"کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے”بہت طویل انتظار کے بعد نیٹ سروسز بحال ہوئی پہلے تو بے یقینی کی کیفیت رہی اور جب حالاتِ حاضرہ منظرِ عام پہ آئے تو دل جیسے کسی نے چیر کے رکھ دیا ہو۔ آنکھیں نم ہو گئیں، سانس رُک گئی۔ دل چیخ اٹھا کہ یہ کیا ہو گیا؟ یہ وہ منظر نہیں تھا جس کے لیے ہم نے تقریباً دو ماہ انتظار کیا تھا۔جب یہ تحریک شروع ہوئی تو یہ کچھ جائز مطالبات اور عوام الناس کے بنیادی حقوق کی تحریک تھی جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ روٹی اور عزت کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن بنا دیا گیا۔ بارہا یہ باور کروایا گیا کہ اس کا پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک ہے، مگر کسی نے نہ سنا۔بار بار اس بات کو مسترد کردیا گیا اور الزامات اپنی ہی کشمیری سیاسی قیادت کی طرف سے تھوپے گئے۔ اپنوں نے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اپنوں نے ہی اپنے گھر میں آگ لگائی۔بلا وجہ اس معاملے کو طول دے کر ریاست کی عوام کو فوج کے بالمقابل کھڑا کر دیا گیا اور اس میں سب سے اہم کردار ہماری کشمیری قیادت کا ہے جن میں سیاسی بصیرت نام کی کوئی چیز نہیں جو وادی کو جوان لہو سے رنگنے میں سر فہرست ہیں۔ کرسی کی ہوس نے وادی کو خون سے رنگ دیا۔ اقتدار کے لیے جوانوں کی لاشیں بچھا دیں۔ ان کی سیاسی نابالغی نے پوری قوم کو دہشت اور نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا۔بڑی بڑی جنگیں اور معاملات مذاکرات سے حل ہوئے ہیں اور یہ کون سا ایسا معاملہ تھا جو تصفیہ طلب نہ تھا ۔ ایک میز، چند باتیں، اور کتنے گھر بچ سکتے تھے۔ کتنی مائیں بچ سکتی تھیں۔ مگر ضد اور انا جیت گئی۔مفاہمت کی سیاست کو نظر انداز کیا گیا۔
اب بھی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ وادی جوانوں کے خون سے رنگی جا رہی ہے اور انہیں جلسے، الیکشن، سلیکشن کی پڑی ہے۔ قبریں ابھی تازہ ہیں اور انہیں ووٹوں کی فکر ہے۔ جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ لاشوں پر تقریں ہو رہی ہیں۔اہم معاملے پہ کوئی توجہ ہی نہیں ۔ خون کسی ریاست کے جوان کا ہو یا کسی رینجر کا گودیں ماؤں کی اجڑتی ہیں ۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی چیخ ہے۔ ہر جنازے کے ساتھ ایک بیوی کا اجڑا سہاگ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ ایک بچے کا یتیم ہونا لکھا ہے۔جوان لاشے باپ کے کاندھے جھکا دیتے ہیں ۔ باپ جب بیٹے کا جنازہ اٹھاتا ہے تو ان ضمیر فروشوں کو کیا پتہ کتنی اذیت ہوتی ہے۔ کمر ٹوٹ جاتی ہے، امید دفن ہو جاتی ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں اور عورتوں کے سہاگ اجڑتے ہیں۔ گھر ویران ہو گئے۔ چولہے بجھ گئے۔ بچپن دفن ہو گیا۔ آنگنوں میں صرف ماتم رہ گیا۔بہت ظلم اور بے جا طوالت سے معاملے کو خراب کیا گیا ۔ زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ وقت ضائع کر کے خون بہایا گیا۔ بات چیت کے دروازے بند کر کے بندوق کے دہانے کھول دیے گئے۔خدارا اب بس کر دیں یہ خون کی ہولی دل کمزور پڑ گئے ہیں ۔ اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ اب اور لاشیں نہیں دیکھ سکتے۔ اب اور مائیں نہیں رُلا سکتے۔ خدارا رحم کرو۔ خون بہانا بند کرو۔
"راولاکوٹ ہم شرمندہ ہیں ۔ ”
ہم تمہارے درد میں شریک نہ بن سکے۔ ہم تمہارے لیے آواز نہ بن سکے۔ ہم تمہارے زخموں کا مرہم نہ بن سکے۔ ہمیں معاف کر دینا۔
حالات کا تقاضا ہے کہ کشمیری قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے ۔ تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہر قطرہ خون تمہارا تعاقب کرے گا۔ ہر یتیم کی آہ تمہارا پیچھا کرے گی۔
