Baaghi TV

"تمہارا وجود ہماری زندگی” تحریر: عائشہ اسحاق

ہر طرف مارا ماری قتل و غارت اور بربریت کے زمانے میں ایسے خاموش جانداروں کا بھی کھلے عام قتل زور و شور سے جاری ہے جن سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری نسلوں کی بھی سانسیں جڑی ہے دنیا بھر میں جہاں لوگوں نے بنجر خطے بھی اپنی لگن اور پرخلوص کاوشوں سے سر سبز اور شاداب بنا ڈالے یہاں قدرتی وسائل سے مالا مال زرخیز خطہ بد قسمتی سے بد کردار لا لچی افسران کے ہوس کی بھینٹ چڑھ کر بنجر ہوتا جا رہا ہے اور افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ لوگ اپنی خاموش تباہی کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہے ھیں ۔ ایلیٹ کلاس اور حکمرانوں کے لیے محض پاکستان پیسے بنانے کی مشین کے سوا کچھ بھی نہیں اربوں قرض پاکستان کی فلاح کے نام پر لیا جاتا ہے جو ان کے ذاتی عیاشیوں کی نظر ہو جاتا ہے اسی طرح درختوں کو بےدردی سے کاٹ کر یہی طبقہ فیکٹریاں پلازے ہوٹلز بنانے میں مصروف ہے یہ وہ طبقہ ہے جو خود نہ صرف پرسکون پرفضا ماحول میں سکونت اختیار کیے ہوتا ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بیرون ملک رہائش زیادہ تر اختیار رکھتے ہیں انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ پاکستانی عوام جیے یا مرے ،خیر چھوڑئیے اس طبقے کی سیاہ کاریاں گنواتے بات بہت طویل ہو جاتی ہے میرا یہاں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ تو انسان کے اپنے بھی فرض ہوتے ہیں شعور کی کمی اور لاپرواہی اپ کی اور انے والی نسلوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہے اس بے حس ظالم طبقے کو فیکٹریاں ہوٹلز پلازے اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے سے روکا جائے کم از کم اتنا فرض تو ادا کیجیے کہ جن سے اپ کی سانسوں کا دارومدار جڑا ہے ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کم از کم ہر فرد ذاتی طور پر ایک ایک درخت بھی لگائے تو آئیں ممکن ہے کہ فضا میں پھیلا زہر ختم ہو سکے۔

یہی گھناؤنا سلسلہ شمالی علاقہ جات میں بھی جاری ہے سیاحت کے نام پر درختوں کا کاٹنا موسمی تبدیلیوں کی بڑی وجہ بن رہا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیر ز بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں جو نہایت خطرناک صورتحال ھے۔ نہ جانے اس حقیقت سے غافل لوگ کب اس بات کو سمجھیں گے کہ درختوں کا وجود ھماری زندگی ھے اپ اپنے تھوڑے سے لالچ کی خاطر ان بڑے مگر مچھوں کے بے حس عزائم کو کامیاب بنا رہے ہیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

More posts