(تجزیہ شہزاد قریشی)
سینیٹر اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہ صرف بچایا بلکہ مایوسی کا شکار ہونے والی بزنس کمیونٹی کو معاشی اعتماددیا اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کو اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب بھی کیا ۔ جس کی ملک وقوم کو شدید ضرورت تھی۔ وزارت خزانہ کے اختیارات سنبھالتے ہی ملکی معیشت کو بے یقینی کے منجدھار سے نکالنے کے لئے ایک انتھک ملاح کیط رح وطن عزیز کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا۔ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی صدائوں کے شور میں اسحاق ڈار ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔ ایک ہی جوا ب تھا اللہ کی مدد سے پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ اب اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو اُس کے پیچھے بھی ملکی معیشت کا مستقبل ہے ۔ اسحاق ڈار موجودہ اور مستقبل کے معاشی درپیش چیلنجز سے مکمل باخبر ہیں موجودہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بحث جاری ہے ۔ الیکشن کب ہوں گے اگر ہوں گے تو وزیراعظم کون ہوگا مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں تاہم ابھی تک اس موضوع پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت محمد نواز شریف کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتی ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم کرسی ایک اور اُمیدوار دو ہیں۔ا لیکشن ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لیں گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ غیر جانبدار سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ ہو گاتاہم کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی اور مذہبی جماعتیں بھی سیٹیں حاصل کریں گے۔ آمدہ قومی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی وہ پی ڈی ایم طرز کی ہی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی اور افواہ سازی سے کام نہ لیا جائے صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن اپنے مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔
Author: باغی بلاگز
-

کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی
-

مافیاز کی پشت پناہی کرنیوالا کون؟ تجزیہ، شہزاد قریشی
ملکی سیاست میں نظریات‘ ضمیر‘ اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی سیاست نظریہ ضرورت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ملکی سیاست کا دارومدار ایک دوسرے کی مخبری‘اقربا پروری‘ مفاد پرستی‘حصول اقتدار‘جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی۔ سیاستدانوں کی اکثریت عوام سے بے پرواہ ہو کر تماشوں تک محدود ہوگئی ہے۔ انتظامیہ اور بڑے بڑے بیوروکریٹس تو موجود ہیں جو نظر آتا ہے وہ محض نظر کا دھوکہ ہے۔
انتظامیہ اشرافیہ کی حفاظت اور ان کے مفادات کی نگہبان ہے۔ صوبہ سندھ سے لیکر خیبر تک ایک منڈی کا راج ہے جس منڈی کا نام لینڈ مافیا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضے، محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے‘ ریلوے کی زمینوں پر قبضے‘ شوگر مافیا‘ آٹامافیا‘ ادویات مافیا کا اس ریاست پر قبضہ ہے۔ ان مافیاز کی پشت پناہی آخر کون کر رہا ہے؟ سماج سسک رہا ہے ‘ تکلیف ہے‘ غربت‘ بے روزگاری‘ بیماری اور افلاس کے عذابوں میں گرے عوام ناامیدی کی کھائی میں گرتے جارہے ہیں۔
پورے ملک میں معصوم بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جارہا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے کبھی اس ملاوٹ پر آواز بلند نہیں کی جو مذہبی جماعتیں آپؐ کی ایک حدیث مبارکہ پر عمل نہیں کروا سکیں ان کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو جماعتیں لکھوائیں؟ تاہم ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ وہ ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹ کر اسے متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں ایک فوج ہی تو ہے جس پر اس ملک کے عوام کا اعتماد ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہحکومت کی آئینی مدت پوری ہو رہی ہے۔ آخری ڈیڈلائن 8 اگست دی جا رہی ہے۔ نگران حکومت کا وزیر اعظم آئی ایم ایف کا ہوگا یا کوئی سینئر سیاستدان، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا ملتوی ہوں گے؟ اس کا جواب نہیں مل رہا۔ نگران حکومت جو بھی ہوایسی ہو جن پر سب کا اتفاق ہو جو ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرواسکے۔ ویسے دنیا میں جہاں پارلیمانی نظام ہے کئی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں نگران حکومت کا تصور نہیں لیکن کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں نگران حکومت بنتی ہیں تاہم ان ممالک میں الیکشن کمیشن غیر متنازعہ ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن کی نگرانی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ تاہم ملکی سیاسی گلیاروں میں کون بنے گا وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔
-

نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی
تجزیہ: شہزاد قریشی
اگلے ماہ حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے۔ انتخابات کب ہوں گے یہ ایک بڑا سوال ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے آئین میں صاف لکھا ہے کہ انتخابات کب ہونے چاہیں پھر بھی اگر یہ سوال سر اٹھا رہا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب حکومت تین ماہ اور کے پی کے کی حکومت تین ماہ تک تھی مگر آئین کی حد کو کراس کرگئیں اور نگران حکومتیں ہی بدستور کام کررہی ہیں۔ کیا مرکز میں بھی ایسا ہونے جارہا ہے۔ کیا شہباز شریف کی حکومت کو ہی آگے چلایا جائے گا؟ کیا نگران حکومت جو مرکز میں ہوگی اسے لمبا کرکے عبوری حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا؟ اور عبوری حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف ہی ہوں گے؟ اس طرح کی خبروں اور اطلاعات سے انتخابی عمل ایک معمہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خواہشات ہیں۔ سب کی خواہشیں اندازے ہیں ان خواہشوں کے آگے بند باندھنے کے لئے بھی تو کوئی کھڑا ہے۔ عوام کی اکثریت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں بازاروں میں لوٹ مار مچی ہے امن او مان کا مسئلہ ڈاکو دن دیہا ڑ لوٹ رہے ہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بے روزگاری اور مہنگا ئی ہے۔ میڈیا نگران حکومت اور آمدہ قومی انتخابات کو لے کر روزانہ نئے تبصرے کر رہا ہے۔ تاہم الیکشن کو لے کر معاملہ کافی پیچیدہ ہو رہا ہے۔سیاسی جماعتیں ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم کراچی سے پنجاب اور اسطرح ملک بھر میں جرائم میں اضافہ سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت انتظامیہ اور پولیس نام کی کوئی شے ملک میں موجود نہیں سیاستدانوں نے اپنی سیاسی دوکان قائم رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ پسند ناپسند کی بنیاد پر پولیس افسران اور انتظامی افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن لگا کر جونیئر افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جس کے نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ کراچی سے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اغواء‘ ڈکیتی‘ چوریاں ‘ منشیات ‘ قمار بازی کے اڈے دیگر بڑھتے ہوئے جرائم کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہمارے با اختیار حکمران ہیں جو اس وطن عزیز کے خود ساختہ مالک ہیں انکے فیصلوںسے عوام کی اکثریت دکھی ہے ۔
-

معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور
انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔
اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔
اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔
-

عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی
چیئرمین پی ٹی آئی کی خدمت میں بقول شاعر: اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے۔ اکیلے پھر رہے ہو یوسف کاررواں ہو کر ۔ گفتگو انسان کی پہچان کی وہ واحد سیڑھی ہے جس کے چڑھنے سے ہی انسان کی وسعت ظرف اور اخلاق کی مسافت معلوم ہو جاتی ہے۔ اخلاق و آداب کا گھونٹ پیا بھی ہے یا علم کے سمندر میں صرف غوطہ زن ہو کر عملی میدان میں نکل پڑا کامیاب شخص وہی کہلاتا ہے جو اپنی حدود میں رہتا ہے ہر وہ شخص خسارے میں رہتا ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا نعرہ قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت دوست مگر اپنے دور حکمرانی کیا انہوں نے اس ضمن میں کچھ کیا؟ جس کشتی میں سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے ملاحوں نے ساتھ کیوں چھوڑا؟ سچ تو یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی سیاست میں سسپنس ، بڑھکیں، لڑائی مارکٹائی، سازشیں، امید نا امیدی کے ساتھ غداری، یہودی ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ، سکیورٹی رسک، وغیرہ ہماری سیاست میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے مہذب معاشروں اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کسی کو بغیر ثبوت اس نوعیت کے الزامات سے نہیں نوازا جاتا ایک دوسرے کا احترام جمہوریت کی لازمی شرط ہے۔
الیکٹرانک میڈیا پر بحث جاری ہے کہ نوازشریف کب وطن واپس آئیں گے وہ آئیں گے بھی یا نہیں کیا کسی نے اس بحث میں سوال کیا ایک منتخب وزیراعظم کو تین بار اقتدار سے ہی نہیں اٹک قلعہ، اڈیالہ جیل، کورٹ لکھپت جیل، جلاوطن، ہوائی جہاز کی سیٹ کے ساتھ کیوں باندھا گیا؟ منتخب وزیراعظم کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کیوں؟ ملک کے تین بار وزیراعظم کو تاحیات نااہل کر دیا گیا کیوں؟ ہمارے سیاستدانوں، ذمہ داران ریاست سے گزارش ہے کہ عالمی دنیا معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں سعودی عرب کی پوری قوم سعودی وژن 2030 پروگرام کے تحت معاشی اور سماجی اصلاحات پر مل کر کام کر رہی ہے حالیہ جاپانی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ جبکہ یوری یونین اور جاپان ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر رہے ہیں واحد ایجنڈا معیشت ہے۔ بھارت افانستان کے راستے ہماری ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہماری فوج سینہ سپر ہے تاہم ملکی سیاستدانوں کو ملکی ترقی عوام کی خوشحالی مستحکم معیشت کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
-

وزن کم کرنے کے لئے دوائیوں کا استعمال
موٹاپا ایک بیماری، اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے
موٹاپے کے خاتمے کے لئے خوراک ،ورزش کے ساتھ دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں
سوشل میڈیا پر، بلکہ دیواروں پر بھی اشتہار لگتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں
جب تک خوراک ، ورزش کا خیال نہیں رکھیں گے وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں
پاکستان کو چھوڑیئے امریکہ میں بھی وزن کم کرنے کی جعلی دوائیاں بیچنے کا فراڈ ہو چکا
کراچی میں بھی ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا
وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اورہدایت پر عمل کیجئےموٹاپا ایک بیماری اور اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے، کوئی کامیاب ہو پاتا ہے اور کوئی سعی کرتا رہتا ہے، موٹاپے کے خاتمے کے لئے جہاں خوراک ،ورزش کی جاتی ہے وہیں دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں اور وزن کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،وزن کم کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر، بلکہ شہر میں نکلیں تو دیواروں پر بھی اشتہار لگے ہوتے ہیں،چوکوں چوراہوں پر پمفلٹ بانٹے جاتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں،کیا ان دواؤں سے وزن کم ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دوائیں جتنی مرضی کھا لیں جب تک خوراک کا خیال نہیں رکھیں گے اور ورزش نہیں کریں گے تب تک وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے
بازاروں میں جائیں،ٹی وی پر ،سوشل میڈیا پر ایڈ دیکھیں جہاں خوشنما دعوے کئے جاتے ہیں کہ اپنے کھانے پر پاؤڈر چھڑک کر وزن کم کریں، بادام کی خوشبو والی کریم اپنی رانوں پر لگائیں اور انہیں پتلا کریں، زبان کے نیچے صرف دو قطرے ڈالیں اور روز وزن کم کریں، یہ دعوے تو بہت اچھے ہیں مگر حقیقت اسکے برعکس ہوتی ہے، پاکستان کو تو چھوڑیئے امریکہ میں بھی ایسا وزن کم کرنے کا فراڈ ہو چکا ، جس کا عدالت میں بھی کیس چلا، دوا بنانے والی چار کمپنیوں کے خلاف امریکی عدالت میں کیس ہوا جن کے اسی طرح کے خوشنما دعوے تھے
وزن کم کرنے کے لئے ٹوٹکوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے،وزن کیسے کم ہو گا؟ اس حوالہ سے ٹوٹکے، دوائیاں،اگرچہ کچھ اچھی بھی ہو سکتی ہیں تا ہم ورزش اور خوراک ساتھ بہت ضروری ہیں، اگر معالج کے مشورے کے بغیر ہی وزن کم کرنے کی دوائیں خوشنما اشتہار دیکھ کر کھاتے رہیں گے تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونیوالا،کچھ دوائیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں، خوشنما دعووں کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھیں، جنہوں نے اپنی مصنوعات فروخت کرنی ہوتی وہ بڑے بڑے دعوے کرتے اور اتنے دعوے کرتے کہ انسان ان کے جھوٹ کو بھی سچ مان لیتا ہے اور جب انکی پروڈکٹ استعمال کی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ صفر،کیونکہ وہ صرف خوشنما دعوے کر کے اپنی مصنوعات کی فروخت کر رہے ہیں
اگر کوئی کہے کہ ڈائٹنگ یا ورزش کے بغیر وزن کم کریں، اس دوا کا استعمال کریں اور وزن کم کریں، وزن کم کرنے کے لئے بس یہ ایک گولی کھائیں، تیس دنوں میں دس کلو وزن کم شرطیہ،تو یہ بالکل بھی نہیں ہو گا،اچھی خوراک اور ورزش کے بغیر وزن کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، تیزی سے وزن کم کرنے کی دوائیں صرف دھوکہ ہی ہوتی ہیں،دھوکہ دینے والے جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں اور سوشل میڈیا، ویب سائٹس کا سہارا لے کر اپنی دوا بیچ کر صارفین کو لوٹتے ہیں، کبھی کبھار دھوکہ دہی کرنیوالے اپنی دوا فروخت کرنے کے لئے کسی معروف کمپنی کے لوگو کی طرح کا استعمال بھی کریں گے تا کہ اسکی پہچان نہ ہو سکے،وزن کم کرنے کی آن لائن دوا فروخت کرنیوالوں کی یہ بھی ایک چال ہوتی ہے کہ اپنے اشتہارات کے نیچے کمنٹس خود ہی لکھواتے ہیں جس میں لوگ کہتے ہیں کہ ہاں، اس دوا سے انکا وزن کم ہوا، حالانکہ وہ کمنٹ کمپنی کے اپنے بندوں کے اور جھوٹ ہوتے ہیں
پاکستان کے شہر کراچی میں ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا ، عدالت نے ڈاکٹر کو جرمانہ بھی کر دیا تھا، کنزیومر کورٹ شرقی میں ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری عبد الجبار لغاری نے ڈاکٹر کے خلاف درخواست جمع کروائی ،فہمیدہ ساہیووال کے روبرو ڈائٹ پلان فروخت کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس کے بعد ڈائٹ پلان فروخت کرنے والی ڈاکٹر ندا کو ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ عدالت میں جمع کروانا پڑا۔کنزیومر کورٹ شرقی میں جمع کروائی درخواست کے متن کے مطابق ستمبر 2022 میں عبدالجبار لغاری نے والدہ کیلئے ڈاکٹر سے ڈائٹ پلان خریدا تھا، ڈائٹ پلان کی مکمل رقم 38 ہزار روپے بھی ادا کردی گئی تھی۔درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر نے ایک ماہ میں 10 کلو وزن کم کرنے کی گارنٹی دی تھی، تاہم ڈائٹ پلان سے والدہ کے پیٹ میں تکلیف شروع ہوگئی، شکایت کے باوجود رقم واپس نہیں کی گئی۔درخواست پر فیصلہ آنےکے بعد ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری کے کیس میں ڈاکٹر ندا نے ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کی رقم عدالت میں جمع کرا دی۔
وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اور اس سے وزن کم کرنے کے لئے اپنی خوراک اور ورزش کے بارے میں پوچھئے، ورنہ پچھتاتے رہیں گے اور وزن بھی کم نہیں ہو گا،
وزن کم کرنے کا آسان نسخہ
اجزاء:
لیموں چار عدد
شہد تین کھانے کے چمچ
دار چینی دو چائے کے چمچ
ادرک ایک ٹکڑا
تازہ سہانجنا ایک سو پچیس گرامترکیب:
ادرک اور سہنجنا کو بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اس میں لیموں کا رس شامل کر کے دو سے تین منٹ پھر بلینڈ کریں پھر اس میں سہد اور دار چینی ملا کر دوبارہ بلینڈ کریں اور اس کو نکال کر شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اس کا ایک چمچ دن میں دو بار کھانے سے پہلے استعمال کریں تین ہفتے استعمال کریں پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دوبارہ استعمال شروع کریں اس سے نہ صرف وزن کم ہوگا بلکہ اس سے نظر دماغ اور یاداشت بھی تیز ہوگی سہانجنا میں وٹامن چی بی سکس بی ون پوٹاشئیم میگنیشئم اور فاسفورس پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے میٹابولزم بھی تیز ہوجاتا ہے اور تھکاوٹ بھی دور ہوتی ہےہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …
دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …
ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق
-

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح
ارشاداحمد ارشد
مسجد ایک ایسا مقام عالی شان ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔اسی محبت کا ثمر ہے کہ مسلمان انفرادی سطح پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں اوراجتماعی طور پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں۔اسی طرح وہ مسلمان ممالک جہاں صحیح معنوں میں اسلامی حکومتیں قائم ہیں وہ بھی سرکاری سطح پر مساجدکی تعمیر اور آبادکاری کااہتمام کرتی ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں مساجد کی تعمیر اور آباد کاری کے معاملے میں مملکت سعودی عرب اور سعودی این جی اوز یا سعودی جامعات سے فیض یافتگان سر فہرست ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کاقیام حقیقی معنوں میں کلمہ توحید کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے جس طرح سے حرمین الشریفین کی خدمت وتوسیع اور تزئین کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اس پر وہ بجا طور پر ’’ خادم الحرمین الشریفین ‘‘ کے لقب کے مستحق ہیں۔اس کے علاوہ بھی دنیا کے ہر ملک میں آل سعود نے مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اذان کی آواز بلند ہورہی ہے ان میں سے بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں سعودی حکومت کے تعاون سے مساجد بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر میں بلا تفریق مسلک سعودی عرب کے تعاون سے تعمیر کی گئی مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی سعودی عرب کے مختلف موسسات (این جی اوز ) کے تعاون سے 8 مساجد کی تعمیر کا پروگرام بن چکا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کاشمار پاکستان کی اہم ترین جامعات میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادریاست بہاولپور کے مسلمان عباسی حکمرانوں نے اسلامی نقطہ نظر سے رکھی تھی۔اس کی ابتدا ’’مدرسہ صدر علومِ دینیات ‘‘ کے نام سے کی گئی۔ بعد ازاں 1925ء اس کانام جامعہ عباسیہ رکھا گیا۔ریاست بہاولپور کے نواب اسے جامعہ الازہر مصر کے پائے کاایک علمی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ 1950ء میں والئی ریاست ہز ہائنس سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے حکم پر صادق ایجرٹن کالج سے متصل ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی اس طرح سے جامعہ عباسیہ کا مرکزی کیمپس وجود میں آیاجو اس یونیورسٹی کی پہچان ہے۔ 1963ء میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے جامعہ عباسیہ کا دورہ کیا اور اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے موسوم کیاگیا ۔ 1975ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طور پر پنجاب اسمبلی سے چارٹر قرار پائی۔جہاں تک شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا تعلق ہے وہ امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم ہیں اور مثالی منتظم ہیں۔وہ ہمہ وقت یونیورسٹی کا علمی وتحقیقی معیار بلند کرنے اور اسے اسم بامسمیٰ بنانے کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں۔وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ یونیورسٹی کے ہر کیمپس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام کی صدا گونجے اور ہر کیمپس میں مساجد تعمیر کی جائیں۔
چنانچہ بارش کے پہلے قطرے کے طور پر اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس شعبہ امتحانات میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سعودی سفارت خانہ کے اسلامی شعبہ ’’الملحق الدینی،، کے نمائندہ خصوصی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ڈائریکٹر پاکستان اسلامک کونسل وایڈیشنل ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی و ڈائریکٹر جامعہ سعیدیہ سلفیہ خانیوال نے اپنے دست مبارک سے ستمبر 2022 ء میں جامع مسجد امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اس ایمان افروزتقریب میں اہل علم اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد شرکت کی تھی۔سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد یہ مسجد صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل کوپہنچی ہے۔تکمیل کے بعدپروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی رئیس کلیۃ القرآن والتربیۃ الاسلامیہ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر کے ہمراہ مسجد کا افتتاح کیا۔افتتاح کے بعد گھوٹوی ہال عباسیہ کیمپس میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا ہماری کوشش ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمیٰ تعلیمی ادارہ بنایا جائے۔یہ ادارہ اسم بامسمیٰ اسی وقت بنے گا جب اس میں کثرت سے مساجد تعمیر ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی۔ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی عالی شان مسجد بنام’’جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس موقع پر حاضرین مجلس کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر کی کوششوں سے بہت جلد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایک بڑی مرکزی جامع مسجد اور فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اینڈ عریبک کی تعمیر بھی ہونے جارہی ہے یہ مسجد حقیقتاََ مسجد قوت الاسلام ہو گی۔
تقریب ِ افتتاح کے ایک اہم ترین مہمان قاری صہیب احمد میر محمدی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ان کے دور میں اسلامیہ یونیورسٹی نے تعمیر وترقی اور علمی مدارج کی تاریخی مزلیں طے کی ہیں نجیب الطرفین فضیلۃالشیخ ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر بھی وطن عزیز کی نامور شخصیت ہیں اور تن تنہا دین حنیف اور تعلیم و تربیت کا کام کام سر انجام دے رہے ہیں، آپ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض سعودی عرب سے عقیدہ، قرآن، فقہ میں سپسلائزیشن کے ڈگر ھولڈر ہیں جبکہ ماسٹر، ایم فل ، پی ایچ ڈی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عربی زبان وادب میں مکمل کی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ ٫٫لجنة الافتاء والبحث العلمي٫٫ جو پاکستان کے کبار علماپر مشتمل فتوی کی کمیٹی ہے اس کے بھی رکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامع الامام ابن کثیر اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اور خوبصورتی ووسعت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کا مینار مسجد نبوی کے مینار کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی تعمیر پر تقریباََ دو کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ بہت جلد اسی طرز پر مزید مساجد بغداد الجدید کیمپس اور بہاولنگر کیمپس میں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ انھوں نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جامع الامام ابن کثیر معروف عالمی سکالرقاری المقری قاری صہیب احمد میر محمدی کے زیر سایہ چلنے والے ادارہ کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ پھولنگراور،،المجلس الاسلامی باکستان ، یعنی پاکستان اسلامک کونسل کے باہمی اشتراک سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس میں 1000نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس سے پہلے صرف 300نمازی اس چھوٹی سی بوسیدہ اور قدیم مسجد میں نماز ادا کر سکتے تھے۔ اس مسجد کی تعمیر سے عباسیہ کیمپس کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ شعبہ قانون، شعبہ امتحانات اور ابوبکر ہال کے رہائشی طالب علم مستفید ہوں گے۔انھوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ سعودی موسسات اور سعودی سفارت خانہ کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مساجد اور فیکلٹیز کے قیام سے جہاں ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور ملازمین مستفید ہوں گے وہاں دوسری طرف فرقہ واریت سے بالا تر خالصتا قرآن وسنت پر مبنی دینی تعلیمات کی نشرواشاعت کے مزید مواقع بھی میسر آئیں گے جس سے عمومی معاشرہ اور بالخصوص طلبہ علم میں برداشت ، رواداری ، تحمل اور مسلکی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔انہوں نے اپنی گفتگو میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ، خزانہ دار جناب ابوبکر صاحب ، بہاولپور پریس کلب کے سابق صدر جناب نصیر ناصر, چیئرپرسن شعبہ عربی ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی، ایڈیشنل کنٹرولر شعبہ امتحانات جناب عرفان غازی، سابق ایڈیشنل کنٹرولرشعبہ امتحانات غلام محمد ، ڈاکٹر عبیدالرحمان لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج بہاولپور کا مسجد کے تعمیری کاموں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا
ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی شعبہ عربی کی چئیرپرسن ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں کہا اللہ کا کرم ہے کہ آج ہم مسجد کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں۔اس مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے دن رات ایک کئے رکھا۔کبھی بھی سفری مشکلات کی پرواہ نہ کی بلکہ وہ مسجد کی تعمیر کیلئے خانیوال اور بہاولپور کے درمیان مسلسل اس طرح سفر کرتے رہے جیسے ہم اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس آتے جاتے ہیں۔دعاہے کہ ڈاکٹر مسعود اظہر نے کاوشوں کو قبول فرمائے۔
تقریب کے ایک انتہائی اہم مقررپروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری بھی تھے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر اکرم نے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے لیے جو اقدامات کئے ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے ان تاریخ ساز اقدامات کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ گورنر پنجاب تمام وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنا روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح کہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرف سے مہمانان گرامی پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری ، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ، اور قاری صہیب احمد میر محمدی کی خدمت میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئیں۔تقریب کے بعد مہمان گرامی کے اعزاز میں وائس چانسلر کی طرف سے پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔ اس طرح سے یہ روحانی وایمانی اور خوبصورت تقریب بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
-

روشن پاکستان گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی
گرین پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے زرعی انقلاب کی بات کی ہے بلاشبہ اس وقت ملک کو ترقی کی طرف اگر لے کر جانا ہے تو زرعی انقلاب لانا ہوگا۔ اگر صدق دل سے حکومت اور بیورو کریسی سمیت انتظامیہ ، بورڈ آف ریونیو ،زراعت پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں پاکستان نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض نہیں رہے گا۔ ایسے ایجنڈے سر فہرست رکھ کر ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ گرین پاکستان پر عمل کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔ گرین انیشیٹوجسے سعودی عرب نے 2021 ء میں شروع کیا تھا سعودی حکام پر خطے کے لئے دو رس اقتصادی مواقع پیدا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ میں اثر کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ گرین انیشیٹو پر اگر عمل کیا جائے تو پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی ممالک بھی مدد کریں گے۔ سبز معیشت میں چین کی منصوبی بندی سرمایہ کاری حیران کن ہے جسے یورپی یونین تسلیم کرتی ہے ۔
خلیجی ممالک ۔ چین ، یورپی ممالک میںک و ئی لینڈ مافیا نہیں راولپنڈی سمیت پنجاب گوجرانوالہ ، شیخوپورہ ، لاہور اور اسی طرح دیگر شہروں میں ہائوسنگ سوسائٹی والوں نے زرعی زمینوں اورسرکاری زمینوں پر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرکے پاکستان کے حسن کو تباہ کردیا ہے ۔ پٹواریوں ، تحصیلداروں گرداروں اور ضلعی اور تحصیل کی انتظامیہ کی ملی بھگت نے پاکستان کو بطور ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق صرف گوجر خان میں 384 کنال سرکاری رقبہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے جس میں جنگلات بھی شامل ہیں۔ آرڈی اے راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری زمینوں جس کی مالیت کروڑوں ہی وہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے اور اکثریت غیر قانونی بھی ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کا خواب روشن پاکستان گرین پاکستان پورا ہو سکتا ہے اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ،زرعی زمینوں اور جنگلات کو برباد کیا ۔ اس کا آغاز راولپنڈی ڈویژن سے لے کر پنجاب ، کے پی کے اور صوبہ سندھ تک بڑھایا جائے ۔ اربوں کی سرکاری زرعی زمینوں کو واگزار کرایا جائے ۔ روشن پاکستان اور گرین پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ مافیا ہے۔ قبضہ مافیا ملک میں ایک طاقت بن چکا ہے ۔ جس کے قبضے میں ملک کے کئی بااثر لوگ ہیں جو اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ا ن کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اربوں مالیت کی اراضی جس میں زرعی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمینیں ہیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ا ن قبضہ مافیا ا ور ملک کے بااثر افراد نے ملک اور ریاست کے سسٹم کو یرغمال بنارکھا ہے۔
-

سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی
سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔
پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔
ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔ -

میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی
میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں
حیدرعلی صدّیقی
یہ نالہ و فریاد ہے امت مسلمہ کی بیٹی عافیہ کی، اس عافیہ کی جو ایک جرم ناکرده کی پاداش میں امریکی جہنم نما جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ عافیہ صدیقی نے حفظ قرآن کے بعد امریکہ کی صف اول کی یونیورسٹی (MIT) سے ڈگری حاصل کی۔ نائن الیون کے بعد وہ پاکستان واپس آکر اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔
عافیہ کیس کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عافیہ بالکل بھی امریکی شہری نہیں ہے جیسا کہ کچھ مغرب زدہ افراد نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ ہی اس نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کے الزامات امریکہ نے لگائے اور ہمارے سیدھے سادہ لوگوں نے بغیر تحقیق کے قبول بھی کیے ہیں۔ بات یہ ہے کہ 30 مارچ 2003ء کو عافیہ اپنے بچوں سمیت کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی کہ راستے میں وہ اغوا ہوئی اور پھر پانچ سال تک عافیہ کا کچھ پتہ چلا اور نہ اس کی بچوں کا۔ یہ پانچ سال وہ کہاں اور کس کے قبضے میں تھی؟ یہ وہ سوال ہے جو اس کہانی کا محور ہے اور جو امریکی فریب اور ناٹک کے وجہ سے آنکھوں سے مخفی رہا ہے۔ در حقیقت یہ پانچ سال بھی عافیہ امریکی FBI کے قبضے میں تھی اور بگرام ائیر بیس میں قیدی نمبر 650 کے نام سے بند تھی۔ اس راز کا انکشاف برطانوی خاتون صحافی مریم یوآن ریڈلے نے اسلام آباد میں 6 جولائی 2008ء کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ جب اس انکشاف کے ساتھ امریکہ کا مکروہ چہرہ واضح ہوا تو امریکہ نے جو چپ باندھی تھی وہ کھل گئی اور بالاخر امریکہ کے پاس اس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ عافیہ کو انھوں نے گرفتار تو کیا ہے لیکن 2008ء میں اور افغانستان سے۔امریکہ کا یہ مؤقف کوئی سلیم العقل فرد تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ جہاں تک امریکہ کا یہ مؤقف حقائق اور واقعاتی شہادتوں کے خلاف ہے، اگر بالفرض اس کو مان بھی لیا جائے تو پھر عافیہ کو گرفتار کیوں کیا؟ اس بارے امریکہ کا ایک مؤقف نہیں بلکہ عافیہ کے گرفتاری کے بارے میں امریکہ کا مؤقف متزلزل اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ عافیہ پر غزنی کے ایک دکاندار کو شک گزرا تو گرفتار ہوئی، تو کبھی کہا گیا کہ وہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے آئی تھی اور لوگوں نے پولیس کو بلا لیا، تو کبھی کہا گیا کہ وہ ایک مسجد کے سامنے نقشہ پھیلائی بیٹھی تھی، وہاں کی زبان نہیں جانتی تھی، اور اس پر لوگوں کو شک ہوا اور یہ گرفتار ہوئی۔ حتی کہ مسجد کے سامنے سے گرفتار ہونے کے دعوے میں بھی متضاد اقوال سامنے آئے ہیں، جتنا منہ اتنی بات۔
جس الزام کے تحت امریکہ نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا وہ یہ تھا کہ عافیہ القاعدہ کے مرکزی قیادت کے ساتھ وابستہ القاعدہ لیڈی ہے، اس کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا، کچھ ڈاکومنٹس اور نوٹس دستیاب ہوئے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے طریقے لکھے گئے ہیں۔ گرفتاری کے بعد امریکہ کا مؤقف تھا کہ عافیہ کی گرفتاری امریکہ کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتی تھی، اور وہ سات خطرناک ترین دہشتگردوں میں تھی، ان کو گرفتار کرکے امریکہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کا یہ مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے، بالفرض اگر عافیہ القاعدہ کے ساتھی تھی تو کیا وہ اتنے سادہ تھے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو اس طرح حملہ کےلیے (بقول امریکہ) کے بھیجے جس پر ایک دکاندار کو بھی شک گزرے؟لیکن امریکہ کے تضادات کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا، گرفتاری کے بعد جب عافیہ کو 5 اگست 2008ء کو نیویارک کے وفاقی عدالت میں پیش کیا تو وہاں القاعدہ لیڈی، خودکش حملہ آور، القاعدہ کے ماتا ہری، القاعدہ کے لیے دھماکہ خیز اور مہلک وائرس بنانے والی وغیرہ جیسے الزامات کا بالکل ذکر بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہاں امریکہ نے ایک الگ دعویٰ کیا کہ بگرام ائیر بیس میں عافیہ کے تفتیش کے لیے آئے امریکی فوجی اہلکار سے عافیہ نے اس کا رائفل چھین کر اس پر فائر کیا، اس نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ بچ گیا، اور گولی دیوار پر لگی جہاں سوراخ اب بھی نظر آرہا ہے، جواباً امریکی فوجی نے پستول سے دو گولیاں چلائے جو عافیہ کے پیٹ میں لگے۔
جب عدالت کا مقدمہ اس دعوے کے تحت چلا تو پھر امریکہ کا جھوٹ واضح ہوگیا، کہ وہ رائفل تو سرے سے چلا ہی نہیں ہے، اس کے بیرل میں گولی اور بارود کا کوئی سراغ نہیں، نہ اس پر عافیہ کا فنگر پرنٹ ہے۔ اور دیوار میں جو سوراخ دکھتا ہے وہ ایک ویڈیو کے ذریعے جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ تو اس واقعے سے بہت پہلے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ میں افغان پولیس اور غزنی کے گورنر نے بھی اس مؤقف کی تردید کردی۔ سوال یہ ہے کہ ایک نہتی اور کمزور خاتون اتنی طاقتور کیسے ہوئی کہ وہ باقاعدہ ایک تربیت یافتہ فوجی کا رائفل چھین کر اس پر فائر کرے! اور رائفل بھی وہ جس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ قید و بند کے تشدد زدہ کمزور خاتون سے اس کا اٹھایا جانا، اور پھر لاک کھول کر نشانے پر لگانا اور فائر کرنا عقل سلیم کے لیے ماننا کم از کم ممکن نہیں۔ جب عافیہ امریکہ کو القاعدہ کی حمایت کی جرم میں مطلوب تھی تو مقدمہ کے وقت ان الزامات کا ذکر کیوں نہیں تھا؟ جب ماہرین نے رائفل کے الزام کو جھوٹا ثابت کیا تو امریکہ نے اسے جھوٹا تسلیم کیوں نہیں کیا؟
لیکن یہاں تو امریکہ کو صرف اپنی فوجی اہلکار پر یقین ہے، ساری شواہد و ماہرین اگر چہ رائفل کے کہانی کو جھوٹی ثابت کرچکے ہیں لیکن امریکی فوجی کہتا ہے تو عافیہ نے ضرور گولی چلائی ہوگی!
امریکی ماہرین نے بھی اس کیس کو مبنی برظلم قرار دیا تھا کہ عافیہ مظلوم اور بے گناہ ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کہتا ہے کہ ”عافیہ صدیقی کا کیس میرے مشاہدے کے مطابق اب تک کا بدترین کیس ہے“۔ اسی طرح امریکی صحافی پیٹرا بارتوشےویچ کا کہنا ہے کہ ”میں نے امریکی مؤقف کی تفصیل پڑھتے ہی جان لیا تھا کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے۔ امریکن شہریوں کے اس اقرار کے باوجود امریکہ نے ان کو بھی نظر انداز کیا۔
امریکی قانون ہے کہ کسی بھی خاتون کی برہنہ تلاشی (سٹرپ سرچ) نہیں لی جاسکتی، لیکن بایں ہمہ کہ عافیہ پہلے سے ان کے ساتھ قید میں موجود تھی اور بار بار انھیں تلاشی اور جسمانی و ذہنی تشدد سے گزارا گیا تھا لیکن وکیل سے ملنے کے لیے باقی تکالیف کے علاوہ اسے اس اذیت ناک عمل (سٹرپ سرچ) سے بھی گزارا جاتا تھا۔ اس وقت مغرب کا انسانی ہمدردی اور حقوق نسواں کے قوانین شاید وائٹ ہاؤس کا چکر لگا رہے تھے!امریکہ نے سارے حقائق و شواہد، انسانی حقوق اور مساوات کے اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی چالاکی، تعصب، نفرت اور نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عافیہ پر فرد جرم عائد کیا اور اسے 86 سال قید کی سزا سنائی۔ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے امریکہ کا انسانی حقوق و ہمدردی کا قانون صرف اتنا ہے کہ ایک امریکی کو قتل کرنے کی کوشش پر 86 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن ایک غیر امریکی خاتون کو شک یا جھوٹ کی بنیاد پر گولی سے بھی داغا جاسکتا ہے، اور اس پر مستزاد اس پر قید و بند کی صعوبتیں، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد بھی روا رکھا جاسکتا ہے۔ عافیہ اگر مجرم تھی تو حقائق و شواہد امریکہ پیش کیوں نہیں کرتا! امریکی قانون دان ایلین شارپ ویٹفیلڈ کہتا ہے کہ ”یہ سب جھوٹ ہے، عافیہ صدیقی کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں“ (Put up or shut up)۔ شواہد و حقائق کے تحت ان کے ساتھ قانون کے تحت عادلانہ کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ لیکن یہ سارے الزامات ہیں جو امریکہ نے لگائے، اور ساری دنیا نے قبول کیے اور عافیہ پر ہونے والے امریکی مظالم پر خاموش تماشائی بنی، کیونکہ عافیہ امریکی اور مغربی شہری نہیں ہے ورنہ دنیا نے ایک کہرام مچانا تھا۔ در حقیقت عافیہ کی مظلومیت پر خاموش صرف دو افراد ہی رہ سکتے ہیں: ایک وہ جو اس کیس سے بالکل واقف ہی نہ ہو اور وہ عافیہ کو دہشتگرد سمجھتا رہے۔ دوم وہ جو اس کیس کی تفصیلات و جزئیات سے باخبر تو ہو لیکن بددیانتی کرتا ہو۔
اب امریکہ کا جھوٹ ساری دنیا کے سامنے واضح ہوچکا ہے، لہذا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کے تنظیموں اور دنیا کے تمام انسانوں کو امریکہ کے اس ظلم کے خلاف آگے آنا چاہیے اور اس جھوٹ پر لب کھولنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے اپنے پاکستان کی کارگردگی بھی صفر ہے، دنیا بھر کی انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تنظیمیں خاموش ہیں، کیونکہ عافیہ کوئی لبرل خاتون نہیں ہے نا! ورنہ کب سے دنیا نے ایک شور برپا کرنا تھا۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ پاکستانی عوام، حکومت اور ادارے کھل کر امریکہ کے مظالم کی مخالفت کرے اور عافیہ کی رہائی کا سنجیدہ مطالبہ کرے، ورنہ ہم سب مجرم ہونگے۔