احتساب عدالت لاہور نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز سے متعلق نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے قانون کے مطابق چوہدری شوگر ملز انکوائری بند کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج رانا محمد عارف نے سماعت کی۔
عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے انکوائری بند کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ مریم نواز اپنی سات کروڑ روپے کی ضمانت کی رقم واپس لے سکتی ہیں۔
نیب دستاویزات کے مطابق چوہدری شوگر ملز نے نواز شریف کے دور میں غیر معمولی ترقی کی تھی جبکہ بیرون ملک سے مشکوک سرمایہ کاری آنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
دستاویزات میں بتایا گیا کہ 1991 میں نواز شریف نے اپنے اثاثے تقریباً 1.3 ملین ظاہر کیے تھے جبکہ مریم نواز نے 1.4 ملین کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔ اس کے برعکس حسن، حسین، شہباز اور یوسف عباس نے اس وقت اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے۔
نیب ریکارڈ کے مطابق 5 اگست 1991 کو تقریباً پانچ لاکھ روپے کی ابتدائی رقم سے چوہدری شوگر ملز قائم کی گئی تھی جبکہ بعد میں اس کمپنی کے شیئرز اور انتظامی معاملات میں مختلف تبدیلیاں بھی آئیں۔
چوہدری شوگر ملز کیس: احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف نیب انکوائری بند کر دی
