سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برادر ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنانے والے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ بیان کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریق حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں۔ سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو دوبارہ فعال کرنا ضروری ہے۔ سعودی عرب نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی میزبانی اور قطر کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہونے والے تعمیری مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں تاکہ موجودہ بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی ایسے تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق علاقائی سلامتی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری بھی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی ایران کے حملوں کی مذمت، مذاکرات بحال کرنے پر زور
