حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی، تاہم ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی مالیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض دور دراز علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ کئی شہروں اور قصبوں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی محدود ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ متعدد مقامات پر پمپس عارضی طور پر بند بھی ہو چکے ہیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت صرف سفری مشکلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے غیر قانونی منافع کمانے والوں کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے، تاہم بلوچستان میں جاری قلت اور مہنگے داموں فروخت ہونے والا ایندھن اس ریلیف کے اثرات کو محدود کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بہتری اور موثر نگرانی کے ذریعے ہی صورتحال کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔
حکومت نے پیٹرول سستا کردیا: جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار
