Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔

  • مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بجٹ اعدادو شمار کا ایک کھیل ہوتا ہے میرے خیال میں عام آدمی ہی نہیں بہت سوں کے سر سے گزر جاتا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار کیا ہوتے ہیں عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے۔ بجٹ پیش ہوتے تقریریں سنتے عمر گزر گئی اور گزر رہی ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ ان مشکل میں ہی نہیں مشکل ترین حالات میں کسان دوست‘ سرکاری ملازمین دوست‘ نوجوان دوست بجٹ پیش کر سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہے اور ایک تجربے کار وزیر خزانہ ہیں۔ سب سے خوشی کہ آئند وزیر خزانہ نے وطن عزیز کو ڈیفالٹ سے بھی بچا لیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تماشوں کی رونق ماند نہیں پڑ رہی روزایک نیا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال سے بے خبر سیاستدان روزانہ سیاسی تماشے لگا رہے ہیں تاہم یہ تماشے پرانے ہیں۔ قومیں متحد رہ کرہی ترقی کرتی ہیں انتشار تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

    خطے کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے ۔ سعودی عرب‘ چین‘ ایران اور دیگر ممالک کے در میان فروغ پانے دوالے رشتوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ غالباً پڑ بھی چکے ہیں۔ ایران‘ سعودی عرب‘ عرب امارات‘ عمان اور دیگر خلیجی ممالک نے مشترکہ بحریہ کے قیام کا فیصلہ کیا ان کی رہنمائی چین کررہا ہے۔ بلاشبہ سعودی عرب ایران تعلقات امریکہ کیلئے بڑا دھچکہ ہے امریکہ جانتا ہے کہ عرب ممالک اتحاد کے پیچھے چین ہے ان حالات کو دیکھ کہ امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچے ہیں۔ چین امریکہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے پاکستان کو اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ خطہ کی بدلتی ہوئی صورت کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اس بدلتی ہوئی صورت حال میں حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔

  • قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو مبارک ہو نئی جماعت استحکام پاکستان وجود میں آچکی ہے۔ اس نئی جماعت میں وہی پرانے سیاستدان ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں سے سفر طے کرکے اب ایک نئی جماعت استحکام پاکستان میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں سیاسی مخبروں کے مطابق پنجاب میں استحکام پاکستان ، ق لیگ اور پی پی پی پنجاب میں حکمرانی کے لئے نیا سیاسی اتحاد بنانے جا رہے ہیں اس اتحاد کے ساتھ پنجاب کی عام یعنی ووٹر ووٹ دیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم عوام کو نیا اتحاد مبارک ہو ۔ بھٹو کے بعد پنجاب نوازشریف کا تھا ۔ پھر پی ٹی آئی کا تھا یہ نیا اتحاد مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں مقبولیت کو شاید نظر انداز کررہا ہے پنجاب میں ووٹر آج بھی نواز شریف اور پی ٹی آئی کا ہے۔ تاہم یہ سیاسی کھیل اتنا بے سبب بھی نہیں عوام مسائل اور محرومیوں کو وقتی طورپر فراموش کر دیں بس ان کی آنیاں جانیاں دیکھتے رہیں۔

    وطن عزیز کی سلامتی مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے قوم کسی سیاستدان اورسیاسی جماعت کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ قومی سلامتی کےاداروں بشمول عدلیہ پر چڑھ دوڑے ۔ پاک فوج اوراس سے جڑے جملہ ادارے ملک کے وجود کا وہ حصہ ہیں جو پاکستان کو ہر خطرات سے بچانے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ کسی سیاستدان اور کسی بھی سیاسی جماعت کویہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ وطن عزیز کے اس اہم وجود کو نقصان پہنچائے ۔ تاہم پی ڈی ایم اور پی پی پی کی جمہوریت اک دھاگے سے جھول رہی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ صف علی زرداری اپنی زندگی میں بلاول کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں مخبروں کے مطابق کچھ سیاستدانوں کی خواہش ہے کہ نواز شریف وطن واپس نہ آئیں مسلم لیگ(ن) کا روشن مستقبل نواز شریف سے جڑا ہوا ہے نواز شریف کی وطن واپسی سیاسی گلیاروں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

  • پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    ایک پھول کی کلی ہے ،وہ ہر وقت پھولوں سے لگی رہتی ہے ،کھبی تو بس گہری سوچ میں انہیں تکتی رہتی ہے اور پھر تکتی ہی رہ جاتی ہے،اور کھبی خوشبو لے لے کر سکون پاتی رہتی ہے اور کھبی نرم نرم ہاتھوں سے پھولوں کی نرمی محسوس کرتی رہتی ہے اور بے اختیار اس کا دل کہہ جاتا ہے
    "سبحان اللہ بقدرتہ ”

    اور ایک اور مزے کی بات پھر ان پیارے پیارے پھولوں کو دیکھ کر ایک دم خیال اللہ کے کچھ خوبصورت ،مقرب بندوں کی طرف چلا جاتا ہے
    (ہمممم !!!سوچ رہی ہوں بتا دوں وہ کون ہیں چلیں بتا دیتی ہوں میرے استاد، میرے والدین ،میرے شیخ اور نیک ساتھی ہیں اور میری اکثر پوسٹ انہیں کے لیے ہوتی)
    اور پھر اس واقعہ کی طرف ذہن جاتا ہے جو خوبصورت مکالمہ اللہ اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان ہوا تھا اور وہ واقعہ جب عاجزہ ایف ایس سی کے بعد جامعہ گئی تھی اور اسے کالج کے ماحول کے بعد مدرسہ کے پاکیزہ ماحول میں سیٹ ہونا مشکل لگتا تھا اور ظاہر ہے پاکیزہ ماحول اور گندہ ضمیر دل لگتا بھی کیسے ۔۔!!
    خیر اس وقت میرا دل لگانے میں جہاں کچھ کردار سا تھیوں کا
    تھا ،کچھ جامعہ میں لگی فریم
    "” احساس کر اللہ تجھے پیار سےدیکھ رہا ہے””
    کا تھا اور کچھ کردار با اخلاق ، با کمال ،با کردار ،صاحب بصیرت اساتذہ اکرام کا تھااور ادارے کی پرنسیپل ان کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں جنہوں نےہمیشہ ،ہر وقت بڑی خندہ پیشانی سے مجھے گائیڈ کیا ،حتی کہ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلایا ۔۔۔ میں یہ پاکیزہ تعلیمی سفر فقط اللہ سویٹ کے کرم ، امی جی کے شوق، ابو جی کی انتھک محنت ، حضرت جی کی دعاؤں اور اساتذہ کی لگن و توجہ سے کر پائی ،اللہ آپ سب کو دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں آمین

    خیر میں واقعہ کی سند بیان کر رہی تھی تو وہ ایک میری معلمہ جنہوں نے عالیہ ثانی میں مشکوۃ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام پاکیزہ نے سنایا تھا اور اس کا ایسا اثر بھی میری ذات پر ہوا تھا کہ میں نے جامعہ پڑھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا
    انہوں نے بتایا تھا "” اللہ یہ ماحول ہر ایک کو نہیں دیا کرتے اللہ اس پاکیزہ پڑھائی کے لیے ہر ایک کو نہیں چنا کرتے بات وہی ہے” ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سویٹ سے پوچھا تھا
    اللہ! سارے بندے نیک نہیں ہوتے آپ اس کام کے لیے کسی کسی کو کیوں چنتے ہیں ؟
    تو اللہ رب العزت نے فرمایا:
    موسی فلاں باغ سے میرے لیے پھولوں کا گلدستہ لاؤ
    جب موسی علیہ السلام گئے تو باغ میں پھول تو بہت زیادہ تھے اللہ پاک جانتے بھی تھے لیکن موسی علیہ السلام چند ہی پھولوں کو اتار کر ان کا گلدستہ بنا کر لے گئے
    اللہ سویٹ نے دریافت فرمایا : موسیٰ پھول تو اور بھی تھے آپ یہی کیوں لائے
    موسی علیہ السلام نے فرمایا:اللہ یہ پھول مجھے زیادہ اچھے لگے تھے اس لیے پہی لایا
    تو اللہ سویٹ نے فرمایا: موسی میں بھی اسی کو دین کے لیے چنتا ہوں اسے اس کام کے لیے منتخب کرتا ہوں جو مجھے پسند آئے”””

    اللہ اکبر۔۔اللہ تیری شان واہ واہ

    اور میری معلمہ جنہوں نے مجھے ہدایہ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام محمد اکثر فرمایا کرتی تھیں” اللہ رب العزت ستر بار محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو دین کے لیے کسی کو چنتے ہیں”
    تو پھر میں نے بھی کہا کہ وردہ ذرا سوچو تو سہی کس کی محبت کی نظر تم پر پڑی؟ ایک تو محبت کی نظر جو تمہیں ویسے بھی اچھی لگتی دوسرا محبت کی نظر بھی کس کی ۔۔؟ اللہ کی ؟ اللہ سویٹ کی بس اب تو تم پڑھو گی

    پھر الحمدللہ آج وہ وقت ہے اللہ نے وہ لقب عطا فرمایا کہ جس کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف جاتی ہے اس کے محبوبﷺ کی طرف جاتی ہے
    اللہ ﷻان نسبتوں کی لاج رکھنے کی توفیق فرمائے اللہ قبول فر ما لیں اللہ سویٹ دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں حقیقی معنوں میں والدین، استاد اور شیوخ کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اور رب اندرونی و بیرونی ملک میں احسن طریقے سے دین کا کام لیں رب اتنا قابل بنائے کہ دین سے نفرت کرنے والے دیکھ کر محبت کرنے لگ جائیں, اللهﷻ سنت مصطفیٰﷺ کا شیدائی بنا دیں اور آخرت میں آپﷺ کے ہاتھوں حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو آمین ثم آمین
    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    ایک اکانومی عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے۔ حج میں عمرہ کی نسبت چند اضافی عبادات شامل ہوتی ہیں، جن میں منیٰ، عرفات (وقوف عرفہ) اور قربانی شامل ہیں۔ مزدلفہ کا قیام، رمی بھی عمرہ سے اضافی عبادات ہیں جو حج کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام سے فرض کی تکمیل کے بعد مذکورہ اسفار و قیام بھی حج کے دیگر اراکین میں شامل ہیں۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ”اضافی“ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا۔ اگر آپ نارمل (اکانومی) عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔

    اگر حج کو دیکھا جائے تو اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔ شارٹ اور لانگ حج پیکجز کے ٹکٹ سے لے کر منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مدینہ کے اسفار، رہائشی اخراجات اور دیگر سہولیات کا اصل ریٹس پر بریک اپ بنائیں تو یہ رقم زیادہ سے زیادہ بھی 9 لاکھ روپے سے اوپر نہیں جائے گی۔ وی آئی پی حج بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ 11لاکھ روپے تک بآسانی ہو جانا چاہئے۔ موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد، طعام میں 100 فیصد، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ڈبل ہوئے ہیں جبکہ ویزہ فیس اور دیگر سہولیات کا خرچ بھی بڑھا ہے۔ یوں حج عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہو رہا ہے۔

    حج کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ کے تناظر میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ایک طرف، لیکن سعودی عرب میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ 2021 ء میں کورونا کی وجہ سے جب حج کو صرف سعودی باشندوں کیلئے محدود کر دیا گیا تھا، تب بھی عمومی حج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی حساب سے تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا۔ جبکہ اس سے محض ایک سال قبل تک یعنی 2020ء میں حج کی پاکستانی قیمت 5 سے 6 لاکھ روپے تھی۔ بعد ازاں 2 سالوں میں اب یہ کم از کم 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گو، کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ہر سال حجاج کی سہولت کیلئے زر مبادلہ کا انتظام کرتی ہے۔ حاجیوں کو پیکج میں اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتی آئی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات کی وجہ سے بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ حجاج کو محدود بجٹ میں حج کا موقع دیا جائے۔ لیکن پاکستانی حکومت بھی آخر کتنی کوشش کر سکتی ہے، جب تک دوسرے ملک کی حکومت زائرین کیلئے ٹیکس فری انتظامات کے سلسلے میں تعاون نہ کرے۔
    یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس مرتبہ حج کا کوٹہ واپس کرنا پڑا؟۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی ہوٹلز کو کنٹرول کرنے کیلئے وہاں کی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی؟ …… ہوٹلز کو سارا سال کمانے کا موقع ملتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کیلئے پوری دنیا سے لاکھوں لوگ 24/7 بلا کسی تعطل کے اور مسلسل جا رہے ہیں۔ اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہوٹلوں میں عمرہ زائرین کیلئے رہائشی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے کاروباری معاملات بھی ہر وقت رننگ میں رہتے ہیں۔ یعنی وہاں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اچھا خاصہ کما بھی رہے ہیں اور منافع بھی لے رہے ہیں۔ اگر ان مخصوص دنوں (حج کے ایام) میں انتظامی اور دیگر متفرق اخراجات حکومتی سطح پر کم بھی کر دئیے جائیں تو اس قدر منافع ہو جاتا ہے کہ اہلیان سعودیہ کئی سال آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حج کیلئے بھی عمرہ کے دنوں والے ریٹ قائم رکھے جائیں، تو رہائش گاہوں کے ”مالی استحکام“ میں فرق نہیں آئے گا، نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں کمی یا عدم استحکام پیدا ہو گا …… لیکن نجانے کیوں حج اور عمرہ کو سیاحت سے منسوب کرتے ہوئے اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ملک، کوئی ایک مقام، کوئی ایک سفر تو ایسا ہونا چاہئے جو غیر منافع بخش اور ٹیکس فری ہو، بالخصوص اس مقدس اور مبارک سفر کو تو آسان اور قابل رسائی ہونا چاہئے۔ متعلقہ ملک کے ارباب اختیار کو اس پر سوچنا اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

    noorulhuda
    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز (محمد نورالہدیٰ)
  • پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
    ڈاکٹر سبیل اکرام
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح پھنس اور دھنس چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی تمام تر جائزو ناجائز شرائط منوانے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا جس کے مدد سے ہمارے حکمران اپنی عوام کو مسلسل باور کروارہے ہیں کہ اس کے بعد پاکستان کی معیشت جو کہ مسلسل بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی ہے سنبھل جائے گی اور پاکستان معاشی اعتبار سے خود کفیل ہوسکے گا ۔ آئی ایم ایف کے اس جبر اور پاکستان کے عوام کے صبر پر جس بھی زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا جائے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ایجنڈا ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کی معیشت اور معاشرت کو اس حد تک تباہ کرنا ہے کہ ہمارا ملک عالمی ساہوکاروں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہر وہ بات تسلیم کرلے جو وہ چاہتے ہیں ، اس جبر اور دباﺅ کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں سے محروم کیا جائے اور بھارت سے ان شرائط پر صلح کروائی جائے جو وہ چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان کےلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے اسے بھارت کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکے۔
    یہ وہ حقائق ہیں جو زباں زدعام ہیں مگر ہمارے ارباب رفتہ اقتدار واختیار ان مسلمہ حقائق کا علم ہونے کے باوجود ایسے اقدامات سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں ، جو اس عالمی ایجنڈے سے نجات دلا کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کا درس دے سکتے ہیں ۔ یہ محض خلوص نیت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف عالمی ایجنڈا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے ۔۔۔۔۔ قدرت نے ہمیں زبردست جغرافیائی محل ووقوع دیا ہے کہ کوئی سا بھی طاقت ور ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم بات صرف قومی غیرت وحمیت کو جگانے، باہمی اتحاد واتفاق اور عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ مگر جب رہنماہی خواب غفلت میں ڈوب کر اپنے ذاتی اغراض ومفادت کے اسیر ہو چکے ہوں تو پھر لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آج اگر پاکستان کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں یہ گزشتہ حکمرانوں کی بنائی گئی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایسے گدا گر بن چکے ہیں جو پوری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی ملک ہماری جھولی میں بھیک ڈالتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم ایسے گدا گربن چکے ہیں جو سودی قرضے ملنے پر بھی جشن مناتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ بحیثیت قوم ہماری عزت داﺅ پر لگ رہی اور ہماری ساکھ۔۔۔۔ راکھ بن کر ہمارے ہی سروں پر پڑ رہی ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ جب کفایت شعاری کی پالیسی اپنا کر آئی ایم ایف کے ظلم و جبر اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے تو یہ پالیسی خلوص نیت سے کیوں نہیں اپنائی جاتی ۔ ہمارے حکمرانوں کا قرض کی ۔۔۔۔مئے پینے ۔۔۔۔ اور سینہ چوڑا کرکے غیر ملکی دورے کرنے کا نشہ آخر کب۔۔۔ اترے گا ۔۔۔؟ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ عالم اسلام کے قلعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں بد ترین خطرے میں ڈالی جارہی ہیں، اس کی معاشی بنیادوں میں ڈائنامیٹ بھرا جارہا ہے تاکہ سیکولرازم کی راہ ہموار ہوسکے اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک لادینی ریاست بن جائے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ وطن عزیز کی بربادی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر پاکستان کو بچانے اور عوام میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ محض اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح ریاست نہیں اقتدار ہے ، یہ جماعتیں اقتدار چاہتی ہیں چاہے کسی بھی قیمت پر ملے جبکہ پاکستان کی سا لمیت اور تیئس کروڑ عوام کو در پیش مسائل کی کسی کو فکر نہیں ۔ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو بہکایا اور دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ نان ایشوز کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل ، غربت، بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ اب عوام میں اعتماد کا فقدان بڑھتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ حالات بتدریج حتمی تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اصلاح و حوال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے باعث غربت، افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہیں تمام سہولتیں طبقہ اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں مگر غربت وافلاس کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا قرض ادا کرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈالے جارہے ہیں مگر حکمران اور اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔اگر چہ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگرہمارا ملک مسائلستان بن چکا ہے ۔ بات بہت سیدھی ہے کہ جب ایک اسلامی نظریاتی ملک کی معیشت کی بنیادیں سود پر رکھی جائیں گی تو معیشت میں سدھارکیسے آ سکتا ہے ؟ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅپالیسیوں نے ملک کو تباہ اور عوام کو بدحال کردیا ہے مگر شعور سے عاری ہماری عوام وڈیروں اور لٹیروں کے لئے ” آوئے ہی آوئے “ کے نعرے بلند کررہے ہیں ۔ کوئی لیڈر اسلام کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور کوئی رہنما بنیادی انسانی حقوق کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل رہا ہے جبکہ دینی جماعتوں کے رہنما جن پر اصلاح احوال کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔۔۔۔وہ بھی قوم کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جو دور حاضر کے سب سے بڑے مہاجن ہیں پاکستان کی معیشت کو اپنے شکنجے میں نہیں لیں گے۔۔۔۔عوام کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیاہوگا ۔۔۔؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا اپوزیشن جماعتیں یا دینی جماعتیں سب کے قول وفعل میں تضاد ہے اس تضاد نے ہی قوم اور ملک کو برباد کردیا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف سے نجات کے لیے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنائی جائیں ، قرضے لینے کی بجائے جو کچھ ملک میں میسر ہے اسی پر گزر اوقات کی جائے ۔ مراعات یافتہ طبقے پر نواز شات کی بارش برسانے کے بجائے غریب عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے ملک میں نان اور روٹی سمیت دیگر اشیا خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں مگر ارکان پارلیمنٹ جو کروڑوں اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کےلئے کھانا شرم ناک حد تک کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ کم آمدن والے ملازمین کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو محکموں کے سربراہان کو حاصل ہیں ۔ یہ صورت حال اسلام کے احکامات اور تعلیمات سے متصادم ہے۔یہ طبقاتی تفاوت ملک اور قوم کےلئے تباہ کن ہے جو کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فکر کریں ۔اسلئے کہ طبقہ امرا کی تو پہلے ہی پانچوں گھی میں ہیں ، انہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت قو م ہم سادگی اور کفایت شعاری ایسی پالیسیاں اپنا کرآئی ایم ایف سمیت عام عالمی ساہوکاروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، سودی نظام کو چھوڑنے اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے اور اخلاص نیت سے آگے بڑھنے کی ہے ۔ جب ہم خود سدھر جائیں گے تو یقین کریں دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات حاصل کرنے کا عہد کریں اور ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ہماری گردنوں سے معاشی غلامی کا ڈالتے اور خود داد عیش دیتے پھرتے ہیں ۔

  • اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بِقول شاعر: بڑی رونق تھی اس گھر میں ، یہ گھر ایسا نہیں تھا
    گلے شکوے بھی رہتے تھے مگر ایسا نہیں تھا
    جہاں کچھ شیریں باتیں تھیں وہیں کچھ تلخ باتیں تھیں
    مگر ان تلخ باتوں کا اثر ایسا نہیں تھا
    قارئین، ماضی میں بھی سیاسی گلیاروں میں شکوے شکایتیں رہتی تھیں مگر آج کی سیاست اور سیاستدانوں نے وطن عزیز میں جو انتشار پھیلا رکھا ہے ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا۔ نہ ختم ہونے والی تکرار نان ایشوز الزام تراشیوں اور بہانوں کے سوا سیاستدانوں کے پاس کچھ نہیں رہا۔ 24 کروڑ عوام اور ریاست کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ عدلیہ سمیت ریاستی ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے خاشامدی ٹولوں نے حد کراس کردی یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے کونسا ایسا سیاستدان اور سیاسی جماعت بھی ہے جس نے محب وطن اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا؟ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے عوام کی اکثریت نام نہاد جمہوری سیاست کے تماشوں سے بیزار ہوچکے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر بنتا جارہا ہے جمہوریت کا یہ دکھاوا ایک فریب ہے۔ عوام کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ لینڈ مافیا شوگر مافیا ادویات مافیا کالے دھن پر کھڑی سیاست اسے کچلتی رہے گی۔

    عمران خان سمیت بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سیاستدانوں نے دغا بازی کی مشکل حالات میں ساتھ چھوڑ گئے کہا جاتا ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں۔ محرومی مایوسی اور عدم استحکام ملک کے کروڑوں عوام کا حصہ بن چکے ہیں۔ آخرکب تک؟ اب اقتدار کے لئے سیاسی گروپ بن رہے ہیں۔ ملاقاتوں ایک دوسرے کے ساتھ وعدے اقتدار میں حصہ داری نئی جماعت بنانے کی کوشش۔ پرفریب وفاداریاں اور ایک دوسرے کو یقین دہانیاں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے آمدہ الیکشن میں ساتھ چلنے کے وعدے۔ اس سارے کھیل میں عوام اور ریاست کو درپیش مسائل نظر نہیں آرہے اقتدار اور اختیارات کے اس کھیل میں عام آدمی کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔

  • تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ!

    تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

    اٹھائیس مئی کو پاکستان میں یوم تکبیر کا دن منایا جاتا ہے۔ کیونکہ پچیس سال قبل اسی روز پاکستان نے چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک بار پھر سے معتدل کیا تھا۔ اس دن کو نہ صرف پوری پاکستانی قوم بڑے جوش و جذبے سے مناتی ہے بلکہ عالم اسلام بھی ان ایٹمی دھماکوں کو اپنا سمجھ کر کفار کو اسی بھروسے میں للکارتا ہے۔ جس دن پاکستان میں دھماکے ہوئے تھے اسی روز فلسطین کا ایک کم سن بچہ اسرائیلی فوجی کو مکا دکھا رہا تھا کہ پاکستان میں یہ جو ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا گیا ہے وہ تمہاری استعماریت کو لگام ڈالنے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر فرعون کیلئے ایک موسٰی ضرور پیدا کرتا ہے۔ سنہ اڑھتالیس میں اگر اسرائیل وجود میں آیا تو سنہ سینتالیس میں پاکستان معرض وجود میں آ چکا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے کہ ہماری آزادی کیلئے عالمی دنیا میں سفارتکاری اور آواز بننے والا ملک بھی اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ بھارت اور اس کے ساتھیوں کو للکار کر کہہ سکے کشمیر کو آزادی دو، استصواب رائے پر آزادی دو! مگر یہ نوجوان نسلوں کے خواب جنہیں وہ آنکھوں میں سجا کر جوان ہوئے تھے بکھر گئے! امید کی روشنی آنکھوں میں مایوسی کے بادل بن کر برس رہی ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ذہنی ہیجان، اور جہاں دیکھو تقسیم ہی تقسیم ہے۔کوئی جماعت، اشرافیہ، ٹیکنو کریٹ، بیوروکریٹ یا ملک کا ذمہ دار اتحاد کی بات نہیں کر رہا! اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ہمارا روایتی حریف۔ اس نے مقبوضہ کشمیر میں جی – 20 سمٹ منعقد کروائی ہے اور کنٹرول لائن کا علاقہ مائننگ کیلئے اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکے پر دیا ہے۔ مگر سمٹ کے بارے میں تو ہمارے وزیر خارجہ نے بہت شور مچایا ہے، جو ظاہری طور پر بے اثر رہا مگر اسرائیلی کمپنی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ کیا وطن عزیز کو چلانے والے حکمران اور مقتدر طبقہ ابلاغ، دانش اور صحیح فیصلوں کی قوت سے عاری ہے جو مستقبل پر نظر نہیں رکھتا کہ کیسی مشکلات ہماری منتظر ہیں! یہ کیسے اسباب پیدا کئے جا رہے ہیں جس میں صرف میں، میرا اور میری کی فکر کی جا رہی ہے؟

    گریٹر اقبال پارک کے دامن میں ملک پاکستان کے بننے سے موجودہ سنگین حالات تک اور پھر یہاں سے آگے امید کی ایک نئی روشنی کے آغاز تک کی ساری تاریخ دفن ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں 1940 میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس کے سات سال بعد بر صغیر کے مسلمان ایک الگ آزاد ریاست اسلامی و فلاحی جمہوریہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس گریٹر پارک میں یادگار پاکستان یعنی مینار پاکستان بھی قائم ہے جس کی آغوش میں پاکستان کی کئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا ہے۔ کئی بڑے جلسے ہوئے، وقت کے ساتھ وہ اثر کن بھی ہوئے مگر کبھی پاکستان کی تقدیر نہیں بدل سکے۔

    پاکستان میں اخلاق، ایثار و جذبہ، اتحاد ملی، یگانگت باہمی، ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین و محکم کے علاوہ دانشمندی اور دور اندیشی جیسے عناصر کا خلا کوئی سیاسی و مذہبی جماعت بھر نہ سکی۔28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر ایک اور سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اسی گریٹر اقبال پارک کی آغوش میں، اسی مینار پاکستان کے سائے میں تکبیر کانفرنس کروا کر اپنے وجود کا اعلان کیا ہے۔ پہلے ہی جلسے کو پی ایم ایم ایل کی قیادت تاریخی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اور پہلی ہی کانفرنس سے پی ایم ایم ایل نے تمام مذہبی و سیاسی عمائدین و قائدین کو ایک ہی سٹیج پر اکٹھا کر کے تمام تر تعصبات سے پاک ہو کر مذکورہ بالا سیاسی خلا کو پر کرنے کا عملی ثبوت دیا ہے۔لاہور شہر بھر میں تشہیری مہم، استقبالیہ مسافر خانے اور ان میں کھانوں اور مشروب کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔پورے پنڈال کی سیکیورٹی کیلئے جہاں سرکاری طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہیں خود پی ایم ایم ایل کی جانب سے سینکڑوں نوجوانوں نے نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور شرکت کرنے والوں کو محفوظ کرنے کیلئے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دئے ہیں۔داخلی راستوں پر میٹل ڈی ٹیکٹر گیٹ لگائے گئے تھے، اور ساتھ ہی مہانوں کیلئے پانی اور شربت کے سٹالز لگائے گئے تھے جہاں سفر کر کے آنے والے جی بھر سیر ہو رہے تھے اور پیاس بجھا رہے تھے۔

    اسٹیج کے بائیں طرف میڈیا گیلری قائم کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں راقم الحروف میڈیا گیلری میں موجود تھا۔ اس گیلری میں پندرہ سو کرسیاں لگائیں گئیں جہاں پنجاب بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے برقی، سماجی اور اشاعتی ابلاغی اداروں کے نمائندگان کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ انہیں بجلی اور انٹرنیٹ کی بھرپور سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اسٹیج کے بائیں طرف کنٹینر لگا کر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان کو کوریج میں آسانی اور سیکیورٹی دینے کیلئے انتظام کیا گیا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا کے نمائندگان نے اس کنٹینر پر کیمرے لگا رکھے تھے اور وقفے وقفے سے پی ایم ایم ایل کی قیادت کا انٹرویو کر رہے تھے اور مختلف اوقات میں اپنے ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائنز اور سٹوری کوریج دے رہے تھے۔ اسٹیج کے درمیان میں کرسیوں پر اور کھڑے ہوئے ایسے لوگ موجود تھے جو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اور پی ایم ایم ایل کا پرچم تھامے ہوئے تھے۔ گریٹر اقبال پارک کی درمیانی سولنگی پٹی آخر تک سبز ہلالی پرچموں میں ڈھکی ہوئی تھی اور تیز ٹھنڈی ہواؤں نے ان پرچموں کو لہرا کر زندہ و جاوید کر دیا۔اسی مرکزی سولنگی پٹی اور پنڈال کے باہر بھی پاکستان کے بانی ممبران کے علاوہ کشمیر حریت راہ نماؤں کے پوسٹرز بھی آویزاں کئے گئے تھے۔ اسٹیج کی بائیں جانب مکمل اور دائیں طرف میڈیا گیلری کے پیچھے پی ایم ایم ایل کے تمام ضلعی عہدیدار اور ان کے ساتھ آئے ساتھی موجود تھے جو ضلعی قیادتوں کے ہمراہ پنجاب کے طول و عرض سے بنا کسی لالچ اور بنا کسی بریانی کے شوق اپنے کرایے پر صرف اور صرف اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کا وقت پانچ بجے سہہ پہر مقرر کیاگیا تھا۔ لوگ مختلف اضلاع سے پہلے ہی آنا شروع ہو گئے تھے، دن کی روشنی میں ہی پنڈال بھر چکا تھا۔ مغرب کی نماز سے قبل قریب ساڑھے چھ بجے کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ اور مغرب کی اذان کے وقت علماء و عمائدین نے بھرپور عوامی ہجوم کے ساتھ نماز مغرب اور عشاء ادا کی۔ گریٹر اقبال پارک کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہو کہ کوئی سیاسی قیادت اپنے کارکنان کی نماز کی فکر کر رہی ہو، اور ان کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے اتنے بڑے ہجوم کیلئے وضو کے پانی، طہارت کیلئے بیت الخلاء اور نماز کیلئے قالینوں کا اہتمام کیا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد گریٹر اقبال پارک تکبیر کے نعروں، عمائدین و قائدین کے خطابات اور ملی نغموں سے گونجتا رہا۔ رات گئے تک لوگوں کی شرکت کا سلسلہ چلتا رہا۔ خطابات کی تفصیل تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ویڈیو کلپس اور تصاویری شکل میں گزشتہ روز ٹویٹر ٹرینڈ میں شیئر کر دی گئی ہے۔ لیکن میں یہاں مقررین کے نام ضرور لکھتا چلوں گا۔

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    اسٹیج پر موجود مقررین میں پی ایم ایم ایل کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ شاہد مسعود سندھو، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، خطیب بادشاہی مسجد عبد الخبیر آزاد، حریت راہ نما غلام محمد صفی، سجادہ نشین میاں میر پیر سید ہارون علی گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، قصور سے پی ایم ایم ایل کے امید وار سیف اللہ خالد، خواتین کی نمائندگی جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل، یعقوب شیخ، مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے راہ نما ڈاکٹر عبد الغفور راشد، بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے قبائلی راہنما نواب ظفرا للہ خان شہوانی، نگران عروۃ الوثقیٰ علامہ آغا سید جواد احمد نقوی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبد الغفار روپڑی، مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانہ فضل الرحیم اشرفی، سکھ راہ نما سردار بشن سنگھ، علامہ زاہد محمود قاسمی، معروف عالم علامہ ناصر مدنی، انجینئیر حارث ڈار، قبائلی راہ نما میر شاہ جہاں، انور گل زئی، رانا محمد اشفاق، مقتدر اختر شبیر ایڈووکیٹ، احسان اللہ منصور، چئیرمین پیاف شیخ فہیم الرحمٰن، متحدہ جمیعت اہلحدیث کے راہ نما شیخ نعیم بادشاہ، رانا انتظار، احسان چوہدری، انجینئیر عادل خلیق، ڈاکٹر عبد المتین و دیگر نے خطاب کیا۔

    اگر جائزہ لیا جائے تو پورا سٹیج واضح طور پر اتحاد و یگانگت کے مناظر پیش کر رہا تھا۔ اور مقررین کے علاوہ مین اسٹریم کے میڈیا اور اینکرز نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ اس عدم استحکام، ہیجانی کیفیت اور معاشی بحران میں گریٹر اقبال پارک میں لوگوں کا جم غفیر اکٹھا کرنا کسی بھی نومولود سیاسی جماعت کیلئے نا ممکن ہے لیکن پی ایم ایم ایل نے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔ مقررین نے پی ایم ایم ایل کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد کی اس فضا کو قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ اندرونی و بیرونی سازشوں، بھارتی دہشتگردی اور ہرزہ سرائی، ملک میں نفرت و انتقام کی سیاست، ملک میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے اور اتحاد باہمی کیلئے ایک سیاسی خلا موجود تھا، جسے پی ایم ایم ایل نے آج اس اتنے بڑے اجتماع کو منعقد کر کے اور تمام سیاسی و مذہبی عمائدین کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی جماعت اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تمام مقررین نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوران پی ایم ایم ایل کے مرکزی راہ نما مزمل ہاشمی نے اعلامیہ پیش کیا جو کچھ یوں ہے:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    *پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام تکبیر کانفرنس کا اعلامیہ*

    ٭ یوم تکبیر کے تاریخ ساز موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام آج مینار پاکستان کے سائے تلے عظیم الشان تکبیر کانفرنس کے انعقاد پر ہم اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم میں نظریہ پاکستان کاشعور بیدار کر کے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قوت بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

    ٭ آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی قوت کے دباؤ پر ایٹمی پروگرام سے دستبرداری نامنظور ہے۔ پوری قوم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔

    ٭ شہدا پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

    ٭ ملک میں دفاعی اداروں و تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، البتہ جن لوگوں پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    ٭ وطن عزیز میں شدید مہنگائی، بجلی و پٹرول کی بے انتہا قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے کاروبار تباہ اور انڈسٹری کا چلنا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں کم کرے، عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے اور روزگار کے مواقع میسر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

    ٭ شدید مہنگائی سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔حکومت نوجوانوں کی تعلیم کا بوجھ خود اٹھائے،یکساں نظام تعلیم کی طرح تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

    ٭ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اورسالہا سال گزرنے پر بھی لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ اتفاق رائے سے ایسا نظام انصاف ترتیب دیا جائے جس سے مختصر وقت میں لوگوں کو انصاف میسر آ سکے۔

    ٭ صحت کی ناکافی سہولیات اور مہنگی ترین ادویات عوام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت کو درست کیا جائے۔ دور دراز دیہاتی علاقوں تک بھی لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    ٭ اگر حکومت وقت عوام کو بنیادی حقوق اور ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور مستعفی ہو۔

    ٭ مرکزی مسلم لیگ اس بات کا عہد کرتی ہے کہ خدمت خلق کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے حکومتی وسائل کے بغیر ہی عوام پاکستان کی مشکلات حل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کرتے رہیں گے۔

    ٭ مقبوضہ کشمیر میں جی 20کے اجلاس اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔چین، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی طرف سے جی 20اجلاس کا بائیکاٹ خوش آئند اقدام ہے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

    ٭ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فی الفور حل کیا جائے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے قائدین جو بھارتی جیلوں میں ناحق قید ہیں، ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ قائدین تحریک آزادی کشمیر کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ان سزاؤں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

  • وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان ، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی گھٹیا اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے ، جس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان حالات میں عسکری اور دفاعی اعتبار سے مستحکم پاکستان بے حد ضروری ہے اور پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضائوں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے سرنگوں میں پناہ لینے کی بجائے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کی دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اْسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا میں سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ء کی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کے جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ’’ سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ جب دنیا کے عسکری ماہرین نے محاذوں کا دورہ کیا اور پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی جرأت وبہادری کو دیکھا تو بے اختیار یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ میدان کارزار میں پاکستان کی افواج کا مقابلہ کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع اْن کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت اْن کا جذبہ شہادت ہے اور ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ دشمن بھارت سے زیادہ مکار اور خطرناک ہیں یہ اچانک اپنے ہی ہم وطنوں پر حملہ آور ہوتے اور مختلف طریقوں سے تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ دہشت گرد بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں، نام بھی مسلمانوں والے ہیں ، شکل وصورت بھی مسلمانوں والی ہے مگر حقیقت میں اْن کا دین اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ہماری فوج کے بہادر جوان ان تمام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو دیدہ ہیں یا نادیدہ ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ، ملک میں فوج کے کانوائے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، کبھی ان پر خودکش حملے کئے جاتے ہیں ، کبھی راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ، ملک دولخت ہوگیا ، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ، پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ہونے کااعزز چھن گیا اور ہمارے 90ہزار فوجی دشمن کے قیدی بن گئے ۔9مئی کے دن پاکستان میں جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔۔۔۔۔اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا یا اب بھی کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بدترین ملک دشمنی ہے ،یہ دانستہ طور پر 1971ء جیسے حالات پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ عسکری تنصیبات پر حملے کرنے یا افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے دانستہ یا نادانستہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ وقت قوم کے باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ہے۔ ہمیں وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے ۔ مضبوط فوج ہی پاکستان کی بقاکی ضامن اور بھارتی عزائم کی راہ میں آہنی دیوار ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار اور ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کیلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ ہو ۔

  • ہم مزار بنائیں گے

    ہم مزار بنائیں گے

    24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
    خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
    انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔

    زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
    مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔

    اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔

    پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔

    قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
    رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
    باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
    جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
    تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں ہے،سینیٹر مشتاق

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،