اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں چھوٹے ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت، انسانی بحران اور دہشت گردی کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر طالبان حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
امریکا کی مستقل مندوب جینیفر لوکیٹا نے بھی طالبان سے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مثبت پیش رفت طالبان کے طرزِ عمل میں تبدیلی سے مشروط ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

سلامتی کونسل کی افغانستان میں دہشت گردی پر تشویش، طالبان پر محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام
-

ایران امریکا معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کا امکان
ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 20 امریکی فوجی طیاروں کو بن گوریان ایئرپورٹ سے منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مزید طیاروں کی واپسی بھی زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق بن گوریان ایئرپورٹ پر اس وقت 75 امریکی فوجی طیارے موجود ہیں، جس کے باعث پارکنگ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور فضائی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عام مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازوں کی منسوخی اور لاکھوں ٹکٹ متاثر ہونے کی شکایت کی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کی بڑی تعداد نے ایئرپورٹ پر دستیاب جگہ محدود کر دی ہے، جس سے شہری پروازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ -

ایران امریکا مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دو مرحلوں میں کیے جائیں گے، جن کا مقصد حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تہران میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور ممکنہ طور پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں جنگ بندی، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو پر بات چیت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیئم کی افزودگی اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ ایک جامع اور حتمی معاہدہ طے پا سکے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایک جانب امریکا اور اسرائیل جبکہ دوسری جانب ایران اور حزب اللہ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا معاملہ بھی اس معاہدے کا اہم حصہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ لبنان کی کسی بھی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ برقرار رہنا یا مستقبل میں کوئی نئی فوجی کارروائی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی اور اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق پیر کو معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ مفاہمتی یادداشت جمعے سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگی، جس کے بعد اگلے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ -

گلگت بلتستان کے 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے چار آزاد امیدواروں نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
آزاد اراکین نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ آئی پی پی میں شامل ہونے والوں میں جی بی اے 15 دیامر سے محمد دلپذیر، جی بی اے 21 غذر 3 سے امان علی، جی بی اے 23 گانچھے سے انور علی اور جی بی اے 24 گانچھے 3 سے اسد شفیق شامل ہیں۔
محمد دلپذیر نے اس موقع پر کہا کہ چاروں آزاد امیدواروں نے مشترکہ طور پر گروپ بنا کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا دیگر آزاد ارکان اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے منتخب امیدواروں سے بھی رابطہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر آزاد امیدواروں کو بھی آئی پی پی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، جبکہ پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ -

والدین بھی آرام سے دیکھ سکیں، اسی طرح کے مناظر کا انتخاب کرتی ہوں: حنا طارق
پاکستانی اداکارہ حنا طارق کا کہنا ہے کہ وہ شوبز میں ہر کام سوچ سمجھ کر کرتی ہیں اور شوٹنگ کے دوران ایسے مناظر کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کے والدین بھی اطمینان سے بیٹھ کر دیکھ سکیں۔
حنا طارق نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے کیریئر، کرداروں اور لباس کے انتخاب سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک اداکار کی زندگی صرف شوبز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی ایک ذاتی زندگی بھی ہوتی ہے، اور ہر اداکار کو ایک نہ ایک دن شادی بھی کرنی ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ اپنے ہر فیصلے میں احتیاط برتتی ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک عورت معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تین نسلیں ایک عورت سے وابستہ ہوتی ہیں، اسی لیے وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہیں۔
حنا طارق نے کہا کہ وہ اپنے لباس کا انتخاب بھی انتہائی احتیاط سے کرتی ہیں، جبکہ شوٹنگ کے دوران بھی ایسے مناظر کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً والدین، بلا جھجھک دیکھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بہت زیادہ بولڈ مناظر نہیں دکھائے جاتے، تاہم وہ اس معاملے میں خاصی محتاط رہتی ہیں۔ اگر کسی کردار یا منظر سے متعلق انہیں اطمینان نہ ہو تو وہ بلا جھجھک ڈائریکٹر کو انکار کر دیتی ہیں۔ -

ناروے کی کراؤن پرنسس کے بیٹے کو زیادتی اور تشدد کے مقدمات میں 4 سال قید
ناروے کی ایک عدالت نے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ماریئس بورگ ہوبی کو متعدد سنگین جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
اوسلو ڈسٹرکٹ کورٹ نے 128 صفحات پر مشتمل متفقہ فیصلے میں ماریئس بورگ ہوبی کو اپنی سابق گرل فرینڈ نورا ہوکلینڈ کے خلاف جبری زیادتی، طویل عرصے تک جسمانی و نفسیاتی تشدد، بدسلوکی، دھمکیوں، ہراسانی، متعدد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور منشیات سے متعلق جرائم کا مرتکب قرار دیا۔
عدالت نے ان کے خلاف عائد چار ریپ الزامات میں سے دو میں بری کر دیا۔ 2023 میں لوفوٹین میں پیش آنے والے مبینہ ریپ کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ شواہد الزام کو بلا شبہ ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں، اگرچہ خاتون کے بیان پر عدالت کو شک نہیں تھا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے اسمارٹ واچ کے پلس ڈیٹا کو بھی فیصلہ کن ثبوت نہیں مانا گیا۔ تاہم خاتون کی رضامندی کے بغیر ویڈیو بنانے کے جرم میں انہیں قصوروار قرار دیا گیا کیونکہ متعلقہ ویڈیو ان کے موبائل فون سے برآمد ہوئی تھی۔
عدالت نے انہیں 2024 میں اوسلو کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے ایک اور مبینہ ریپ کیس سے بھی بری کر دیا، تاہم دسمبر 2018 میں سکاؤگم میں پیش آنے والے ایک جنسی جرم اور ایسٹر 2024 کے دوران ایک بعد از پارٹی سے متعلق دوسرے جنسی جرم میں مجرم قرار دیا۔
فیصلے کے مطابق ماریئس بورگ ہوبی مختلف متاثرہ خواتین کو لاکھوں ناروین کرونر ہرجانے کی ادائیگی بھی کریں گے۔ نورا ہوکلینڈ کو 100,000 کرونر، سکاؤگم کیس کی متاثرہ خاتون کو 230,000 کرونر، بعد از پارٹی کیس کی متاثرہ خاتون کو 200,000 کرونر اور فروگنر سے تعلق رکھنے والی خاتون کو 110,000 کرونر ادا کیے جائیں گے۔
عدالت نے فروگنر خاتون کے حق میں دو سالہ پابندی کا حکم بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت ماریئس بورگ ہوبی ان سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں کر سکیں گے۔
یہ مقدمہ ناروے میں غیر معمولی توجہ کا مرکز رہا کیونکہ ماریئس بورگ ہوبی، ناروے کی کراؤن پرنسس میٹ میرٹ کے بیٹے ہیں۔ -

غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 دن میں نمٹائے جائیں، سپریم کورٹ کی نئی گائیڈ لائنز جاری
سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملک بھر کی عدالتوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز مقرر کر دی ہیں۔
پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کو 60 دن کے
اندر نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو بھیجنے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف آئینی تقاضا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے، اس لیے ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اگر کسی مقدمے میں تاخیر ہو تو اس کی معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی درخواست کو ازخود تاخیر کی معقول وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عبوری حکم کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا، اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں روکی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایسی پالیسی اور انتظامی اصلاحات اختیار کرے جن سے انصاف کی فراہمی سستی اور تیز تر ہو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے لیے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، جبکہ ہائی کورٹس سمیت تمام عدالتی اور انتظامی اداروں پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد آئینی ذمہ داری ہے۔ -

چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر 4 بچے جاں بحق
چھانگا مانگا کے علاقے ویرسنگھ والا میں افسوسناک حادثے کے دوران چار کمسن بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کے بعد چاروں بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 9 سے 11 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ واقعے کے وقت ان کے والدین قریبی جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک بچہ کھیلتے ہوئے اچانک تالاب میں گر گیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر تین بچے بھی پانی میں اتر گئے، تاہم تالاب کی گہرائی 8 سے 10 فٹ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ -

پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان
لاہور: پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” اور "جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں داخل ہوئے اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اسپیکر ڈائس اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہو کر مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں ایران۔امریکا امن معاہدے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معرکۂ حق میں کامیابی کو دنیا تسلیم کر رہی ہے، جبکہ ایران۔امریکا کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی بہترین مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل جاری رہے، مالی نظم و ضبط کے تحت وزرا کی تنخواہوں میں بھی کمی کی گئی، جبکہ ہر ضلع اور تحصیل ترقی کے سفر میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے دفاعی ضروریات کے لیے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فوری ریلیف آپریشن شروع کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2 ارب 30 کروڑ روپے سے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے گئے، جن سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے لیے ایک ارب 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے ذریعے اب تک 2 ہزار 200 افراد کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو عالمی معیار کی تربیت دی جائے گی۔ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 عالمی معیار کے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم، انکیوبیٹرز، 60 لاکھ افراد کی ٹیکنالوجی تربیت، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس کی تیاری اور 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، جبکہ خواتین کی کم از کم 40 فیصد شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز سے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان فائدہ اٹھائیں گے۔ بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ لاہور میں 99 کروڑ روپے کی لاگت سے سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، جہاں ہر سال 400 افراد کو عالمی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
سکیورٹی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت جدید ڈیجیٹل نگرانی کا نظام تحصیل سطح تک توسیع دی جائے گی، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 47 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی۔ کچے کے علاقوں میں پولیس نظام مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے نئے پولیس اسٹیشنز، پوسٹس اور پکٹس تعمیر کی جائیں گی، جبکہ 28 اضلاع میں 14 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق شواہد اکٹھے اور محفوظ کیے جائیں گے تاکہ تفتیشی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ -

امریکا ایران معاہدے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی طلب بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہی روز میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت میں تقریباً 1,500 پاکستانی روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 4,000 روپے تک پہنچ گئی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق معاہدے کے اعلان کے پہلے ہی روز تقریباً 25 ارب روپے مالیت کے ایرانی ریال کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان کا کہنا ہے کہ آج بھی ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ معاہدے کے بعد مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔