وزیراعظم شہباز شریف چند گھنٹوں کے ہنگامی سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کریں گے۔
جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر نے وزیراعظم کا استقبال کیا جبکہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق اور دیگر سفارتی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب میں مختصر قیام کریں گے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اس دورے سے سفارتی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے بتایا تھا کہ وزیراعظم یہ دورہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر کر رہے ہیں اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے اور اس میں امن، جنگ بندی اور سفارت کاری کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔
Author: Aqsa Younas Rana

وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے، محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع

پاکستان کا افغانستان سے متعلق موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان
پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان سے بارہا مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم اس حوالے سے مطلوبہ یقین دہانیاں حاصل نہیں ہو سکیں۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ دنوں افغانستان کا دورہ کرنے والا وفد پاکستانی حکومت کی اجازت سے نہیں گیا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات ایران اور متعلقہ ممالک کے درمیان ہیں اور پاکستان کا اس بارے میں کوئی مخصوص مؤقف نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ سفارتی رابطوں کے بارے میں فی الحال حتمی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات مسترد کر دیے، جارحیت جاری رہی تو لڑائی بھی جاری رہے گی
ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف جارحیت جاری رہے گی کسی قسم کی سیز فائر یا مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے۔
تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن اپنی مرضی سے جنگ شروع کر کے اپنی مرضی سے جنگ بندی کا اعلان نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم بات دشمن کو واضح اور مضبوط پیغام دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج اس عزم کے ساتھ میدان میں ہیں کہ دشمن کو ایسا سبق سکھایا جائے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایران کے خلاف جارحیت کی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ ایسے وقت کیا گیا جب واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم جارحانہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں بڑے پیمانے پر اخراجات ہو رہے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ کے ابتدائی چھ دنوں کے دوران ہی تقریباً 11.3 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
امریکی حکام نے سینیٹرز کو بند کمرے میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ صرف ابتدائی تخمینہ ہے اور اس میں جنگ سے جڑے کئی دیگر اخراجات شامل نہیں، اس لیے مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی سینیٹر کرس کونز کا کہنا تھا کہ موجودہ اندازوں میں جنگ کے تمام پہلو شامل نہیں اور صرف استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری کی لاگت ہی 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں 32 لاکھ افراد بے گھر، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے بتایا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق 28 فروری کو حملوں کے آغاز کے بعد اب تک تقریباً 32 لاکھ ایرانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ افراد اپنے خاندانوں کے ساتھ اچانک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور ان میں سے کئی لوگ بنیادی سہولیات تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
یو این ایچ سی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو بے گھر ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کو خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کی فوری ضرورت ہے۔
خانہ کعبہ کے دروازے کے بارے میں دلچسپ حقائق
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ مسجد الحرام کے نمایاں ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے اور صدیوں سے زائرین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق خانہ کعبہ کا دروازہ مشرقی جانب واقع ہے اور یہ مطاف کے فرش سے تقریباً 2.25 میٹر بلند بنایا گیا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ماضی میں مکہ مکرمہ میں آنے والے سیلابی پانی سے کعبہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔
موجودہ دروازہ سعودی فرمانروا شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں 1399 ہجری یعنی 1979 میں تیار کیا گیا تھا۔ اس دروازے کی اونچائی تقریباً 3.1 میٹر جبکہ چوڑائی 1.9 میٹر ہے۔
یہ دروازہ تقریباً 280 کلوگرام خالص 24 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے جس کے باعث اسے دنیا کے قیمتی ترین دروازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دروازے کے بیرونی حصے کو خوبصورت اسلامی نقش و نگار سے سجایا گیا ہے جبکہ اس پر قرآنی آیات کی دلکش خطاطی بھی کی گئی ہے جو اس کی روحانی اور تاریخی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔
عالمی توانائی بحران، آئی ای اے کا اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ
عالمی توانائی بحران کے پیش نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث کیا گیا۔ اس اقدام کے تحت زیادہ تر خام تیل امریکا فراہم کرے گا۔
ایجنسی کے مطابق اس فیصلے کی اس کے تمام 32 رکن ممالک نے حمایت کی ہے۔ یہ 1970 کی دہائی میں ادارے کے قیام کے بعد چھٹی مرتبہ ہے کہ رکن ممالک مشترکہ طور پر اسٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ امریکا اس اقدام میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل فراہم کرے گا۔
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں تیزی آئی ہے، اسی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس اعلان کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں اور بدھ کے روز قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے باعث سپلائی میں مزید رکاوٹ کے خدشات برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 40 کروڑ بیرل تیل کی مقدار اگرچہ بڑی ہے لیکن یہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے متاثر ہونے والی عالمی سپلائی کے صرف تقریباً 20 دن کے برابر ہے، جبکہ اسے مارکیٹ تک پہنچنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد بھی آئی ای اے کے رکن ممالک نے مشترکہ طور پر 18 کروڑ بیرل تیل جاری کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس بار فراہم کیے جانے والے امریکی حصے کی ترسیل میں تقریباً 120 دن لگیں گے اور بعد میں اسٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا منصوبہ بھی بنایا جائے گا۔
یوم پاکستان سادگی سے منانے کا فیصلہ، استقبالیہ تقاریب نہیں ہوں گی
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اس سال 23 مارچ کو یوم پاکستان بیرون ملک تمام سفارتی مشنز میں سادگی کے ساتھ منایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تقریبات کو محدود کرتے ہوئے صرف روایتی پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی جائے گی جبکہ استقبالیہ تقاریب کا انعقاد نہیں کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور خطے کے دیگر ممالک اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو امید ہے کہ مکالمہ اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکلے گا اور جلد ہی پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی واپس آئے گی۔
بھارت میں سڑک پر روبوٹ بھی بھیک مانگنے لگا، تصاویر وائرل
بھارت میں ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سڑک پر انسان کے بجائے ایک روبوٹ لوگوں سے بھیک مانگتا نظر آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چند نوجوانوں نے تجرباتی طور پر ایک روبوٹ تیار کیا اور اسے پروگرامنگ کے ذریعے بھیک مانگنے کا ٹاسک دیا۔ روبوٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ وہ لوگوں کے قریب جا کر مخصوص انداز میں بات کرے اور ہاتھ پھیلا کر مدد طلب کرے۔
نوجوانوں نے روبوٹ کو ایک مصروف سڑک پر چھوڑ دیا جبکہ وہ خود دور کھڑے ہو کر اس کا ردعمل دیکھتے رہے۔ روبوٹ راہگیروں کے پاس جا کر گفتگو کرتا اور بھیک مانگنے کی اداکاری کرتا رہا۔
سڑک پر روبوٹ کو اس انداز میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ بہت سے افراد نے اس دلچسپ منظر کو اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کیا اور بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔
یہ تجربہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دلچسپ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے لوگوں کو حیران بھی کیا اور محظوظ بھی۔
پاسدارانِ انقلاب کا امریکی آئل ٹینکر پر حملے کا دعویٰ، ویڈیو بھی جاری
ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں ایک مبینہ امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج صبح سیف سیا نامی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق یہ جہاز امریکا کی ملکیت ہے اور مارشل آئی لینڈز کے پرچم کے تحت چل رہا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے جہاز کو متعدد بار انتباہ اور وارننگ جاری کی تھی، تاہم جہاز نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ آئل ٹینکر کو امریکی فوج کے اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر اسے ہدف بنایا گیا۔
آپریشن وعدہ صادق 4 کی 41ویں لہر، ایران نے اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی اکتالیسویں لہر کے دوران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے یوم القدس کی آمد سے قبل کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں رمضان کی جنگ میں جان دینے والے شہدا کی یاد میں کی گئیں، جن میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر شہید محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق اس کارروائی کا مقصد دشمن کو واضح پیغام دینا ہے کہ ایران اپنے شہدا کے خون کا بدلہ لینے اور اپنے مؤقف کے دفاع کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔









