Baaghi TV

بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملنے کو تیار ہوں، ٹرمپ

مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران خود بات چیت اور ملاقات کا خواہاں ہو تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
‎امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
‎امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

More posts