وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ شب سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں برادر اسلامی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف کیے گئے ان قابلِ مذمت حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف سعودی عرب کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس نازک وقت میں برادر مملکت سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے تمام فریقین کو تحمل، ذمہ داری اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں ہے، جبکہ طاقت کے استعمال اور کشیدگی میں اضافے سے پورے خطے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے اور خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کردی
-

دفتر خارجہ کے زیر اہتمام مینگو فیسٹیول، پاکستانی آموں کی عالمی شہرت اور برآمدی صلاحیت اجاگر
اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے زیر اہتمام مینگو فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ آموں کی منفرد اقسام، اعلیٰ معیار اور برآمدی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں سفارتی برادری، حکومتی شخصیات، کاروباری نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ تھیں، جنہوں نے پاکستان کے آموں کی عالمی شہرت اور زرعی شعبے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم نہ صرف اپنے منفرد ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں بلکہ یہ ملک کی زرعی معیشت اور برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مینگو فیسٹیول کا مقصد پاکستان کی ثقافتی پہچان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں پاکستانی آموں کی برآمدات کو مزید فروغ دینا تھا۔ شرکاء کو مختلف اقسام کے آم پیش کیے گئے اور انہیں پاکستان کی زرعی پیداوار، باغبانی کی روایت اور برآمدی مواقع سے بھی آگاہ کیا گیا۔
تقریب میں موجود سفارتی برادری اور کاروباری شخصیات نے پاکستانی آموں کے ذائقے، معیار اور تنوع کو سراہا اور انہیں عالمی منڈی میں مزید متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے پروگرام نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں بلکہ ملکی زرعی مصنوعات کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات میں اضافے کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ -

اسحاق ڈار کی سارک سیکریٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر زور
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے سارک کے سیکریٹری جنرل محمد غلام سرور نے ملاقات کی، جس میں جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون، رابطہ کاری اور سارک کو مزید فعال بنانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے سارک سیکریٹری جنرل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سارک کے عمل اور خطے میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سارک کو اپنے منشور اور بنیادی اصولوں کے مطابق مؤثر اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں بے پناہ آبادی، قدرتی وسائل اور معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری، پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط اور متحرک سارک ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان تعاون، اعتماد اور باہمی روابط میں اضافہ ہی خطے کے عوام کی ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس موقع پر سارک کے سیکریٹری جنرل محمد غلام سرور نے پاکستان کی مسلسل حمایت اور تنظیم کے لیے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تعاون کے فروغ اور سارک کے مقاصد کے حصول میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
محمد غلام سرور نے مزید کہا کہ پاکستان نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، جسے خطے کے ممالک قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سارک کو مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ -

ماجد ستی قتل کیس، فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا
راولپنڈی کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تاجی کھوکھر کے بیٹے فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلے میں تینوں مجرموں کو مقتول کے قانونی ورثا کو 10، 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ رقم قانونی تقاضوں کے مطابق متاثرہ خاندان کو ادا کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عدالتی فیصلے سے قبل پیر کی صبح عدالت کے حکم پر تحویل میں لیا گیا تھا۔ مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم وسیم کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر عدالت نے اسے بری کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما ماجد ستی کو 8 اگست 2022 کو راولپنڈی کے علاقے سکستھ روڈ پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا۔
اس مقدمے کی سماعت گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھی، جس کے دوران استغاثہ اور دفاع کی جانب سے اپنے اپنے دلائل اور شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جبکہ سزا یافتہ ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ مقدمے کا یہ فیصلہ راولپنڈی کے اہم اور زیرِ بحث قتل کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ -

خیرپور میں پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق
خیرپور کے کچے کے علاقے احمد پور میں ایک ہفتے کے دوران پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے تین بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعدد دیگر بچے بھی اسی نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے باعث والدین سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور فوری طبی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ورثا کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کو ابتدا میں تیز بخار اور مسلسل الٹی کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو گمبٹ اور خیرپور کے اسپتالوں میں بھی دکھایا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے بیماری کی واضح تشخیص نہیں بتائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ علاج کے باوجود بچوں کی حالت بگڑتی گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
متاثرہ خاندان نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں اور طبی ٹیموں کو بھیجا جائے تاکہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اہلخانہ کے مطابق گاؤں کے کئی دوسرے بچے بھی بخار اور دیگر علامات میں مبتلا ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ تینوں بچوں کا انتقال اسپتال میں نہیں ہوا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق بیماری کی نوعیت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر نمونے لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔
واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں بھی خیرپور میں بچوں میں مختلف متعدی بیماریوں کی علامات سامنے آئی تھیں، جن میں ایم پاکس، خسرہ اور چکن پاکس شامل تھے۔ اس دوران متعدد بچوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ دس روز کے اندر سات بچوں کے انتقال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
اس وقت کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بتایا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے صرف چار میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر بچے خسرہ، چکن پاکس، غذائی قلت اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔ موجودہ واقعے کے بعد ایک بار پھر صحت کے نظام اور بیماریوں کی بروقت تشخیص پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقے میں فوری طبی سروے اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ -

اقوام متحدہ نے ووٹر فہرستوں سے اقلیتوں کے نام حذف کرنے کے معاملے پر بھارت سے وضاحت طلب کر لی
اقوام متحدہ نے انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کے معاملے پر بھارت سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے اس معاملے پر وضاحت اور تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
خط میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ووٹروں کا مکمل ریکارڈ فراہم کرے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ جبکہ ملک کی 12 مختلف ریاستوں میں مجموعی طور پر تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر فہرستوں سے نام بڑے پیمانے پر حذف کیے گئے ہیں تو اس کے اثرات اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں، پر زیادہ پڑ سکتے ہیں، جس سے ان کے جمہوری اور سیاسی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
خط میں بھارتی حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ووٹرز کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں، اعتراضات اور ان پر کیے گئے فیصلوں کی مکمل تفصیلات 60 دن کے اندر فراہم کرے تاکہ ان الزامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے خصوصی ووٹر نظرثانی پروگرام (SIR) کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر نندی گرام اسمبلی حلقے کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نندی گرام اسمبلی حلقے میں جن ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے، ان میں تقریباً 95 فیصد مسلمان تھے، جبکہ اس حلقے کے کل ووٹروں میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 25 فیصد بتایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس معاملے میں شفافیت اور غیر جانبدارانہ وضاحت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تاحال بھارتی حکومت کی جانب سے اس خط یا ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے اور آئندہ ہفتوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔ -

برطانیہ میں شدید گرمی کی لہروں سے تقریباً 2,700 اموات کا انکشاف
لندن: برطانیہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال مئی اور جون میں آنے والی شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں انگلینڈ اور ویلز میں ممکنہ طور پر تقریباً 2 ہزار 700 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اموات غیر معمولی حد تک بڑھنے والے درجہ حرارت سے منسلک ہیں، جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امپیریل کالج لندن، برطانیہ کے محکمہ موسمیات اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے ماہرین نے مشترکہ تجزیہ کیا، جس میں مئی اور جون کے دوران ہونے والی اموات اور موسمی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 21 سے 29 مئی کے درمیان آنے والی پہلی شدید گرمی کی لہر کے دوران تقریباً 550 اضافی اموات ہوئیں، جبکہ 18 سے 28 جون کے درمیان دوسری اور زیادہ شدید گرمی کی لہر میں تقریباً 2 ہزار 200 افراد جان سے گئے۔
ماہرین کے مطابق جون میں درجہ حرارت 37.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ تقریباً پچاس برسوں میں ریکارڈ کیے گئے بلند ترین درجہ حرارت میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت نے نہ صرف بزرگ افراد اور پہلے سے بیمار لوگوں کو متاثر کیا بلکہ صحت مند افراد بھی اس کے خطرناک اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔
تحقیقی ٹیم سے وابستہ پروفیسر فریڈریکے اوٹو نے کہا کہ شدید گرمی کو معمولی موسمی تبدیلی سمجھنے کے بجائے ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ تصور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں ایسی گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں، جس کے لیے حکومتوں اور عوام دونوں کو بروقت تیاری کرنا ہوگی۔
ماہرین نے وضاحت کی کہ حالیہ دونوں گرمی کی لہروں کی بنیادی وجہ "ہیٹ ڈوم” نامی موسمیاتی کیفیت تھی، جس میں گرم ہوا ایک مخصوص علاقے پر طویل عرصے تک قید رہتی ہے اور درجہ حرارت مسلسل بلند رہتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث جسم میں پانی کی شدید کمی، دل کے دورے، فالج، سانس کی تکالیف اور دیگر جان لیوا طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ -

دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، شاہراہِ قراقرم بند، مسافر پھنس گئے
چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں گزشتہ رات مختلف وادیوں میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، زرعی زمینیں، رابطہ پل، آبی گزرگاہیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہو گئی۔
مقامی پولیس کے مطابق بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد دیہات کو متاثر کیا، جہاں کئی مکانات کو نقصان پہنچا، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، فصلیں تباہ ہو گئیں، پن چکیاں بہہ گئیں اور آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے واٹر چینلز بھی شدید متاثر ہوئے۔ مختلف علاقوں میں رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
چلاس میں گورنر فارم نرسری کے قریب سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم گزشتہ رات سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شاہراہ کی بندش کے نتیجے میں دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پھنسے ہوئے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جو کئی گھنٹوں سے شاہراہ کھلنے کے منتظر ہیں۔ مسافروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ قراقرم کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔
ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، جبکہ سڑکوں کی صفائی، لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے اور متاثرہ پلوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ سفری ہدایات پر عمل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شاہراہِ قراقرم کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا۔ -

کوہاٹ میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، 4 افراد جاں بحق
کوہاٹ میں شدید بارش کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک رہائشی مکان کی چھت اچانک گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت گھر میں کئی افراد موجود تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ دیگر افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 15 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔ امدادی اہلکار بھاری مشینری اور دستی آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث علاقے میں متعدد کچے اور خستہ حال مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے اور کمزور عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام متاثرہ افراد کو ملبے سے نکال نہیں لیا جاتا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور جائے حادثہ پر غیر ضروری رش سے گریز کریں تاکہ امدادی کام متاثر نہ ہو۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ شدید بارشوں کے پیش نظر حساس علاقوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کے دوران کمزور اور بوسیدہ عمارتوں میں رہائش اختیار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور کسی بھی خطرناک صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ -

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ جبکہ سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ گئی، جس نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
دوسری جانب محفوظ سرمایہ کاری تصور کیے جانے والے سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 3 فیصد گر کر 4,005.59 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کے رجحان اور مالیاتی منڈیوں میں بدلتی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت دباؤ کا شکار ہوئی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی توانائی کی منڈی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیاں بھی خطے کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیش رفت، سفارتی کوششوں اور کسی بھی نئے فوجی اقدام پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان عوامل کے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاری پر براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی میں کمی نہ آئی تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اہم اشیائے خام کی قیمتوں میں بھی مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔