Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • بل گیٹس کا بڑا اعتراف، جیفری ایپسٹن مجھے بلیک میل کرنا چاہتا تھا

    بل گیٹس کا بڑا اعتراف، جیفری ایپسٹن مجھے بلیک میل کرنا چاہتا تھا

    ‎واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹن انہیں ان کے ماضی کے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس کی کمیٹی نے بند کمرے میں دیے گئے بل گیٹس کے بیان کا متن جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ جیفری ایپسٹن ان کے ماضی کے غیر ازدواجی تعلقات سے متعلق معلومات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں دباؤ میں لانا چاہتا تھا۔ بل گیٹس کے مطابق ایپسٹن کے تیار کردہ ای میل مسودوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انہیں دھمکانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
    ‎بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان کے تین خواتین کے ساتھ تعلقات رہے، جبکہ جیفری ایپسٹن کو ان میں سے دو تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ایپسٹن کے مجرمانہ سرگرمیوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں تھا۔ بل گیٹس کے مطابق چار برس کے دوران ان کی ایپسٹن سے تقریباً 12 سے 14 ملاقاتیں اور دو ویڈیو کالز ہوئیں، جن کا مقصد زیادہ تر فلاحی منصوبوں اور ممکنہ عطیہ دہندگان کے حوالے سے بات چیت تھا۔
    ‎بل گیٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس وقت جیفری ایپسٹن کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے اور بعد میں انہیں احساس ہوا کہ اس سے ملاقات کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی کمیٹی اس وقت جیفری ایپسٹن کے بااثر عالمی شخصیات سے روابط اور ممکنہ نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہی ہے، جس کے دوران متعدد اہم شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 30 جون سے دوبارہ شروع ہوں گے، مارکو روبیو

    امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 30 جون سے دوبارہ شروع ہوں گے، مارکو روبیو

    ‎منامہ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا اگلا دور 30 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگا، جہاں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گی۔
    ‎بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایک ایسا پائیدار اور حقیقی امن چاہتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی اور خوشحالی کو بھی یقینی بنائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اتحادی ممالک کے مفادات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جو ان کی سلامتی یا مفادات کے خلاف ہو۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
    ‎مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ مؤقف قبول نہیں کرے گا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری ہو۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس میں آزادانہ جہاز رانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی ان مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  • فلپ لاہم کا فیفا پر ورلڈ کپ کو ‘فروخت’ کرنے کا الزام

    فلپ لاہم کا فیفا پر ورلڈ کپ کو ‘فروخت’ کرنے کا الزام

    ‎برلن: جرمنی کے سابق کپتان اور ورلڈ کپ فاتح لیجنڈری فٹبالر فلپ لاہم نے فیفا پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عالمی فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ اب کھیل کے بجائے تجارتی مفادات کا شکار ہو چکا ہے۔
    ‎فیفا ورلڈ کپ 2026 امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں جاری ہے۔ اسی دوران فلپ لاہم نے اپنے ایک اخباری کالم میں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور عالمی فٹبال تنظیم کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے” کیونکہ اب شائقین اور کھلاڑیوں کے مفادات پر منافع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
    ‎فلپ لاہم نے میچوں کے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹورنامنٹ کے مسلسل پھیلاؤ اور کھیل میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کی دوڑ فٹبال کی اصل روح کو نقصان پہنچا رہی ہے اور شائقین میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔
    ‎انہوں نے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق ماضی میں محدود ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ اب 48 ٹیموں تک پہنچ چکا ہے، جس سے کھلاڑیوں پر غیر ضروری جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مصروف شیڈول اور طویل سفری مصروفیات کے باعث فٹبالرز شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مزید میچز ان کی فٹنس اور کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
    ‎سابق جرمن کپتان نے خبردار کیا کہ اگر کھیل سے زیادہ مالی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی تو اس کے طویل المدتی اثرات عالمی فٹبال پر مرتب ہوں گے۔ تاہم انہوں نے رواں ورلڈ کپ میں ابھرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کا ٹیلنٹ اس کھیل کے روشن مستقبل کی امید ہے۔

  • ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن

    ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن

    کراچی: نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے ماتمی جلوس اور مجالسِ عزا عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ‎کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستوں پر گامزن ہے۔ جلوس کے باعث ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے متبادل راستے مختص کیے ہیں۔
    ‎لاہور میں امام بارگاہ قصرِ بتول شادمان سے شبیہہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس روایتی راستوں پر رواں دواں ہے۔ جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے اور سیکیورٹی کے لیے پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات ہیں۔
    ‎اسلام آباد میں 9 محرم کے مرکزی جلوس کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ جلوس کی حفاظت کے لیے تقریباً 16 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے دستے بھی سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سطحی سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا ہے، جلوس کے راستوں پر کنٹینرز نصب کیے گئے ہیں اور نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔
    ‎پشاور میں مختلف امام بارگاہوں میں مجالسِ عزا کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور اندرون شہر کے حساس علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
    ‎ادھر کوئٹہ میں میکانگی روڈ پر امام بارگاہ ناصر العزا سے برآمد ہونے والا نویں محرم الحرام کا جلوس اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ جلوس کے دوران تمام داخلی راستے بند رکھے گئے جبکہ دکانیں اور کاروباری مراکز بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بند رہے۔
    ‎ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جلوسوں اور مجالس کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ محرم الحرام کے اجتماعات پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں۔

  • بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    ‎اسلام آباد: پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بلوچستان میں بیرٹ منصوبے سے پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس منصوبے سے بیرٹ، سیسہ اور جست جیسی اہم معدنیات کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات متوقع ہیں۔
    ‎پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے مطابق کمپنی نے معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے 2004 میں اس منصوبے کی لیز حاصل کی تھی۔ طویل منصوبہ بندی، فنی جائزوں اور انتظامی مراحل کے بعد اب منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
    ‎پی پی ایل کے مطابق نومبر 2025 میں منصوبے کے معاہدے میں ترمیم کی گئی جس کے تحت حکومت بلوچستان کو بھی بیرٹ پراجیکٹ میں شراکت دار بنایا گیا۔ اس اقدام کو مقامی ترقی اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منصوبے کی منیجمنٹ اور تکنیکی مشاورت کی ذمہ داری جرمنی کی معروف کمپنی ڈی ایم ٹی کو سونپی گئی ہے، جو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق کان کنی اور پیداوار کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔
    ‎پی پی ایل کا کہنا ہے کہ خضدار اور نوکنڈی کے علاقوں میں بیرٹ، سیسہ اور جست کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف معدنیات کی ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات بڑھنے سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
    ‎کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے مقامی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے شعبے میں یہ پیش رفت مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری اور معدنی منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

  • ‎نجی جائیداد کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ٹیلی کام بل پر حکومتی وضاحت

    ‎نجی جائیداد کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ٹیلی کام بل پر حکومتی وضاحت

    ‎اسلام آباد: وزارت قانون و انصاف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں شہریوں کے نجی جائیداد کے حقوق، مالک کی رضامندی اور قانونی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے رائٹ آف وے شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاہم بعض قانونی شقوں میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
    ‎کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کسی بھی نجی زمین، عمارت یا جائیداد کے استعمال کے لیے مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ لازمی شرط ہوگا۔ کسی فرد، کمپنی یا نجی ادارے کی ملکیت میں موجود جائیداد تک رسائی یا اس کے استعمال کا کوئی اقدام رضامندی کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق قانون میں نجی زمین، نجی جائیداد، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی واضح تعریفیں شامل کی جائیں گی تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ زمین کے اوپر اور زیر زمین ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
    ‎کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ٹیلی کام ادارے اور کسی سرکاری یا رہائشی ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے، جو 45 دن کے اندر فیصلہ کرے گی۔ متاثرہ فریق کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔
    ‎وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے پالیسی مقاصد اور مجوزہ ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر حتمی مسودہ مزید غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    ‎وزارت نے زور دیا کہ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابل اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ شہریوں کے آئینی، قانونی اور ملکیتی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

  • غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانا نسل کشی کے ارادے کی علامت قرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ

    غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانا نسل کشی کے ارادے کی علامت قرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے واقعات اسرائیلی کارروائیوں کے ایک تشویشناک پہلو کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ طرزِ عمل فلسطینی عوام کو تباہ کرنے کے ارادے کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
    ‎منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور نفسیاتی صدمات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی فلسطینی بچے ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
    ‎اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بچوں کو حاصل تحفظ کے باوجود غزہ میں ان کی جانوں کو خطرات لاحق رہے اور جنگ بندی کے بعد بھی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
    ‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسلسل نشانہ بنانا ان عوامل میں شامل ہے جن کی بنیاد پر کمیشن اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن نے گزشتہ برس بھی اپنی ایک رپورٹ میں غزہ میں نسل کشی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو "پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
    ‎اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے بھی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے حماس کے حملوں، یرغمالیوں کے معاملے اور شہری علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی جیسے عوامل کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف الزامات سیاسی مقاصد کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔
    ‎یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال اور شہری ہلاکتوں کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث اور تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔

  • شدید گرمی پر کانفرنس بھی شدید گرمی کے باعث منسوخ

    ‎لندن: برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر نے معمولاتِ زندگی کو اس قدر متاثر کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی سے نمٹنے کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک اہم کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی۔
    ‎یہ تقریب لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) میں لندن کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران منعقد ہونا تھی، جہاں دنیا بھر کے ماہرین شدید گرمی کے اثرات اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔ تاہم منتظمین نے اعلان کیا کہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ریڈ ایکسٹریم ہیٹ وارننگ کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔
    ‎منتظمین کے مطابق شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی حالات کے پیش نظر شرکاء کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس مسئلے پر آگاہی اور حل تلاش کرنے کے لیے کانفرنس منعقد کی جا رہی تھی، وہی مسئلہ اس کی منسوخی کی وجہ بن گیا۔
    ‎دوسری جانب برطانوی محکمہ موسمیات نے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ میں مزید توسیع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق غیر معمولی حد تک گرم اور مرطوب موسم کا سلسلہ کل رات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
    ‎ریڈ وارننگ لندن، جنوب مشرقی اور جنوب مغربی انگلینڈ، ویلز، ویسٹ مڈلینڈز، ایسٹ مڈلینڈز اور مشرقی انگلینڈ کے علاقوں کے لیے جاری کی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی صحت عامہ، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سرگرمیوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • برطانیہ میں گرج چمک اور  طوفان کی ییلو وارننگ جاری

    برطانیہ میں گرج چمک اور طوفان کی ییلو وارننگ جاری

    ‎لندن: برطانیہ میں شدید گرمی کے بعد محکمہ موسمیات نے کل کے لیے گرج چمک اور طوفانی بارشوں کی ییلو وارننگ جاری کر دی ہے۔ وارننگ کے تحت جنوب مغربی انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شام کے اوقات میں تیز بارش، آسمانی بجلی اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ گرمی کی شدید لہر کے بعد موسم میں اچانک تبدیلی متوقع ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں طوفانی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موسمی نظام پیر کی شب پیش آنے والے طوفان جیسا ہو سکتا ہے، جب ملک بھر میں تقریباً 30 ہزار آسمانی بجلی کی چمکیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
    ‎حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث بعض عمارتوں اور عارضی ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے، تیز بارش اور ژالہ باری کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال سے متعلق تازہ ترین ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت بعض علاقوں میں معمولات زندگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اس لیے عوام کو پیشگی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔

  • ‎عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں

    ‎عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں

    ‎اسلام آباد: وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے عراق جانے والے پاکستانی زائرین اور زیارت گروپ آرگنائزرز کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے عراقی حکومت کی نئی ویزا شرائط پر سختی سے عمل درآمد کی تاکید کی ہے۔
    ‎وزارت کے مطابق عراقی حکام نے زیارت ویزا کے غلط استعمال، غیر قانونی قیام اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نئے ضوابط نافذ کیے ہیں۔ ان ہدایات کے تحت فیملی ویزا پر اکیلے سفر کرنے والے افراد کو عراق میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎نئی شرائط کے مطابق 50 سال سے کم عمر ایسے مرد زائرین جو تنہا سفر کر رہے ہوں، انہیں بھی عراق میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ مزید برآں اگر کسی زائر کا ویزا مسترد ہو جائے یا اسے عراق میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو ادا کی گئی ویزا فیس واپس نہیں کی جائے گی۔
    ‎وزارت نے واضح کیا ہے کہ عاشورہ اور اربعین کے لیے ایک ہی ویزا استعمال نہیں کیا جا سکتا اور ہر مذہبی سفر کے لیے الگ ویزا درکار ہوگا۔ عراقی ویزا صرف 30 روز کے لیے مؤثر ہوگا جبکہ مقررہ مدت سے زائد قیام کی صورت میں جرمانہ، ملک بدری اور مستقبل میں عراق میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق عراق پہنچنے پر پاکستانی زائرین کے پاسپورٹ عراقی امیگریشن حکام کی تحویل میں رہیں گے اور واپسی کے وقت انہیں واپس کیے جائیں گے۔
    ‎وزارت مذہبی امور نے تمام زائرین اور ٹور آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل نئی شرائط سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچنے کے لیے عراقی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔