Baaghi TV

وزیر دفاع کے استعفے پر اسٹارمر حکومت دفاعی پوزیشن میں

‎برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی کے استعفے کے تقریباً دو گھنٹے بعد حکومت کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فیصلوں کی بدولت ملک زیادہ محفوظ ہوا ہے اور حکومت قومی مفاد میں اقدامات جاری رکھے گی۔
‎حکومتی ذرائع کے مطابق لیبر حکومت نے سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے بڑا اور مسلسل اضافہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی امداد کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور اب دیگر سرکاری محکموں کے اخراجات میں کمی کرکے دفاعی شعبے کے لیے مزید اربوں پاؤنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
‎ذرائع کا کہنا تھا کہ دفاعی سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ مسلح افواج کو وہ تمام صلاحیتیں فراہم کرے گا جن کی انہیں موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہر اقدام کیا جاتا رہے گا۔
‎دوسری جانب جان ہیلی کے استعفے کے بعد سیاسی ردعمل میں شدت آ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
‎اسکاٹش نیشنل پارٹی (SNP) کے ویسٹ منسٹر نمائندے ڈیو ڈوگن نے کہا کہ لیبر پارٹی ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے معاملات پر کنٹرول کھوتی جا رہی ہے۔
‎ادھر ویلز کی جماعت پلائیڈ کمری کے ویسٹ منسٹر گروپ کی سربراہ لز سیویل رابرٹس نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا استعفیٰ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ساکھ اور اختیار کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اسٹارمر حکومت کے زوال کے دنوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق جان ہیلی کا استعفیٰ برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف حکومت کی داخلی پوزیشن بلکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت اس بحران سے کیسے نمٹتی ہے اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔

More posts