چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں رواں سال کے طاقتور ترین سمندری طوفان باوی نے شدید تباہی مچا دی، جس کے باعث حکام نے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ طوفان اگرچہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر ٹراپیکل اسٹورم میں تبدیل ہوگیا، تاہم اس کے ساتھ آنے والی موسلادھار بارشوں اور تیز ہواؤں نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق طوفان ہفتے کی رات صوبہ ژی جیانگ کے ساحلی شہر یوہوان سے ٹکرایا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اس نے یوئیکنگ اور وینژو کے گنجان آباد علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متعدد علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کا نظام متاثر ہوا اور کئی رہائشی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ رات بھر تیز آندھی کے دوران چھتوں کی ٹائلیں اور درختوں کی شاخیں گرنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ کئی سڑکیں اور پیدل چلنے کے راستے پانی میں ڈوب گئے۔ بعض مقامات پر پانی گاڑیوں کے ٹائروں کی نصف اونچائی تک پہنچ گیا، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صرف یوئیکنگ شہر میں 1300 سے زائد درخت گر گئے، جن میں سے سینکڑوں مکمل طور پر جڑوں سے اکھڑ گئے۔ ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیموں نے چین سا، بھاری مشینری اور دیگر آلات کی مدد سے سڑکوں سے درخت ہٹانے اور نکاسی آب کا عمل شروع کر دیا ہے۔
شدید موسم کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ ژی جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو کے دو بڑے ریلوے اسٹیشنز پر تمام ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 327 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ شنگھائی میں بھی 684 پروازیں اور 1600 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔
چین کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ باوی کی شدت میں کمی آئی ہے، لیکن اس کے اثرات آئندہ چند روز تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ مشرقی اور شمالی چین میں مزید موسلادھار بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے اضافی وسائل بھی مختص کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

سمندری طوفان باوی مشرقی چین سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر ٹراپیکل طوفان میں تبدیل
-

آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، ایران اسے بند نہیں کر سکا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بند کرنے کے دعوے کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے بدستور کھلی ہے اور عالمی بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حملوں کا تبادلہ جاری ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو "مزید اطلاع تک” بند کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ایران کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے اور تجارتی جہاز محفوظ انداز میں گزر رہے ہیں۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا، "ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا، بحری آمدورفت جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ -

غزہ شہر پر اسرائیلی ڈرون حملہ، 4 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم چار فلسطینی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ غزہ شہر کی الصناع اسٹریٹ پر واقع ایک دھاتی ورکشاپ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے فوراً بعد علاقے میں شدید دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں اور طبی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں بھی جاری ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود مختلف علاقوں میں فضائی حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 ہزار 221 فلسطینی شہید جبکہ 1 لاکھ 73 ہزار 643 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی تشدد جاری رہا، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1,098 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
غزہ میں جاری حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو چکا ہے، جبکہ شہری آبادی کو خوراک، ادویات، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ادارے مسلسل جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ -

لندن میں دوہرے چاقو حملے میں 24 سالہ خاتون قتل
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے مغربی علاقے ہیز (Hayes) میں اتوار کی صبح ہونے والے دوہرے چاقو حملے میں 24 سالہ خاتون جاں بحق جبکہ ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔ پولیس نے واقعے کے کچھ ہی دیر بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ہنگامی سروسز کو صبح تقریباً 8 بجے اُکس برج روڈ پر واقع ایک رہائشی مکان میں چاقو حملے کی اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو 24 سالہ خاتون شدید زخمی حالت میں ملی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
حکام کے مطابق ایک اور شخص، جس کی عمر بیس برس کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے، مکان کے باہر چاقو کے وار سے زخمی حالت میں ملا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم اس کی موجودہ حالت کے بارے میں تاحال کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد قریبی علاقے میں مشتبہ شخص کی تلاش شروع کی گئی اور 44 سالہ ایک شخص کو حلیے کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم پر قتل اور عوامی مقام پر دھار دار ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزم کو بھی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کی چوٹیں کھڑکی سے چھلانگ لگانے کے باعث آئیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ قتل کی وجوہات اور متاثرین و ملزم کے باہمی تعلق سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ -

خطے میں بڑھتی کشیدگی پر پاکستان کی تشویش، فریقین سے تحمل اور فوری مذاکرات کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور کشیدگی میں فوری کمی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی مزید بحران سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں، اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی جائے تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو نقصان نہ پہنچے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول برقرار رہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ تنازعات کا دیرپا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام پر مبنی رابطوں میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان آئندہ بھی تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتا ہے اور ہر ایسی سفارتی کوشش کی حمایت کرتا ہے جو کشیدگی میں کمی، اعتماد کی بحالی اور پائیدار استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہو۔ -

آزاد کشمیر میں دھرنوں اور راستوں کی بندش پر حکومت کا سخت مؤقف
مظفرآباد: حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری احتجاج، دھرنوں اور شاہراہوں کی بندش پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ عوام کے لیے بند راستے ہر صورت کھولے جائیں گے۔
مظفرآباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حکومتِ آزاد کشمیر کے ترجمان اور ڈی آئی جی پولیس مسعود کاشفی نے کہا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات تسلیم کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں تنظیم نے بنیادی عوامی مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف سرگرمیوں کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 36 روز سے جاری دھرنوں اور شاہراہوں کی بندش کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جس سے کئی علاقوں میں غذائی قلت اور بنیادی ضروریات کی کمی پیدا ہو گئی۔ ان کے مطابق حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور بند راستے فوری طور پر بحال کرے۔
ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ مختلف مقامات پر راستے کھلوانے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ شجاع آباد میں کارروائی کے دوران اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ارجہ جھنڈالہ میں ڈوزر آپریٹر پر فائرنگ کی گئی اور زخمی کو منتقل کرتے وقت بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق خوراک اور دیگر ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں پر حملوں، لوٹ مار اور ڈیزل نکالنے جیسے واقعات کسی بھی صورت پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے، انہیں ان کی مرضی کے خلاف دھرنوں میں رکھنے اور قرآنِ مجید و سفید جھنڈے ہاتھوں میں دے کر آگے لانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جنہیں انتہائی افسوسناک اور مذہبی تقدس کے منافی قرار دیا گیا۔
حکومت نے خبردار کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے 14 جولائی کے احتجاج میں طلبہ و طالبات کو تعلیمی یونیفارم میں شرکت کی اپیل بھی تشویشناک ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری اسی تنظیم پر عائد ہوگی۔
نیوز کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر یا تبدیلی زیر غور نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد، شفاف اور پرامن انتخابات کے لیے تمام انتظامی اور سکیورٹی انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں، اشتعال انگیز پروپیگنڈے اور تفرقہ انگیز بیانیے سے دور رہیں، جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کریں اور ریاست کے امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہر قیمت پر امن و امان، عوامی مفاد اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گی۔ -

پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں عالمی تنظیم کی پہلی پاکستانی صدر منتخب
پاکستان کے لیے طبی اور تعلیمی شعبے میں ایک اہم اعزاز سامنے آیا ہے، جہاں ممتاز ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں کو بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق دنیا کی معروف تنظیم انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائیکائٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز (IACAPAP) کی 2026 سے 2030 کی مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 1937 میں ادارے کے قیام کے بعد ڈاکٹر عائشہ میاں اس عالمی تنظیم کی قیادت سنبھالنے والی پہلی پاکستانی اور پہلی جنوبی ایشیائی شخصیت ہیں۔ ان کا انتخاب ذہنی صحت، طبی تعلیم، تحقیق اور بچوں و نوجوانوں کی نفسیاتی خدمات کے فروغ کے لیے ان کی طویل عرصے پر محیط خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ میاں آغا خان یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس اور بیلر کالج آف میڈیسن میں تدریسی اور تحقیقی خدمات بھی انجام دیں، جہاں انہوں نے بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سال 2013 میں پاکستان واپسی کے بعد انہیں آغا خان یونیورسٹی میں فاؤنڈنگ ڈین آف اسٹوڈنٹ ایکسپیرینس اور شعبۂ نفسیات کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ اسی دوران انہوں نے پاکستان کا پہلا چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائیکائٹری فیلوشپ ٹریننگ پروگرام بھی قائم کیا، جسے ملک میں اس شعبے کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
اس وقت ڈاکٹر عائشہ میاں سائنیپس، پاکستان نیوروسائنس انسٹیٹیوٹ کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جہاں وہ شواہد پر مبنی طبی خدمات، جدید تحقیق، ماہرین کی تربیت اور ذہنی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کے ذریعے پاکستان میں ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ IACAPAP دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی سب سے معتبر تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس ادارے کی صدارت کسی بھی ماہرِ نفسیات کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تصور کی جاتی ہے، اور ڈاکٹر عائشہ میاں کا اس منصب پر منتخب ہونا عالمی طبی برادری میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ اور صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ -

اسپین میں ہولناک جنگلاتی آگ برطانوی جوڑا جھلس کر شدید زخمی
اسپین کے جنوبی صوبے المیریا میں لگنے والی تباہ کن جنگلاتی آگ نے کم از کم 12 افراد کی جان لے لی، جبکہ ایک برطانوی جوڑا شدید جھلسنے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچا لیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق آگ انتہائی تیزی سے پھیلی، جس نے ہزاروں ہیکٹر رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا اور متعدد دیہات کو شدید متاثر کیا۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی جوڑا اس وقت پہاڑی علاقے میں ہائیکنگ کر رہا تھا جب اچانک جنگلاتی آگ نے انہیں گھیر لیا۔ دونوں جان بچانے کی کوشش میں ایک گہری کھائی میں جا گرے، جہاں وہ شدید جھلس جانے کے باعث نیم بے ہوش حالت میں کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے۔
سول گارڈ کے ریسکیو اہلکاروں نے رات بھر جاری سرچ آپریشن کے دوران دور سے مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں سنیں، جس کے بعد وہ دشوار گزار راستے سے نیچے اترے اور دونوں افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں تلاش کر لیا۔ حکام کے مطابق دونوں کے جسم کا تقریباً 40 فیصد حصہ جھلس چکا تھا، تاہم انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں علاج جاری ہے۔
المیریا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 6 ہزار 600 ہیکٹر سے زائد جنگلات، زرعی اراضی اور قدرتی ماحول جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ آگ کے باعث تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جن میں سے کچھ خاندانوں کو صورتحال بہتر ہونے کے بعد گھروں میں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم متعدد علاقے اب بھی بند ہیں۔
ریسکیو آپریشن میں سینکڑوں فائر فائٹرز، فوجی اہلکار، پولیس اور درجنوں ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، لیکن متاثرہ علاقوں میں نگرانی اور کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے خطرات سے بچا جا سکے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے لیے فرانزک ماہرین ڈی این اے نمونوں کی مدد سے کام کر رہے ہیں کیونکہ کئی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد میں چند غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، تاہم تمام شناختی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی سرکاری طور پر تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں بروقت موبائل الرٹس یا واضح انخلا کی ہدایات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث کئی افراد آخری لمحے تک خطرے سے بے خبر رہے۔ بعض خاندانوں نے انتظامیہ کے ہنگامی ردعمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں مسلسل بڑھتی گرمی کی لہریں، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلی جنگلاتی آگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر رہی ہیں۔ رواں موسم گرما کے دوران اسپین، فرانس اور پرتگال سمیت کئی یورپی ممالک شدید آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جس کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ بڑے پیمانے پر قدرتی وسائل اور املاک کو نقصان پہنچا۔ -

اماراتی کارگو طیارے کی کراچی ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ
اماراتی ائیرلائن کے ایک کارگو طیارے نے دورانِ پرواز انجن میں خرابی پیدا ہونے کے بعد کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کامیاب ہنگامی لینڈنگ کی۔ بروقت کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور طیارہ بحفاظت رن وے پر اتار لیا گیا۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ذرائع کے مطابق کارگو طیارہ جاپان کے شہر اوساکا سے دبئی جا رہا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد اس کے ایک انجن میں اچانک فنی خرابی پیدا ہوگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کو بھانپتے ہوئے طیارے کے کپتان نے فوری طور پر کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ کیا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ اے ٹی سی نے فوری کلیئرنس فراہم کی، جس کے بعد پرواز EK9801 نے تمام حفاظتی ضوابط کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
پی اے اے حکام کے مطابق لینڈنگ کے بعد طیارے کو معائنے کے لیے مخصوص مقام پر منتقل کر دیا گیا، جہاں انجینئرنگ ٹیم فنی خرابی کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی طور پر کسی مسافر یا عملے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی کیونکہ یہ ایک کارگو پرواز تھی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ ہفتے شارجہ سے کراچی آنے والی پاکستان کی ایک نجی کارگو پرواز حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ حالیہ ہنگامی لینڈنگ نے ایک بار پھر فضائی حفاظت اور بروقت تکنیکی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ -

واشک میں مسلح افراد کی فائرنگ، دکان پر کام کرنے والے 5 مزدور جاں بحق
بلوچستان کے ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ مزدور جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے ایک دکان پر کام کرنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچوں افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق بلوچستان سے نہیں تھا بلکہ وہ روزگار کی غرض سے دیگر صوبوں سے ماشکیل آئے ہوئے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتولین کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لے لیا ہے اور مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ شاہد رند نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔