امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود اور ہدفی نوعیت کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں جو خطے میں استحکام اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان میں حالات کو بہتر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مزید "سرجیکل اسٹرائیکس” کی جائیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے مخصوص اہداف تک محدود ہونے چاہئیں تاکہ وسیع پیمانے پر تباہی اور شہری نقصانات سے بچا جا سکے۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے حوالے سے ان کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف سخت رویے کے حامی رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مزید فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی اور عسکری قوت سمجھی جاتی ہے، جبکہ اسرائیل اور کئی مغربی ممالک اسے سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں نے دونوں جانب کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ مسلسل فوجی کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
ٹرمپ کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود حملوں کا مطالبہ
