لاہور میں کھلے گٹروں اور نالوں کی وجہ سے پیش آنے والے پے در پے حادثات نے واسا (WASA) کی کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز سندر میں ایک بچہ کھلے گٹر میں گر گیا تھا جسے خوش قسمتی سے بچا لیا گیا، لیکن آج پھر ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں گٹر میں گرنے کے باعث ایک معصوم بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
صوبائی دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی سخت ہدایات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی مایوس کن ہیں، جس پر عوام شدید سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں کا اصرار ہے کہ اتنی مجرمانہ غفلت کے بعد بھی واسا کا سربراہ اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہے اور اسسٹنٹ کمشنر (AC) رائے ونڈ اس سنگین صورتحال پر کیا کر رہے ہیں؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ واسا کے اعلیٰ حکام نے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھاتی گیٹ کے المناک حادثے میں بھی، جہاں ماں اور بیٹی کھلے گٹر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی تھیں، واسا کے اسی سربراہ نے اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑتے ہوئے یہ تک دعویٰ کر دیا تھا کہ ماں بیٹی ڈوب کر ہلاک نہیں ہوئیں۔ اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان اور مجرمانہ غفلت کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی حتمی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک معصوم بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اس افسوسناک اور دلدوز واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
کھلے مین ہولز اور سیوریج کے گڑھے معصوم شہریوں کے لیے
موت کے کنویں بن چکے ہیں، اور عوام اب محض کھوکھلے دعووں کے بجائے واسا کے اعلیٰ افسران اور مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت اور فوری تادیبی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان
