Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ‎نیتن یاہو کی مذمت، فوجی کی جانب سے مجسمہ حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی پر ردعمل

    ‎نیتن یاہو کی مذمت، فوجی کی جانب سے مجسمہ حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی پر ردعمل

    ‎اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے کے ذریعے مجسمے پر وار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
    ‎نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اور اسرائیل کی بڑی اکثریت اس واقعے پر دلی طور پر رنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور اس میں ملوث اہلکار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل خود کو ایک ایسا ملک قرار دیتا ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو عبادت کی آزادی حاصل ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
    ‎وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسرائیل اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد سے معذرت خواہ ہے۔ ان کے بیان کا مقصد عالمی سطح پر پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرنا تھا۔
    ‎دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے، اور اس طرح کے واقعات صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔

  • بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملنے کو تیار ہوں، ٹرمپ

    بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملنے کو تیار ہوں، ٹرمپ

    مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران خود بات چیت اور ملاقات کا خواہاں ہو تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
    ‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
    ‎امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
    ‎امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

  • لبنان اسرائیل مذاکرات امریکا ایران بات چیت سے الگ قرار

    لبنان اسرائیل مذاکرات امریکا ایران بات چیت سے الگ قرار

    لبنان کے صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کا امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن بات چیت یا کسی بھی دیگر سفارتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان اپنے قومی مفادات کے تحت آزادانہ طور پر مذاکرات کر رہا ہے اور اس عمل کو کسی بیرونی ایجنڈے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنانی صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنانی وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کریں گے، جو امریکہ میں لبنان کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشن میں نہ تو کوئی اور فرد شامل ہوگا اور نہ ہی سائمن کرم کی جگہ کوئی اور لے گا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ لبنان اس معاملے میں واضح اور مستقل حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
    ‎صدر جوزف عون کے مطابق ان مذاکرات کے بنیادی مقاصد میں خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کا خاتمہ، اور لبنان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک اپنی فوج کی مکمل تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام نکات لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
    ‎انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کے مؤقف کو بخوبی سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کو ممکن بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس عمل میں بالواسطہ کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
    ‎صدر عون نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات لبنان کے لیے مثبت نتائج لائیں گے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • بھارت میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت دو افراد ہلاک

    بھارت میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت دو افراد ہلاک

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک دور دراز جنگلاتی علاقے میں پیش آیا جہاں رسائی مشکل ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں ابتدائی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ اچانک گر کر تباہ ہوا، تاہم حادثے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔
    ‎ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا، تاہم علاقے کی جغرافیائی پیچیدگیوں اور جنگلاتی راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔ اس کے باوجود ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لے لیا اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق حادثے میں طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے جانی نقصان کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر فضائی سکیورٹی اور چھوٹے طیاروں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ہنگامی رسائی محدود ہوتی ہے۔

  • ٹرمپ کے بیانات سے پہلے مارکیٹ میں مشکوک سرگرمیاں

    ٹرمپ کے بیانات سے پہلے مارکیٹ میں مشکوک سرگرمیاں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران مالیاتی منڈیوں میں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے جس نے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بعض تاجر ٹرمپ کے اہم اعلانات یا بیانات سے کچھ ہی دیر پہلے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
    ‎بی بی سی کی جانب سے مختلف عالمی مارکیٹوں کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ان کاروباری سرگرمیوں کا موازنہ صدر ٹرمپ کے اہم بیانات سے کیا گیا۔ اس تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ کے کسی انٹرویو یا سوشل میڈیا پوسٹ سے چند گھنٹے، اور بعض اوقات چند منٹ پہلے ہی مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی بڑھ جاتی تھی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس پیٹرن نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ عام طور پر مارکیٹ اس طرح کے بڑے اتار چڑھاؤ کا شکار تب ہوتی ہے جب کوئی بڑی خبر سامنے آئے۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس دیکھا گیا جہاں خبر آنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت شروع ہو جاتی تھی۔
    ‎کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ممکنہ طور پر ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاکہ غیر منصفانہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی سرگرمیاں دنیا بھر میں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں اور اس پر سخت قوانین موجود ہیں۔
    ‎تاہم دیگر ماہرین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ تجربہ کار تاجر سیاسی ماحول اور ٹرمپ کے اندازِ سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اندازے لگا لیتے ہیں، جس کی بنیاد پر وہ مارکیٹ میں بروقت فیصلے کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان متحرک

    امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان متحرک

    ‎پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جس سے خطے میں ایک اہم پیش رفت کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے ساتھ رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق پاکستان نے اتوار کے روز سے امریکا اور ایران کے حکام کے ساتھ بیک چینل اور باضابطہ سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد دونوں ممالک کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا اور جاری تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔
    ‎سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہو۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات بڑھیں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے گا، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جائے اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہو۔ آنے والے دنوں میں ان سفارتی کوششوں کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں مگر مدد کیلئے تیار

    ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں مگر مدد کیلئے تیار

    روس نے ایران سے متعلق جاری عالمی کشیدگی پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں باضابطہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
    ‎روسی صدر دفتر کریملن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو روس مثبت کردار ادا کرنے سے گریز نہیں کرے گا، تاہم اس وقت وہ ثالثی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
    ‎کریملن نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل برقرار رہے گا کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی ممکنہ منفی اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق روس کا یہ بیان ایک متوازن سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ بیک وقت غیر جانبداری بھی ظاہر کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر تعاون کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔ روس ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کا اثر و رسوخ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے نمایاں سمجھا جاتا ہے۔

  • لبنان نے اسرائیل سے مذاکرات کیلئے مندوب مقرر کردیا

    لبنان نے اسرائیل سے مذاکرات کیلئے مندوب مقرر کردیا

    ‎لبنان نے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنے خصوصی مندوب کا تقرر کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق لبنانی قیادت نے اس حساس معاملے پر باضابطہ طور پر پیش قدمی کرتے ہوئے سابق سفیر سائمن کرم کو مذاکراتی عمل کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎لبنانی صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیے سائمن کرم کو مرکزی کردار دیا گیا ہے، جو اس پورے سفارتی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ پیش رفت کی خواہاں ہے۔
    ‎سائمن کرم ایک تجربہ کار سفارتکار سمجھے جاتے ہیں اور وہ ماضی میں امریکا میں لبنان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی سفارتی مہارت اور بین الاقوامی تعلقات میں تجربہ اس اہم ذمہ داری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی تقرری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لبنان سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
    ‎اگرچہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، تاہم حالیہ حالات میں بات چیت کا آغاز ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

  • شی جن پنگ اور محمد بن سلمان کا اہم رابطہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی پر تشویش

    شی جن پنگ اور محمد بن سلمان کا اہم رابطہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی پر تشویش

    ‎چین کے صدر شی جن پنگ اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بالخصوص آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
    ‎چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو ہر صورت معمول کے مطابق جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
    ‎صدر شی جن پنگ نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی کا حامی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کو طاقت کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
    ‎سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکیں۔

  • 
یو اے ای کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا مطالبہ

    
یو اے ای کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا مطالبہ

    ‎واشنگٹن: متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
    ‎بین الاقوامی معاشی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جو تمام ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ یہ اہم سمندری راستہ دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور تقریباً عالمی توانائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہم تجارتی اشیاء کی ترسیل کے لیے بھی یہ گزرگاہ نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
    ‎ریم الہاشمی نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ یو اے ای نے ایک محفوظ اور مستحکم معاشرہ قائم کیا ہے، جہاں ترقی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو اماراتی قیادت اور عوام کے عزم کا مظہر قرار دیا۔
    ‎اماراتی وزیر نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یو اے ای آئندہ 10 برسوں میں امریکی معیشت میں مزید 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری پہلے ہی مضبوط ہے اور حالیہ حالات نے اسے مزید مستحکم کیا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ یو اے ای پہلے ہی امریکا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔