Baaghi TV

"پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

پائیدار ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ایک ایسا مستقبل بنائیں جو معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور دیر پا ہو۔ معاشرے میں خواتین کل آبادی کا پچاس فیصد حصہ ہیں اگر ہم اپنی آدھی آبادی کے ہنر، ان سوچ اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم کبھی بھی اپنی پوری معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے۔ جب خواتین کو کاروبار کرنے، تعلیم اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا فائدہ خاندان، معاشرے اور ملکی معیشت کو ہی جاتا ہے۔ جب کوئی خاتون تاجر ہو یا ملازمت پیشہ ہو تو وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوتی ہے۔ اس کی یہ ترقی صرف اپنے گھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ لہذا پائیدار ترقی کے لیے خواتین کا کردار صرف اہم نہیں بلکہ بے حد ضروری ہے۔

خواتین پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔خواتین گھر کی مینجر ہوتی ہیں۔ گھر کا بجڈ بنانا، کچن کے انتظامات کو دیکھنا، روزمرہ کے مسائل کے انتظامات کی بھاگ دوڑ زیادہ تر انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ روز مرہ زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں بھی لا سکتی ہیں اگر ہم گھریلو سطح پر دیکھیں تو محدود وسائل میں بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور یہ سب کام خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ ہم اکثر خواتین کو فور گرانٹڈ لیتے ہیں جبکہ خواتین اگر کسی کام کا ارادہ کر لیں تو اسے پورا کر کے رہتی ہیں۔ گھر کی مینجر ہونے کی حیثیت سے وہ پانی کی بچت کرنے میں اپنا کردار ادا سکتی ہیں جیسے کچن میں برتن دھوتے وقت، کپڑے دھوتے وقت، صفائی کے دوران پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔ جیسے سبزی دھوتے وقت وہی پانی بعد میں پودوں میں ڈال کر پانی کے ضیاء کو روکا جا سکتا ہے۔ ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی خواتین کچرے کا بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔ جیسے کہ ویسٹج مٹیریل جو گیلا کچرا ہوتا ہے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں کی صورت میں ان کو الگ ٹوکری میں رکھیں اور جو سوکھا کچرا ہے جیسے پلاسٹک باٹلز، کاغذ وغیرہ اس کو الگ ٹوکری میں رکھیں۔ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے پودوں کے لیے بہترین اور قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خواتین پلاسٹک کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خریداری کے لیے پلاسٹک کی تھیلیوں کی جگہ کپڑوں کے تھیلے استعمال کرنا شروع کر دیں تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ وہ بجلی کی بچت پر توجہ دے سکتی ہیں۔ دن کے وقت مصنوعی روشنی کی بجائے قدرتی روشنی یعنی سورج کی روشنی پر کام چلایا جا سکتا ہے۔ ضرورت نہ ہونے پر پنکھے، بلب اور استری کو فورا بند کر دیا جائے۔ ایک بہت اہم نقطہ خواتین کے کردار کے حوالے سے کہ جو نئی نسل کی تربیت اور سماجی شعور ایک ماں اپنی اولاد میں پیدا کر سکتی ہے یہ کام کوئی اور اتنے احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تو مائیں اپنے بچوں میں بچپن سے ہی یہ شعور ڈال سکتی ہیں کہ وہ بجلی اور پانی کو ضائع نہ کریں۔ کوڑا باہر نہ پھینکیں، درختوں سے محبت کرنا پودوں سے محبت کرنا سکھا سکتی ہیں۔ پھر ایک خاتون کا کردار اپنے گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنی کمیونٹی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین اپنے محلے سہیلیوں اور فیملی سرکل میں ماحول دوست عادتوں پر بات چیت کر سکتی ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلا سکتی ہیں۔ جیسے ہم محتلف محفلوں میں بیٹھتے ہیں ہم بس ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی ایسے موضوع پہ بات کریں جو کہ نفع مند ہو پھر پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار اس حوالے سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پائیدار فیشن اور دستکاریوں کے لحاظ سے کپڑوں کی پائیداری کا استعمال کر سکتی ہیں اور فیشن انڈسٹری جو کہ آلودگی پھیلانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ خواتین کپڑوں کو ضائع کرنے کی بجائے اسے ری سائیکل کر سکتی ہیں۔ پرانے کپڑوں سے نئی اشیاء تخلیق کر سکتی ہیں۔ جسے کشن کور، بیڈ شیٹس یا تھیلے وغیرہ بنا کر ان کو جدت دی جا سکتی کے۔ اگر کوئی خاتون اپنا چھوٹا کاروبار یا ہینڈ میڈ کام کرتی ہیں تو وہ کیمیکلز اور پلاسٹک کی بجائے ماحول دوست اور آرگینک مواد استعمال کر کے آلودگی کو کم کر سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کے حوالے سے خواتین ایک اور جگہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں گھروں میں کچن گارڈن اور شجرکاری کو فروغ دے سکتی ہیں۔ خواتین اپنے گھر کے صحن، بالکنی یا چھت پر چھوٹے پیمانے پر پودے اور سبزیاں اگا سکتی ہیں۔ چھوٹے گملوں میں ٹماٹر، مرچیں، دھنیا وغیرہ، جنہیں ہم کچن گارڈن کہتے ہیں یہ نہ صرف گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ ہوا کو صاف رکھنے اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی بہت زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

خواتین ہمارے معاشرے کا ایسا حصہ ہیں جو صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا طبقہ نہیں بلکہ وہ اس مسئلے کا سب سے بڑا حال بھی ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو ماحولیاتی مسائل کی درست تربیت اور شعور دیں گے تو وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کو ماحول دوست بنا دیتی بنا دے گی۔ ان شاءاللہ! ایک خاتون جب اپنے گھر کی اشیاء کو زیرو ویسٹ یعنی کم سے کم کچڑا اور ذیادہ بچت کی طرف لے جاتی ہے تو وہ براہ راست پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں گھریلو خاتون کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خواتین کو آگہی نہیں دی تو کل بہترین معاشرہ کیسے بنے گا؟ ایک عورت کے علم و شعور سے صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ مستفیض ہوتا ہے۔ پڑھی لکھی باشعور ماں ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن بخثیت معاشرہ ہم عورت کی صلاحیتوں کو صرف چند لوگوں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جبکہ رب العزت نے جب انسان کی صلاحیتوں تخلیق کی تھیں تو اس نے مرد اور عورت کو الگ الگ نہیں رکھا تھا۔ صنفی فرق سے الگ ہو کر سوچیں کہ جس کے پاس جو صلاحیت ہے اس کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے معاشرے کے لیے نفع مند بننا ہے تو ہم اپنی آبادی کے پچاس فیصد حصے کو نہ فراموش کر سکتے ہیں نہ پس پشت ڈال سکتے ہیں۔ لہذا اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور جیو اور جینے دو کے فارمولے کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔

More posts