امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود اور ہدفی نوعیت کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں جو خطے میں استحکام اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان میں حالات کو بہتر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مزید "سرجیکل اسٹرائیکس” کی جائیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے مخصوص اہداف تک محدود ہونے چاہئیں تاکہ وسیع پیمانے پر تباہی اور شہری نقصانات سے بچا جا سکے۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے حوالے سے ان کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف سخت رویے کے حامی رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مزید فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی اور عسکری قوت سمجھی جاتی ہے، جبکہ اسرائیل اور کئی مغربی ممالک اسے سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں نے دونوں جانب کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ مسلسل فوجی کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ٹرمپ کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود حملوں کا مطالبہ
-

محسن بیگ کے بیان پر پیمرا کا نجی ٹی وی چینل کو شوکاز نوٹس
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے معروف صحافی محسن بیگ کے ایک متنازع بیان کی نشریات پر نجی ٹی وی چینل کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایک پروگرام میں نشر ہونے والے تبصروں کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے متعلق بحث نے شدت اختیار کر لی۔
رپورٹس کے مطابق محسن بیگ نے پروگرام کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران "جسمانی اور ذہنی طور پر غیر حاضر” رہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کو درپیش معاشی مسائل کو بھی وزیر خزانہ کی کارکردگی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔
بیان نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر وزیر خزانہ کے خلاف تنقیدی تبصروں اور مختلف آراء کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیا۔ ریگولیٹری ادارے نے چینل سے وضاحت طلب کی ہے کہ متنازع مواد نشر کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
پیمرا کے نوٹس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پروگرام میں نشر ہونے والے ریمارکس ادارے کے ضابطۂ اخلاق، ادارتی ذمہ داریوں اور نشریاتی اصولوں کے مطابق تھے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تبصرے عید کی تعطیلات کے دوران نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کیے گئے تھے۔
پاکستان کے میڈیا قوانین کے تحت پیمرا کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں شوکاز نوٹس جاری کرے، جرمانہ عائد کرے یا دیگر تادیبی اقدامات کرے۔ ادارہ ماضی میں بھی ذمہ دارانہ صحافت اور مؤثر ادارتی نگرانی کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حالیہ دنوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ٹیکس اصلاحات کا دفاع کرتے ہوئے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیلاب، علاقائی کشیدگی اور دیگر چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ -

میران شاہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 27 خوارج ہلاک
شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے میران شاہ میں خوارج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 27 دہشت گرد مارے گئے۔
بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ عناصر مختلف دہشت گرد کارروائیوں، معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے دہشت گردوں میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو میران شاہ کی معروف شخصیت شہید ملک سیف اللہ داوڑ کے قتل میں ملوث تھے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری رکھا ہوا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فورسز ملک سے دہشت گردی اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی وزیرستان میں حالیہ کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ ہیں اور ان سے علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ -

تربت میں ٹھیکیدار کی گاڑی پر بم حملہ، 3 افراد جاں بحق
بلوچستان کے شہر تربت میں ایک تعمیراتی کمپنی کے ٹھیکیدار کی گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ تربت مند روڈ پر مینو کلاتک کراس کے قریب گزشتہ شام پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے ٹھیکیدار کی گاڑی کو دھماکے سے نشانہ بنایا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار افراد متاثر ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں تین افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت اور حملے کے محرکات سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ بم ڈسپوزل اور فرانزک ٹیموں نے بھی موقع کا معائنہ کیا تاکہ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی تعمیراتی منصوبوں، سرکاری تنصیبات اور ترقیاتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا گیا ہے۔ -

گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کا پہلا مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق حلقہ جی بی 7 اسکردو ون میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار توقیر مہدی شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
تمام 31 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق توقیر مہدی شاہ نے مجموعی طور پر 4337 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان کو شکست دی۔ راجہ جلال 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے انتخابات میں پہلی مکمل نشست اپنے نام کر لی ہے۔
دوسری جانب صوبے بھر سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجموعی طور پر سب سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار مختلف حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 امیدوار آگے ہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی بھی کئی حلقوں میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے 3 امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5 حلقوں میں آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے میں آزاد امیدوار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے 24 انتخابی حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور بغیر کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
انتخابات میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 396 امیدوار میدان میں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی غیر متوقع نتائج دے رہے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔ -

چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے اسمبلی انتخابات کے بعد تمام 24 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ انتخابی نتائج کے عمل میں شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فارم 45 کے اجرا کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کی متعلقہ دفعات کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر نتائج کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق جن پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں فارم 45 جاری کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن نے اس حوالے سے تمام انتخابی افسران کو دوبارہ واضح ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں میں فارم 45 کے اجرا سے متعلق افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس لیے میڈیا ادارے تصدیق کے بغیر ایسی خبریں نشر کرنے سے گریز کریں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نتائج کی تیاری اور دستاویزات کی فراہمی کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف، کی جانب سے بعض حلقوں میں فارم 45 کی فراہمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں گی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ -

حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے
آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔ -

چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے سفارتی کردار کو چین کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ ایران میں چین کے سفیر کانگ پیوو نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔
چینی سفیر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی کوششیں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔
کانگ پیوو کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کا راستہ بات چیت، باہمی احترام اور سفارتی رابطوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
چینی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے مختلف مواقع پر تنازعات کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، جس کی بین الاقوامی سطح پر بھی قدر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ اسے خطے میں ایک مؤثر سفارتی شراکت دار بناتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ کا خطے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ چین ہمیشہ تعمیری سفارت کاری، باہمی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کے کردار کی یہ تعریف ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اور رابطہ کاری کی کوششوں کو علاقائی امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے کے ممالک مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں تو نہ صرف کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ طویل المدتی امن اور اقتصادی استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ -

وسطی افریقہ میں ایبولا سے 84 اموات، عالمی ایمرجنسی نافذ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 471 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق جمہوریہ کانگو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک 452 مصدقہ کیسز اور 82 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں 19 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ دو اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک دن کے دوران 100 نئے کیسز اور 20 اموات کا اضافہ سامنے آیا، جس سے وبا کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ وبا ماضی کی تباہ کن عالمی وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے۔
امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال 2014 کی مغربی افریقہ کی ایبولا وبا سے مماثلت اختیار کر سکتی ہے۔ اس وبا کے دوران 28 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ 11 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس قریبی جسمانی رابطے اور متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران افریقہ میں اس مہلک وائرس کے باعث 15 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ وبا پہلی مرتبہ 15 مئی کو شمال مشرقی کانگو میں سامنے آئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس اس سے قبل بھی خاموشی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا تھا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ وائرس کی اس مخصوص قسم کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت اور افریقی سی ڈی سی نے آئندہ چھ ماہ کے لیے 518 ملین ڈالر کے ہنگامی منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیبارٹری ٹیسٹنگ میں اضافہ کرنے اور انفیکشن کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ -

نائجیریا میں 360 مغوی افراد بازیاب، دو بچے جان کی بازی ہار گئے
نائجیریا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شمال مشرقی ریاست بورنو میں اغوا کاروں کے قبضے سے 360 مردوں، خواتین اور بچوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ فوج کے مطابق یہ کامیاب آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے دوران مغویوں کو ایک پہاڑی ٹھکانے سے آزاد کرایا گیا۔
نائجیریا کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ مغوی افراد کو مندارا پہاڑی سلسلے کے ایک دور دراز علاقے میں قید رکھا گیا تھا۔ یہ علاقہ ریاست بورنو کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
فوج کے مطابق مغویوں کو جماعۃ اہل السنہ للدعوۃ والجہاد (جے اے ایس) نامی گروہ نے مختلف علاقوں سے اغوا کیا تھا۔ جے اے ایس دراصل بوکو حرام کے مرکزی دھڑے کا عربی نام ہے، جو کئی برسوں سے نائجیریا اور پڑوسی ممالک میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
بازیابی کی کارروائی مشترکہ ٹاسک فورس نے انجام دی، جس میں خصوصی فورسز بھی شامل تھیں۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے دباؤ کے باعث شدت پسند جنگجو اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد مغویوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
فوجی حکام کے مطابق قید کے دوران دو بچے شدید تھکن، غذائی قلت اور سخت موسمی حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ حکام نے بتایا کہ باقی مغویوں کو طبی امداد، خوراک اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
نائجیریا گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اغوا برائے تاوان، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں، کسانوں اور چرواہوں کے تنازعات اور مسلح گروہوں کی کارروائیاں حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا کی وارداتیں آئندہ صدارتی انتخابات میں اہم سیاسی موضوعات میں شامل ہوں گی۔ عوام کی بڑی تعداد حکومت سے مؤثر سیکیورٹی اقدامات اور مسلح گروہوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔