Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
اصفہان اور شیراز پر امریکی و اسرائیلی حملے، 15 افراد ہلاک

    
اصفہان اور شیراز پر امریکی و اسرائیلی حملے، 15 افراد ہلاک

    
ایران کے شہروں اصفہان اور شیراز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد شہید ہو گئے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران میزائلوں اور بموں کے ذریعے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے خلائی تحقیقاتی مرکز کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
    دوسری جانب رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری سے ایران پر ہونے والے حملوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1400 سے تجاوز کر چکی ہے۔
    حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ نقصانات کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • 
برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوششیں جاری

    
برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوششیں جاری

    
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت بحال کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا آسان کام نہیں لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کا جلد بحال ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت اور اقدامات جاری ہیں۔
    ‎کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل اور مستند منصوبے کی ضرورت ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنایا جائے گا۔
    ‎برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ جلد ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

  • 
چوہدری شوگر ملز کیس: احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف نیب انکوائری بند کر دی

    
چوہدری شوگر ملز کیس: احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف نیب انکوائری بند کر دی

    
احتساب عدالت لاہور نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز سے متعلق نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے قانون کے مطابق چوہدری شوگر ملز انکوائری بند کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج رانا محمد عارف نے سماعت کی۔
    ‎عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے انکوائری بند کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ مریم نواز اپنی سات کروڑ روپے کی ضمانت کی رقم واپس لے سکتی ہیں۔
    ‎نیب دستاویزات کے مطابق چوہدری شوگر ملز نے نواز شریف کے دور میں غیر معمولی ترقی کی تھی جبکہ بیرون ملک سے مشکوک سرمایہ کاری آنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
    ‎دستاویزات میں بتایا گیا کہ 1991 میں نواز شریف نے اپنے اثاثے تقریباً 1.3 ملین ظاہر کیے تھے جبکہ مریم نواز نے 1.4 ملین کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔ اس کے برعکس حسن، حسین، شہباز اور یوسف عباس نے اس وقت اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے۔
    ‎نیب ریکارڈ کے مطابق 5 اگست 1991 کو تقریباً پانچ لاکھ روپے کی ابتدائی رقم سے چوہدری شوگر ملز قائم کی گئی تھی جبکہ بعد میں اس کمپنی کے شیئرز اور انتظامی معاملات میں مختلف تبدیلیاں بھی آئیں۔

  • 
پاکستان میں فیول سپلائی مستحکم، عوام گھبراہٹ میں پیٹرول ذخیرہ نہ کریں: وزیر خزانہ

    
پاکستان میں فیول سپلائی مستحکم، عوام گھبراہٹ میں پیٹرول ذخیرہ نہ کریں: وزیر خزانہ

    
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مستحکم ہے اور ملک میں فیول کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
    وزارت خزانہ میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں توانائی کے شعبے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ کو بریفنگ دی گئی کہ مارچ کے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی تمام ضروریات پوری ہیں جبکہ کارگو پلاننگ کے تحت اپریل کے وسط تک فیول سپلائی یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت اپریل کے آخر تک فیول سپلائی مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں پیٹرول خریدنے یا ذخیرہ کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک میں فیول کی دستیابی برقرار ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کسی ایک سپلائی روٹ پر انحصار کم کرے گی اور عالمی منڈی سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے ذرائع کو مزید متنوع بنایا جائے گا۔
    ‎کمیٹی نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کی کڑی نگرانی رکھی جائے جبکہ توانائی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے نئی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

  • 
لاہور سے دبئی جانے والی پرواز آدھے راستے سے واپس

    
لاہور سے دبئی جانے والی پرواز آدھے راستے سے واپس

    
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق لاہور سے دبئی جانے والی غیر ملکی پرواز کو آدھے راستے سے واپس لاہور اتار لیا گیا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ امارات ایئر لائن کی پرواز ای کے 623 کو روانگی کے کچھ دیر بعد فضا ہی سے واپس بلایا گیا۔ متاثرہ پرواز میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا۔ ایک فیول ٹینک میں آگ لگنے کے باعث احتیاطی طور پر ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
    ‎اس صورتحال کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازیں یا تو راستے سے موڑ دی گئیں یا اپنے روانگی کے شہروں کی جانب واپس لوٹ گئیں۔
    ‎حکام کے مطابق حملے کے بعد لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک جلتی رہی جسے بعد میں سول ڈیفنس کی ٹیموں نے قابو کر لیا۔ بعد ازاں دبئی ایئرپورٹ پر محدود پیمانے پر فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا تاہم کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں یا منسوخ کی جا چکی ہیں۔

  • 
آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد خام تیل سے بھرا ٹینکر پاکستان کی جانب روانہ

    
آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد خام تیل سے بھرا ٹینکر پاکستان کی جانب روانہ

    
رپورٹس کے مطابق خام تیل لے جانے والا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
    شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام ٹینکر اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزر کر سفر پر روانہ ہوا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح پاکستان کے پرچم بردار یہ افرا میکس ٹینکر عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔
    ‎افرامیکس ٹینکر درمیانے سائز کے خام تیل بردار جہاز ہوتے ہیں جن کی وزن اٹھانے کی صلاحیت تقریباً 80 ہزار سے 120 ہزار میٹرک ٹن کے درمیان ہوتی ہے اور انہیں عموماً مختصر سے درمیانی فاصلے کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود اس ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے گزرنا تیل کی ترسیل کے تسلسل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
ٹورنٹو میں پاکستانی ایئر ہوسٹس مبینہ طور پر لاپتہ

    
ٹورنٹو میں پاکستانی ایئر ہوسٹس مبینہ طور پر لاپتہ

    
اطلاعات کے مطابق لاہور بیس سے تعلق رکھنے والی پاکستانی ایئر ہوسٹس سدرہ علیم ٹورنٹو میں مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جب وہ ایک پرواز کے ساتھ ٹورنٹو پہنچی تھیں۔ پرواز کے کپتان فاروق وسیم تھے جن کا تعلق 67 بیچ سے بتایا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق سدرہ علیم کے لاپتہ ہونے کے بعد ایئرلائن حکام اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    تاحال اس واقعے کے حوالے سے ایئرلائن یا حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  • 
ایران پر حملوں میں تہران میں 500 سے زائد افراد شہید، ہزاروں زخمی

    
ایران پر حملوں میں تہران میں 500 سے زائد افراد شہید، ہزاروں زخمی

    
امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کے دارالحکومت تہران میں 500 سے زائد افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ایرانی ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے مطابق صرف تہران میں اب تک 503 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 28 فروری سے جاری حملوں کے دوران تقریباً 5 ہزار 700 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا آج 17 واں روز ہے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے باعث ایران میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 1,444 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 18 ہزار 551 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    اسی دوران لبنان میں بھی کشیدگی کے باعث شہادتوں کی تعداد 850 تک پہنچ گئی ہے جن میں 100 سے زائد بچے شامل ہیں۔
    ‎ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر فضائی حملے کے دوران ایک طیارہ تباہ کر دیا گیا جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق صوبہ مرکزی کے بعض علاقوں میں ہونے والے حملوں میں مزید جانی نقصان بھی ہوا جبکہ خمین میں ایک اسکول کو نشانہ بنائے جانے سے عمارت اور قریبی گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • 
ایران جنگ کے دوران سعودی عرب خلیج کا اہم فضائی اور لاجسٹک مرکز بن گیا

    
ایران جنگ کے دوران سعودی عرب خلیج کا اہم فضائی اور لاجسٹک مرکز بن گیا

    
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال میں سعودی عرب سفر اور لاجسٹکس کے لیے ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد خلیجی عرب ریاستوں کو تقریباً دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا ہدف امریکی سفارت خانے، فوجی اڈے، تیل کی اہم تنصیبات، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ہوٹلز اور رہائشی و دفتری عمارتیں تھیں۔
    ‎اس صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب نے کئی خلیجی ایئر لائنز کو اپنے ایئرپورٹس اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے باعث وہ متنازع علاقوں سے بچتے ہوئے اپنی پروازیں جاری رکھ سکیں۔
    ‎عراق ایئر ویز کو بھی شمالی سعودی عرب کے ارار ہوائی اڈے کے ذریعے پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی جس پر عراقی حکومت نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
    ‎حالیہ دنوں میں سعودی ایئرپورٹس پر فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ متعدد ایئر لائنز نے خطرناک فضائی راستوں سے بچنے کے لیے اپنی پروازوں کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا ہے۔ اتوار کے روز گلف ایئر نے بھی اعلان کیا کہ وہ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے اپنے آپریشنز میں اضافہ کر رہی ہے۔

  • 
آپریشن وعدہ صادق 4 کی 55ویں لہر، ایران کا اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    
آپریشن وعدہ صادق 4 کی 55ویں لہر، ایران کا اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 55ویں لہر کے تحت اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
    بیان کے مطابق کارروائی کے دوران مقبوضہ علاقوں کے مرکز تل ابیب اور بن گوریون کے علاقوں میں اہم اہداف پر حملے کیے گئے۔ ان اہداف میں فضائی و عسکری سازوسامان تیار کرنے والی کمپنی اسرائیل ائیرو اسپیس انڈسٹریز اور فضائی ایندھن فراہمی کے مراکز بھی شامل تھے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں میں ہائپرسونک میزائل فتاح، عماد اور قدر کے علاوہ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز کو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے سالڈ فیول میزائل فتاح، ذوالفقار اور دزفول کے ساتھ ساتھ اسمارٹ ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں کی گئیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔