Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • امریکا کو مطلوب پاکستانی نژاد ملزم قطر سے گرفتار، امریکا منتقل

    امریکا کو مطلوب پاکستانی نژاد ملزم قطر سے گرفتار، امریکا منتقل

    ‎منی لانڈرنگ، فراڈ اور اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں مطلوب پاکستانی نژاد ملزم عبداللّٰہ انور کو قطر سے گرفتار کرنے کے بعد امریکا منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی تحویل میں ٹیکساس کی جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎امریکی حکام کے مطابق 28 سالہ عبداللّٰہ انور کا تعلق کراچی سے ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ تھا جو چوری شدہ الیکٹرانک آلات کی خرید و فروخت، منی لانڈرنگ اور مالی فراڈ میں ملوث تھا۔ مقدمے میں موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس، اسمارٹ واچز اور دیگر قیمتی الیکٹرانک آلات کی غیر قانونی ترسیل اور فروخت کے الزامات شامل ہیں۔
    ‎امریکی اٹارنی آفس برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف ٹیکساس کے مطابق وفاقی گرینڈ جیوری نے عبداللّٰہ انور پر چوری شدہ املاک کو بین الاقوامی تجارت کے ذریعے منتقل کرنے کی سازش، میل فراڈ، وائر فراڈ اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات عائد کیے تھے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ضمانت پر رہائی کے بعد امریکا سے پاکستان اور بعد ازاں قطر چلا گیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کے آفس آف انٹرنیشنل افیئر نے قطری حکام کے تعاون سے اسے گرفتار کیا، جس کے بعد 10 جولائی 2026 کو امریکا منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت عبداللّٰہ انور کولن کاؤنٹی جیل میں زیر حراست ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎ایف بی آئی کے مطابق یہ مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان سے منسلک رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق نیٹ ورک نے تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر مالیت کے 70 ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور اسمارٹ واچز بیرون ملک فروخت کیے، جبکہ شناختی چوری کے ذریعے مزید تقریباً 20 ہزار الیکٹرانک ڈیوائسز بھی حاصل کی گئیں۔
    ‎امریکی حکام نے ملزم کی گرفتاری اور حوالگی میں تعاون پر قطر کی وزارت داخلہ اور پبلک پراسیکیوشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔

  • ایس سی او اجلاس، پاکستان، چین، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ اگلے ہفتے بشکک میں جمع ہوں گے

    ایس سی او اجلاس، پاکستان، چین، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ اگلے ہفتے بشکک میں جمع ہوں گے

    ‎شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس اگلے ہفتے کرغزستان کے دارالحکومت بشکک میں منعقد ہوگا، جس میں پاکستان، چین، ایران اور روس سمیت رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ اجلاس میں آئندہ ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاریوں اور خطے سے متعلق اہم امور پر مشاورت کی جائے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 24 جولائی کو ہونے والے ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکک جائیں گے۔ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان علاقائی تعاون، سلامتی، تجارت، رابطہ کاری اور دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی بھی اجلاس میں شرکت کا امکان ہے، جس کے باعث مختلف علاقائی اور سفارتی معاملات پر اہم ملاقاتوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم دوطرفہ ملاقاتوں کے شیڈول سے متعلق ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎اجلاس کے دوران آئندہ ایس سی او سربراہی اجلاس کا ایجنڈا بھی حتمی شکل دی جائے گی۔ سربراہی اجلاس اگلے ماہ کے آخر میں بشکک میں منعقد ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایس سی او سربراہی اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس موقع پر خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، اقتصادی تعاون، سیکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
    ‎شنگھائی تعاون تنظیم کو خطے کی اہم علاقائی تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں رکن ممالک باہمی تعاون، اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کرتے ہیں۔ موجودہ اجلاس کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    ‎اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے مشیل باشلیٹ کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی تعاون کے فروغ اور عالمی مسائل کے حل میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی امن اور استحکام کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد عالمی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے تین بنیادی ستون، یعنی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق، پر متوازن انداز میں پیش رفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
    ‎ملاقات کے دوران وزیراعظم نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو تیز کرنے اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور مؤثر بین الاقوامی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
    ‎اس موقع پر مشیل باشلیٹ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے تاریخی کردار اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی مسلسل اور مؤثر شراکت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور عالمی برادری اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، عالمی تعاون اور اقوام متحدہ کے کردار سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • آبنائے ہرمز پر ایران اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، فوج کا دوٹوک اعلان

    آبنائے ہرمز پر ایران اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، فوج کا دوٹوک اعلان

    ‎ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے واضح اعلان کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا اور اس حوالے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ‎ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو جنگ، بیرونی جارحیت یا امریکی فوجی حملوں کے ذریعے دوبارہ کھلوانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی پیش رفت کا واحد راستہ ایران کے قومی حقوق اور خودمختاری کا احترام ہے۔
    ‎انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    ‎انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج اپنے رہبرِ انقلاب سمیت دیگر شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گی اور ان کی قربانیوں کا بدلہ لینے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ان کے مطابق فوج ہر وقت مکمل چوکسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار سمندری راستے کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے کی صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
    ‎حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • مون سون خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ، 11 اضلاع انتہائی حساس قرار

    مون سون خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ، 11 اضلاع انتہائی حساس قرار

    ‎مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے ہنگامی اقدامات تیز کرتے ہوئے متعلقہ تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پیشگی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
    ‎سرکاری حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر جھیل پھٹنے اور شدید بارشوں کے خطرات معمول سے زیادہ ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطرات کے تفصیلی جائزے کے بعد 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ‎انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور ضلعی ہنگامی منصوبوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کر کے صوبائی نظام کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے، جبکہ رضاکاروں کی تربیت مکمل کر کے انہیں ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
    ‎سرکاری حکام کے مطابق انخلا کے راستے، محفوظ مقامات اور امدادی مراکز پہلے ہی مختص کر دیے گئے ہیں۔ ریسکیو آلات، بھاری مشینری، مواصلاتی نظام اور دیگر ضروری وسائل بھی ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
    ‎حکام نے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے والے 12 پاکستانی نوجوان لاپتہ

    ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے والے 12 پاکستانی نوجوان لاپتہ

    ‎غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کی جانب سے بھاری تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق لاپتہ ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے جلو موڑ کے قریب واقع پسین گاؤں سے ہے۔ ان میں تین کزن، دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی شامل ہیں۔
    ‎اہلخانہ کے مطابق عامر نامی ایک مبینہ ایجنٹ لاکھوں روپے وصول کرنے کے بعد نوجوانوں کو غیر قانونی راستے سے بیرون ملک لے گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ایران پہنچنے کے بعد نوجوانوں نے آخری مرتبہ اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا، جس کے بعد ان سے تمام رابطہ منقطع ہو گیا۔
    ‎ورثا کے مطابق اب وقاص کے موبائل فون سے ہی مزید رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مبینہ اغوا کاروں نے تین نوجوانوں کی ویڈیوز بھی بھیجی ہیں جن میں انہیں گلے میں لوہے کی زنجیریں ڈالے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں نوجوان اپنے اہلخانہ سے فوری رقم کا انتظام کرنے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔
    ‎اہلخانہ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو بیرون ملک لے جانے والا مبینہ ایجنٹ بھی ان کے ہی علاقے کا رہائشی ہے۔ ان کے مطابق ایجنٹ کو پہلے ہی فی کس 10 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے تھے، تاہم اب مبینہ اغوا کار ہر نوجوان کے بدلے مزید 6 ہزار امریکی ڈالر، یعنی 16 لاکھ روپے سے زائد تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
    ‎متاثرہ خاندانوں نے ایف آئی اے کو درخواست جمع کرا دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوانوں کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خطرناک نتائج کو اجاگر کر دیا ہے۔

  • کیٹی بندر پر نئی بندرگاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ سندھ

    کیٹی بندر پر نئی بندرگاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ سندھ

    ‎وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے ساحلی علاقے کیٹی بندر میں نئی بندرگاہ تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ کی معیشت، سمندری تجارت اور ساحلی علاقوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    ‎کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ نئی بندرگاہ ضلع ٹھٹہ کے ساحلی مقام کیٹی بندر پر قائم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ساحلی پٹی کی ترقی کو فروغ ملے گا۔
    ‎مراد علی شاہ نے ملک میں آٹے اور گندم کے بحران پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت کم مقرر کیے جانے کے باعث سرکاری خریداری متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق امدادی قیمت کا تعین وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق کیا گیا تھا، تاہم کم قیمت کی وجہ سے کسانوں نے سرکاری مراکز پر گندم فروخت کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں سے 3 ہزار روپے فی من کے حساب سے گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب یہ خریداری قانون کے مطابق کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی گندم اور آٹے کی صورتحال پر اہم اجلاس کر رہے ہیں، جبکہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ سندھ حکومت کو مستقبل میں گندم کی خریداری کو ریگولیٹ نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے اور دہشت گرد عناصر کا بنیادی ہدف کراچی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور کسی بھی دہشت گرد گروہ کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎انہوں نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے دوران نوجوان ڈاکٹر کے قتل کے واقعے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور پولیس کو فوری تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

  • لاہور،دبئی سے آئی 9 سالہ بچی ڈرین ہول میں پھنس کر جاں بحق

    لاہور،دبئی سے آئی 9 سالہ بچی ڈرین ہول میں پھنس کر جاں بحق

    ‎لاہور کے علاقے باٹا پور میں واقع ایک نجی واٹر پارک میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں دبئی سے چھٹیاں گزارنے کے لیے پاکستان آنے والی 9 سالہ راحمین فاطمہ جاں بحق ہو گئی۔ واقعے نے اہل خانہ سمیت پورے علاقے کو سوگوار کر دیا، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے واٹر پارک کے تین ذمہ داران کو گرفتار کر لیا ہے۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق راحمین فاطمہ سوئمنگ پول میں نہا رہی تھی کہ اس دوران وہ پول کے ڈرین ہول میں پھنس گئی۔ اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی موجود افراد نے بچی کو ڈرین پائپ سے نکال لیا، تاہم وہ تشویشناک حالت میں تھی۔ اسے فوری طور پر گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی موجود نہ ہونے کے باعث پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں غفلت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎بچی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ باٹا پور میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے غفلت برتنے کے الزام میں واٹر پارک کے منیجر، سیکیورٹی انچارج اور سی سی ٹی وی انچارج کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
    ‎خاندانی ذرائع کے مطابق راحمین فاطمہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل دبئی سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے پاکستان آئی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اس کے والد، جو دبئی میں مقیم ہیں، فوری طور پر پاکستان روانہ ہو گئے۔

  • حاملہ خاتون کو زندہ جلانے کا الزام، شوہر اور پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    حاملہ خاتون کو زندہ جلانے کا الزام، شوہر اور پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    ‎شیخوپورہ کے علاقے الجلیل گارڈن میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، جہاں چھ ماہ کی حاملہ خاتون مبینہ طور پر آگ لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں شوہر اور اس کی پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق تحسیم بی بی کی شادی تقریباً دو سال قبل حمزہ نامی شخص سے ہوئی تھی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا اور دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھا گیا تھا، جہاں تحسیم بی بی کو آئے روز گھریلو جھگڑوں، مبینہ تشدد اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق حالیہ دنوں میں شوہر کا رویہ مزید سخت ہوگیا تھا اور وہ اپنی حاملہ اہلیہ کو بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
    ‎درخواست کے مطابق واقعے کے روز شام تقریباً چار بجے مقتولہ نے اپنی والدہ کو فون کر کے بتایا کہ اسے دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ والدہ نے بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے روز آکر اسے ساتھ لے جائیں گی، تاہم یہی دونوں کے درمیان آخری گفتگو ثابت ہوئی۔
    ‎اسی رات تقریباً 11 بجے اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ تحسیم بی بی آگ لگنے سے جاں بحق ہو گئی ہیں۔ والدہ اپنے بھائی اور دیگر عزیزوں کے ہمراہ جب الجلیل گارڈن پہنچیں تو انہوں نے اپنی بیٹی کی جھلسی ہوئی لاش گھر کے کچن میں دیکھی۔ اس افسوسناک واقعے میں نہ صرف ایک نوجوان خاتون کی جان چلی گئی بلکہ اس کے بطن میں موجود چھ ماہ کا بچہ بھی زندگی سے محروم ہو گیا۔
    ‎مقتولہ کی والدہ کی درخواست پر پولیس نے شوہر حمزہ اور اس کی پہلی بیوی سلمیٰ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اجلاس، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں پیش رفت کا جائزہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اجلاس، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں پیش رفت کا جائزہ

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران اس شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
    ‎اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو نقد لین دین سے بتدریج ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید اور شفاف مالیاتی نظام ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام بینک اور مالیاتی ادارے کیش لیس معیشت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اور کاروباری ادارے ڈیجیٹل ادائیگیوں سے مستفید ہو سکیں۔
    ‎انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ادائیگیوں کا عمل مزید شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے آسان ہو گیا ہے، جس سے مالی معاونت کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
    ‎اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے کاروباری مراکز (مرچنٹس) کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر 23 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر عوام اور کاروباری طبقے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کیش لیس معیشت سے متعلق اقدامات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے حتمی رپورٹ اور سفارشات نومبر 2026 میں حکومت کو پیش کی جائیں گی تاکہ آئندہ مرحلے کی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
    ‎اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنے رکن بینکوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں، بالخصوص راست (RAAST) نظام کے فروغ کے حوالے سے واضح اہداف مقرر کیے ہیں، تاکہ ملک بھر میں محفوظ، تیز اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
    ‎وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، شفاف اور جدید معاشی نظام کی جانب گامزن کیا جا سکے۔