Baaghi TV


آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی پر ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

‎ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے خاتمے کی کوششوں اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی کو خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
‎ایرانی بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی بدامنی کے خاتمے کے لیے باہمی رابطے اور مشترکہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
‎گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ جاپان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے درآمد کرتا ہے، جس کے باعث اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی جاپان سمیت کئی ممالک کے لیے معاشی اہمیت رکھتی ہے۔
‎حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور جاپان کے درمیان ہونے والا یہ رابطہ سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔

More posts