Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام، آبنائے ہرمز بند رکھنے اور شہداء کے بدلے کا اعلان

    
نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام، آبنائے ہرمز بند رکھنے اور شہداء کے بدلے کا اعلان

    ‎ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ ملک کو تقسیم کرنے کی سازشیں ناکام بنا دی گئی ہیں اور ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا فیصلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہ دشمن پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق خطے میں قائم دشمن کے فوجی اڈوں کا مقصد وہاں کے ممالک کو کنٹرول کرنا ہے۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے پر مجبور ہیں کیونکہ ایران پر حملے انہی اڈوں سے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، متعلقہ ممالک کو نہیں۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ ایران دشمن کے جرائم کا بدلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، خصوصاً مناب اسکول کے واقعے کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے بند کریں۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو مزید محاذ بھی کھل سکتے ہیں جہاں دشمن کو کوئی تجربہ نہیں۔ ان کے مطابق ایران کی 15 ممالک کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں اور ایران ہمیشہ ان کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جارحیت کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا مظلوموں کے ساتھ۔ ان کے مطابق اگر دشمن نقصان کا ازالہ نہ کرے تو ایران اسی قدر اس کی املاک کو تباہ کر دے گا۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے مزاحمتی محاذ کے جنگجوؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یمن، حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ ان کی مشترکہ کوششیں صہیونی فتنہ کے خاتمے کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔
    ‎آخر میں انہوں نے شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ذاتی طور پر بڑے صدمات سے گزر چکے ہیں، تاہم اللہ پر یقین اور صبر ہی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

  • 
مشرق وسطیٰ کشیدگی، چین نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روک دیں

    
مشرق وسطیٰ کشیدگی، چین نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روک دیں

    
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث چین نے اپنے ملک کی بڑی آئل ریفائنریوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق چین نے ممکنہ عالمی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بیرون ملک فراہمی عارضی طور پر معطل کر دی ہے تاکہ ملک کے اندر پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی محفوظ رکھی جا سکے۔
    ‎ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خام تیل کی قیمت تقریباً 9.11 فیصد اضافے کے بعد 100.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎خلیجی خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور اہم آئل ٹرمینلز کی بندش کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
    ‎ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشے کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ تقریباً 9 فیصد اضافے کے بعد 100.22 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 9 فیصد اضافے کے ساتھ 95.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
    ‎عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق عراقی سمندری حدود میں تیل بردار دو بحری جہازوں کو بارود سے بھری ایرانی کشتیوں نے نشانہ بنایا، جس کے بعد عراق کی تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب عمان نے حفاظتی اقدامات کے تحت اپنے اہم مینا الفحل آئل ایکسپورٹ ٹرمینل سے جہازوں کو ہٹا لیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔

  • 
اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

    
اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

    
اسپین کی حکومت نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے جس کی تصدیق بدھ کو شائع ہونے والے سرکاری گزٹ میں کی گئی ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسپین کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں قائم اسپین کا سفارت خانہ اب ناظم الامور کی سربراہی میں کام کرے گا۔
    ‎اس اقدام کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اسپین نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

  • 
ایران کی دھمکی، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو خطے کی تمام بندرگاہیں نشانے پر ہوں گی

    
ایران کی دھمکی، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو خطے کی تمام بندرگاہیں نشانے پر ہوں گی

    
ایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے کی دیگر بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی اور انہیں بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
    ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں اور ڈاکس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو خطے کی تمام بندرگاہیں اور سمندری تنصیبات ایران کے لیے جائز اہداف بن جائیں گی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی سمندری تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎ترجمان نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی افواج کو نکال دیں کیونکہ ان کی موجودگی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے قریب موجود سویلین بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق اگر کسی سویلین بندرگاہ کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے تو بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ ہدف بن سکتی ہے۔

  • 
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

    
ایران نے امریکا میں ہونے والے فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
    الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزیر کھیل احمد دنیا مالی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے امریکا میں جا کر ورلڈکپ کھیلنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کے بعد ایران اس ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکتا۔
    ‎ایرانی وزیر کھیل نے کہا کہ ایسے حالات میں ورلڈکپ میں شرکت کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ ایرانی شہریوں اور کھلاڑیوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے ماحول سازگار نہیں رہا۔
    ‎واضح رہے کہ فیفا ورلڈکپ 2026 امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا۔

  • ‎ایران کا اسرائیل اور خلیج میں گوگل، مائيکرو سافٹ اور اوریکل جیسی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

    ‎ایران کا اسرائیل اور خلیج میں گوگل، مائيکرو سافٹ اور اوریکل جیسی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

    
ایران نے گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ممکنہ حملوں کے لیے جائز ہدف قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں موجود ان کے دفاتر اور ڈیٹا سینٹرز کی فہرست جاری کر دی ہے۔
    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران دشمن کے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹیلیگرام پر جاری ایک پوسٹ میں قطر، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ان کمپنیوں کے 29 دفاتر، ڈیٹا سینٹرز اور تحقیقی مراکز کی نشاندہی کی گئی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں امریکی ٹیک کمپنیوں اینویڈیا، پلنٹیر، آئی بی ایم اور اوریکل کے مراکز بھی شامل ہیں۔
    ‎خبر رساں ایجنسی کے مطابق خطے میں جاری جنگ جیسے جیسے انفراسٹرکچر کی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے ویسے ویسے ایران کے ممکنہ اہداف کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

  • 
تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، ایرانی فوج کا انتباہ

    
تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، ایرانی فوج کا انتباہ

    
ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کا دارومدار خطے کی سلامتی پر ہے اور امریکا کی پالیسیوں نے علاقائی استحکام کو متاثر کیا ہے۔
    تہران میں ایک بینک پر حملے کے ردعمل میں ایران نے دھمکی دی ہے کہ اب ان مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو امریکا یا اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایک امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو ایرانی تیل تنصیبات پر حملوں سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
    ‎یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے اپنے حملوں کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا اور حالیہ دنوں میں کئی تیل ڈپوؤں پر حملے کیے گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں تہران میں شدید آلودگی پیدا ہو گئی، جہاں زہریلے سیاہ دھوئیں اور تیزابی بارش کی اطلاعات سامنے آئیں جس سے شہریوں کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

  • 
پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت

    
پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت

    
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور لبنان و ایران میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عثمان جدون نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
    ‎پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

  • 
عمان کی صلالہ بندرگاہ پر آئل اسٹوریج تنصیبات ڈرون حملے میں نشانہ

    
عمان کی صلالہ بندرگاہ پر آئل اسٹوریج تنصیبات ڈرون حملے میں نشانہ

    
عمان کی صلالہ بندرگاہ پر موجود تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبری کے مطابق بندرگاہ میں موجود آئل اسٹوریج تنصیبات پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایندھن کے ٹینک متاثر ہوئے۔
    ‎عمانی سرکاری ٹی وی نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صلالہ بندرگاہ میں موجود ایندھن کے ذخائر کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
    ‎ایمبری کے مطابق اس واقعے کے دوران کسی تجارتی جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • 
ایرانی دھمکیوں کے بعد دبئی اور قطر میں بینکوں کے دفاتر خالی، عملے کو گھر سے کام کی ہدایت

    
ایرانی دھمکیوں کے بعد دبئی اور قطر میں بینکوں کے دفاتر خالی، عملے کو گھر سے کام کی ہدایت

    
ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ معاشی اور بینکاری اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد دبئی اور قطر میں کئی بین الاقوامی بینکوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق امریکی مالیاتی ادارے سٹی گروپ نے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور دیگر دفاتر سے عملے کو نکال کر گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بینک کی جانب سے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگلے احکامات تک ریموٹ ورک جاری رکھا جائے۔
    ‎اسی طرح برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بھی احتیاطی اقدامات کے تحت اپنے عملے کے لیے حفاظتی انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ دبئی اس وقت عالمی بینکاری اداروں کے لیے ایک اہم مالیاتی مرکز بن چکا ہے جہاں جے پی مورگن اور ایچ ایس بی سی سمیت کئی بڑے بینک موجود ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایچ ایس بی سی نے بھی قطر میں اپنی تمام برانچز عارضی طور پر بند کر دی ہیں اور کہا ہے کہ یہ اقدام عملے اور صارفین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
    ‎یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی فوجی قیادت نے اعلان کیا کہ خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ معاشی اور بینکاری مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث کئی بین الاقوامی کمپنیوں اور اداروں نے بھی اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق خطے میں جاری جنگ نے دبئی کی بطور محفوظ مالیاتی مرکز حیثیت پر بھی اثر ڈالا ہے اور کچھ کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔