Baaghi TV

لبنان اسرائیل مذاکرات امریکا ایران بات چیت سے الگ قرار

لبنان کے صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کا امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن بات چیت یا کسی بھی دیگر سفارتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان اپنے قومی مفادات کے تحت آزادانہ طور پر مذاکرات کر رہا ہے اور اس عمل کو کسی بیرونی ایجنڈے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنانی صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنانی وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کریں گے، جو امریکہ میں لبنان کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشن میں نہ تو کوئی اور فرد شامل ہوگا اور نہ ہی سائمن کرم کی جگہ کوئی اور لے گا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ لبنان اس معاملے میں واضح اور مستقل حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
‎صدر جوزف عون کے مطابق ان مذاکرات کے بنیادی مقاصد میں خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کا خاتمہ، اور لبنان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک اپنی فوج کی مکمل تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام نکات لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
‎انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کے مؤقف کو بخوبی سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کو ممکن بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس عمل میں بالواسطہ کردار ادا کر رہا ہے۔
‎دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
‎صدر عون نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات لبنان کے لیے مثبت نتائج لائیں گے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

More posts