سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جن جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے یا جوہری مواد سے متعلق معاملات ہیں، ان تک رسائی کے حوالے سے کوئی موجودہ منصوبہ طے نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ تمام امور صرف ایک جامع اور حتمی معاہدے کے فریم ورک میں ہی زیر غور آئیں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری تنصیبات کے معائنے اور نگرانی سے متعلق معاملات کا حل اس وقت ممکن ہوگا جب دوسری جانب سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے معائنہ کار ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔ تاہم ایران کے تازہ بیان نے اس حوالے سے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مستقل بنیادوں پر وسیع جوہری معائنوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ تہران آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔
تاہم ایرانی حکام کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری معائنوں اور نگرانی کے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان حتمی مذاکرات کا اہم اور متنازع حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر اور معائنہ کاروں کی رسائی مستقبل کے کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے بنیادی چیلنج بنے رہیں گے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران کا جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار، حتمی معاہدے سے مشروط قرار
-

اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ :ایران امریکا امن معاہدے پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن عمل، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے آغاز میں اسحاق ڈار نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی 105 ویں سالگرہ پر وانگ یی اور چینی قیادت کو مبارکباد پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے ایران امریکا اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور نگرانی و تنازعات کے حل سے متعلق تین الگ الگ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں، جن کا مقصد 60 روز کے اندر فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
نائب وزیراعظم نے امن عمل کے دوران چین کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی امن منصوبے اور پاکستان چین پانچ نکاتی امن اقدام کو خصوصی اہمیت دی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستانی قیادت اور اسحاق ڈار کو کامیاب سفارتی ثالثی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، فعال ثالثی اور امن کے فروغ کے لیے کردار کو سراہا۔
وانگ یی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتا رہے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین خطے میں پائیدار امن، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے مل کر کام کریں گے۔ -

مراکش غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا
رباط/تل ابیب: مراکش غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق مراکشی فوجی افسران 18 جون کو جنوبی اسرائیل میں قائم بین الاقوامی استحام فورس کے ہیڈکوارٹر پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مراکش نے رواں سال فروری میں غزہ میں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب عملی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مراکشی حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد غزہ میں استحکام، امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی جلد تعیناتی کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور اگر مستقبل میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو مختلف طاقتور ممالک پر مشتمل اتحاد رضاکارانہ طور پر مدد کے لیے تیار ہوگا۔
غزہ میں بین الاقوامی فورس کی ممکنہ تعیناتی کو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر فلسطینی گروپوں اور خطے کے دیگر ممالک کا ردعمل ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق مراکش کی شمولیت عرب دنیا میں ایک نئی سفارتی اور سیکیورٹی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچے سے متعلق سوالات بھی بدستور موجود ہیں۔ -

پی ٹی آئی نے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کا چیلنج قبول کر لیا
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف 2018 ہی نہیں بلکہ 2014 اور 2024 کے انتخابات کی بھی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ جماعت 2018 کے انتخابات کی شفاف تحقیقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقیقت سامنے لانی ہے تو تمام متنازع انتخابات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ قوم کے سامنے اصل حقائق آسکیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق بانی چیئرمین عمران خان نے 2014 میں صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور جب ان حلقوں کی جانچ پڑتال ہوئی تو متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے وسیع تحقیقات سے گریز کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے ہر حلقہ کھولنے کی پیشکش کی تھی اور اپوزیشن جس حلقے پر اعتراض کرتی، اس کی جانچ کے لیے حکومت تیار تھی۔ پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے انتخابات کے دوران بھی انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھے، سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں ہوئیں اور انتخابی عمل پر دباؤ ڈالنے کی شکایات سامنے آئیں۔
ترجمان نے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو 2014، 2018 اور 2024 کے انتخابات کا تفصیلی جائزہ لے اور اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔ -

عالمی ادارۂ صحت کی پاکستان کو ادویات کی بڑی کھیپ
اسلام آباد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مون سون سیزن اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ادویات اور طبی سامان کی بڑی کھیپ فراہم کر دی ہے، جس سے تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار افراد مستفید ہو سکیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کے مطابق ادویات اور طبی سامان پر مشتمل 9 ٹرک ملک کے مختلف علاقوں کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ امدادی سامان بالخصوص سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں استعمال کیا جائے گا تاکہ متاثرہ آبادی کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ترجمان نے بتایا کہ فراہم کی جانے والی کھیپ میں اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات، ڈرپ بوتلیں، بلڈ پریشر اور الرجی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے آئی پی سی کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مون سون کے دوران پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ملیریا، ڈینگی اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے امراض کی تشخیصی کٹس بھی پاکستان کے حوالے کی گئی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر طبی تیاریوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ طبی امداد پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور قدرتی آفات کے دوران عوام کو ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ -

حزب اللہ نے مارچ سے اب تک اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد حملے کیے، اسرائیلی وزیر خارجہ
تل ابیب: اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ سے اب تک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد راکٹ، میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔
تل ابیب میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گدعون ساعر نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان چند سرحدی معاملات کے علاوہ کوئی بڑا تنازع موجود نہیں، اور ان مسائل کو مختصر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کو اسرائیل اور لبنان دونوں کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم نے مارچ کے آغاز میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔ ان کے مطابق حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر کسی بھی ملک کے شہروں پر مسلسل راکٹ اور ڈرون حملے کیے جائیں تو وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد اپنے شہریوں کی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں استحکام کی بحالی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ مذاکرات میں سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی معاملات اور حزب اللہ کی سرگرمیوں سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ -

لاہور: گاڑی سے ملنے والی لاش کا معمہ حل، واقعہ خودکشی نکلا
لاہور: لاہور کے علاقے ڈیفنس میں دو روز قبل سڑک کنارے کھڑی گاڑی سے ملنے والی لاش کے معاملے کو پولیس نے حل کر لیا ہے۔ تحقیقات کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی عادل کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خودکشی کی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کو مشکوک قرار دے کر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی گئی تھیں، تاہم شواہد اور تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ متوفی خاندانی تنازعات اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
پولیس نے بتایا کہ گاڑی سے ایک پولیس وردی بھی برآمد ہوئی تھی، جس کے باعث کیس نے مزید توجہ حاصل کی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ برآمد ہونے والی وردی سب انسپکٹر طاہر کی تھی اور متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ڈیفنس کے علاقے میں سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی سے لاش ملنے پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ اب تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔ -

امیرِ قطر کا وزیراعظم شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہا
اسلام آباد: قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تاریخی معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خوشگوار گفتگو میں امیرِ قطر نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے قطر کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کی کامیابی میں قطر کی مسلسل حمایت انتہائی اہم رہی۔ انہوں نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی اور اسٹریٹجک کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن کی کاوشوں سے مذاکراتی عمل کو کامیابی ملی۔
دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکراتی عمل کی مثبت رفتار برقرار رہنی چاہیے تاکہ مستقل اور کامیاب نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہوگا۔
گفتگو کے دوران امیرِ قطر نے راس لفان انڈسٹریل سٹی کی برزان گیس تنصیب میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے قطر میں مقیم تین لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی میزبانی اور ان کی فلاح کے لیے قطری حکومت کے اقدامات کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال دوحہ کے اپنے دوروں کو یاد کرتے ہوئے امیرِ قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ جواب میں شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے رواں سال پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر مزید بات چیت کی جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ -

حج 2026، وزیراعظم شہباز شریف کا ایوارڈ یافتہ پاکستانی منتظمین کو خراج تحسین
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حج 2026 کے انتظامات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے سرکاری و نجی شعبے کے منتظمین سے ملاقات کی اور سعودی حکومت کی جانب سے ملنے والے لبیتم ایکسی لینس ایوارڈز پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستانی نجی شعبے کے تین حج آرگنائزرز نے شاندار خدمات کے باعث سعودی عرب کا معتبر لبیتم ایکسی لینس ایوارڈ حاصل کیا۔ محمد عفان ذیشان کے المعراج آرگنائزر نے پہلی، محمد شاہد رفیق کے ابراہیم آرگنائزر نے دوسری جبکہ زعیم اختر کے الفتح آرگنائزر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بریفنگ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سمرو کو بھی حج 2026 کے دوران غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں لبیتم ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام منتظمین اور ڈی جی حج کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے دیا گیا یہ اعزاز پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے فخر کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حج 2026 کے دوران پاکستانی عازمین کو فراہم کی جانے والی معیاری سہولیات اور بہترین انتظامات کا اعتراف ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں حج انتظامات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، جو پوری قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خدمت، محنت اور دیانت داری ہی وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو عظیم بناتے ہیں۔
شہباز شریف نے منتظمین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عازمین حج کی خدمت کے ذریعے انہوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برس حج انتظامات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور پاکستان مزید بین الاقوامی اعزازات حاصل کرے گا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا، ڈی جی حج عبدالوہاب سمرو اور ایوارڈ یافتہ نجی حج منتظمین بھی شریک تھے۔ -

لیبیا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
راولپنڈی: لیبیا کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور فوجی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی جی ایچ کیو آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور فوجی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ دونوں فریقین نے پیشہ ورانہ فوجی تربیت، سیکیورٹی تعاون اور دفاعی شعبے میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج خطے میں امن، استحکام اور دوست ممالک کے ساتھ تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
لیبیا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ملاقات کو پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعلقات کے فروغ اور فوجی تعاون میں مزید پیش رفت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔