Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –

  • ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    دانتوں کا علاج ایک مہنگا ترین علاج ہے۔ دانت کا معمولی سا مسئلہ بھی کم خرچ میں حل ہو جائے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کم وسائل کا حامل فرد دانت کے علاج کا صرف سوچ ہی سکتا ہے۔ بالخصوص اس میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دانتوں کا علاج کرنا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بیشتر ہسپتالوں اور بالخصوص کلینکس پر اس امر کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ ایسے میں جو ہسپتال کم آمدن والے افراد کا خیال کرتے ہوئے دانتوں کے علاج کی سہولت دیتے ہیں، یقینا قابل قدر ہیں۔
    گذشتہ دنوں میری ننکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور علی رضا سے ملاقات ہوئی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بات ہوئی تو بتانے لگا کہ اس نے ایک ایسا ہسپتال ”دریافت“ کیا ہے جہاں اس جیسے غرباء کا دانتوں کا مفت یا انتہائی سستے داموں علاج ہوتا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اسے بڑے عرصہ سے دانتوں کا مرض لاحق تھا۔ یہ مرض بڑھتا جا رہا تھا اور وہ چیک کروانے سے صرف اس لئے ڈرتا تھا کہ جانتا تھا دانتوں کا علاج بہت مہنگا ہے اور اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اس پر خرچ کر سکے۔ پھر اس کے علاقے میں سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک میڈیکل ڈینٹل کیمپ لگایا گیا۔ معلوم ہوا دانتوں کا فری چیک اپ کریں گے۔ اس نے خوشی خوشی اس کیمپ سے استفادہ کیا جہاں سے کچھ مسافت پر قائم سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کر دیا گیا، اس کا مفت علاج ہوا، اور آج وہ اس مرض سے شفا پا چکا ہے۔

    میں نے سرور فاؤنڈیشن کے صحت کے اس پراجیکٹس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان ہسپتالوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران دانتوں کے 12 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ جبکہ 1400 کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں اس علاج پر خصوصی سبسڈی دی گئی۔ گذشتہ ایک سال میں مذکورہ طرز کے کم و بیش 37 میڈیکل کیمپس مختلف اضلاع میں لگائے گئے جن میں دانتوں کے ابتدائی علاج اور بعد ازاں سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کرنے کے بعد مفت یا سبسڈائز بنیادوں پر علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مجموعی طور پر 26 ہزار کے قریب مریضوں نے ان میڈیکل کیمپس سے استفادہ کیا۔ استفادہ کرنے والے مریضوں کو سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے فلورائیڈ تھراپی اور مفت لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ادویات بھی بلامعاوضہ فراہم کی گئیں، جبکہ ٹیڑھے دانتوں کے حامل بچوں کو بریسز (Braces) لگا کر ان کا مکمل علاج کیا گیا۔
    قابل ذکر امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں سرور فاؤنڈیشن نے ہسپتال قائم کئے ہیں، وہاں کوئی دندان ساز تو دور کی بات، دانتوں کا علاج ہی میسر نہیں۔ جہاں کوئی تھوڑی بہت سہولت ہے بھی، وہاں ماہر ڈاکٹر اور مطلوبہ آلات ناپید ہیں۔ اگر موجود بھی ہیں تو ہائی جینک اصولوں کا خیال رکھ کر استعمال نہیں کئے جاتے۔ دوسری جانب مریض کو اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی کہ کون سا انسٹرومنٹ کس حالت میں اسے لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے مختلف بیماریوں سے آگاہی کے بہت سے میڈیکل کیمپ لگے دیکھے ہوں گے، لیکن دانتوں کے حوالے سے میڈیکل کیمپ ڈھونڈنے پر بھی مشکل سے ہی ملیں گے۔ یہ اعزاز کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ سرور فاؤنڈیشن نے میڈیکل کیمپس کے ذریعے لوگوں کو اورل ہیلتھ بارے آگاہ کیا کہ افراد جب تک اورل ہائی جین نہیں ہوں گے، کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریاں انہیں گھیرتی رہیں گی …… اسی طرح اپنے سکولوں میں بھی بچوں کو دانتوں کی احتیاط بارے آگاہی دی جا رہی ہے۔

    ہمارے ارد گرد کئی علی رضا موجود ہیں، جنہیں علاج کی ضرورت ہے مگر آگاہی کے فقدان اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس حق سے محروم ہیں۔ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ طرز کے مفت میڈیکل کیمپوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد اور ہسپتالوں میں بالخصوص کم وسیلہ طبقے کا خیال رکھتے ہوئے علاج کی مناسب سہولت دینا از حد ضروری ہے …… یہ امر بھی ضروری ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن ہسپتالوں اور کلینکس کے بے لگام نرخوں پر توجہ دے اور مفاد عامہ میں مناسب نرخ متعین کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالے۔ طبی مراکز اور متعلقہ ادارے ان بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہوں گے تو علی رضا جیسے، محدود آمدنی والے کئی افراد، جو ہوش ربا اخراجات کے ڈر سے علاج کروانے سے ڈرتے ہیں، وہ بھی بے فکر ہو کر، یہ حق استعمال کر کے صحت مند زندگی کی جانب لوٹ سکیں گے۔

  • عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان سیاستدان بن گئے، جمہوریت کا دعویدار لیکن سیاسی آمر سے کم نہیں، حکومت ملی تو پاکستان کی اپوزیشن سب سے بڑا مسئلہ تھی جو اب حکومت میں آ چکی

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی روز میں 33 بل منظور کروانا،اور اپوزیشن کو مکمل نظر انداز کرنا یہ عمران خان کی سیاسی آمریت کی ہی نشانی ہے

    سب خواب چکنا چور تب ہوئے جب اسوقت کی اپوزیشن نے حکومت میں آتے ہی عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ای وی ایم سمیت اہم بل کی ترامیم واپس لے لیں

    عمران خان وزیراعظم بنے تو اقتدار میں آ کر انہوں نے اپوزیشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا، پاکستان کی معیشت کی تباہی انہیں نظر نہ آئی البتہ بڑے بڑے دعوے کر کے اقتدار میں آ کر ان پر زیرو فیصد عمل کیا اور یہی وجہ انکے اقتدار سے نکالے جانے کی بنی، کیونکہ عمران خان جو بولتے ہیں وہ کرتے نہیں، اور جو کرتے ہیں وہ بولتے ہیں، اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کے دعوے اور وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اس پر عمل میں آسمان زمین کا فرق ہے،وہ عمران خان جو حکومت میں آنے سے پہلے بات کرتا تھا کرسی ملتے یکدم ہی اسکے عمل میں تبدیلی آ گئی، ریاست مدینہ کا نام لے کر من مانی کی گئی، کرپشن کے ریکارڈ بنائے گئے، دھوکہ دہی کی گئی اور بار بار نام ریاست مدینہ کا ہی لیا گیا

    عمران خان حکومت میں رہتے ہوئے اپنی پسند کی قانون سازی کرتے رہے اور کرواتے رہے، اپوزیشن پر الزامات، گرفتاریاں،جیلوں میں ڈالنا، پھر طیبہ کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے اپوزیشن پر بے جا مقدمات بنوانا، فرح گوگی کے ذریعے کرپشن یہ کپتان کے محبوب مشغلے رہے، کپتان کی خواہش تھی کہ اپوزیشن کسی نہ کسی طرح جیلوں میں ہی رہے اور وہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرتے رہیں اور انہوں نے کی بھی سہی ،پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یا انکی مشاورت کے بغیر بل پاس کروائے گئے تو کبھی مرضی کے‌صدارتی آرڈیننس لائے گئے لیکن عمران خان شاید یہ بھول گئے تھے کہ سدا اقتدار انکا نہیں بلکہ حکومت نے جانا بھی ہے اور رخصتی کے بعد انکی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو بلڈوز بھی کیا جا سکتا ہے

    17 نومبر 2021 وہ دن ہے جب عمران خان کی حکومت نے ایک دو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 33 بل پاس کروائے، اپوزیشن احتجاج کرتی رہی لیکن عمران خان جو ہمیشہ اپنی ہی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپوزیشن کی خواہشات کے برعکس ایک ہی روز میں 33 بل پاس کروا کر ایک ریکارڈ بنایا ، اس قانون سازی کے لئے ایم کیو ایم نے حکومت کو بلیک میل بھی کیا تھا اور بعد میں پھر ایم کیو ایم عدم اعتماد کے وقت ساتھ بھی چھوڑ گئی تھی،33 بل جو پاس کئے گئے تھے ان میں سے ای وی ایم کا بل سے زیادہ اہم تھا اور تحریک انصاف اسکو بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی،۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ، انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت میں تقریر کی ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی اصول و ضوابط 1973 سے متعلق سیکشن 10 اسپیکر قومی اسمبلی کو پڑھ کر سنادیا کہا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اگر کوئی قانون منظور کروانا ہو تو اس کیلئے 222 ووٹ کی ضرورت ہے ورنہ وہ قانون منظور نہیں ہوتا تا ہم اسوقت کے سپیکر نے انکی نہ سنی اور بل پاس کرتے گئے

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد آئی، کامیاب ہوئی اور عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے اسکے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان حکومت کے اتحادی بنے، ایم کیو ایم بھی دوبارہ اتحادی حکومت کا حصہ بن گئی،ایسے میں عمران خان نے جو بل ای وی ایم کے حوالہ سے پاس کیا تھا موجودہ حکومت نے اس میں ترمیم کر لی اور اب الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن کو بھی ای وی ایم پر تحفظات تھے،26 مئی کو رواں برس ہونے والے اجلاس میں ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہوئیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں سب کو مبارکباد دی، تحریک انصاف تو اسمبلی میں موجود ہی نہیں کیونکہ انہوں نے استعفوں کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور تنخواہیں پھر بھی لے رہے ہیں، ای وی ایم کے بارے میں کہا جا رہا ہےکہ جن ممالک نے ای وی ایم کا استعمال کیا وہ بھی اسکو روک چکے ہیں، کیونکہ ای وی ایم سے شفاف ووٹنگ کسی صورت نہیں ہو سکتی، ای وی ایم سسٹم کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کچھ بھی نتائج آخر میں دیئے جا سکتے ہیں

    تحریر:ریحانہ

  • شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    ترکی میں فوڈ سٹریٹ پر آئس کریم بیچنے والے فنکار سیلز مین ہوتے ہیں. آپ کی نظریں ان سے جیسے ہی چار ہوتی ہیں یہ آپ کو سودا بیچ دیتے ہیں. یہ مسکرائیں گے جواب میں آپ کو بھی مسکرانا پڑتا ہے. یہ پھر آپ کو بلائیں گے آپ کو جانا پڑ جاتا ہے. یہ آپ کو ایسے توجہ دیں گے جیسے باقی سب گاہک لیکن آپ ان کے دوست ہیں.

    اب دوستی مضبوط کرنے کیلئے ان کے ہاتھ میں ایک راڈ ہوتا ہے جس کے آگے فری سیمپل کا کپ لگا کر اور اپنے کرتب دکھا کر یہ آپ کو بار بار ہنسنے پر مجبور کریں گے. آپ سے یہ فری سیمپل کا کپ پکڑا نہ جائے گا. پھر وہ آپ کو چوائس دیں گے آپ اپنا فلیور بتائیں گے اور پوچھیں گے یہ کتنے کا ہے.؟ یہ آگے جھک کر بتائیں گے صرف آپ کیلئے 20 لیرا کا. آپ خوشی خوشی یہ آئس کریم لیں گے جو بعد میں آپ کو پتہ چلے گا 5 لیرا کی تھی.

    ترکی کے آئس کریم بیچنے والوں کا تو یہ کاروبار ہے. میں ان کی صلاحیت کا معترف ہوں. لیکن شیطان گناہ میں بھی اسی ترتیب سے ہمارے ساتھ یہی شعبدہ کاری کرتا ہے. وہ آپ کی پہلے نظر یا فوکس پکڑتا ہے گناہ سے آپ کا تعلق بناتا ہے. آپ کو یہ لگتا ہی نہیں گناہ آپ سے کرایا جارہا ہے بلکہ آپ گناہ کرنے کیلئے خود کو باقاعدہ راضی کرنے لگتے ہیں. آپ کبھی آگے کبھی پیچھے کی کشمکش میں ہوتے ہیں. اور پھر آپ قائل ہو جاتے ہیں. وہ آپ کو اپنا سودا بیچ دیتا ہے. وہ سودا جس کے خسارے کا آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے.

    اس لئے قرآن کہتا ہے اپنی نظریں نیچے رکھو. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ یعنی آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں.

  • جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کی "فرصت” میں برکت دے کہ بیشتر اوقات گرمئی مجلس قائم رکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ” اشو ” کھڑا رہتا ہے ، تکلیف مگر اس امر کی ہے کہ انتہائی ذمے دار اور باصلاحیت احبابِ علم جب ‘نان اشوز” کو "اشوز” بناتے ہیں ، تو دراصل یہ بھی قوم کی تربیت میں خرابی کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔ اور نقصان اس کا یہ ہوتا ہے کہ قیمتی وقت اور صلاحیتیں ان امور میں ضائع ہوتی ہیں کہ جن سے ہزار گنا اہم معاملات ان صاحبانِ تحریر و تقریر کے منتظر رہتے رہتے تھک کر سو جاتے ہیں ۔

    اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

    احباب گرامی قدر ! یہ امر بذات خود افسوس ناک ہے کہ کل سے انتہائی قیمتی وقت اور صلاحیتیں راجہ ضیاء صاحب کی ایک ہال میں داخلے کی ویڈیو کی نذر ہو رہی ہیں ۔میں نے کل دو دو جملوں پر مشتمل اگرچہ مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیں تو اس کا مقصود بھہ یہی تھا کہ دوستو ! یہ معاملہ محض اس قدر توجہ طلب ہے کہ آدھ جملے میں بات ختم کی جائے ، لیکن احباب جب تک طول شب ہجراں ماپ نہ لیں اور محبوب کی زلف دراز تر کا آخری سرا دریافت نہ کر لیں ، کب چین پاتے ہیں ۔ میں تو پھر کہتا ہوں کہ بھائی سب فرصت کی باتیں ہیں ۔

    میرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

    اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا راجہ صاحب کا عمل درست ہے ؟ تو عرض ہے کہ داعی کا بلاشبہ ایک مقام ہوتا ہے اور ایک وقار ہوتا ہے ، میں خود کبھی اس انداز کو اختیار نہ کروں جو انہوں نے کیا ہے ۔

    لیکن !

    اگر کر لیا تو شریعت کے حلال و حرام کے کس ضابطے کی نفی ہو گئی تھی کہ ہمارے معزز دوست دن بھر اس پر طویل مضمون نگاری کرتے رہے ۔

    مجھے ہرگز آپ احباب کی نیت پر شبہ نہیں ، بلاشک آپ نے دعوت دین کے وقار کی خاطر یہ سب لکھا لیکن ایسا ہی ہے کہ ڈاکٹر کہے کہ
    "مریض کو پینا ڈول کی ایک گولی دے دیجیے”

    اب گھر کے اگر گیارہ افراد ہیں تو ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی پینا ڈول دینا فرض جان کر یہ ” خدمت ” سرانجام دے رہا ہے ۔ مریض نے خاک صحت مند ہونا ہے ۔

    میرے بھائی ! لباس ، سواری ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا انسانی کا ذاتی اختیار ہے ، پابندی صرف حلال و حرام امور کی کی جائے گی ۔ حلال کے دائرے میں اچھے برے کی تحدید ہر بندے کا اپنا اختیار ہے ۔

    مجھے یاد ہے کہ حضرت حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ تہہ بند پہنا کرتے تھے ، جب علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کا حادثہ ہوا لارنس روڈ کی انتظامیہ نے چاہا کہ کچھ عرصہ آپ وہاں خطبہء جمعہ ارشاد فرمائیں ، اور تہہ بند کی جگہ شلوار پہن لیں ۔۔۔۔ ان کو منانا ایک مشکل مرحلہ تھا اور خود ان کے لیے بھی بہت مشکل تھا ان کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ جینز پہن کر جمعہ پڑھا رہے ہیں ۔۔۔۔
    جبکہ اگر وہ تہہ بند پہن کر آتے تو شائد وہاں حاضرین کو کچھ عجیب لگتا ۔۔۔جبکہ فرق صرف حاضرین کی سوچ کا تھا ۔۔۔۔۔۔
    اب جس ماحول میں انہوں نے اپنی ہیوی بائیک سیدھی ہال کے اندر لا کھڑی کی وہاں یہ کچھ عجیب نہیں تھا بلکہ سب نے گرمجوشی سے استقبال کیا ، جبکہ اسی ہال میں اگر ہمارے کوئی بزرگ تہہ بند پہن کر چکے جاتے تو ہورے ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہو جانی تھیں ۔۔۔۔ اسی طرح عجیب و غریب لگنا تھا جیسے آج آپ کو عجیب لگ رہا ہے ، اور عین ممکن تھا کہ کوئی جدید ترین داعی تب ادھر کہتا کہ یہ داعی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ تہہ بند پہن کر بیکن ہاؤس ، لمز ،ایل جی ایس ، اور نسٹ کے طلبہ کو خطاب کرنے چلا آئے ۔۔۔۔۔
    سو احباب :

    ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ نان اشوز کو اشوز نہ بنایا کیجیے ، حقیقی مسائل آپ کی راہ تکتے تکتے سو جاتے ہیں اور آپ کو ان غیر حقیقی مسائل سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔

    اور آخری بات۔۔۔۔یہ لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں کہ جہاں کوئی آپ کی بات سنتا بھی نہیں ہے ، جس روز آپ اس میدان میں یوں جا نکلیں گے کہ آپ کو سنا جائے ، لوگ روایت سے جڑے اہل علم کی بات سنیں اور سمجھیں تو یقین کیجیے تب ہم ضرور ان ” ماڈرن داعیوں ” کی اسی طور ” اصلاح ” میں آپ کے قدم بقدم ہوں گے ۔۔۔

    لیکن بصد افسوس کہ آپ کی جماعتوں کے ایجنڈے اور سوچ و فکر کے دائرے میں وہ طبقات تو آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔پھر ایسی تنقید تو وہی ہو گی کہ ” کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے” ۔

    ذرا کوئی صاحب مجھے بتائیں کہ کبھی کسی مذہبی جماعت کی عاملہ کے اجلاس میں نوجوان طبقے میں پھیلتے الحاد بارے فکرمندی ایجنڈے کا حصہ بنی ؟

    نوجوانوں کے فکری انتشار پر کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا ؟

    سیکولرزم کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت زیر بحث آئی ؟

    اگر کسی جماعت اجلاس میں ایسا کچھ ایجنڈے پر آیا تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔

    اور یہ بھی جان لیجیے کہ جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ دوسروں سے کام لے لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لمحہ فکریہ تو آپ کے لیے ہے کہ یہ کام آپ کیوں نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.