Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر :تحریر : الیاس حامد
    کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے وقت رخصت پر انسان تو انسان شجر و حجر بھی اشکبار ہوتے ہوں گے۔ انسان کا کسی کے ساتھ جتنا گہرا اور مبنی بر اخلاص تعلق ہو اس کے ہجر و فراق اور وصل و الصاق پر غم اور خوشی کا اثر بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ شاذ ونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ خونی رشتہ بھی نہیں ہے اور داغ مفارقت پر اس قدر رنجیدہ اور غمناک ہوا جائے۔
    لاریب، یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ کی رحلت دور حاضر کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے ۔ ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں اور الفت و عقیدت کا دم بھرنے والوں پر قیامت صغریٰ بن کر گزری، مجھ پربھی ان کی وفات کی خبر نے یہی اثر چھوڑا۔ جونہی نماز عصر کے بعد ان کی رحلت کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے سب کچھ ہی اجڑگیا ہو۔ اس درد و الم سے لبریز خبر نے گویا چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری کر دیا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مشفق و مربی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیاہے ۔اب کیا ہوگا۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی، اس سانحے پر کیسے سروائیو کریں گے۔ اب ہمیں ہماری لغزشوں اور سستیوں پر کون متنبہ کرے گا اور اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ بس انہی خیالات میں گم کئی لمحات گزر گئے اورپاس ہونے والے حالات و واقعات کی سدھ بدھ ہی نہ رہی۔

    حافظ صاحب کا تعلق اور رشتہ بلا شبہ ہزاروں افراد سے تھا جن میں ان کے طلبا،اساتذہ کرام، جماعتی احباب، معاصرین بزرگ،رشتہ دارو دیگر افراد شامل ہیں اور ہر کسی کو ان سے جتنی بھی نسبت تھی وہ اس پر نازاں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان سے کم سےکم قربت بھی بہت بڑے اعزاز والی بات ہے۔ اسی طرح ان کی رحلت کے بعد ہر کوئی چاہے گا کہ اس کے ساتھ جو ان کا حسن سلوک اور ہمدردی تھی اس کا اظہار کیا جائے ۔ ان کا ذکر خیر کرنا اب ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    یوں تو استاد محترم حضرت حافظ صاحب سب کے ساتھ ہی محبت واپنائیت اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے مگر جب ان کو ان کے پرانے شاگرد خصوصا جنہوں نے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کے ابتدائی بیجز میں فراغت حاصل کی ملتے تو حافظ صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ۔ اپنی مصروفیت ترک کرکے وقت نکالتے ، محبت اور اپنائیت کے ساتھ پاس بٹھاتےاور اپنے ہاتھ سے ضیافت اور مہمان نوازی کرتے اس پر اگر شاگرد از راہ ادب و احترام حائل ہوتے کہ استاد محترم آپ تکلیف نہ کریں ہم خود اشیائے اکل و شرب لے لیتے ہیں تو ایسا جواب دیتے کہ جس کے بعد مزید اسرار کی سکت نہ رہتی ۔

    حافظ صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات پیارے بھائی اور کلاس فیلو حافظ محمد ابراھیم صاحب کے ہمراہ ہوئی۔ حافظ صاحب تب بخاری کی شرح لکھنے میں اپنے ریسرچ روم میں ہوا کرتے تھے اور ملاقات وغیر بھی وہاں ہی ہوتی تھی، جب باہر والے گیٹ سے اندر پیغام پہچایا گیا کہ آپ کے طالب علم اور روحانی بیٹے آپ سے شرف ملاقات چاہتے ہیں تو نہ صرف اجازت دی بلکہ ہمیں لینے کے لیے باہر والے گیٹ پرخود آگئے دور ہی سے بلند آواز سے پکارنے لگے:”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔ واہ واہ مولانا صاحبان اھلا و سھلا اور ساتھ ہی گلے لگا لیا پر تپاک انداز سے معانقہ کیا۔ ہم نے عرض کی استاد جی آپ نے تکلیف کیوں کی ہم خود حاضر ہو رہے تھے تو کہنے لگے بیٹا ایسی بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب میں آپ جیسے اپنے شاگردوں کو دیکھتا ہوں تو میرا خون بڑھ جاتا ہے دین کے طلاب اور علما کے لیے یہ تکریم تو باعث اجر ہے۔

    کمرے میں بیٹھنے کے بعد کمرے میں موجود فریج سے ضیافت کے لیے اشیا دیکھنے لگے تو ہم نے کہا استاد جی آپ تشریف رکھیں ہم خود لے لیتے ہیں۔ آپ بتادیں تو فرمانے لگے ” میری چیزیں کہاں پڑی ہیں آپ زیادہ جانتے ہیں یا میں خود ؟” اس جواب پر ہمیں مبہوت و مسکوت ہونا پڑا۔ پھر فریج میں سے فروٹ نکال کر اپنے ہاتھوں سے پیش کرنے لگے یہ سب مناظر ہمارے لیے ایسے تھے کہ جیسے ہم بے ادبی اور عدم تکریم کے مرتکب ہو رہے ہوں لیکن استاد محترم کا سختی سے حکم تھا کہ مولوی صاحب تشریف رکھیں اٹھنا نہیں ہے۔ ان کی یہ ضیافت کی ادا ہمارے لیے اب حکم استاذ تھی جسے اب حکم عدولی کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔اس کے بعد استاد محترم ہم دونوں سے فردا فردا گھر کے افراد کی خیریت پوچھتے رہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو دیر بعد ملا ہو تو ان سے سب بچوں بارے دریافت کرے ہم حیران تھے کہ فراغت کو دو دھائیاں بیت چکی ہیں۔ استاد محترم ہمارے نجی رشتوں کو اب بھی جانتے ہیں اورخیریت دریافت کر رہے ہیں۔ پھر مصروفیت کا پوچھنے لگے کہ کیا کر رہے ہیں اور ان سب میں سے ان کا اہم سوال تھا کہ جمعہ پڑھا رہے ، درس و تدریس کا کام کر رہے ، دین کے لیے کیا کر رہے ؟ ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ یعنی ہمارے جانے کے بعد بھی ان کو ہمارے دین اور آخرت کی اتنی فکر تھی ۔۔ فجزاہ اللہ لذالک

    حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی جہاں بہت سی خوبیاں تھی وہاں یہ بھی ایک خوبی تھی کہ وہ خود سے چھوٹے افراد اور اپنے شاگردوں کو بھی ‘آپ، تسیں’ صیغیہ جمع برائے ادب سے مخاطب کرتے تھے ، یا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔
    حافظ صاحب مجھے فرمانے لگے الیاس بیٹاآپ کا وہ واقعہ میں اپنے درس اور تقاریر میں اکثر و بیشتر بیان کرتا ہوں جب آپ کالج چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر مدرسے آئے تھے اور آپ کے والد صاحب جو کہ پولیس میں تھے واپس لینے مدرسے پہنچ گئے تھے ۔پھر آپ ساتھ نہیں گئے بلکہ چھپ گئے ۔ دینی تعلیم مکمل کر کے ہی گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے والد صاحب کو بھی اللہ نے سمجھ دے دی۔ وہ کیسے سمجھے اس کے درمیان ایک واقعہ ہے جو مجھے ابھی اچھی طرح مستحضر نہیں ہے اپنا قصہ دوبارہ سنائیں تاکہ میں بہتر انداز سے اس کو بطورتحریض اور موٹیویشن بیان کروں کہ سکول و کالج کے بچوں کے لیے ایک ترغیب ہو۔

    میں نے اختصار سے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنا جامعہ میں آنے تعلیم حاصل کرنے کا واقعہ سنایا، اس میں ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا کہ میری تعلیم کے دوران والدہ صاحب رحمہ اللہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا جس کے بعد اللہ نے انکی خدمت کرنے کا موقع دیا جس میں راتوں کو بھی جاگنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور دین کی محبت دل میں ڈال دی۔
    مجھ سے میری بات سننے کے بعد حافظ صاحب فرمانے لگے میں تو اب سامعین کو کہتا ہوتا ہوں دیکھو اب وہ طالب علم اپنی تحریر و تقریر سے دین کا کام کرتا ہے لاکھوں لوگ اس کی تحریر پڑھتے ہیں، حافظ صاحب کا اشارہ جماعت کے میگزین اور جریدے کی طرف تھا کہ جس کی ادارت ایک عرصہ تک میرے ذمہ رہی۔ میرے جیسے ناچیز کے لیے اس سے بڑھ کر متاع حیات کیا ہوسکتی تھی کہ استاد محترم اپنی تقریر میں مجھے مثال کے طور پر بیان کریں، اس موقع پر دینی و ملکی مسائل بھی زیر بحث رہے جس پر استاد محترم نے ہماری ذہنی سازی کی اور دل میں موجود موہومات کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا ، پھر ہم نے جب ان سے رخصت کی اجازت چاہی تو محترم حافظ صاحب علیہ الرحمہ ہمارے روکنے کے باوجود پھر سے ہمیں الوداع کرنے باہر والے گیٹ تک چل کر آئے اور جاتے ہوئے گلے لگا کر ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔
    آہ ۔۔۔ آج وہ استاذ ، وہ مربی ، وہ خیرخواہ ، وہ ہمدرد ، وہ روحانی باپ ہم میں نہیں ہے۔ ان میں علمی ، تدریسی ، تالیفی ، دعوتی، ابلاغی خوبیاں تو بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ وہ کس قدر علم کے سمندر اور حکمت و ادب کے پہاڑ تھے ، وہ اس دور کے ابن حجر تھے ایسی اور دیگر کئی خوبیاں جن کا شائد ہمیں ادراک ہی نہ ہوان سب کا حظ وافر اللہ نے انہیں ودیعت کیا تھا۔ لیکن ایک پہلو جسے میں نے محسوس کیا اور مشاہدے کی بنا پر بیان کیا ایسی خوبیاں سینکڑوں افراد نے حافظ صاحب کی ذات میں نوٹ کی ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی بشری لغزشوں سے اعراض فرما کر ان کی اسلام کے لیے کاوشوں کو قبول فرما کر اعلیٰ جنتوں میں جگہ دے ہمیں اپنے استاد محترم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ان کی دینی وراثت جو ہم تک پہنچی ہے اس کو آگے لے کر چلیں اللہ ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں

    وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں

    ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں

  • سیاسی عدم استحکام  کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔

  • گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    حکیم لقمان سے ان کے آقا نے کہا ایک بکری ذبح کرکے اس کے بہترین حصے کا گوشت لے آئو‘ وہ ذبح کرکے ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے آئے۔ پھر کہا ایک اور بکری ذبح کرکے اس کا بدترین گوشت لے آئو وہ دوبارہ ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے کر آگئے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ حصے جتنے اچھے ہیں ہماری لاپروائی سے اتنے ہی بُرے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ’’زبان‘‘ جسم کا نازک ترین عضو ہے لیکن گوشت کے اس چھوٹے سے لوتھڑے نے دنیا میں جو قیامتیں ڈھائیں ہیں اور انقلاباتِ زمانہ کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ بہت طویل اور حیران کن ہے۔
    زبان قوت گویائی کا وسیلہ ہے اور یہی چیز اسے ایک اشرف عضو کا درجہ دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنے خیالات و احساسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں‘ ذائقوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں‘ یہی زبان ہمیں موت کا پیغام بھی دیتی ہے اور زندگی کی نوید بھی سناتی ہے ہمیں زخمی بھی کرتی ہے اور ہمارے زخموں کا مداوا بھی کرتی ہے۔ زبان سے آپ اچھی باتیں کر کے کسی کا دل جیت سکتے ہیں اور کسی کو گالم گلوچ اور دل دکھانے والی باتیں کرکے دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ یہی زبان آپ کو امید دلاتی ہے اور آپ کی امیدوں کو خاک میں بھی ملاتی ہے۔

    زبان کے کرشمے اتنے گونا گوں اور وسیع ہیں کہ انہیں زندگی کے ہر ہر مرحلے پر اور ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے گھائو جو تلوار کے زخم سے بھی زیادہ گہرے ہیں اور جن سے ہمارے معاشرے میں کروڑوں انسان مختلف مسائل کا شکار ہیں آپ بھی اگر کسی ’’زبان‘‘ کے زخم خوردہ ہیں تو کبھی کبھی رات کی تنہائیوں میں اس کا درد ضرور محسوس کرتے ہوں گے‘ ہماری زبان کے یہ وار معاشرے کے کئی دلچسپ پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زبان انسان کی بہترین دوست ہے لیکن کبھی کبھی بدترین دشمن ثابت ہوتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے ‘ پرانے وقت کے بزرگوں کا قول ہے :جب تک زبان آپ کے قابو میں ہے یوں سمجھیں کہ تلوار نیام میں ہے‘ جونہی آپ نے کوئی لفظ بولا یہ تلوار دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے‘ معذرت سے آج کل کے 90 فیصد بزرگ بھی اپنی زبان کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ چند بزرگ تو اپنے بیٹے‘ بیٹیوں کا گھر برباد کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
    حضرت امام غزالیؒ نے ’’منہاج العابدین‘‘ میں زبان کی آفات کے باب میں ایک حدیث کا خلاصہ نقل کیا ہے ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء (ایک طرح گویا ہاتھ جوڑ کر) زبان سے عرض کرتے ہیں کہ تُو ہمارے معاملے میں خیال رکھیو ہمارا صحیح استعمال تیرے صحیح استعمال پر موقوف ہو گا‘‘۔ میرا علم ناقص ہے لیکن ’’علماء کرام‘‘ بہتر جانتے ہیں۔ میرا تو مقصد صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جانے انجانے میں غلط بات بھی لکھ سکتا ہوں اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے مضامین پر عمل ضرور کیا کریں اور ’’نماز‘‘ کے پابند ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ میرے قارئین دنیا تو سنوار لیں اور آخرت میں پھنس جائیں کیونکہ نماز کی معافی نہیں ہے۔ اس لئے سب بھائی‘ بہنوں اور خاص طور پر بزرگوں سے گزارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور دل سے میرے لئے دعا کیا کریں‘قارئین سے کہنا چاہوں گا آپ اس اخبار کو باقاعدگی سے خریدا کریں اس اخبار نے مجھے لکھنے کیلئے معقول جگہ دی ہے انشاء اللہ یہ اخبار آپ کی اصلاح کا باعث بنے گا۔

    بات چل رہی تھی زبان کی تو میں یہاں زبان کی طاقت کیا ہے؟ اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ’’میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوتا ہے ‘میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے جائز ہو جاتے ہیں جیسے ہی شوہر اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق‘ طلاق‘ طلاق کہہ دیتا ہے تو یہ میاں بیوی چاہے برسوں سے ساتھ تھے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ ہم جانے انجانے میں روزانہ اپنی زبان سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ غیبت کرتے ہیں‘ دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کی نوجوان نسل شادی کے بے جا رسم و رواج کیلئے پیسہ جمع نہیں کر پاتی تو وہ پھر کیا کرتے ہیں؟ فون کا غلط استعمال کرتے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل فون پر جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان تو میاں بیوی کے درمیان کرنا بھی شاید جائز نہیں۔ بات فون سے حقیقت میں ملنے تک بھی آجاتی ہے اور یہ سب زبان کا غلط استعمال ہے جس سے جسم کے دوسرے اعضاء بھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ زبان کی طاقت صرف ’’طلاق‘‘ تک محدود نہیں باقی سب (جھوٹ ‘ غیبت‘ بات بات پر گالم گلوچ‘ فون پر غلط بات وغیرہ وغیرہ) ان سے بھی روکا گیا ہے اور جو گناہ ان چیزوں کے بارے بتائے گئے ہیں مل کر رہیں گے۔

    آج کے برق رفتار دور میں زبان کا جتنا غلط استعمال ہو رہا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا غلط استعمال ہو رہا ہو۔ گھریلو ناچاقیاں کیا ہوتی ہے؟ یہ زبان کی وجہ سے ہی پیدا ہوا کرتی ہیں‘ ساس‘ بہو‘ نند‘ بھابی‘ دیورانی‘ جیٹھانی یا گھر میں جو بھی مرد موجود ہیں آپس میں حالات کب خراب ہوتے ہیں؟ جب انسان اپنے گھر میں غلط بات کرتا ہے یہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور جن گھروں میں گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اُن گھروں میں خود کشیاں یا موت کا بازار گرم رہتا ہے ‘ ہاں جب گھریلو ناچاقیوں کے باعث بہت سے لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو ان کے پیچھے جو موجود لوگ ہوتے ہیں جن کی ’’زبان‘‘ سے نکلی بات کی وجہ سے یہ خودکشی ہوتی ہے وہ ضرور پچھتاتا ہے اور کہتا ہے ’’کاش میں نے اپنی زبان‘‘ کو کنٹرول میں رکھا ہوتا تو آج یہ زندہ ہوتا۔تو بھئی! کاش کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکوں اپنی زندگیوں کو بدلوں اپنی ’’زبان‘‘ پر کنٹرول رکھو یہ زبان ہی آپ کے گھروں کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

    طلاقوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ زبان کے غلط استعمال کی وجہ ہے۔ ساس کو بہو نہیں بھاتی بہو کو ساس نہیں بھاتی‘ دیورانی کو جیٹھانی نہیں بھاتی ’مرد‘‘ بیچارا سارا دن لوگوں کی باتیں سن سن کر برداشت کرکے روزی روٹی کما کر گھر آئے تو آگے گھر کی خواتین اُس مرد کو ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتی ہیں‘ ماں بیٹے کو کہتی ہے ’’تیری بیوی تو سارا دن سوتی ہے کوئی کام نہیں کرتی‘ اسے تو تیری بوڑھی ماں کی بھی فکر نہیں‘‘ بیوی شوہر کو الگ سے پورے گھر والوں کی شکایتیں لگاتی ہیں تو ایک مرد کہاں جائے؟ مرد کی کون سنتا ہے؟ عورت کو تو اقوام متحدہ تک سپورٹ حاصل ہے۔ مرد کی جب کوئی سننے والا ہے ہی نہیں نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہے جو اس بے چارے کی سنے آخر کار پھر مرد کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ان سب فسادات کی جڑ ’’زبان‘‘ ہے اپنے گھروں ‘بازاروں‘ دفاتر میں زبان پر قابو رکھیں کسی کا دل مت دکھائیں۔

  • پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اہل نظر کا چشمہ ملکی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل کہاں تک دیکھ رہا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ملک اور24کروڑ عوام اور جمہوریت کا مستقبل روشن نظر نہیں آرہا۔ قومی مفاد کیا ہے قوم کے مسائل کیا ہیں ریاست کو درپیش مسائل سے آنکھیں چرا کر اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ایک بات طے ہے کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت اور آئین پر عمل نہیں کررہی اور نہ ہی جمہور کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ملکی سیاست گالی گلوچ تک محدود ہوگئی ہے جس طرح جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر جمہوریت اور آئین کا جنازہ نکالا جارہا ہے جمہوریت بھی ان سے پناہ مانگتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس وطن عزیز کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے جمہوریت کی آڑ میں ملک میں انتشار پھیلانا اسلحہ اور ڈنڈا بردار سمیت سڑکوں پر بیٹھ جانا عدلیہ اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر لب کشائی کرنا الزامات لگانا یہ انداز جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کی آخری حد ہے۔

    عوام کی اکثریت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا جارہا ہے کیا ماضی اور کیا حال ان سیاسی جماعتوں نے ملکی سلامتی اور عدلیہ کو نشانے پر رکھا دنیا کے کسی بھی ملک کے یہ دو انتہائی اہم ادارے ہوتے ہیں جنہوں نے ہر حال میں ملکی سلامتی اور امن کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ افسوس ہمارے سیاسی قائدین نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے چین کے اپنے مفادات ہیں امریکہ کے اپنے مفادات ہیں عرب ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنے وطن عزیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ملکی مفادات آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی اور امن جبکہ اعلیٰ عدلیہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھیں اور عوام اپنے ان اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں ان اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

  • لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
    تحریر : وحید گل

    پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

    2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

    چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔

    ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔

    پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

    آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔

    یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

  • پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزادقریشی)
    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرناچاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ لیکن یہ کیسی پارلیمانی جمہوریت ہے ۔ یہ کیسے سیاستدان ہیں ملکی تاریخ میں کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے فوج پر تنقید نہ کی ہو ، کسی نے اینٹ سے اینٹ بجانے کسی نے حساب دینا پڑے گا صدائیں لگائیں۔ لیکن 9 مئی کے واقعات نے تو ہلا کر رکھ دیا ۔ عدلیہ ، فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کو عالمی دنیا میں متنازعہ بنا کر رکھ دیا گیا۔میرا اپنا تعلق پوٹھوہار سے ہے ہر دوسرے گھر کاایک نہ ایک سپوت پاک افواج کاحصہ ہوتا ہے ۔ ان دیہی علاقوں میں نیٹ بھی صحیح کام نہیں کرتا جہاں فوجی جوان تعینات ہیں وہاں موبائل کے سگنل بھی ایک مسئلہ ہے۔ میرے علاقے کے سینکڑوں قبرستانوں میں شہداء کے مقبرے بنے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز فوجی افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ فوجی یا تو ڈھول سپاہی ہوتا ہے یا پھر فوجی بھائی ان بے رحم سیاستدانوں کو ان فوجی بھائیوں اور فوجی افسران کا احترام کرنا چاہیئے۔

    زلزلوں ،سیلاب قحط زدہ علاقوں کی مدد کرنا ۔ گرمی میں گرم وردی میں لمبے چمڑے کے بوٹوں میں تپتی بندوقیں ہاتھ میں لئے چوکس کھڑے ہوتے ہیں حالت جنگ میں فوجی جب اگلے مورچوں پر ہوتے ہیں تو ان کے گھروں میں جو بے خواب راتیں گزرتی ہیں ان کے لئے کیا کبھی کسی اہل دل نے سوچا؟ ۔ ان کی شہید میتیں ان کے گھروں میں جب پہنچائی جاتی ہیں ۔ ان کی مائوں ،بہنوں ، بیویوں پر کیا گزرتی ہے کیا کسی نے کبھی سوچا ؟ اس قوم کا پاک فوج سے محبت کاایک کلچر بن چکا ہے اوریہ نہ ختم ہونے والا کلچر ہے یہ فوجی جوان لینڈ سلائیڈ بپھری ہوئی موجوں ، وبائی امراض، حشرات الارض ، خدمت کے لئے فوری پہنچ جاتے ہیں۔ ملکی سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ پاک فوج کی لازوال قربانیوں اورخدمات کے معترف ہیں اور انہیں اپنے اپنے اقتدار کی سیڑھی نہ بنائیں اور اپنے سیاسی جھگڑے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔

  • مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی سلامتی اور رفاعی اداروں پر حملے جلائو گھیرائو کی روش نہ تو سیاست ہے نہ ہی قوم کی خدمت ۔ اعلیٰ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی خواہش میں پارلیمنٹ ہائوس میں عدلیہ پر تابڑ توڑ حملے کو بھی درست قرار نہیں دیاجا سکتا ۔ آج پاکستان کے دشمن ملک کا ہرایک ٹی وی چینل ملک کے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہونے والے کھلواڑ کو بڑھا چڑھا کر دکھا رہا ہے جس پر ہر محب وطن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔پاکستان نے ہر سیاستدان کو عزت دی اور انہیں اعلیٰ ترین عہدوں سے نوازا افسوس صد افسوس ہر کوئی اقتدار اور اختیارات کے مزے لے کر پاک فوج اور جملہ اداروں کو بُرا بھلا کہنا اپنے سیاسی قد میں اضافے کا باعث کیوں سمجھتا ہے ؟

    ملک کے 24 کروڑ عوام نام نہاد سیاسی گماشتوں کے جھوٹے اور کھوکھلے بیانیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ماضی قریب میں ملک کی ہر ایک سیاسی جماعت نے ان اداروں کو زیر لب یا سرعام ان پر زبان درازیاں کیں اور اپنا اپنا جھوٹا بیانیہ بنایا اور ان اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ جبکہ محب وطن کے اداروں نے انہیں اقتدار سے ہٹتے ہی جس بے حسی اور بے صبری سے ان اداروں کو نشانہ بنایا وہ قابل مذمت ہے اور جس طرح ان اداروں پر مسلح حملوں کا ارتکاب کیا گیا قابل صدمذمت ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر غور کرنا چاہیئے اور ایسے عناصر کو نشان عبرت بنا کر ایک مثال قائم کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کسی بھی سیاسی شخصیت جماعت یا فرد کو ایسی مذموم حرکت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ملکی سیاستدانوں کو کھلے دل سے اپنی لغزشوں غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے ۔24 کروڑ عوام کی خدمت دفاع پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہنا چاہیئے۔ ہماری افواج داخلی ،سلامتی اور امن وامان کے لئے دن رات ایک ہوتے ہیں ۔سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال سے پی ڈی ایم حکومت ڈانوں ڈول دکھائی دیتی ہے۔ عالمی قوتیں اور ہمارا ازلی دشمن بھارت ملک کی موجودہ صورت حال پر طنز کے تیر چلا رہا ہے ہمیں جواب میں پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہیئے

  • انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    پنجاب اور کے پی کے الیکشن قبل ازوقت کروانے کے آئینی عمل نے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کا پول کھول دیا ہے۔ جہاں حکومت محض ذاتی مفادات کے خاطر الیکشن نہ کروا کر آئین اور عدلیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر عدلیہ مخالف تقریریں اور حکم عدولی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 90روز کے اندر الیکشن کروانے کی بجائے سپریم کورٹ سے درخواست کررہا ہے کہ الیکشن کے عمل میں آپ مداخلت نہ کرے الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمیں ہی کرنے دیں اور جو صورتحال نظر آرہی ہے اگر اسی طرح سسٹم رہا پھر تو حکومت اگر چاہے تو قیامت تک الیکشن نہ کروائے اور یہی کہتی رہی کہ فنڈز نہیں دینے، سیکورٹی نہیں دینی۔سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں تو اپنی جگہ پر مگر اب اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکرنے سے نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا ہورہا ہے جن کی مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہا ہے جن کے لیے زندگی محال ہورہی ہے، جن کے دکھ درد میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے اضافہ کیا جارہا۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہورہی ہے۔ چوری، ڈکیتی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مگر ریاست کے بااختیار، طاقتور اور اربوں کھربوں پتی سیاستدانوں کو ان مسائل سے کیا انہوں نے تو ہر دور میں ہر طرح سے عوام کا خون چوسنا ہے اور چوس رہے ہیں، ان کے کاروبار، جائیدادیں، بال بچے سب کچھ تو بیرون ملک ہے یہاں تو وہ صرف حق حکمرانی کے لیے آتے ہیں۔یہاں کتنے ججز اور بیوروکریٹس ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی آخری سانسیں پاکستان میں لیتے ہوں؟

    انتخابات کے معاملے پر نہ صرف سیاستدانوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ زیرک سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، دانشور تو کئی دہائیوں سے اس سسٹم کو ناکارہ قرار دیتے آئے ہیں اور اسے طاقتوروں، لٹیروں اور مافیاز کا سہولت کار سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طاقتوروں کے لیے الگ قانون اور غریب لوگوں کے لیے الگ قانون نظر آتا ہے، امیر لوگ پیسے کے ذریعے اس سسٹم سے ہر جرائم کے بعد ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال اور غریب بے چارہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس دولت نہیں کہ وہ سسٹم کے تحت اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرسکے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت شروع سے ہی برائے نام ہی رہی ہے، جو کوئی جمہوری ادوار گزرے ہیں انہیں بھی کٹھ پتلی حکمران ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جس وزیر اعظم نے بھی آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، عوامی ریلیف کے لیے کوئی کام کرنے کی کوشش کی تو اس کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہی حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ حق بات کہنے والے پارٹی لیڈر کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے، پارٹیوں سے نکالنے کے لیے کوئی قاعدہ قانون، شوکاز نوٹس یا پھر کسی قسم کی کارروائی کے بغیر ہی میڈیا پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر فارغ کردیا گیا ہے، حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارٹی پالیسیاں بھی پارٹی بناتی ہیں مگر یہاں لیڈر جو سوچ لیتا ہے وہی پارٹی پالیسی بن جاتی ہے۔

    معاشرے انصاف کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں، جہاں عدل کا توازن بگڑ جائے وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کا وہ حال کردیا ہے کہ جہاں سچ بولنا جرم بن جاتا ہے، لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے، اگر حکومت ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو پھر باقی اداروں اور عام لوگوں میں عدلیہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ اور جب عدالتیں لوگوں کو انصاف ہی فراہم نہ کرسکیں تو پھر یہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی بستی بن جائے گی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون بن جائے گا۔ مہذب معاشروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا ریاست کے ذمہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ریاست لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دے رہی ہے تو پھر لوگ کیا کریں، ریاست کے ذمہ داران کو ابھی بھی سرجوڑ کربیٹھ جانے کی ضرورت ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کروائیں، فوری انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کر کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی، سلامنی، امن و امان اور خوشحالی کے لیے کام کریں صرف اسی صورت پاکستان دنیا میں ترقی کرسکتا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لوگوں کا معیارزندگی پست ہوگیا۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے کوئی سمجھ نہیں کہ اگلے لمحہ کیا فیصلہ ہونے والا ہے، کیا رد عمل آئے گا۔ ایک ایٹمی ملک کا اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوجانا بھی لمحہ فکریہ ہے، ریاست کے ذمہ داران نے کبھی اس معاملے پر غور کیا کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارا آج کا طرز حکمرانی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے؟ کیا ہم ملک میں افراتفری یا پھر انارکی چاہتے ہیں؟ پاکستان میں جس طرح سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے اس سے خدانخواستہ تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو پھر اس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔