Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
پنجاب میں آٹا مزید مہنگا، عوام پریشان

    
پنجاب میں آٹا مزید مہنگا، عوام پریشان

    ‎لاہور: پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور فی کلو 88 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس فرق کے باعث آٹے کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
    ‎مارکیٹ ذرائع کے مطابق نجی کمپنیوں کی جانب سے آٹا تقریباً 180 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ 40 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 7200 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت نے عام شہریوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق گندم کی پسائی پر فی من تقریباً 400 سے 500 روپے تک لاگت آتی ہے، جس کے بعد آٹے کی مجموعی قیمت تقریباً 4000 روپے فی من بنتی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں اس سے کہیں زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
    ‎شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں مسلسل اضافہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • 
اسپین کا اسرائیل سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ

    
اسپین کا اسرائیل سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ

    ‎میڈرڈ: اسپین نے غزہ کی صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی اور سیاسی معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے یورپی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری تعاون کا معاہدہ فوری طور پر ختم کرے۔ انہوں نے اندلس میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایسی حکومت جو بین الاقوامی قوانین اور یورپی اصولوں کی خلاف ورزی کرے، اسے شراکت دار نہیں رکھا جا سکتا۔
    ‎پیڈرو سانچیز نے اسرائیل پر غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی اصولوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے فوری خاتمے پر بھی زور دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسپین اس معاملے کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھانے جا رہا ہے، جو لکسمبرگ میں منعقد ہوگا۔ توقع ہے کہ اسپین اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ ختم کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
    ‎اس خط میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے بعض اقدامات اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جنہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ مؤقف یورپی یونین کے اندر پالیسی اختلافات کو مزید واضح کر سکتا ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

  • شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ، خطے میں تشویش

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ، خطے میں تشویش

    ‎پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کرتے ہوئے متعدد میزائل فائر کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق یہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر سنپو کے قریب سے صبح کے وقت فائر کیے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق میزائل تقریباً 140 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں جا گرے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے دوران یہ شمالی کوریا کا چوتھا جبکہ سال 2026 کا ساتواں میزائل تجربہ ہے، جس سے اس کے دفاعی پروگرام کی رفتار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    ‎جاپانی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب گرے، جس کے باعث جاپان اور جنوبی کوریا دونوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎میزائل تجربے کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کیا اور ان اقدامات کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائر کیے گئے میزائل کس نوعیت کے تھے، تاہم سنپو وہ اہم مقام ہے جہاں شمالی کوریا آبدوزوں اور آبدوز سے داغے جانے والے میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھا رہے ہیں، اور اس سے بین الاقوامی سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
تامل ناڈو میں پٹاخہ فیکٹری دھماکہ، کئی افراد ہلاک

    
تامل ناڈو میں پٹاخہ فیکٹری دھماکہ، کئی افراد ہلاک

    ‎نئی دہلی: بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکہ ضلع وردھونگر میں قائم ایک فیکٹری میں پیش آیا، جہاں پٹاخے تیار کیے جاتے تھے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتیں لرز اٹھیں اور آس پاس کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
    ‎واقعے کے بعد فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے پھیل گئی۔ اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں موجود پٹاخے یکے بعد دیگرے پھٹتے رہے جس کے باعث آگ پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا اور کئی مزدور اس کی لپیٹ میں آ گئے۔
    ‎اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، ریسکیو ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو اہلکار آگ پر قابو پانے اور متاثرین کو نکالنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
    ‎ابتدائی طور پر دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فیکٹری میں موجود آتش گیر مواد کے باعث آگ اور دھماکوں کی شدت میں اضافہ ہوا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی اکثر ایسے حادثات کا سبب بنتی ہے، جس کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

  • 
امریکی سیکیورٹی ٹیم کے 6 طیارے پاکستان پہنچ گئے

    
امریکی سیکیورٹی ٹیم کے 6 طیارے پاکستان پہنچ گئے

    ‎اسلام آباد: پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم کے چھ خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ طیارے نور خان ایئر بیس پر لینڈ کیے گئے، جن کے ساتھ امریکی ٹیم ضروری لاجسٹک سامان اور متعدد گاڑیاں بھی ہمراہ لائی ہے۔ یہ سامان آئندہ ہونے والے مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ان خصوصی طیاروں کے ذریعے بلٹ پروف گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی پاکستان منتقل کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع امریکی وفد انہی گاڑیوں میں اپنی نقل و حرکت کرے گا، جبکہ سیکیورٹی کو انتہائی سخت رکھا جائے گا۔
    ‎یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی ٹیم اسلام آباد روانہ ہو رہی ہے، جس سے ان مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سیکیورٹی ٹیم کی پیشگی آمد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے اور مذاکرات کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

  • 
مصنوعی ذہانت سے عالمی مالیاتی نظام کو خطرہ، آئی ایم ایف میں تشویش

    
مصنوعی ذہانت سے عالمی مالیاتی نظام کو خطرہ، آئی ایم ایف میں تشویش

    ‎واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے حالیہ اجلاس میں جہاں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خدشات زیر بحث آئے، وہیں ایک اور اہم موضوع نے عالمی مالیاتی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی، اور وہ ہے مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر۔
    ‎بی بی سی کے معاشی امور کے تجزیہ کار کے مطابق اجلاس میں شریک کئی ممالک کے نمائندے ایک نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کے ممکنہ اثرات پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ‎اس تناظر میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ نئی ٹیکنالوجی بینکنگ نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور کیا عام صارفین کے بینک اکاؤنٹس بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے یا نہیں۔ اس سوال نے اجلاس میں موجود دیگر عالمی مالیاتی رہنماؤں کی تشویش کو مزید واضح کر دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا کے اعلیٰ مالیاتی حکام بھی اس صورتحال پر خاص نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اور مرکزی بینک کے چیئرمین نے وال اسٹریٹ کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں ممکنہ خطرات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں ترقی اور سہولت کا ذریعہ بن رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے مالیاتی نظام، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ذاتی ڈیٹا کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان کو روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سمندری خوراک کی درآمدی منڈی تک رسائی حاصل

    پاکستان کو روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سمندری خوراک کی درآمدی منڈی تک رسائی حاصل

    ‎اسلام آباد: پاکستان نے روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سی فوڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے، جو ملکی ماہی گیری کے شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق روس نے پاکستان کی 16 سی فوڈ پروسیسنگ فیکٹریوں کو برآمدات کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد پاکستان پہلی بار روس کو سمندری مصنوعات برآمد کر سکے گا۔ یہ پیشرفت طویل سفارتی اور تکنیکی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
    ‎اس کامیابی کا اعلان متعلقہ حکام کی جانب سے کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دے گا۔ ماہرین کے مطابق روس جیسی بڑی مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے لیے ایک نیا موقع ہے، جہاں سی فوڈ کی طلب کافی زیادہ ہے۔
    ‎اب تک پاکستان کی سی فوڈ برآمدات زیادہ تر چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکا تک محدود تھیں، تاہم روسی مارکیٹ میں داخلے سے برآمدی دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
    ‎ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور غیر ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
    ‎حکام کے مطابق عالمی معیار کے مطابق پراسیسنگ اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ روسی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا تو پاکستان کا سی فوڈ سیکٹر آنے والے برسوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

  • پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے

    پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے

    ‎اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 18 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں اسلام آباد پولیس، پاکستان رینجرز، پنجاب پولیس اور فرنٹیئر کور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج بھی پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر ڈیوٹی انجام دے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
    ‎سیکیورٹی انتظامات کے تحت ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اضافی اہلکار بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
    ‎اہم مقامات، خاص طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سرینہ ہوٹل تک سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حساس مقامات پر اسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سرینہ ہوٹل کے اطراف میں مشترکہ طور پر 24 سیکیورٹی پکٹیں قائم کی گئی ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق یہ اقدامات ممکنہ اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل محفوظ ماحول میں مکمل ہو سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اس سطح کی سیکیورٹی تیاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔

  • 
جے ڈی وینس بھی امریکی وفد میں شامل

    
جے ڈی وینس بھی امریکی وفد میں شامل

    ‎اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی وفد میں شامل ہو کر مذاکرات کی قیادت کریں گے۔
    ‎امریکی صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نہ صرف مذاکرات میں شریک ہوں گے بلکہ امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ اس پیشرفت کو سفارتی سطح پر ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ وینس سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔
    ‎اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بتا چکے ہیں کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ تاہم اب نائب صدر کی شمولیت سے ان مذاکرات کی اہمیت اور سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے پر پیشرفت کا امکان ہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی امریکی قیادت کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بڑی پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • 
ایران کا مذاکرات میں شرکت سے انکار، فلحال وفد بھیجنے کا ارادہ نہیں

    
ایران کا مذاکرات میں شرکت سے انکار، فلحال وفد بھیجنے کا ارادہ نہیں

    ‎تہران: ایرانی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تاحال مذاکرات کے لیے کسی وفد کو بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا اور موجودہ حالات میں بات چیت میں شرکت سے گریز کیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی برقرار ہے، اس وقت تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی وجہ سے ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی سفارتی عمل میں شامل ہونا ممکن نہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے، اور پابندیوں یا دباؤ کے ماحول میں ہونے والی بات چیت مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق پہلے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے چاہئیں، جس کے بعد ہی بامعنی مذاکرات ممکن ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی تھیں، اور اسلام آباد میں ایک ممکنہ سفارتی عمل کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا جا رہا تھا۔ تاہم ایران کے اس حالیہ موقف نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ فیصلہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے تاکہ پابندیوں میں نرمی حاصل کی جا سکے۔ دوسری جانب اس سے مذاکراتی عمل میں تاخیر کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
    ‎عالمی سطح پر اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور کسی بھی قسم کی پیش رفت خطے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔