Baaghi TV

ٹرمپ کے بیانات سے پہلے مارکیٹ میں مشکوک سرگرمیاں

ind

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران مالیاتی منڈیوں میں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے جس نے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بعض تاجر ٹرمپ کے اہم اعلانات یا بیانات سے کچھ ہی دیر پہلے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
‎بی بی سی کی جانب سے مختلف عالمی مارکیٹوں کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ان کاروباری سرگرمیوں کا موازنہ صدر ٹرمپ کے اہم بیانات سے کیا گیا۔ اس تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ کے کسی انٹرویو یا سوشل میڈیا پوسٹ سے چند گھنٹے، اور بعض اوقات چند منٹ پہلے ہی مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی بڑھ جاتی تھی۔
‎رپورٹ کے مطابق اس پیٹرن نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ عام طور پر مارکیٹ اس طرح کے بڑے اتار چڑھاؤ کا شکار تب ہوتی ہے جب کوئی بڑی خبر سامنے آئے۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس دیکھا گیا جہاں خبر آنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت شروع ہو جاتی تھی۔
‎کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ممکنہ طور پر ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاکہ غیر منصفانہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی سرگرمیاں دنیا بھر میں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں اور اس پر سخت قوانین موجود ہیں۔
‎تاہم دیگر ماہرین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ تجربہ کار تاجر سیاسی ماحول اور ٹرمپ کے اندازِ سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اندازے لگا لیتے ہیں، جس کی بنیاد پر وہ مارکیٹ میں بروقت فیصلے کرتے ہیں۔

More posts