوش قسمتی سے یہ جسم کے دیگر حصوں تک نہیں پھیلا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہدفی علاج کے ذریعے اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور اب اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ -

اسرائیل لبنان جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع، ٹرمپ پرامید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں حالات خاصے غیر مستحکم رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امن کے قیام کے حوالے سے کافی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات ایسے ہیں کہ ایک ممکنہ امن معاہدہ طے پا سکتا ہے اور یہ عمل توقع سے زیادہ آسان بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر ایک ممکنہ تاریخی سہ فریقی ملاقات کا بھی عندیہ دیا، جس میں امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی تاریخ یا تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، خطے میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ -

پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطے، خطے میں امن کیلئے مشاورت تیز
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتحال اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس رابطے کے دوران جنگ بندی، سکیورٹی خدشات اور جاری سفارتی اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل رابطہ اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے فوری پیش رفت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ تعمیری سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے اور سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے مسائل کے حل کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔ -

کشتواڑ میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ
مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پھیل گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ کوئی بڑا طیارہ ہو سکتا ہے تاہم اس کی حتمی نوعیت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آیا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ گرنے والا طیارہ کس نوعیت کا تھا، تاہم قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ سی 130، سی 17 یا ایواکس طیارہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ میڈیا رپورٹس بھی محدود معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد دھماکے کی آواز سنی گئی اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم خراب موسم یا تکنیکی خرابی کو ممکنہ وجوہات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کوئی بڑا فوجی طیارہ حادثے کا شکار ہوا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف دفاعی سطح پر بلکہ سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری طاقت میں اضافہ، ایک اور طیارہ بردار جہاز پہنچ گیا
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بُش بحر ہند میں داخل ہو کر سینٹکام کے دائرہ اختیار میں شامل ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خطے میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے، جس سے امریکا کی بحری طاقت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کسی بھی ملک کی سمندری طاقت کا اہم حصہ ہوتے ہیں، جو نہ صرف جنگی طیاروں کی نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں بلکہ فوری ردعمل کی صلاحیت بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس اضافی تعیناتی سے امریکا کو خطے میں آپریشنل برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور عالمی بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار اس تعیناتی کو بڑھتی ہوئی ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
خطے میں پہلے ہی جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس نئی تعیناتی سے سفارتی اور عسکری سطح پر مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔