Baaghi TV


کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز

science

‎جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی تازہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 3,200 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اب تک 1,405 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ 10 دنوں میں تقریباً 1,000 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں، جس سے صحت حکام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
‎یہ کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے، جس کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ وائرس کی بونڈی بوجیو (Bundibugyo) قسم پھیل رہی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
‎عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق تقریباً 90 فیصد مریض شمال مشرقی صوبے اٹوری (Ituri) میں سامنے آئے ہیں، جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد سے متصل ہے۔ ادارے نے بتایا ہے کہ وائرس اب ملک کے پانچ صوبوں تک پھیل چکا ہے، جن میں دو ایسے صوبے بھی شامل ہیں جہاں حال ہی میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
‎اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین ایئر سروس (UNHAS) کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی سروس کے ذریعے ڈاکٹروں، طبی ٹیموں اور امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
‎یو این ایچ اے ایس کے مطابق فضائی سروس صرف طبی عملے کی نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے نمونوں کی محفوظ ترسیل بھی یقینی بنا رہی ہے، تاکہ وائرس کی مؤثر نگرانی اور متاثرہ افراد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔
‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایبولا مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

More posts