Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • لوٹوں اور نوٹوں کی گونج،سفارش نہیں بلکہ میرٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    لوٹوں اور نوٹوں کی گونج،سفارش نہیں بلکہ میرٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان وجود میں آچکی ہے ۔اس کے مستقبل کے بارے میں لکھا اور بولا جا رہا ہے ۔ اس طرح کی جماعتیں ملکی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ۔ اس جماعت میں شامل لوگوں کی اکثریت نے سیاست اور جمہوریت کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ اس کا خمیازہ بھٹو، نوازشریف ، محترمہ بینظیر بھٹو اور اب عمران خان بھگت رہے ہیں۔ ملکی سیاست میں ان کا اور ان جیسے لوگوں کا مستقبل روشن ہی ہوتا ہے ۔حیرانگی اس پر ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا ان کو سیاسی ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔

    سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بددلی سے ان کو قبول بھی کرتی ہیں۔ لوٹوں اور نوٹوں کی گونج نے جمہوریت کو کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا۔ سیاست میں نظریاتی دور ختم ہو چکا ہے۔ نظریات اور جمہوریت نفع بخش سیاست کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔ جدید جمہوریت کا بحران بہت سنگین اور گہرا ہو گیا ہے۔ آزاد انتخابات، آزاد صحافت اور ایک آزاد عدلیہ کے معنی بہت سکڑ گئے ہیں۔ اس سیاسی کھلواڑ میں عوام کو باور کرایا گیا کہ سیاستدان صادق اور امین بھی ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بیان سامنے آیا کہ انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہئیں ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ ایسی نگران حکومت ہو جو اصلاحات کو آگے لے کر چکے۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    قارئین اسحاق ڈار نے درست کہا مگر کیا کہا جائے جس ملک میں سفارشی نگران وزیراعظم لگایا جائے وہ کیا اصلاحات کرے گا نگران وزیراعظم جو خود سفارشی ہوگا وہ کس طرح صاف و شفاف انتخابات کروائے گا؟ سفارشوں کی ایک لمبی لائن لگی ہے نہ صرف وزارت عظمیٰ کے لئے بلکہ نگران کیبنٹ کے لئے بھی۔ ذمہ داران ریاست ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشی نہیں بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریں۔ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کروائے جائیں تاکہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے بعد انگلی نہ اٹھائے بین الاقوامی سطح پر بھی انتخابات پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ ملک کا اس وقت اصل مسئلہ معیشت ہے۔ نگران وزیراعظم بناتے وقت اہلیت اور میرٹ کا قتل نہ کیا جائے۔

  • ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    بھارت میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کو آبادی کے حساب سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، زندہ رینے کی تگ و دو کے لئے خواتین نہ صرف گھروں سے نکلتی ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتی ہیں، خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے .معاشرے میں خواتین کو گھروں کی دیکھ بھال کرنے والی،ماں ، بہن، بیوی ، بیٹی سمیت دیگر کردار ادا کرنے ہوتے ہیں، بھارت کی ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں تا ہم انکے ساتھ صنفی امتیاز برتا جا رہا ہے

    بھارت میں خواتین کو جہاں ایک طرف دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں، جہیز کے لئے خاتون کو جلا دیا جاتا ہے،لڑکیاں شادی کے لئے انتظار کرتے کرتے جوانی کھو دیتی ہیں تا ہم جہیز کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، خواتین کے ساتھ جب زیادتی، ریپ ، تشدد کے واقعات ہوں پھر بھی خواتین کو ہی اپنی عزت بچانے کے لئے بھی چپ ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ واویلا کرنے سے اسی کی عزت پر ہی حرف آنا ہے.

    مودی سرکار کی طرف سے بیٹی بڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن صنف نازک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو ایک ’سامان‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی وقت یا موقع پراگر لڑکی نے کسی کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ جناب فوری یہ تنیجہ آخذ کر لیتے ہیں کہ لڑکی ان پر فدا ہوگئی ہے

    انسان تو پھول، بادل، موسم، اپنے پسندیدہ جانور، چھوٹے بچوں، قوسِ قزح اور کسی بھی چیز کو مسکرا کر دیکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو بالکل نہ ہوا کہ اگر کسی حضرت کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ خاتون یا لڑکی اس پر فریفتہ ہوگئی ہےسماج کو ’ہنسی تو پھنسی‘ والی مضحکہ خیز اور ہتک آمیز سوچ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھ کر یا آپ کی سوچ کو ہنس کر ٹالنا چاہتی ہو یا پھر آپ کو ہنس کر نظر انداز کر رہی ہو یا آپ سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہو۔ خواتین کے خلاف ایسے رویے ہمارے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہی نہیں، بلکہ المیہ ہیں

    تحریر:نواب علی اختر

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں 37سالہ عراقی پناہ گزین نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور پھر نذر آتش نے مسلم ممالک سمیت یورپی یونین نے بھی شدید الفاظ میں اس شیطانی عمل کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے اس عمل کو جارحانہ بے عزتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا واضع عمل قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔

    اس شیطانی عمل پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ او آئی سی نے بھی ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ روسی صدر نے بھی اسے جرم قرار دے دیا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے لئے تمام مذاہب قابل احترام ہیں تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانا لازم ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے لئے اسلام مخالف قوتیں شرپسندوں کو اکساتی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کریں تاکہ فتنہ فساد پھیلے ہنگاموں اور مسلمانوں کے احتججاج کو دہشت گردی کا نام دے کر طاقت کے بل پر انہیں جانی و مالی نقصان پہنچائیں۔ افسوس صد افسوس یہ بات کڑوی ہے اگر آج کے دور کو فتنوں کا دور کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

    زندگی کے تمام معاملات میں برائیاں پنپ رہی ہیں تمام عالم اسلام قرآن پاک کی بے حرمتی غلیظ حرکت پر بھرپور پرامن مظاہرے جاری رکھے اور پاکستان میں خانقاہوں میں موجود پیر اور ان کے گدی نشینوں کو چاہئے کہ اپنی خوابگاہوں اور علماء دین کو بھی اپنی درسگاہوں سے نکل کر اﷲ کے دین اور اﷲ کے کلام کی ناموس کے لئے بھرپور پرامن مظاہرہ کریں۔ مسلمان اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنے قول و فعل پر قرآن کریم کی تعلیمات نافذ کرکے ثابت کریں کہ قرآن کریم ہی انسانیت اور امن کا آئین ہے جس پر عمل کرکے انسان اپنی اور معاشرے میں خوبصورت تبدیلی لاسکتا ہے اور خالق کائنات کی حقیقی آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا

    قرآن پاک کی سورۃ یونس میں اﷲ پاک فرماتے ہیں ’’لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اٹھالو پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے‘‘۔

  • محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔  سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت
    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی لمبی ہی کیوں نہ ہو وہ ختم ہونے والی اور زوال پذیر ہے، بقاءوہمیشگی اللہ کی ذات کو ہے اور آخرت کی زندگی کو ہے جو ابدی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: البتہ آخرت کے گھر کی زندگانی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حالت اور اس کی کمتری کو بیان کرتے ہوئے بتایاکہ وہ مسافر کی طرح ہے جس نے تھوڑی دیر کے لیے آرام کیاپھر کچھ دیردرخت کے سایہ کے نیچے سو گیا پھر وہاں سے کوچ کیا اور اس جگہ کو چھوڑدیا۔البتہ بہترین زندگی وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں گزرے اور بہترین موت وہ ہے جو اسلام کی حالت میں آئے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا وقت ِ آخرت ہے وہ اپنی ساری آل اولاد کو جمع کرتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے تو سب نے ( بالاتفاق ) جواب دیا کہ ہم اس کی عبادت کریں گے کہ جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم واسماعیل واسحاق عبادت کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود برحق جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اس کی ( اطاعت ) پر قائم رہیں گے ۔ اپنے بیٹے کو دین اسلام پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ کی تلقین حضرت لقمان علیہ السلام نے بھی کی تھی بلکہ سورة لقمان اس لحاظ سے پورے قرآن مجید میں ممتاز ہے کہ اس میں درمند والد کانمونہ ہے جو اپنے بیٹے کو دین وایمان پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کو دین کے اہم اصول بتاتا ہے کہ اس پر چل کر وہ اپنی دینی اور دنیوی دونوں قسم کی زندگی سنوار سکتا ہے ۔

    ہمارے بہت ہی پیارے عزیز از دل وجان دوست اور بھائی جناب عبدالمجید غازی بھی اپنی ذاتی زندگی اور اولاد کے معاملے میں ایک ایسے ہی انسان تھے۔ انھوں نے ساری زندگی شریعت کی پاسداری اور دین کی علمبرداری میں گزاری۔ وہ حقیقی معنوں میں علماکے خادم تھے ۔بہت ہی نیک ، صالح اور بے لوث انسان تھے ،ان کا دل مساجد اور علما کے ساتھ ایسے تھا جیسے شمع کے ساتھ پروانہ اور پھول کے ساتھ خوشبو ہوتی ہے ۔ انھیں مملکت سعودی عرب کے ساتھ بھی جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ 1992 ءسے یعنی عرصہ 30 سال سے جامع الامیر فیصل بن فہد الریاض سعودی عرب کے خطیب فضیلة الشخ عبدالسلام کے ہاں مشرف العمال کے طور پر مصروف عمل تھے۔غازی عبدالمجید دین کے رشتے اور تعلق کی بنا پر مملکت سعودی عرب سے بے لوث محبت کرتے اور اسے اپنا اصلی گھر قرار دیتے تھے ، وہ آرزو مندتھے کہ زندگی کی آخری سانس تک مملکت سعودی عرب کا ساتھ نہ چھوٹے۔

    عبدالمجید غازی چند ماہ قبل اولاد کے شدید اصرار پر پاکستان تشریف لائے تو یہاں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی فوراََ واپسی کی خواہش کا اظہار کیا اولاد، دوست احباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی پاکستان میں رکنے پر رضامند نہ ہوئے۔ فرمایا کرتے تھے سعودی عرب کلمہ طیبہ کا ملک ہے ، اس کے پر چم پر بھی کلمہ طیبہ جگمگا رہا ہے، میں اسی پاک سر زمین پر زندگی کے آخری ایام گزار کر دفن ہونا پسند کروں گا ۔غازی عبدالمجید کی سعودی عرب کے ساتھ درحقیقت دین کی وجہ سے تھی ۔ مجھ سمیت تمام دوست احباب نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح علاج معالجہ کے لیے ہی چند دن پاکستان رک جائیں لیکن مصر رہے کہ میں نے ہر صورت واپس جانا ہے۔اولاد اور دوست واحباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی رکنے پر آمادہ نہ ہوئے واپس کی ٹکٹ کنفرم کروائی اور سعودی عرب تشریف لے گئے ۔

    رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جناب عرفان غازی جو کہ ہمارے عزیز از جان دوست عبدلمجید غازی کے فرزند ارجمند ہیں اس اعتبار سے وہ ہمارے بھتیجے بھی لگتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ محبت واحترام سے پیش آتے ہیں ۔۔۔اپنے دوستوں جناب غلام محمد، جناب ڈاکٹر عبید الرحمان اور جناب نصیر احمد ناصر میری خصوصی دعوت پر بہاولپور سے خانیوال افطاری کے لیے تشریف لائے تو عرفان غازی کو ہم نے بہت افسردہ ، رنجیدہ اور نمدیدہ سا پایا۔ استفسارپر فرمانے لگے کہ والد گرامی ریاض میں شدید علیل ہیں اور میں فوری طور پر سعودی عرب جانا چاتاہوں۔ ہم نے پوچھا کب رخت ِ سفر کاارادہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ اگر آج ہی ویزہ لگ جائے تو میں ابھی ہی روانہ ہونا چاہتا ہوں۔اسلئے کہ والد گرامی کی بیماری کے بعد ایک پل بھی ان سے دور رہنا میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔بلاشبہ سعادت مند اولاد کی اپنے ماں باپ سے ایسی ہی محبت کرتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ ان شاءاللہ العزیز پہلی فرصت میں ویزہ لگوانے کی کوشش کرتا ہوں چنانچہ تین چار دن کے اندر اندر ویزہ لگوایا اور پہلی میسر فلائیٹ کی ٹکٹ اوکے کرواکر غازی صاحب کو اطلاع دی کہ سفر کی تیاری کریں آپ کا ویزہ اور ٹکٹ اوکے ہے۔

    25 اپریل کوعرفان غازی والد گرامی کی عیادت اور خدمت کے لیے الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے۔اس کے کچھ ہی دن بعدہمارے دوست جناب غلام محمد اور جناب ڈاکٹر عبید الرحمان نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ عرفان غازی صاحب کے والد گرامی سعودی عرب میں بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔خبر سنتے ہی دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کسی طرح اڑ کر الریاض پہنچ جاو¿ں اور مشکل وقت میں میں پیارے بھائی عرفان غازی کا غم بانٹ سکوں انہیں دلاسہ دے سکوں اور انکی معاونت کرسکوں۔ لیکن ویزہ اور سیٹ کی مشکلات کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی دفن ہوگئی۔۔تاہم میں اپنے بھائی اپنے دوست کو کہنا چاہوں گا کہ اگر چہ آپ کے والد گرامی کی جدائی کے وقت ہم کوسوں دور بیٹھے تھے لیکن ہم تینوں دوست (راقم الحروف حافظ مسعود اظہر ، جناب غلام محمد صاحب ، جناب ڈاکٹر عبیدالرحمان صاحب) دلی طور پر آپکے ساتھ ہی تھے ۔۔آ پ کایہ۔۔۔۔ غم ہم سب کا غم ہے۔آپ ہمیشہ ہماری دعاوں میں شامل رہتے ہیں او ر اب بھی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ بس ہمیں ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔

    عرفان غازی چونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے تھے ۔ وہ عربی زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے پہلی بار بیرون ملک سفر درپیش ہو اور زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہو تو مشکلات کااحتمال ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ میں نے اس موقع پر سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست احباب بالخصوص مادر علمی جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض کے محترم طلبہ سے گزارش کی کہ عرفان غازی صاحب کیساتھ رابطہ کرکے ان کے والد گرامی کی تدفین اور دیگر معاملات میں ان کی معاونت کریں، حوصلہ دیں اور نماز جنازہ میں شرکت کریں۔۔۔تاکہ۔۔۔دیار غیر میں انہیں اجنبیت کا احساس بھی نہ ہو۔ویسے الحمد للہ عرفان غازی صاحب کے چچا جان اور ان کے کزن بھی الریاض میں موجود ہیں۔۔ لہذا وہ بھی لمحہ بلمحہ عرفان غازی کے ساتھ ساتھ رہے اور سارے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی جناب عبدالمجید غازی (رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة) کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی قبر کو منور فرمائے، جنت کے باغیچوں میں سے باغیچہ بنائے، ان کے لواحقین بالخصوص ہمارے عزیز از دل وجان دوست بھائی اور محسن جناب عرفان غازی کو صبر جمیل عطا فرمائے

    مجھے بار بار جناب عرفان غازی جیسے بیٹے پر رشک آرہا ہے،کتنی محبت کرتے تھے اپنے والد گرامی کے ساتھ ، بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے تھے جونہی والد گرامی کی علالت کی خبر ملی تو فرمانبردار اور باپ سے بے لوث محبت کرنے والے بیٹے عرفان غازی سے صبر نہ ہوسکا ۔۔۔تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یونیورسٹی سے ایک ماہ کی چھٹی لیکر فوراََ سے پہلے اپنے والد محترم کی خدمت ،انکی عیادت اور جنت کمانے کے لیے الریاض روانہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بیٹے کو چند دن باپ کی خدمت کی سعادت بھی عطا فرمادی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام والدین کو جناب عرفان غازی صاحب جیسی نیک ، صالح ، والدین سے محبت اور انکی خدمت کے جذ بات سے سرشار اولاد نصیب فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

  • آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے گذشتہ دنوں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہ معروف ڈرامہ رائٹر اور ادبی حلقہ میں نمایاں مقام کی حامل شخصیت ہیں۔ اس نام کی وجہ سے میں چاہتے ہوئے بھی گروپ سے خود کو خارج نہ کر پایا۔ بعد ازاں گروپ میں ہونے والے سرگرمیاں میرے نظر سے گزری، تو نہ صرف گروپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ گروپ نہ چھوڑنے کا اپنا فیصلہ بھی درست معلوم ہوا۔

    یہ گروپ سفید پوش ادبی شخصیات کیلئے ایک ”آسرا“ تھا۔ جس کا بنیادی مقصد ادبی برادری کو ان کا پردہ رکھتے ہوئے معاشی کرائسز میں سہارا دینا تھا۔ معروف ڈرامہ رائٹر و شاعرہ سدرہ سحر عمران نے اپنی سماجی ترقی کیلئے متحرک دوست مومنہ وحید کے ساتھ مل کر ایک چیلنج قبول کیا۔ جب انہیں معلوم ہو اکہ ایک ان کے حلقہ احباب میں موجود ایک ادبی شخصیت قرض کا بوجھ لئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اس کے لواحقین کو اس قرض کی ادائیگی میں اپنی آمدن کا واحد سہارا بھی فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ سدرہ اور مومنہ نے ادبی و سماجی حلقوں پر مشتمل اہم افراد کو ایک واٹس ایپ گروپ میں اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مذکورہ خاندان کی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر تمام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس خاندان کے واحد ذریعہ آمدن کو بچایا۔

    سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کا موقف تھا کہ ”ہمارے ادیب،شاعر،فنکار اپنے اپنے فن سے ”ریٹائرمنٹ“ کے بعد جس اذیت،افلاس،بیماری، غربت اور گمنامی کا شکار ہوکر مرتے ہیں ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ شہرت اور پیسے کے عروج کے اوقات میں لوگوں کو اپنا مشکل وقت بھی یاد رکھنا چاہئے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا فعل ہے۔ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہمارا ظرف ہے“۔
    معاشرے کے مختلف ضرورت مند طبقات کیلئے تو بہت سے ادارے اور لوگ اپنی اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں لیکن ادبی برادری بالکل نظر انداز ہے۔ ایک خاص وقت میں اس طبقے کو درپیش کرائسز سے نکالنے کیلئے انفرادی و اجتماعی کوششیں بہت ضروری ہیں۔ یہی سوچ لے کر سدرہ عمران اور مومنہ وحید نے سفید پوش آرٹسٹوں کا ”آسرا“ بن کر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ محض گنتی کے چند گروپ ممبران کی مدد سے انہوں نے مذکورہ ادبی شخصیت کے خاندان کو لاکھوں روپے قرض کے بوجھ سے نکالا۔ مجھے ایک خاص بات یہ لگی کہ جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ مکمل ہوا، مومنہ وحید اور سدرہ سحر کی جانب اعلان کیا گیا کہ گروپ ممبران مزید کوشش نہ کریں۔ وگرنہ میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بھی لوگوں کو مزید امداد بھیجنے سے منع نہیں کرتے۔ یہی ”آسرا“ کی خاصیت تھی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ادبی برادری کیلئے اس اقدام کا آغاز سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید نے انفرادی طور پر شروع کیا ہے اور وہ اسے انفرادی ہی رکھنے کے قائل ہیں، اسے باقاعدہ کسی این جی وغیرہ کی شکل نہیں دینا چاہتے۔

    ہمارے ارد گرد کئی سفید پوش ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مشکل سے خود نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، یہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں عام آدمی کے کرائسز میں اضافہ ہونا یقینی امر ہے۔ ہمیں اپنے اپنے ادبی سرکل میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہونے کے باوجود اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریزاں ہیں۔ گذشتہ دنوں کئی دہائیاں ٹی وی سکرین پر راج کرنے والے معروف اداکار راشد محمود فالج اور دل کے عارضے کی وجہ سے مشکل حالات سے گزرے۔ نظر انداز کرنے کے حوالے سے راشد محمود کا شکوہ سوشل میڈیا پر آیا تو زمانے کو ان کے معاشی حالات کا علم ہوا۔ ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً ایسی کتنی ہی کہانیاں ہمارے علم میں لاتے ہیں جن میں اپنے اپنے ادوار کی نامی گرامی شخصیات کسمپرسی سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے حالات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان میں کھیل، ادب، صحافت، شوبز میں نمایاں رہنے والے انمول ہیرے شامل ہیں۔
    کہتے ہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ ساتھ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے سفید پوش لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یکجہتی اور عروج لائے گا۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ……ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں۔ اس احساس کو خود میں سے مرنے مت دیں۔

    میں سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ادبی برادری کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کیلئے ”آسرا“ بنی۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے مل کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے، وہ اس پر ثابت قدم رہیں گی اور ہماری گمنام اور سفید پوش ادبی برادری کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑیں گی، بلکہ اخلاقی و معاشی طور پر صحیح معنوں میں ان کیلئے ”آسر“ا ثابت ہوں گی۔ اور اس میں درد مند دل رکھنے والی ادبی و سماجی شخصیات کا بھرپور ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔
    پلکیں ہیں بھیگی کسی کی، رخسار ہے نم کسی کا
    گر ہوسکے تو مداوا، کیوں نہ کریں ہم کسی کا

  • سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    اصل کی طرف نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے
    "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”
    مزے کی بات یہ کہ کوئی اسے رو کر پہچانتا ہے ،کوئی ہنس کر پہچانتا ہے اور کوئی پہلے تو اس کا ہوتا ہے مگر پھر بھٹک جاتا ہے مگر پھر دوبارہ لوٹ آتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن چل پھر کر دوبارہ آ ہی جا تا ہے۔۔۔۔۔

    سوال پیدا ہوتا ہے کس کی طرف آتا ہے ؟؟؟

    مخلوق کے رب کی طرف وہ جسے اللہ کہتے ہیں ،وہ جسے دو دن کا بچہ بھی جانتا ہے وہ جسے سو سال کا بوڑھا بھی جا نتا ہے۔

    دنیا میں انسانوں کے دلوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹھوکریں کھایا ہوا دل صحیح سالم دل سے دیکھنے میں اگرچہ بہت اچھا ہے ،مگر بہت سستا ہے کیونکہ ایسا دل جسے ضربیں بہت لگی ہوں اللہ کے بڑے قریب ہوتا ہے اور جس دل میں اللہ ہے وہی تو اصل میں دل ہے

    میرے پیارے جامعہ "سودۃ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا” کے بانی و مہتمم ہمارے استاد حضرت اقدس مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی دامت برکاتہم العالیہ فرمایا کرتے ہیں

    "جس دل میں دل کا دل یعنی اللہ نہیں وہ دل دل نہیں فقط سل ہے”

    اس لیے یوں کہنا کہ ((ٹھوکریں اور ناکامیاں اچھی بلکہ بہت اچھی ہوا کرتی ہیں تو غلط نہیں سو فیصد صحیح ہے))
    کیونکہ یہی رب سے باتیں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ،انہیں سے بندہ رب کو پہچانتا ہے اس لیے ٹوٹا دل بڑا قیمتی ہے ہاں اگر کوئی بغیر ٹھوکریں کھائیں بھی اللہ کے قریب ہے تو یہ رب کا بندے پر سراپا انعام ہے پھر بندے کو اس نعمت کے زائل ہو جانے سے ڈرنا چائیے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چائیے اور دعا بھی کرنی چائیے کہیں اس ٹھیک راستے سے پھسل نا جائے

    میرے ابو جان محترم جناب پروفیسر قاضی سخاؤالدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ایک موقع پر مجھے ایک عربی کہاوت یاد کروائی تھی
    "ما کل ما یتمنی المرء یدرکہ
    لان الریاح تجری بما لا تشتھی السفن”
    ہر وہ چیز جس کی بندہ تمنا کرے اسکو پا نہیں سکتا اس لیے کہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں
    میں نے مانا ہوائیں کشتیوں
    کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں لیکن ان ہواؤں کو جو کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں انہیں دل کی داستان سنائے کون اور کیسے ،درد کی شدت بتائے کون اور کیسے خیر اسی کشمکش میں کوئی رب کو پہچان گیا گویا وہ منزل کو پا گیا

    سوچنےکی بات ہے؟ یہ تمنا کیا چیز ہے جس کے لیے بندہ کیا کچھ نہیں کرتا ؟یہی وہ چیز ہے جس کے لیے بندہ اللہ سے مانگتا ہے،کوشش کرتا ہے،اور کچھ نیک لوگوں سے بھی یہ کہتا ہے
    "میرے لیے دعا کرنا”

    دیکھیں بات یہ ہے کہ دعائیں بندے کو ضرورت ہوتی ہیں ۔۔۔۔
    ایسا ہے ناں؟
    ضرورت ہوتی ہیں ناں؟
    مجھے تو ہوتی ہے اور دعائیں کرانے کے لیے سب سے بہترین اور قبولیت کی گارنٹی والا زریعہ والدین ہیں مگر والدین ایسی چیز ہیں جنہیں ہم کچھ پریشانی والی بات بتائیں تو وہ دکھی ہوتے ہیں ،پریشان ہوتے ہیں،اگر صرف دعا ہی کا کہہ دیں پھر بھی وہ سوچتے ہیں بچے کو کیا ہوا پھر دعا تو کروانی ہے ۔۔۔۔۔
    اب والدین کے بعد جو دوسری سہولت اگر موجود ہے تو وہ بہن بھائی ہیں جنہیں درد تو ضرور ہو گا مگر والدین والی فکر اور درد نہیں اور بعض تو وہ ہیں جن کے بہن بھائی بھی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔رکیں ۔۔۔۔۔ہر نعمت کا نعم البدل ہوتا ہے اگر بہن بھائی نہیں تو رکیں۔۔۔۔انتظار کریں۔۔۔۔آپ کے ساتھ احساس و محبت کرنے والے اور بہت ہیں۔۔۔

    اس لیے اگر اللہ نے آپ کو ایسے مخلص رشتے جن کو آپ دعاؤں کا کہتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کی قدر کریں ، اور وہ رشتے بعد از والدین آپ کے شیخ ہیں جو آپ کو ان سیڑھیوں کو عبور کرنا سکھاتے ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی نہیں بلکہ ان کی عقل و شعور کے مطابق وہ سیڑ ھیاں ِسِرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ پھر استاد جیسا عظیم رشتہ ہے جس نے آپ کو انسان بنایا جس نے آپ کو یہ سکھایاکہ دعائیں کروائی جاتی ہیں دعائیں اپنے بڑوں کا دل خوش کر کے لی جاتی ہیں

    اور اس کے بعد شاید آپ کے ساتھی ایسے ہوں جو آپ کے لیے اچھا سوچتے ہیں جو آپ کے لیے اچھا مانگتے ہیں ۔
    ویسے بات یہ ہے ہم جیسے جیسے اللہ کی مانتے جاتے ہیں اتنا ہی ہمیں سکون آتا جاتا ہے اتنا ہی ہمارا دل مطمئن ہوتا جاتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی،کوئی مشکل باقی نہیں رہتی بلکہ وہ مشکلیں اور پریشانیاں ساتھ ہوتے ہیں مگر پھر بھی آپ مطمئن ہوتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہونے کا احساس آپکے دل کو سکون میں رکھتا ہے ,ماحول کی آزمائشیں ،مشکلیں بھی آپکے دل کا سکون نہیں چھین سکتی اگر ایک وقت میں آپ ہمت ہارتے ہیں مگر دوسرے وقت میں آپ کو ایسے لگتا ہے کہ دنیا میں آپ جیسا بہادر انسان نہیں۔ یہ احساس اور خیال نصیب ہو جانا بڑی نعمت ہے اس نعمت کو تلاش کریں اس نعمت کے ملنے کی دعا کریں اور کوشش کریں اللہ عزوجل آپ سے راضی رہیں،اللہ جس بھی حال میں رکھے آپ مطمئن ہوں اور یہ بھی یقین ہو کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے

    اللہ کی ذات بڑی مہربان ذات ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کی ہر بات مانیں تو آپ کو بھی اللہ کی ہر بات ماننی پڑے گی ۔اگر ماننے کے باوجود بھی کھبی آپ کسی بات سے دکھی ہوتے ہیں ،آپ کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو تسلی رکھیں آپ کا شمار اللہ کے ان بندوں میں ہے جن کامانگنا ربِ کعبہ کو پسند ہے ،آپ کا شمار ان برگزیدہ بندوں میں ہے کہ جن کے بارے میں وہ چاہتا ہے یہ ہاتھ مجھ سے بار بار مانگیں عنقریب آپ کو آپ کی دعاؤں کی قبولیت (اجراًعظیما ) کی صورت میں آخرت میں مل جائے گی( انشاءاللہ )وہ اس لیے کہ اللہ دعاؤن کو رد تو نہیں فرماتے وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے
    اور پھر اسی مانگنے کے بعد جب آپ کسی چھوٹی یا بڑی بات سے چکنا چور ہوتے ہیں کیونکہ آپ نے معاملے کا حق بھی ادا کیا ہوتا ہے ،آپ نے دعائیں بھی کی ہوتی ہیں ،آپ نے سب کا دل بھی خوش کیا ہوتا ہے تو آپ کے اس ٹوٹے دل میں آپ سے بہت پیار کرنے والی ذات اچھلتی گیند کی طرح ذور ذور سے اپنی طرف آنے کے لیے بلا رہی ہوتی ہے اور اسی بلانے پر انسان اللہ کے پاس چلا بھی آتا ہے گویا دل اس کی طرف جانے کے لیے اچھلتا گیند بنا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے

    "احساس کر اللہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے”

    اسی ساری داستان اور سفر کے متعلق ایک دفعہ ابو جان نے حضرت علی رضی اللہ کا ایک قول بیان کیا :
    "عرفت ربی بفسخ العزائم”
    "میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ”

    خیر حقیقت میں کامیابی آخرت کی کامیابی ہے بس۔۔۔۔۔اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائےیقین جانئیے اگر اللہ راضی ہو تو پرواہ نہیں ہے۔بس وہ آخرت کے امتحان میں کامیاب کر دے ہم تو سراپا محتاج ہے وہ عطا کرنے کا خزانہ ، وہ جسے چاہے عزت دے، وہ گدا کو بادشاہ بنا دینے پر قادر ،بادشاہ کو گدا بنانے پر قادر اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔
    خیر ۔۔۔۔۔

    بات ہو رہی تھی اللہ تک کے سفر کی تو اللہ سے دعا ہے
    "اللھم کن لی وجعلنی لک ”
    اے اللہ آپ میرے ہو جائیں مجھے اپنا بنا لیں آمین

    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ: شہزاد قریشی)
    بقول شاعر
    اب گوشت کو ناخن سے جلا دیکھ رہا ہوں۔
    ہر سمت نفرت کی ہوا دیکھ رہا ہوں ۔
    سناٹا ہے احساس کی وادی کا قیامت۔
    سناٹے میں ایک حشر بپا دیکھ رہا ہوں۔
    دل چیر گئیں ڈوبنے والوں کی صدائیں۔
    مجبور ہوں ساحل پر کھڑا دیکھ رہا ہوں۔
    میں اس وقت جب پاکستان کا مستقبل اور ملک کا اثاثہ دیار غیر کے سمندروں میں ڈوب رہا تھا غربت بے روزگاری سے تنگ ملک سے باہر جاکر روز گار کی تلاش میں ادھر عین اس وقت سینٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافے کا بل پاس ہو رہا تھا۔ اس پر جتنی سینہ کوبی کی جائے وہ کم ہے۔ پی ڈی ایم سمیت اس بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کے ممبران بھی شامل تھے۔ اس پرائیویٹ بل کی حمایت ہمارے ملک کی ممتاز مذہبی جماعت جے یو آئی(ف) گروپ بھی شامل ہے ۔ افسوس صد افسوس ملک میں پہلے ہی قانون کی حکمرانی تک نہیں آئین کی حکمرانی نہیں ۔ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے روز گاری‘ جرائم میں اضافہ دن دھاڑے چوریاں ڈکیتیاں‘ قتل و غارت‘ مہنگائی۔ سیاستدان کی اکثریت ہلاکو خان اور چنگیز خان کے نقش قدم پر چل پڑی سیاست میں تشدد ہلاکو خان کا مذہب ہے۔

    ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں‘ پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمات کا اندراج کیا یہ جمہوریت ہے؟ جو ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ کونسی ایسی جماعت ہے جس نے پاک فوج اور جملہ اداروں پر حملہ نہیں کیا۔ عدلیہ پر حملے‘ کیا یہ جمہوریت ہے؟ ان سیاسی جماعتوں نے ملک کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے ۔ 24 کروڑ عوام کے بنیادی مسائل سے بے خبر سیاستدان اب وزارت عظمیٰ کی جنگ میں مصروف ہیں کون بنے گا آئندہ وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔ عوام کی اکثریت اس وقت تک مسائل کے دلدل میں پھنسے رہیں گے جب تک ووٹ دیتے وقت ملک کو نہیں دیکھیں گے۔ ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے سے اگر فرصت ملے ملک وقوم کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ یقین مانئیے جن حالات سے پاکستان اور قوم گزر رہی ہے جمہوریت کا جعلی لبادہ جو اوڑھ رکھا ہے اب وہ لبادھ بھی سرکتا ہوا نظر آرہا ہے۔

  • نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا ،تحریر: سعد جامی

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا ،تحریر: سعد جامی

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا، اس مصرع کو اگر دوبارہ ترتیب دیا جائے تو آج کا شاعر، بلکہ میں خود اس کو یوں ترتیب دیتا
    نہ گنواؤ اپنی محبت، دل خستہ حال بس بیچ دیا،
    آج کل ہر جوان لڑکا لڑکی جو میری جیسی جسامت اور قد رکھتے ہیں وہ اس مرض کا شکار ہیں اور وجہ ہزاروں ہوں، اک وجہ ہم خود لکھاری ہیں جو ان کو اپنی ٹوٹی پھوٹی کہانیاں سناتے ہیں.
    خیر یہ مسئلہ ایسا ہے جس میں ہر بندہ اپنا خود کا فلسفہ رکھتا ہے –

    ملک کے حالات بڑے خراب ہیں، یہ بات مجھے کسی ٹی وی، اخبار یا سیاسی بندے سے نہیں ملی بلکہ محلے کی اک چھوٹی بچی جو مجھ سے کھانے کے پیسے مانگتی تھی اس سے پتا چلی کیونکہ اس نے اب مانگنا چھوڑ دیا اور گھر سے نکلنا بند کر دیا. وجہ پوچھی تو بتایا ملک میں چوروں کا ٹولہ آیا ہوا جو ہر گھر تک رسائی رکھتا ہے –
    میں خود لکھنا چھوڑا ہوا کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور میں جب لکھتا ہوں منحوس ہی لکھتا ہوں. دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم ابھی stellar Nursery پر ہیں
    جہاں ابھی ہماری ترقی کا سیارہ بن رہا ہے، چلو اچھے کی امید تو ہے!
    اک شہری ہونے کے ناطے ہمیں ایسا کیا کرنا جس سے ملک ترقی کرے؟ مجھ سے کسی نے سوال کیا جواباً میرے منہ سے نکل گیا "خودکشی
    جس پر وہ غصے میں آگے اور پھر مجھ سے کوئی سوال نہ کیا گیا –

    باقاعدہ اردو ادب سے محبت رکھنے کی وجہ سے مجھے بہت مواقع دیے گے – چار سالوں میں تیسری بار سٹیج پر آنے کا موقع ملا اور یوں عمر کے حساب سے چھ سات اور مواقع مل سکتے..
    پاکستان میں Adveritisment کا بول بالا بھی عام لوگ تک پہنچ چکا – اب اس بات کا اندازہ تب ہوا جب میں اک دور کھڑے رکشہ دیکھا، ڈرائیور بار بار کہہ رہ کے اک سواری اک سواری میں ڈورتا چلا گیا جب وہاں بیٹھا تو ساتھ والا اٹھ کھڑا ہوا اور ڈرائیور دوبارہ صدا دینے لگا اک سواری اک سواری –
    وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں فیض احمد فیض کے غزل کے دو اشعار پیش کروں گا

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

    مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو

    جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا

  • پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لئے ایک انتہائی سربراہی اجلاس 22 اور23 جون کو پیرس میں ہوگا۔اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت سمیت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلیمان بھی شرکت کریں گے ۔ یہ اجلاس غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور ممالک کی مدد کے لئے جدید طریقوں اور آلات کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم ہے ۔ اُمید ہے اس اہم اجلاس میں معاشی سطح پر کمزور ممالک کے لئے فیصلے کیے جائیں گے۔ بلاشبہ چین پاکستان کا دیرینہ د وست ہے چین نے ملکی معیشت کے پیش نظر مدد بھی کی تاہم آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو بھی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب ہمارے سیاستدانوں کے کیا کہنے بلاول بھٹو کی بجٹ پر تنقید اور بجٹ منظوری روکنے کے بیان نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ کیا پیپلزپارٹی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی ہے؟ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں پہلے ہی شامل نہیں ۔ عمران خان ۔ بلاول بھٹو ۔ شہباز شریف اور دیگر حکومت میں شامل جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملک کا مستقبل ہے ۔ عمران خان سمیت ہر جماعت نے ان نوجوانوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا آج یہ پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں دیار غیر کے سمندروں میں تیر رہی ہیں۔ بے روزگاری سے تنگ یہ نوجوان بیرون ملک اپنے بہتر مستقبل کے لئے انسانی اسمگلروں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ قومی اسمبلی نے نوٹس لیا اگر یہی قومی اسمبلی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا نوٹس لیتی تو آج آزادکشمیر ، گجرات اور دیگر شہریوں کے گھروں میں صف ماتم نہ ہوتا۔ افسوس ہم اپنی نوجوان نسل کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے۔ اقتدار کی جنگ میں مشغول سیاستدانوں کو اس سانحہ کا جواب دینا ہوگا۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ی سے تنگ آکر دل برداشتہ ہو کر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا کوئی حق نہیں کہ انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے ؟ یہ نوجوان اس وطن عزیز کا مستقبل بھی ہیں اور اثاثہ بھی۔

  • غیر ملکی سرمایہ کاری کیلیے امن ضروری، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    غیر ملکی سرمایہ کاری کیلیے امن ضروری، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    آئی ایم ایف قرض دے گا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ بلاشبہ وطن عزیز کو معاشی بحران کا سامنا ہے اس معاشی بحران میں بہت سے عوامل شامل ہیں۔ سیاسی بُحران ، سیاسی انتشار نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے گئے ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے۔

    انتہائی مشکل حالات مین اسے ایک اچھا بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاستی اداروں کو یہ بات ذہین نشین کرلینی چاہیئے جب تک ملک میں عدم استحکام رہے گا ملک میں سرمایہ لگانے والے ہچکچاتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے ملک میں امن ہو ۔ ریاستی ادارے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس ملک اوراس کی عوام کی خاطر ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں۔کون سی سیاسی جماعت آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوگی۔

    کس جماعت کا وزیراعظم ہوگا۔ یہ بعد کے مسئلے ہین سب سے اہم عوام ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں امن و امان سب سے اہم ہوتا ہے ۔ سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ملک کا مستقبل معاشیات سے ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی معیشت کو پس پشت ڈال کر افوا سازی پر زور دیا پانامے سے لے کر اقامے تک پروپیگنڈہ کیا وقت ضائع کیا ۔ اور آج انجام عوام کے سامنے ہے ۔

    پاکستان آئی ایم ایف پروگرام بارے پرعزم
    سوشل میڈیا پر گردش کرتی 10 ہزار روپے نوٹ کی جعلی تصویر
    میرے ساتھ کچھ نہیں ہوا،موٹروے انسپکٹر پر زیادتی کا الزام لگانیوالی خاتون کا بیان
    سری لنکن کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے پرستار نکلے
    خیبر پختونخوا کے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
    نو اور دس مئی کو ایف سی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث ملز مان کی 14 روزہ جودیشل ریمانڈ منظور
    موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ بعض بین الاقوامی ادارے معاشی امداد کو انتخابات سے مشروط کر رہے ہیں۔ چین کیا کرنے جا رہاہے امریکہ کیا کر رہا ہے ہمیں اپنے وطن عزیز کی معاشی صورت حال کو مستحکم کرنا ہے وطن عزیز کی خاطر ان راستوں کا انتخاب کرنا ہے جو پاکستان کو ترقی کی طرفے لے جائیں عوام خوشحال ہو نوجوان جدید سائنس اورٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں۔