یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی اور غیر معمولی ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں، جہاں جان لیوا موسم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 264 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ برساتے سورج اور مسلسل بلند درجہ حرارت نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جبکہ اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز پر بھی شدید دباؤ ہے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک اسپین ہے، جہاں صرف چار روز کے دوران 212 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث تین سالہ بچے سمیت 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت پیرس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کے باعث دو ایٹمی ری ایکٹر بھی عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
برطانیہ میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور گرمی سے متعلق طبی مسائل میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف ایک دن میں ایمبولینس سروس کو 642 جان لیوا نوعیت کی ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں، جبکہ متعدد اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ بعض اسپتالوں میں کولنگ سسٹم متاثر ہونے سے طبی آلات نے بھی کام کرنا بند کر دیا، جس کے باعث غیر ہنگامی آپریشنز اور اسکین مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں گرمی نے گزشتہ 80 برس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جبکہ نیدرلینڈز نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ پر چھایا ہوا ہیٹ ڈوم اس غیر معمولی گرمی کی بنیادی وجہ ہے، جو گرم ہوا کو ایک ہی علاقے میں قید رکھتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمیاتی صورتحال 2003 کی تباہ کن ہیٹ ویو کی یاد دلا رہی ہے، جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی مغربی ممالک میں ایئر کنڈیشننگ کا محدود استعمال بھی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

یورپ میں شدید ہیٹ ویو سے اموات 264 تک پہنچ گئیں، اسپین سب سے زیادہ متاثر
-

ایران معاہدے کے بعد خلیجی ممالک کو امریکا پر اعتماد کم ہونے لگا
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک میں امریکی سیکیورٹی ضمانتوں سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کے ممالک اب اپنی دفاعی حکمت عملی اور مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے نئے سرے سے غور کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں پیش آنے والے واقعات، خصوصاً ایران سے کشیدگی اور حالیہ جنگ، نے خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا امریکا مستقبل میں بھی پہلے کی طرح ان کی سلامتی کا ضامن رہے گا یا نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے حالیہ خلیجی دورے کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ان کے مفادات کو مکمل اہمیت دی جائے گی اور امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس کے باوجود خطے کے کئی ممالک معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات رکھتے ہیں، خاص طور پر ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔ اسی تناظر میں بعض خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور اسلحے کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں، تاہم وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صرف سفارت کاری پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے نزدیک مضبوط دفاعی صلاحیت اور علاقائی تعاون مستقبل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہوگا۔ -

یورپی یونین اجلاس میں سوئیڈش وزیر اپنے تین ماہ کے بیٹے کے ساتھ شریک، نئی مثال قائم
لکسمبرگ: یورپی یونین کے وزرائے ماحولیات کے اجلاس میں اس وقت ایک منفرد منظر دیکھنے میں آیا جب سوئیڈن کی وزیرِ ماحولیات رومینا پورموختاری اپنے تین ماہ کے بیٹے ایڈم کو ساتھ لے کر اجلاس میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے اجلاس میں خطاب بھی کیا اور دورانِ اجلاس اپنے شیر خوار بچے کی دیکھ بھال بھی کرتی رہیں، جس نے شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رومینا پورموختاری نے کہا کہ ان کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ والدین، خصوصاً خواتین، کو ایسی پالیسیاں اور سہولیات میسر ہونی چاہئیں جو انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین بیک وقت کامیاب پیشہ ور اور اچھی ماں بن سکتی ہیں، بشرطیکہ گھر میں ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ہو اور شریکِ حیات بھی بچوں کی پرورش میں بھرپور کردار ادا کرے۔
یورپی یونین کونسل کے ایک عہدیدار کے مطابق ادارے کی معلومات کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی شیر خوار بچے نے یورپی یونین کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی ہو۔
30 سالہ رومینا پورموختاری 2022 میں وزارت سنبھالنے کے بعد سوئیڈن کی تاریخ کی کم عمر ترین وزیر بنیں۔ وہ حال ہی میں والدین کی رخصت مکمل کر کے واپس آئی ہیں، جبکہ ان کے شوہر اس وقت پیرنٹل لیو پر ہیں اور بیٹے ایڈم کی دیکھ بھال کے لیے ان کے ہمراہ لکسمبرگ بھی آئے۔
واضح رہے کہ سوئیڈن دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں والدین کو تنخواہ کے ساتھ طویل مدت کی پیرنٹل لیو دی جاتی ہے۔ اس نظام کے تحت والد اور والدہ دونوں کے لیے مخصوص مدت کی رخصت مختص ہوتی ہے تاکہ دونوں بچوں کی پرورش میں برابر کا کردار ادا کریں۔ -

وینزویلا میں پرانی اور غیر معیاری عمارتیں زلزلے میں بڑے جانی نقصان کی وجہ بنیں، ماہرین
کاراکاس: ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے دوران بڑے پیمانے پر عمارتوں کے منہدم ہونے کی ایک بڑی وجہ کئی دہائیوں سے جاری معاشی بحران، بدعنوانی اور پرانی عمارتوں کی خستہ حالی ہے۔
برطانوی یونیورسٹی آف کووینٹری کے قدرتی آفات کے ماہر میتھیو بلیکٹ کے مطابق وینزویلا میں طویل معاشی مشکلات اور سرکاری بدعنوانی کے باعث متعدد عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، جبکہ بہت سی تعمیرات سرکاری ضابطوں کے بغیر یا ناقص معیار کے ساتھ مکمل کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ وینزویلا کے موجودہ تعمیراتی قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں، تاہم 1950، 1960 اور 1970 کی دہائی میں تعمیر ہونے والی عمارتیں جدید زلزلہ مزاحم معیار پر پوری نہیں اترتیں، جس کی وجہ سے وہ شدید زلزلوں میں زیادہ نقصان کا شکار ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کاراکاس میں گرنے والی زیادہ تر عمارتیں بھی انہی پرانی دہائیوں میں تعمیر کی گئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی خوشحالی کے دور میں تیزی سے ہونے والی تعمیرات میں کئی مقامات پر معیار پر سمجھوتہ کیا گیا۔
سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی نشاندہی کی ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بڑے سرکاری رہائشی منصوبے شامل ہیں، جہاں تیزی سے بڑھتی آبادی کے دوران ہزاروں رہائشی یونٹس تعمیر کیے گئے تھے، مگر ان میں تعمیراتی ضوابط پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہر سول انجینیئرنگ رافائل ڈی ریسی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ رہائشی عمارتوں میں کتنی ایسی ہیں جو جدید تعمیراتی قوانین سے پہلے تعمیر ہوئیں یا غیر رسمی طور پر بنائی گئیں، کیونکہ یہی عوامل زلزلے میں تباہی کی شدت کا تعین کرتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وینزویلا میں پرانی عمارتوں کو جدید زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق مضبوط بنانے کا عمل نہ ہونے کے برابر رہا، جبکہ دیگر ممالک، جیسے امریکا، میں بڑے زلزلوں کے بعد حکومتوں نے عمارتوں کی مرمت، معائنہ اور مضبوطی کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے تھے۔ -

ایران جنگ میں پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، خواجہ آصف
سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران پاکستان نے جو سفارتی کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یومِ عاشور ایسے وقت میں آیا جب خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام نے اپنے طرزِ عمل سے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کیں، جس کے باعث ملک پوری امت مسلمہ کے سامنے سرخرو ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں بھی اس سفارتی کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گی۔
خواجہ آصف نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دعا ہے لبنان اسرائیلی جارحیت سے نجات حاصل کرے اور دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں آزادی، امن اور استحکام عطا فرمائے۔ -

تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، وزیراعظم کا پیغام
اسلام آباد: تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر قسم کے تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہے اور یہ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بھی انسانی جان، عزت اور وقار کے تحفظ پر زور دیتا ہے، اسی لیے پاکستان تشدد کے خاتمے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں پر کاربند ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد کا شکار افراد کو بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کا احتساب بھی ناگزیر ہے۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
شہباز شریف نے فلسطین اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں میں شہری ریاستی جبر، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں اور تشدد کے متاثرین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق ہے۔ -

ملک بھر میں یومِ عاشور کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن
ملک بھر میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یومِ عاشور کے جلوس اور مجالس عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک میں مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار اور رینجرز کے جوان تعینات ہیں۔ جلوس کے راستوں اور اطراف میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے، ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اطراف کی گلیوں، بازاروں اور دکانوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہوا، جہاں آٹھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کوئٹہ میں شہداء چوک سے مرکزی جلوس برآمد ہوا، جس کے روٹس مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں ایف سی، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے تقریباً 17 ہزار اہلکار تعینات ہیں، جبکہ جلوس کے ساتھ 1200 رضاکار اور 30 طبی کیمپ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں بھی شبیہِ علم، ذوالجناح اور تعزیوں کے جلوس روایتی راستوں پر جاری ہیں۔ متعلقہ اضلاع میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ -

حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج
کوٹ ادو: پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں حق مہر کا مطالبہ کرنے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور جوتے سے پانی پلانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 جون کو تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود میں پیش آیا، جبکہ خاتون کے والد کی مدعیت میں 23 جون کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کی شادی دو سے تین سال قبل حسنین نامی شخص سے ہوئی تھی اور نکاح کے وقت دو تولہ سونا حق مہر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
مدعی کے مطابق خاتون کو پہلے بھی گھریلو تشدد کا سامنا رہا۔ واقعے کے روز جب اس نے اپنا حق مہر طلب کیا تو مبینہ طور پر شوہر اور دیگر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی جوتے سے پانی پینے پر مجبور کیا۔ اس دوران واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں خاتون کے شوہر حسنین، اعجاز اور ایک نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے انہیں اور ان کے بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ -

16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، انڈونیشیا کا بڑا اقدام
انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور سخت ڈیجیٹل ضوابط کا باقاعدہ نفاذ شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی لت، سائبر بُلیئنگ اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
نئے قوانین کے تحت ایسے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جنہیں حکومت نے "ہائی رسک” قرار دیا ہے، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس فوری طور پر غیر فعال کریں۔ ان پلیٹ فارمز میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بیگو لائیو اور روبلوکس شامل ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نئے ضوابط پر عمل درآمد کے بعد ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے 47 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
نئے قوانین کے تحت والدین اور سرپرستوں کو بھی زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی بچہ کسی ایسے صارف سے رابطہ کرنا چاہے جس کی شناخت واضح نہ ہو، تو اس کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو نامعلوم افراد سے رابطے اور ممکنہ آن لائن استحصال سے بچانا ہے۔
حکومت نے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کا بھی پابند بنایا ہے تاکہ کم عمر بچے غلط معلومات فراہم کر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہ بنا سکیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدامات جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی نوعیت کے پہلے جامع قوانین قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈونیشیا نے بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے ایک اہم مثال قائم کی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور عمر کی درست تصدیق سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ -

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے پر انخلا کے پمفلٹس گرا دیے
بیروت: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر فضائی ذریعے سے پمفلٹس گرا کر شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کا انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ قصبہ جنوبی لبنان میں اس علاقے کے قریب واقع ہے جہاں اسرائیلی فوج اب بھی اپنی پوزیشنیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، جبکہ دوسری جانب امریکا میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
حالیہ پیش رفت نے جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے اور علاقے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔