Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ایران معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ

    ایران معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ

    ‎فرانس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہے اور اگر انہیں اس کا حتمی متن قابل قبول نہ لگا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے۔
    ‎جی سیون اجلاس کے موقع پر فرانس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی پیش رفت ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں پیش کیے جانے والے معاہدے کی شرائط امریکا کے مفاد کے مطابق نہ ہوئیں تو دیگر تمام آپشنز بدستور موجود رہیں گے۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ وہ یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی امریکی کمپنی یا سرمایہ کار ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر سختی سے قائم رہے گا اور تمام فیصلے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔
    ‎ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آئے گی۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کے مثبت اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی پر بھی مرتب ہوں گے۔
    ‎دوسری جانب مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، باہمی تعلقات اور علاقائی امن سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  • 
لاہور میں جعلی کرنسی اور دستاویزات بنانے والا گروہ گرفتار

    
لاہور میں جعلی کرنسی اور دستاویزات بنانے والا گروہ گرفتار

    ‎لاہور: لاہور پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران جعلسازی کے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے باپ بیٹوں سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان ایک فیکٹری نما سیٹ اپ قائم کر کے جعلی کرنسی، شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد اور دیگر سرکاری دستاویزات تیار کرنے میں ملوث تھے۔
    ‎ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں پولیس نے جدید مشینری سے لیس ایک خفیہ مرکز پر چھاپہ مار کر ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد میں گینگ کا مبینہ سرغنہ ریاض، اس کا بیٹا ساجن ریاض جبکہ عمران اور آصف شامل ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف جعلی پاکستانی کرنسی بلکہ غیر ملکی کرنسی بھی تیار کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیار کی جانے والی جعلی کرنسی ملک کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرون ملک بھی سپلائی کی جاتی تھی، جس سے اس نیٹ ورک کے دائرہ کار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    ‎چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں جعلی پاکستانی اور غیر ملکی کرنسی، جدید پرنٹنگ مشینیں، کمپیوٹر سسٹمز، خصوصی کیمیکل اور دیگر سامان برآمد کیا گیا، جو جعلی نوٹ اور دستاویزات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا۔
    ‎تفتیش کے دوران ایک اہم انکشاف بھی سامنے آیا کہ گینگ کے مبینہ سربراہ ریاض نے بیرون ملک سے جدید کلر میچنگ ٹیکنالوجی کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی۔ پولیس کے مطابق اسی مہارت کی مدد سے جعلی کرنسی اور دستاویزات کو اصل کے قریب ترین شکل دی جاتی تھی تاکہ انہیں آسانی سے پہچانا نہ جا سکے۔
    ‎پولیس نے ملزمان کے خلاف تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد اور ممکنہ سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ جعلسازی اور مالی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ایسے جرائم سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • 
بجلی کے بلوں کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف

    
بجلی کے بلوں کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف

    ‎اسلام آباد: حکومت نے بجلی صارفین کی دیرینہ شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں بجلی کے بلوں کا نیا، سادہ اور آسان فارمیٹ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے ڈیزائن کا مقصد بلنگ کے نظام کو زیادہ شفاف بنانا، غیر ضروری پیچیدگیوں کا خاتمہ کرنا اور صارفین کے لیے بل کو سمجھنا آسان بنانا ہے۔
    ‎وزارتِ توانائی کی خصوصی ہدایات پر تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے نئے فارمیٹ پر مبنی بل جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق نئے ڈیزائن کی تیاری میں صارفین کی سہولت کو اولین ترجیح دی گئی ہے تاکہ ہر شہری بغیر کسی مشکل کے اپنے بجلی کے بل کی مکمل تفصیلات دیکھ اور سمجھ سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق پرانے بجلی کے بل میں غیر ضروری معلومات، پیچیدہ تکنیکی اصطلاحات اور الجھی ہوئی ترتیب شامل ہونے کی وجہ سے صارفین کو اکثر بل کی تفصیلات سمجھنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بل کے فارمیٹ کو مکمل طور پر ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔
    ‎نئے بل میں سب سے اہم معلومات کو نمایاں انداز میں درج کیا گیا ہے۔ بل کی مجموعی رقم، ادائیگی کی آخری تاریخ، استعمال شدہ یونٹس اور دیگر بنیادی تفصیلات اب واضح انداز میں سامنے ہوں گی، جس سے صارفین ایک ہی نظر میں اپنے بجلی کے استعمال اور واجب الادا رقم سے آگاہ ہو سکیں گے۔
    ‎وزارتِ توانائی نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے بجلی کے بل میں کیو آر کوڈ بھی شامل کیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے صارفین اپنے اسمارٹ فون سے بل کی فوری تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ آن لائن ادائیگی بھی آسانی سے کر سکیں گے، جس سے وقت کی بچت اور سہولت میں مزید اضافہ ہوگا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ سے بجلی کمپنیوں اور صارفین کے درمیان بلنگ کا نظام زیادہ شفاف ہوگا، غلط فہمیوں میں کمی آئے گی اور شکایات کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صارف دوست اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد بجلی کی خدمات کو مزید مؤثر، آسان اور جدید بنانا ہے۔
    ‎نئے بلنگ سسٹم سے توقع کی جا رہی ہے کہ صارفین اپنے ماہانہ اخراجات کا بہتر انداز میں جائزہ لے سکیں گے اور انہیں بل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اضافی رہنمائی کی ضرورت بھی کم پڑے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات متوقع

    وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات متوقع

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آج پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، وفاقی بجٹ اور حکومتی اتحاد سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اپنی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری آئندہ مالی سال کے مجوزہ وفاقی بجٹ کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس دوران بجٹ میں شامل مختلف تجاویز، عوامی ریلیف کے اقدامات اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔
    ‎ملاقات میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، پارلیمانی معاملات، بجٹ کی منظوری اور موجودہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دونوں رہنما عوام کو درپیش معاشی مشکلات، مہنگائی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر اہم قومی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مکمل مشاورت کے ذریعے بجٹ کی منظوری کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل کیا جائے۔
    ‎سیاسی حلقے اس ملاقات کو وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطوں کے تسلسل کی اہم کڑی قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں ہونے والے فیصلے نہ صرف بجٹ بلکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

  • سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور واک آؤٹ

    سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور واک آؤٹ

    وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، ایوان میں نعرے بازی کی اور بعد ازاں واک آؤٹ کر گئے، تاہم وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی۔
    مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ صوبے کی ترقی کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
    وزیراعلیٰ کے مطابق ترقیاتی فنڈز انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
    وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سال کسی بھی نئے ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کو ترجیح دی ہے۔
    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سماجی تحفظ اور دیگر عوامی شعبوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ترقی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔
    ‎مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈز سڑکوں، پلوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری ملازمین کے لیے بھی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے مزید اعلان کیا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ایک ہزار روپے بڑھا کر 41 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کم آمدنی والے مزدوروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔
    ‎مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر صوبے کی ترقی اور فلاحی منصوبوں کو جاری رکھنا ہے۔

  • 
ایلون مسک کی برطانوی سنسرشپ قانون پر شدید تنقید، برطانیہ کو ’پولیس اسٹیٹ‘ قرار دے دیا

    
ایلون مسک کی برطانوی سنسرشپ قانون پر شدید تنقید، برطانیہ کو ’پولیس اسٹیٹ‘ قرار دے دیا

    ‎ٹیکنالوجی کمپنی ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے برطانیہ کے نئے سنسرشپ قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا” قرار دیا ہے۔
    ‎ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد شہریوں کا تحفظ نہیں بلکہ ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ ہے۔ انہوں نے برطانیہ کو "پولیس اسٹیٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
    ‎یہ تنازع برطانوی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قانون کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے نگرانی اور سنسرشپ کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔

  • ‎امریکا ایران معاہدے سے پیٹرول سستا ہوگا، پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا: عظمیٰ بخاری

    ‎امریکا ایران معاہدے سے پیٹرول سستا ہوگا، پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا: عظمیٰ بخاری

    ‎پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اہم معلوماتی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جائے گی، جس کے مثبت اثرات براہِ راست پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نمایاں طور پر نیچے آئیں گی اور حکومت اس کا پورا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچائے گی۔
    صوبائی بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب کا ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرجری ہونے اور ڈاکٹرز کے آرام کے مشورے کے باوجود وزیر اعلیٰ بجٹ اجلاس میں خود شریک ہوئیں کیونکہ وہ عوامی معاملات کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تاہم جو بڑے کاروباری ادارے ٹیکس چوری کرتے ہیں یا ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، انہیں اب ہر صورت ٹیکس دینا پڑے گا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے پچھلے سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ٹیکس جمع کیا ہے اور ادارے اب اپنے وسائل سے مزید ریونیو اکٹھا کریں گے۔
    صوبائی وزیر نے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کو ترجیح دیتے ہوئے وہاں سب سے پہلے الیکٹرک بسیں پہنچائی گئی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنے والے تعصب کی عینک اتار کر ترقی دیکھیں اور وہ پرامن طور پر بجٹ سننے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس بار بھی سرپلس بجٹ پیش کیا ہے جس میں تعلیم، صحت، زراعت اور سوشل سیکٹر کی بہتری کے لیے اپنے وسائل سے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

  • ایف بی آر کی پالیسیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا شدید تحفظات کا اظہار

    ایف بی آر کی پالیسیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا شدید تحفظات کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مسلسل دوسرے روز بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقے پر اراکین کی جانب سے شدید عدم اطمینان اور مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے ایف بی آر کی موجودہ ٹیکس پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیاں ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھنے کے بجائے یورپی ماڈلز پر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں، جو پاکستان کی مقامی معاشی حقیقتوں سے بالکل میل نہیں کھاتیں۔
    اجلاس کے دوران ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا، جہاں سینیٹر عبدالقادر نے ریفنڈز کی ادائیگیوں میں ہونے والی طویل تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے ایف بی آر کے حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کی خرابیوں اور نااہلی کو فوری طور پر دور کریں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ کاروباری برادری اور عام ٹیکس دہندگان کے درمیان کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

  • لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    ‎لاہور میں کھلے گٹروں اور نالوں کی وجہ سے پیش آنے والے پے در پے حادثات نے واسا (WASA) کی کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز سندر میں ایک بچہ کھلے گٹر میں گر گیا تھا جسے خوش قسمتی سے بچا لیا گیا، لیکن آج پھر ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں گٹر میں گرنے کے باعث ایک معصوم بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    صوبائی دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی سخت ہدایات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی مایوس کن ہیں، جس پر عوام شدید سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں کا اصرار ہے کہ اتنی مجرمانہ غفلت کے بعد بھی واسا کا سربراہ اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہے اور اسسٹنٹ کمشنر (AC) رائے ونڈ اس سنگین صورتحال پر کیا کر رہے ہیں؟
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ واسا کے اعلیٰ حکام نے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھاتی گیٹ کے المناک حادثے میں بھی، جہاں ماں اور بیٹی کھلے گٹر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی تھیں، واسا کے اسی سربراہ نے اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑتے ہوئے یہ تک دعویٰ کر دیا تھا کہ ماں بیٹی ڈوب کر ہلاک نہیں ہوئیں۔ اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان اور مجرمانہ غفلت کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی حتمی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
    لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک معصوم بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اس افسوسناک اور دلدوز واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
    کھلے مین ہولز اور سیوریج کے گڑھے معصوم شہریوں کے لیے
    موت کے کنویں بن چکے ہیں، اور عوام اب محض کھوکھلے دعووں کے بجائے واسا کے اعلیٰ افسران اور مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت اور فوری تادیبی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • جی 7 سربراہی کانفرنس: ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان روایتی گرم جوشی غائب

    جی 7 سربراہی کانفرنس: ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان روایتی گرم جوشی غائب

    ‎فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہمیشہ نظر آنے والی روایتی گرم جوشی کے بجائے ایک قدرے سرد اور انتہائی رسمی ملاقات دیکھنے میں آئی ہے۔ حالیہ پاکٹ تجارتی کشیدگی اور امریکی ٹیرف کے اعلانات کے تناظر میں دونوں عالمی رہنماؤں کی باڈی لینگویج میں یہ بڑی تبدیلی خاصی نمایاں تھی، جس نے سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    رپورٹس اور وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق، روایتی گروپ فوٹو (فیملی فوٹو) کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی اور اس سیشن میں ان کے درمیان کوئی واضح بات چیت دیکھنے میں نہیں آئی۔ فوٹو سیشن کے اختتام پر جب تمام عالمی رہنما اکٹھے ہوئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کے بازو پر ہاتھ رکھا اور ان سے ایک پختہ مگر رسمی ہینڈ شیک کیا، جس کے بعد دونوں رہنما کانفرنس کے ورکنگ سیشن میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
    تاہم، اس پوری ملاقات کے دوران سب سے زیادہ توجہ طلب بات یہ تھی کہ وزیراعظم مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنا مشہور اور روایتی گرم جوش ‘جپھی والا’ (گلے ملنے کا) انداز یکسر ترک کیے رکھا، جبکہ ٹرمپ بھی مودی کو کچھ حد تک نظر انداز کرتے دکھائی دیے۔ دونوں رہنماؤں کے اس بدلے ہوئے اور رسمی رویے نے سیاسی مبصرین کی توجہ فوری طور پر اپنی جانب مبذول کروا لی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔