امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 1,907 پوائنٹس کمی کے بعد 1 لاکھ 69 ہزار 671 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
ایشیا کی دیگر مارکیٹس میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.9 فیصد کمی جبکہ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی شیئر مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 0.9 فیصد اضافہ سامنے آیا۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معاشی عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑی سفارتی پیش رفت کے منتظر ہیں، جو مارکیٹ کے رخ کا تعین کرے گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران امریکا کشیدگی، تیل مہنگا اور عالمی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار
-
پنجاب میں واٹس ایپ ہیکنگ فراڈ میں اضافہ، ہنگامی ایڈوائزری جاری
پنجاب میں واٹس ایپ ہیکنگ اور نقالی پر مبنی فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں تمام سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں حاضر سروس سرکاری افسران کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیکیورٹی خدشات کو بڑھایا ہے بلکہ سرکاری نظام میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
حکام کے مطابق سائبر مجرم ہیک شدہ اکاؤنٹس کے ذریعے افسران کے قریبی رابطوں، ساتھیوں اور ماتحت عملے کو جعلی پیغامات بھیجتے ہیں۔ ان پیغامات میں عموماً فوری مالی مدد کی درخواست کی جاتی ہے، جس سے کئی افراد دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ فراڈیے عوامی طور پر دستیاب معلومات جیسے نام، عہدہ اور تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے انتہائی قابلِ یقین ڈیجیٹل شناخت تیار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہری اور سرکاری ملازمین باآسانی دھوکے میں آ جاتے ہیں۔
محکمہ داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی فوری نشاندہی کریں، سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط بنائیں اور عوام میں بھی آگاہی پیدا کریں تاکہ اس بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی مشکوک پیغام یا مالی درخواست کی تصدیق ضرور کریں اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں، تاکہ اس قسم کے فراڈ سے بچا جا سکے۔ -

مری میں قبرستان کے قریب نومولود بچی برآمد، محفوظ مقام منتقل
مری کے علاقے بھربن کہیا میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نومولود بچی کو قبرستان کے قریب لاوارث حالت میں پایا گیا۔ واقعے کے بعد ریسکیو 1122 نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچی کو محفوظ مقام منتقل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح ایک راہگیر نے قبرستان کے قریب بچی کو دیکھا اور فوراً ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیم موقع پر پہنچی اور بچی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ موقع پر ہی ابتدائی طبی معائنہ کیا گیا اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔
بعد ازاں بچی کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مری منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی مکمل دیکھ بھال کی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کو نگرانی میں رکھا گیا تاکہ اس کی صحت کو مستحکم بنایا جا سکے۔ خوش قسمتی سے معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
طبی امداد کے بعد بچی کو پنجاب حکومت کے تحت چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو راولپنڈی کے حوالے کر دیا گیا، جہاں اس کی مزید دیکھ بھال اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بچی کو وہاں کون چھوڑ کر گیا یا وہ کتنی دیر سے اس حالت میں موجود تھی۔ واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ -

غزہ کے کیمپوں میں چوہوں کی یلغار، فلسطینی خوف میں مبتلا
غزہ میں جاری انسانی بحران کے درمیان ایک نئی سنگین صورتحال سامنے آئی ہے جہاں مہاجر کیمپوں میں چوہوں کی یلغار نے فلسطینیوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ خیموں میں مقیم ہزاروں افراد، خاص طور پر بچے، اس خطرناک صورتحال کے باعث شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
متاثرہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ چوہوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے اور یہ جانور اب زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ چوہے انسانی باقیات کھانے کے بعد مزید خونخوار ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے حملے زیادہ شدید اور خطرناک ہو گئے ہیں۔
رہائشیوں کے مطابق رات کے وقت چوہوں کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور وہ خیموں میں داخل ہو کر لوگوں پر حملہ کرتے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
کیمپوں میں صفائی کے ناقص انتظامات، خوراک کی قلت اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں اس مشکل وقت میں کوئی مؤثر مدد فراہم نہیں کی جا رہی اور وہ خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور امدادی ادارے اس صورتحال کو ایک سنگین انسانی المیہ قرار دے رہے ہیں اور فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بیماریوں اور مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ماہرین صحت کے مطابق چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف جسمانی حملوں کا خطرہ بڑھاتی ہے بلکہ مختلف مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار آبادی کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ -

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات
ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ بیان ایک بین الاقوامی اخبار کو دی گئی گفتگو میں سامنے آیا جس کے بعد اس خبر نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت ہوش میں ہیں اور انہیں طبی ماہرین کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ تاہم ان کی حالت کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی حملے کی نوعیت یا مقام کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
اس خبر کی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس قسم کی اطلاعات کو محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو اس کے سیاسی اور سکیورٹی اثرات نہایت اہم ہو سکتے ہیں، کیونکہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی طاقتور شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور انہیں مستقبل میں اہم کردار کے لیے بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔
خطے میں ایران اور دیگر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس طرح کی خبریں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
حالات کے پیش نظر مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ اس خبر کی حقیقت واضح ہو سکے۔ -

اچھرہ میں دل دہلا دینے والا انکشاف، تین بچوں کی قاتل ماں نکلی
لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کم سن بچوں کے لرزہ خیز قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ بچوں کی قاتل ان کی سگی ماں ہی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے، جس کے بعد کیس میں نئی سمت سامنے آ گئی ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران بچوں کی والدہ کا رویہ مشکوک پایا گیا، جس پر مزید تفتیش کی گئی۔ شواہد اور بیانات کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے خلاف مضبوط کیس تیار کیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ خاتون نے منصوبہ بندی کے تحت یہ افسوسناک واردات انجام دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمہ نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے ایک کہانی بنانے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق خاتون گھر سے میڈیکل کے بہانے نکلی اور بعد میں اپنے شوہر کو فون کر کے واپس بلایا، جبکہ واپسی پر حالات کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ نے قتل کا الزام اپنی ساس پر ڈالنے کی کوشش کی، تاہم شواہد نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ رات ہونے والا گھریلو جھگڑا اس واقعے کی ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے، تاہم اس پہلو پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ آج صبح اسی گھر سے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں بے دردی سے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا، جس پر پورے علاقے میں شدید صدمہ اور خوف کی فضا پھیل گئی تھی۔ -

کراچی میں ٹریفک حادثہ، 6 سالہ بچہ جاں بحق
کراچی کے علاقے داؤد چورنگی میں پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں 6 سالہ بچہ طلحہٰ جان کی بازی ہار گیا۔ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں ایک تیز رفتار ٹریلر کو موٹر سائیکل سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بچہ اپنے ماموں کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھا کہ اچانک ٹریلر نے انہیں ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا اور شہریوں نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد ٹریلر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا اور گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں اور ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے یہ تعین کیا جائے گا کہ حادثہ کس کی غفلت کے باعث پیش آیا، آیا موٹر سائیکل سوار اوورٹیک کر رہا تھا یا ٹریلر تیز رفتاری سے چل رہا تھا۔
متوفی بچے کے ماموں کا کہنا ہے کہ سڑک پر جگہ جگہ گڑھے ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، جو شہر میں انفراسٹرکچر کی خراب حالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بھاری گاڑیوں کی بے قابو رفتار اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں آئے روز قیمتی جانیں لے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ملیر کے علاقے میں بھی ایک ٹریلر کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوا تھا، جس کے بعد ٹریفک انتظامات پر سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بھاری گاڑیوں کی نگرانی سخت کی جائے اور سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

اسرائیل میں جاسوسی کا انکشاف، فضائیہ کے دو انجینئر گرفتار
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی فضائیہ سے وابستہ دو انجینئرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں افراد پر حساس فوجی معلومات لیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں انجینئر اشدود کے قریب واقع تل نوف ایئر بیس پر تعینات تھے، جہاں وہ جدید F-15 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال اور تکنیکی امور پر کام کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے دوران ان طیاروں سے متعلق خفیہ ڈیٹا اور تکنیکی معلومات ایران تک پہنچائیں۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور سکیورٹی ادارے مزید تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں مزید افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ معلومات قومی سلامتی کے لیے نہایت حساس نوعیت کی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جدید لڑاکا طیاروں سے متعلق معلومات کا افشا ہونا دفاعی حکمت عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اس حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ -

ایران میں موساد سے مبینہ روابط پر ایک شخص کو سزائے موت
ایران میں ایک شخص کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے مبینہ تعلقات کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلطان علی شیرزادی فخر نامی شخص کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پھانسی دی گئی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم پر الزام تھا کہ وہ موساد کے ساتھ رابطے میں تھا اور حساس معلومات فراہم کرنے میں ملوث رہا۔ ایرانی حکام کے مطابق کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اسے سزائے موت سنائی، جس پر عملدرآمد کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے اور ایسے کیسز میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ تاہم اس معاملے کی مزید تفصیلات، جیسے کہ فراہم کی گئی معلومات یا نیٹ ورک کی نوعیت، عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس قسم کی سزاؤں پر اکثر انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، لیکن ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں سخت اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ -

ٹرمپ کا نیا قدم، اریٹریا سے تعلقات بحالی کی کوشش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک نئی سفارتی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت افریقی ملک اریٹریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بحیرۂ احمر کے علاقے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے ملک کے ساتھ روابط بحال کرنے پر غور کر رہی ہے جو طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، مگر اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اس خطے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اریٹریا کو اکثر ’’افریقہ کا شمالی کوریا‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا حکومتی نظام سخت اور بند نوعیت کا ہے۔
اریٹریا کی سب سے بڑی اہمیت اس کی بحیرۂ احمر کے ساتھ تقریباً 700 میل طویل ساحلی پٹی ہے، جو عالمی تجارتی راستوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایران کے ممکنہ اثر کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر مشیر مسعد بولس نے مختلف ممالک کے نمائندوں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا اریٹریا پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کئی دہائیوں سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانا اور سفارتی سطح پر نئی شروعات کرنا ہے۔
دوسری جانب، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اریٹریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کی صورتحال اور ملک کے سخت حکومتی نظام کی وجہ سے عالمی سطح پر خدشات پائے جاتے ہیں، جس کے باعث اس عمل کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔