ایران نے فضائی آپریشنز کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے دارالحکومت تہران کے دو بڑے ہوائی اڈوں، امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پیر کے روز سے ان ایئرپورٹس پر مسافر پروازوں کی باقاعدہ بحالی شروع ہو چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث بند کی گئی فضائی سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ ارمیہ، کرمانشاہ، آبادان، شیراز اور کرمان کے ایئرپورٹس کو بھی جلد آپریشنل کر دیا جائے گا، جبکہ رشت، یزد، زاہدان، گورگان اور بیرجند کے ہوائی اڈے بھی اسی ہفتے کھلنے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ایران نے مشہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کا اعلان بھی کیا تھا، جو شمال مشرقی صوبہ خراسان رضوی میں واقع ہے۔ اس اقدام کو ملک بھر میں فضائی نظام کی مکمل بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث تمام شہری پروازیں معطل ہو گئی تھیں اور بین الاقوامی فضائی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق اب حالات میں بہتری آنے کے بعد فضائی حدود کو مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے۔ ایران نے ہفتے کے روز اپنی مشرقی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی تھیں، جس کے بعد اب اہم ایئرپورٹس بھی بحال کیے جا رہے ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات مکمل ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے دیگر ایئرپورٹس پر بھی پروازوں کا سلسلہ معمول پر آ جائے گا۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائنز سے تازہ صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران اپنی اندرونی اور بین الاقوامی فضائی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ معیشت اور سفری نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

تہران کے بڑے ہوائی اڈے بحال، پروازیں دوبارہ شروع
-

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران تنازعہ بڑی ڈیل پر ختم ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ بالآخر ایک بڑی ڈیل پر ختم ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے اور حالات اس کے حق میں جا رہے ہیں۔
سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاملہ سنبھالنے میں مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کے مطابق ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی نہایت کامیاب ثابت ہوئی ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور وہ اس میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یا تو کوئی بڑی پیش رفت ہوگی یا حالات کسی اور رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ ایک جامع اور مؤثر ڈیل ہوگی جو خطے میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک جانب ممکنہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب جنگ بندی کے خاتمے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ -

ٹرمپ کی ایران پر سخت تنقید، مظاہرین کے معاملے پر بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر ایک بار پھر سخت تنقید کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہزاروں غیر مسلح مظاہرین کے خلاف کارروائی کی گئی، جنہیں انہوں نے "معصوم اور نہتے افراد” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا ذکر کم کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں بڑی تعداد میں مظاہرین کو سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے جن کے بارے میں ان کے بقول نرم رائے نہیں رکھی جا سکتی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والی بدامنی کا الزام امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن نے مظاہرین کو کھلے عام حمایت کا پیغام دیا اور حالات کو خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے آغاز میں ایران میں دو ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا۔ اس صورتحال نے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ -

ٹرمپ کا عندیہ، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر حملے جاری رہیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا ایران پر حملے جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدھ کی شام تک کی ڈیڈ لائن انتہائی اہم ہے اور اس کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔
سی این بی سی کے پروگرام میں ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنے کو بہتر سمجھتے ہیں کہ امریکا حملوں کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دور میں امریکی فوج کی مضبوطی کا بھی ذکر کیا اور اسے غیر معمولی قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ جنگ بندی میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں اور یہ انتہائی کم امکان ہے کہ ڈیڈ لائن آگے بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے اور یا تو کوئی بڑا معاہدہ ہوگا یا صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام آج پاکستان پہنچنے کا امکان رکھتے ہیں جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اہم بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا سخت لہجہ اور فوجی آپشن پر زور دینا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، تاکہ مذاکرات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم اس سے خطے میں خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔ -

آبنائے ہرمز بحران، پاکستانی بندرگاہیں متبادل بن سکتی ہیں؟
آبنائے ہرمز کی 18 اپریل 2026 کو دوبارہ بندش نے عالمی سمندری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستانی بندرگاہیں اس بحران میں متبادل کردار ادا کر سکتی ہیں؟
تفصیلات کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی نے سمندری تجارت کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ کے خطرے کی انشورنس پریمیم میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری ملاح بھی غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انہیں خطرناک علاقوں میں کام جاری رکھنے یا طویل معاہدوں کی مجبوری کا سامنا ہے۔
عالمی شپنگ کمپنیاں جیسے Maersk، Hapag-Lloyd اور CMA CGM نے خلیجی بندرگاہوں کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں۔ جنگی حالات کے باعث اب تک 20 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جس نے خطے کی حساسیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج عرب میں موجود تمام بندرگاہیں آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہیں، جس کی بندش سے پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر اور کراچی، ایک محفوظ اور قابل عمل متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔
گوادر بندرگاہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے جو خلیجی راستوں سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ بھی خطے میں ایک بڑی تجارتی سرگرمی کا مرکز ہے جو بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بندرگاہی سہولیات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کو مزید بہتر بنائے تو وہ نہ صرف اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت میں اپنا کردار بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ چین، یورپ اور امریکا جیسے بڑے معاشی ممالک بھی متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جس سے پاکستان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ -

پاسپورٹ وصولی کے نئے اوقات اور فیسوں کا اعلان
عمان میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں سفارت خانہ پاکستان نے پاسپورٹ وصولی کے اوقات کار اور فیسوں میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق یہ تبدیلیاں یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جن کا مقصد قونصلر خدمات کو بہتر بنانا اور سفارت خانے میں غیر ضروری رش کو کم کرنا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اب پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ شہری اتوار سے جمعرات کے درمیان دوپہر 1 بجے سے 2 بجے تک اور سہ پہر 3 بجے سے 4 بجے تک اپنے تیار شدہ پاسپورٹ وصول کر سکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اوقات کی پابندی سے سروس کو منظم بنانے میں مدد ملے گی اور انتظار کا وقت بھی کم ہوگا۔
مزید برآں، پاسپورٹ وصول کرتے وقت شہریوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنا اصل ٹوکن اور پرانا پاسپورٹ ہمراہ لائیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات کے بغیر پاسپورٹ کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی، اس لیے شہری پہلے سے تیاری مکمل رکھیں۔
پاسپورٹ فیسوں میں بھی مختلف کیٹیگریز کے تحت وضاحت کی گئی ہے۔ پانچ سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی نارمل فیس 12 عمانی ریال جبکہ ارجنٹ فیس 19 ریال مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 10 سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس 17 ریال سے شروع ہوتی ہے، جس میں سروس کی نوعیت کے مطابق اضافہ ہو سکتا ہے۔
سفارت خانے نے پاسپورٹ کی حفاظت پر خصوصی زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گمشدگی کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ پہلی بار پاسپورٹ گم ہونے پر فیس دگنی وصول کی جائے گی جبکہ دوسری بار گم ہونے پر فیس میں چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری دوسری بار اپنا 100 صفحات پر مشتمل ارجنٹ پاسپورٹ گم کرتا ہے تو اس کی فیس 208 عمانی ریال تک پہنچ سکتی ہے۔ -

سپر ہائی وے پر ڈکیتی، پیٹرول پمپ مالک زخمی، 75 لاکھ لوٹ لیے گئے
کراچی کے سپر ہائی وے پر سبزی منڈی کے مرکزی گیٹ کے سامنے دن دہاڑے ایک بڑی ڈکیتی کی واردات پیش آئی جس میں مسلح ملزمان نے پیٹرول پمپ کے مالک کو زخمی کر کے 75 لاکھ روپے لوٹ لیے۔ حیران کن طور پر یہ واقعہ پولیس پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پر پیش آیا مگر ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے جس میں پورا واقعہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر سوار تین ملزمان ایک سفید رنگ کی کار کا پیچھا کر رہے تھے۔ جیسے ہی موقع ملا، ملزمان نے اسلحے کے زور پر گاڑی کو روک لیا۔ ایک ملزم نے چالاکی سے موٹر سائیکل گاڑی کے سامنے گرا دی تاکہ راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے۔
مزاحمت کرنے پر ملزمان نے پیٹرول پمپ کے مالک کو ٹانگ پر گولی مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد ملزمان نے گاڑی سے 75 لاکھ روپے نقدی نکالی اور فرار ہونے سے پہلے گاڑی کے پچھلے ٹائر پر فائرنگ بھی کی تاکہ کوئی ان کا پیچھا نہ کر سکے۔
واردات کے بعد ملزمان پہلے پیدل سپر ہائی وے کی جانب بھاگے اور وہاں موجود ایک شہری سے موٹر سائیکل چھین کر فرار ہو گئے۔ زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ -

پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ
پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں جہاں ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیاں توجہ کا مرکز رہتی تھیں، وہیں اب ایرانی ریال غیر متوقع طور پر مارکیٹ کا سب سے زیادہ زیر بحث موضوع بن گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق چند ہفتے پہلے تک ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل تقریباً 2,500 پاکستانی روپے میں دستیاب تھا، تاہم اب اس کی قیمت بڑھ کر 10,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ بظاہر عالمی مارکیٹ کی حقیقی قدر کے مطابق نہیں بلکہ پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اچانک اضافے کی ایک بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مستقبل کے امکانات پر لگائی جانے والی شرط ہے۔ کئی افراد اس امید پر ریال خرید رہے ہیں کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور پابندیاں نرم ہو جاتی ہیں تو ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے انہیں منافع حاصل ہوگا۔
دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایران کے ساتھ جاری غیر رسمی تجارت بھی ریال کی طلب میں اضافے کا اہم سبب ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت میں اکثر نقد ایرانی ریال استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اس کرنسی کی مانگ بڑھ گئی ہے اور ڈیلرز من چاہے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی اوپن مارکیٹ اور عالمی شرح مبادلہ میں واضح فرق پایا جا رہا ہے۔ جہاں پاکستان میں ایک روپے کے بدلے تقریباً 1,000 ریال مل رہے ہیں، وہیں عالمی سطح پر یہی شرح تقریباً 4,700 ریال کے قریب بنتی ہے۔ -

تیل کی آزاد منڈی سب کیلئے یا کسی کیلئے نہیں، ایرانی نائب صدر کا انتباہ
ایران کے نائب صدر رضا عارف نے عالمی تیل منڈی اور خطے کی سکیورٹی سے متعلق اہم اور سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ یا تو سب ممالک کے لیے یکساں ہونی چاہیے یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات کو روکا جاتا ہے تو دیگر ممالک کے لیے سکیورٹی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
ایک بیان میں رضا عارف نے واضح کیا کہ ایران کو عالمی توانائی مارکیٹ سے الگ کرنے کی کوششیں نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو دوہرے معیار ترک کرنا ہوں گے، کیونکہ کسی ایک ملک کو دبانے اور دوسرے کو سہولت دینے کی پالیسی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔
ایرانی نائب صدر نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم سمندری راستہ عالمی تیل ترسیل کے لیے نہایت حساس حیثیت رکھتا ہے اور اس کی سکیورٹی کوئی مفت سہولت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو معاشی دباؤ کا سامنا ہوگا تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی سپلائی پر بھی پڑیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رضا عارف کا بیان دراصل عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں میں فوری اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں پہلے ہی ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسے بیانات سے نہ صرف سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

ایران کے ساتھ سیز فائر بدھ تک محدود، ٹرمپ کا سخت مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سیز فائر سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی بدھ کی شام تک محدود ہے اور اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو اس میں توسیع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اپنے تازہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کسی بھی صورت میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کمزور یا نقصان دہ معاہدے پر رضامند ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی جلدی نہیں کہ برا معاہدہ کرلوں، ہم سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے اور ہمارے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔”
سیاسی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ مذاکرات میں امریکا کو بہتر پوزیشن حاصل ہو۔ تاہم اس مؤقف سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دے چکا ہے اور ایرانی قیادت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے جارحانہ پالیسی جاری رکھی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایسے میں سیز فائر کا خاتمہ خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔