Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج نے ایک دلچسپ سیاسی مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی اہم حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی متعدد نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے بھی کئی حلقوں میں غیر متوقع کارکردگی دکھائی ہے۔
    ‎اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق جی بی اے 1 گلگت 1، جی بی اے 3 گلگت 3، جی بی اے 4 نگر 1، جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 10 اسکردو 4، جی بی اے 11 کھرمنگ، جی بی اے 12 شگر، جی بی اے 13 استور 1 اور جی بی اے 17 دیامر 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب مسلم لیگ (ن) جی بی اے 2 گلگت 2، جی بی اے 14 استور 2، جی بی اے 18 دیامر 4، جی بی اے 19 غذر 1 اور جی بی اے 22 گھانچے 1 میں آگے دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان حلقہ جی بی اے 2 میں نمایاں برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔
    ‎انتخابات میں آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں سامنے آئے ہیں۔ جی بی اے 5 نگر 2، جی بی اے 6 ہنزہ، جی بی اے 20 غذر 2، جی بی اے 23 گھانچے 2 اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق سبقت لیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق کی نمایاں برتری سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎دیگر جماعتوں میں استحکام پاکستان پارٹی جی بی اے 7 اسکردو 1 اور جی بی اے 16 دیامر 2 میں مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین جی بی اے 8 اسکردو 2 میں ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی جی بی اے 15 دیامر 1 میں سب سے آگے ہے۔
    ‎ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کی جانب بڑھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ تمام نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں اور حتمی تصویر مکمل نتائج آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

  • 
سرجانی ٹاؤن میں چار بچوں کے باپ کی پھندا لگی لاش برآمد

    
سرجانی ٹاؤن میں چار بچوں کے باپ کی پھندا لگی لاش برآمد

    ‎کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گھر سے ایک شخص کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت عبدالرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے، جو چار بچوں کے والد تھے۔
    ‎پولیس اور اہل خانہ کے ابتدائی بیانات کے مطابق عبدالرحمٰن کی اہلیہ تقریباً چار ماہ قبل گھریلو اختلافات کے باعث ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی تھیں۔ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ عبدالرحمٰن اس دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اپنی ازدواجی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
    ‎متوفی کے بھائی کے مطابق عبدالرحمٰن ایک ہفتہ قبل اپنی اہلیہ کو واپس گھر لانے کے لیے ان کے میکے بھی گئے تھے، تاہم تمام کوششوں کے باوجود وہ رضامند نہ ہوئیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے عبدالرحمٰن کو شدید مایوسی اور پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن نے ذاتی اور خاندانی مسائل سے دل برداشتہ ہو کر انتہائی قدم اٹھایا۔ تاہم واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات اور ذہنی دباؤ بعض اوقات افراد کو انتہائی خطرناک فیصلوں کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں خاندانی تعاون، ذہنی صحت کی معاونت اور بروقت مشاورت انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی نتائج سے مختلف حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎جی بی 4 نگر ون کے وٹرنری اسپتال چھلت پائین پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر 76 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 70 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد تیسرے نمبر پر رہے۔
    ‎اسی طرح جی بی 5 نگر ٹو کے بوائز ہائی اسکول ہوپر نگر پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 45 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 34 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎تاہم اسی حلقے کے ایک خواتین پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 88 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جس سے حلقے میں سخت مقابلے کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
    ‎دوسری جانب جی بی 2 گلگت ٹو کے ابتدائی سات پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان 858 ووٹ حاصل کرکے نمایاں برتری لیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 383 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان 83 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
    ‎اس انتخابی معرکے میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔

  • 
پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان انتخابات میں برتری حاصل ہے، شفیع جان

    
پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان انتخابات میں برتری حاصل ہے، شفیع جان

    ‎خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اب تک موصول ہونے والے متعدد فارم 45 کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو نمایاں برتری حاصل ہے۔
    ‎اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی عمل کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی نتائج کی تیاری اور ووٹوں کے تحفظ کا عمل، شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابی نتائج کے عمل پر گہری نظر رکھیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ ان کے مطابق عوام نے بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے اثرات ابتدائی نتائج میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
    ‎شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران کئی مقامات پر دیگر سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپ غیر فعال یا خالی نظر آئے، جبکہ تحریک انصاف کے کارکن اور حامی متحرک رہے۔ انہوں نے کہا کہ موصول ہونے والے متعدد فارم 45 سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مختلف حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی نتائج کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے بعد ہی ہوگا، تاہم ابتدائی معلومات پی ٹی آئی کے حق میں مثبت رجحان کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دعوے کر رہی ہیں۔ حتمی اور سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

  • "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎انتخابات پر ردعمل دیتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بعض حلقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو دور دراز مقامات پر منتقل کیے جانے سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہوا۔ ان کے مطابق کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ مقررہ وقت پر نہیں پہنچا، جس کے باعث ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو جان بوجھ کر سست روی کا شکار بنانا شفاف اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کو تمام شکایات کا فوری نوٹس لے کر حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
    ‎قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ جب تک تمام ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر لیتے، انتخابی عملے کو پولنگ اسٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ تمام حلقوں میں انتخابی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
    ‎دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے بھی انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں اور نمائندوں کو فارم 45 فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پارٹی نمائندوں کو نتائج حاصل کرنے سے روکنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
    ‎نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا، تاہم اب نتائج کے مرحلے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا تنازع سے گریز کیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن فوری اور مؤثر کردار ادا کرے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہوں اور انتخابی نتائج کی شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔

  • 
وزیراعظم اور صدر زرداری کی آج اہم ملاقات متوقع

    
وزیراعظم اور صدر زرداری کی آج اہم ملاقات متوقع

    ‎وزیراعظم شہباز شریف کی آج صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں وفاقی بجٹ، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر کے حالیہ معاملات پر تفصیلی مشاورت کیے جانے کا امکان ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات ایوانِ صدر میں ہوگی، جہاں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق اہم امور زیر غور آئیں گے۔ حکومت کی معاشی پالیسی، ترقیاتی منصوبوں، اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور بجٹ تجاویز پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال بھی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی، احتجاجی سرگرمیوں اور آئینی معاملات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر دونوں رہنما غور کریں گے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ایوانِ صدر جائیں گے اور ملاقات میں شریک ہوں گے۔ اسحاق ڈار ممکنہ طور پر معاشی صورتحال، بجٹ حکمت عملی اور اتحادی جماعتوں سے جاری مشاورت کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وفاقی بجٹ پیش کیے جانے میں چند روز باقی ہیں اور حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔
    ‎توقع کی جا رہی ہے کہ ملاقات میں آئندہ سیاسی حکمت عملی، پارلیمانی معاملات اور قومی اہمیت کے دیگر امور پر بھی گفتگو ہوگی۔ حکومتی اور اتحادی قیادت کے درمیان رابطوں کو موجودہ سیاسی ماحول میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کورنگی کازوے میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق

    کورنگی کازوے میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق

    ‎کراچی کے علاقے کورنگی کازوے میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پانی کے بہاؤ میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں بچوں کی لاشیں سرچ آپریشن کے بعد پانی سے نکال لی گئیں۔
    ‎ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت فہد اور سالار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد دونوں بچوں کی لاشیں پانی سے نکال لی گئیں۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے کورنگی کازوے کے قریب موجود تھے کہ اچانک پانی میں گر گئے۔ تاہم واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎واقعے کے بعد علاقے میں غم کی فضا چھا گئی جبکہ اہل خانہ پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ مقامی افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی خطرناک جگہوں پر حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ نہروں، ندی نالوں اور پانی کے بہاؤ والے مقامات کے قریب بچوں کی نگرانی انتہائی ضروری ہے، خصوصاً گرمیوں اور بارشوں کے موسم میں ایسے حادثات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

  • 
بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس

    
بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، آئینی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
    ‎اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے میں حکومتی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎قیادت نے بتایا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
    ‎اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہیں۔
    ‎بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22(4) کے تحت بروقت انتخابات کا انعقاد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دباؤ کی سیاست اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
    ‎یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا تیسرا اہم اجلاس تھا، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی امور، سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

  • 
خاتون ڈاکٹر کو بچانے والا وارڈ بوائے بلوچستان کا ہیرو: سرفراز بگٹی

    
خاتون ڈاکٹر کو بچانے والا وارڈ بوائے بلوچستان کا ہیرو: سرفراز بگٹی

    ‎کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے افسوسناک واقعے کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے سول اسپتال کے وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی کو بلوچستان کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انہوں نے حملے کا سامنا کرتے ہوئے خاتون ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کی اور خود بھی شدید زخمی ہو گئے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ملزمان نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا تو عبدالرزاق فوری طور پر ان کے سامنے ڈھال بن گئے۔ اس جرات مندانہ اقدام کے باعث تیزاب کا کچھ حصہ ان پر بھی گرا جس سے وہ جھلس گئے، تاہم ان کی بروقت مداخلت نے مزید نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    ‎واقعے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے عبدالرزاق ترکئی کو فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی بہادری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عبدالرزاق نے انسانیت، فرض شناسی اور جرات کی ایسی مثال قائم کی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
    ‎سرفراز بگٹی نے کہا کہ وارڈ بوائے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک قیمتی جان بچانے کی کوشش کی، جو معاشرے کے لیے ایک مثبت اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عبدالرزاق کے علاج کے تمام اخراجات بلوچستان حکومت برداشت کرے گی۔
    ‎وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ عبدالرزاق ترکئی کو خصوصی طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس مدعو کیا جائے گا اور ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
    ‎یہ واقعہ ایک طرف تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تو دوسری جانب عبدالرزاق جیسے باہمت افراد امید، انسان دوستی اور قربانی کی روشن مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی جرات کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔

  • 
شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا اہم دورہ، خطے کی سیاست پر نظریں

    
شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا اہم دورہ، خطے کی سیاست پر نظریں

    ‎چین کے صدر شی جن پنگ تقریباً سات برس بعد شمالی کوریا کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جسے خطے کی سیاست اور عالمی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شمالی کوریا اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر چکا ہے اور عالمی سطح پر اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    ‎تین روزہ دورے کا آغاز پیر سے ہوگا اور یہ ستمبر 2025 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے بیجنگ دورے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
    ‎یہ دورہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے روایتی اتحادیوں، خصوصاً چین، کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیانگ یانگ کے روس کے ساتھ تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں شمالی کوریا نے یوکرین جنگ کے دوران ماسکو کی مختلف سطحوں پر حمایت بھی کی۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن اب چین کے ساتھ تعلقات کو نئی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں تاکہ بین الاقوامی تنہائی میں کمی لائی جا سکے اور امریکا کے مقابلے میں ایک مضبوط سفارتی محاذ قائم کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کی قیادت "نئی سرد جنگ” کے تصور کے تحت اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔
    ‎دوسری جانب چین بھی اس دورے کو اہم سمجھتا ہے کیونکہ بیجنگ شمالی کوریا پر اپنا روایتی اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور معاشی سہارا تصور کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے تعلقات خطے کے تزویراتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون، سرحدی تجارت، سلامتی کے معاملات اور خطے میں طاقت کے توازن پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ یہ دورہ نہ صرف چین اور شمالی کوریا کے تعلقات کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے بلکہ مشرقی ایشیا کی مجموعی جغرافیائی سیاست پر بھی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔