بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سکیورٹی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور بحرین کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور سکیورٹی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔
بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے اپنے دورے کے دوران پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر بحری سلامتی، مشترکہ تعاون اور خطے میں درپیش سکیورٹی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔ بحرینی وفد نے پاکستان نیوی کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے علاقائی بحری استحکام اور محفوظ سمندری راستوں کے قیام میں اہم شراکت دار قرار دیا۔
بعد ازاں بحرینی کمانڈر نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک فضائیہ کی جدید دفاعی صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور جدید جنگی حکمت عملیوں پر بریفنگ دی گئی۔
گفتگو کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید دفاعی نظام اور فضائی دفاع کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بحرینی وفد نے پاک فضائیہ کی جدید کاری اور دفاعی استعداد میں اضافے کے اقدامات کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے سے پاکستان اور بحرین کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون کو مزید تقویت ملے گی، جبکہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک پہلے ہی مختلف دفاعی اور تربیتی پروگراموں میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی جی ایچ کیو راولپنڈی آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات
-

اسرائیل کا رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کھولنے کا اعلان
اسرائیلی حکومت نے غزہ میں انسانی صورتحال کے پیش نظر آج رفح اور کرم ابوسالم (کرم شالوم) کراسنگ جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں سرحدی گزرگاہوں کو محدود پیمانے پر عوامی نقل و حرکت اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فعال کیا جائے گا۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے لوگوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ کرم ابوسالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں انسانی امدادی سامان مرحلہ وار داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کے باعث انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے کئی ہفتوں سے سرحدی راستے کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ متاثرہ آبادی تک امداد پہنچائی جا سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کراسنگز کی بحالی محدود اور نگرانی شدہ طریقہ کار کے تحت ہوگی، جبکہ سیکیورٹی اقدامات کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ امدادی سامان کی ترسیل کے عمل کا مرحلہ وار جائزہ لیا جائے گا تاکہ صورتحال کے مطابق مزید فیصلے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں انسانی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی۔ اس دوران عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں امدادی رسائی بحال کرنے پر زور دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کی دوبارہ جزوی بحالی سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، تاہم علاقے میں پائیدار استحکام اور مکمل امدادی رسائی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ -

جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ -

مظفرآباد میں مبینہ بھارتی نیٹ ورک بے نقاب، 5 افراد گرفتار
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایک ممکنہ تخریبی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں ایک ہدفی آپریشن کیا گیا، جہاں سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تلاشی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے، جن کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی پر اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ سامان میں سات خودکار ہتھیار، متعدد دستی بم اور دیگر جنگی نوعیت کا سازوسامان شامل بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کے قبضے سے حساس مقامات اور اہم تنصیبات سے متعلق نقشے، دستاویزات اور مبینہ منصوبہ بندی کا ریکارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اس نیٹ ورک کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور دیگر ممکنہ رابطوں کی نشاندہی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق جدید فرانزک اور ڈیجیٹل تجزیے کی مدد سے نیٹ ورک کے مزید روابط سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث حساس تنصیبات اور عوامی سلامتی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا گیا۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ -

فیفا ورلڈ کپ 2026: ٹرمپ حکومت نے ایرانی شائقین کے میچ ٹکٹس منسوخ کر دیے
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی شائقین کے لیے مختص ورلڈ کپ ٹکٹس منسوخ کر کے کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026، جو 11 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے، میں ایران کی قومی ٹیم بھی شریک ہے۔ ایران کے گروپ مرحلے کے تمام میچز امریکا میں شیڈول ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایرانی ٹیم کے قیام سے متعلق مسائل پیدا کیے گئے اور اب ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق تہران نے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فیفا اور ورلڈ کپ انتظامیہ پر لازم ہے کہ تمام ممالک کے شائقین کو برابر مواقع فراہم کریں۔ وزارت خارجہ کے مطابق کسی بھی ملک کے شہریوں کو سیاسی بنیادوں پر کھیلوں کے عالمی ایونٹ سے دور رکھنا فیفا کے اصولوں اور بین الاقوامی کھیلوں کی روح کے منافی ہے۔
ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور شائقین کو اپنی قومی ٹیم کی حمایت کا حق حاصل ہے۔ حکام کے مطابق اگر ٹکٹس کی بحالی نہ کی گئی تو یہ اقدام کھیلوں میں غیر جانبداری کے اصول پر سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فٹبال فیڈریشن نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فیفا سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایرانی شائقین کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور انہیں ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاحال فیفا یا امریکی حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ -

اپر سوات میں اسکول بس کھائی میں گر گئی، طالبہ جاں بحق
خیبرپختونخوا کے ضلع اپر سوات میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق جبکہ 20 سے زائد طالبات زخمی ہو گئیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طالبات کو لے جانے والی اسکول بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اپر سوات کے علاقے دارمئی میں پیش آیا، جہاں اسکول بس معمول کے مطابق طالبات کو لے جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کی بریکیں اچانک ناکام ہو گئیں جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس الٹتے ہوئے کھائی میں جا گری۔
حادثے کے وقت بس میں 40 سے زائد طالبات سوار تھیں۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ زخمی طالبات کو فوری طور پر نکال کر مٹہ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد طالبات کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں ایک طالبہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی جبکہ 20 سے زائد طالبات مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ والدین اور اہل خانہ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بس کی فنی حالت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمی طالبات کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

گلگت بلتستان میں حکومت سازی، پیپلز پارٹی آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے متحرک
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آئندہ چند روز میں گلگت بلتستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور نو منتخب ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دوران حکومت سازی کے حوالے سے اہم مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی اپنی عددی برتری کو حکومت کی تشکیل میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی رابطے بڑھا رہی ہے۔ آزاد امیدواروں کی حمایت اس عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت سازی سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم پارٹی کی کوشش ہوگی کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوگی اور اسی وجہ سے آزاد ارکان کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی ان ارکان سے رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں نے بھی مختلف حلقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں حکومت سازی کے حوالے سے سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ -

ٹرمپ کی اپیل پر ایران اور اسرائیل نے حملے روک دیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں عارضی کمی آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے بعد یہ سب سے براہِ راست اور شدید تصادم تھا، جس نے خطے کو ایک وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی نے واشنگٹن کی ان سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا جو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کے تبادلے کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم جب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے خلاف اس کی پہلی مرحلے کی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں تو عالمی منڈیوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم ہو گئی اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
مالیاتی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کے اثرات سامنے آئے، جہاں امریکی ڈالر تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔ سرمایہ کاروں نے جنگی خطرات میں کمی کے بعد نسبتاً محفوظ ماحول کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف مزید حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے مکمل جنگ بندی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ صورتحال کو کشیدگی میں کمی کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف عارضی حملہ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ ایران، اسرائیل، امریکا اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان سنجیدہ سفارتی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ آئندہ چند روز خطے کی صورتحال اور ممکنہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ -

برطانیہ، آذربائیجان اور بیلاروس میں ہزاروں پاکستانی لاپتہ، ایف آئی اے کا انکشاف
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے انکشاف کیا ہے کہ ہزاروں پاکستانی مختلف ممالک کے ویزوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک غائب ہو گئے یا پناہ کی درخواستیں دائر کر دیں، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
راجہ خرم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ برطانیہ جانے والے تقریباً 10 ہزار پاکستانی طلبا نے اسٹوڈنٹ ویزے پر وہاں جا کر سیاسی یا انسانی بنیادوں پر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان نے پاکستان کے حوالے سے کئی ممالک میں تشویش پیدا کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیلاروس جانے والے 580 پاکستانی واپس نہیں آئے جبکہ رواں سال آذربائیجان جانے والے تقریباً 7 ہزار پاکستانی وزٹ ویزے پر سفر کرنے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ لیبیا سے 175 پاکستانیوں کو گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا گیا۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نے اب نئے راستے اختیار کر لیے ہیں اور ملائیشیا اور ازبکستان کو غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ ایف آئی اے کی سخت نگرانی اور امیگریشن چیکنگ کے باعث سال 2025 کے دوران 39 ہزار 786 افراد کو سفری دستاویزات یا دیگر قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اسٹاپ لسٹ اور انٹرپول ریڈ نوٹسز کی بنیاد پر 3 ہزار سے زائد افراد کو بھی بیرون ملک جانے سے روکا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ منظم بھکاریوں کے بیرون ملک جانے کے رجحان میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ جعلی سفری دستاویزات کے استعمال کے واقعات میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے زور دیا کہ غیر قانونی ہجرت اور ویزوں کے غلط استعمال کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ پاکستان کی ساکھ بہتر ہو اور قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والوں کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ -

امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے پُرعزم ہیں جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر کر دے۔
اپنے بیان میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے دیگر تمام آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق جب بھی ایران بین الاقوامی تجارتی راستوں یا بحری گزرگاہوں کو نشانہ بناتا ہے تو امریکی فوج مناسب جواب دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے سے قبل نہ تو منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے اور نہ ہی اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاملات پر صرف اسی صورت غور کیا جائے گا جب معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران مثبت رویہ اختیار کرتا ہے اور طے شدہ شرائط پر عمل کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ لبنان کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ بنانے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
امریکی صدر نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، اگر اس سے خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں مدد مل سکتی ہو۔