Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔لیکن کب؟؟؟ "کب” پر ہی سارا مسئلہ کھڑا ہے۔۔کافی عرصے سے نشان دہی کی جا رہی تھی کہ ہمارا مڈل آرڈر کمزور ہے۔۔۔جو سیریز ہم نے حفیظ اور ملک کے بغیر کھیلیں اس میں دشواری آئی۔۔لہذا بار بار ملک اور حفیظ کی شمولیت ہوتی تھی۔۔ یہاں سے غلطی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔جب دونوں کے متبادل دستیاب نہیں تھے تو انکو لگاتار کھیلایا جاتا اور سیریز یا ٹورنمنٹ کے غیر اہم میچز میں ریسٹ دے کر کسی نئے کھلاڑی کو عین اس نمبر اور رول کے لیے تیار کیا جاتا۔۔

    صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں مڈل آرڈر کا ایک بھی جارحانہ اور سمجھدار بلے باز نہیں ہے۔۔۔اچھا بلے باز ہر نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن ہر کھلاڑی ایڈجسٹ کر لے ضروری نہیں ہے۔۔۔مسئلہ اوپننگ جوڑی کو چھیڑ کر بابر کو ون ڈاؤن کرنے سے بھی حل نہیں ہونا کیونکہ پہلی تین پوزیشنز ٹاپ آرڈر کی ہیں۔۔۔ہمارا اصل سر درد مڈل آرڈر ہے۔۔۔اس سردرد میں کچھ حصہ غیر معیاری سلیکشن,کچھ حصہ کھلاڑیوں کی غیر ذمہ داری, اور باقی حصہ بیٹنگ آرڈر مس منیجمنٹ کا ہے۔۔۔

    انگلستان کی طرف سے ہر میچ میں مڈل آرڈر نے پرفارم کیا۔۔بھارت کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی میں ساؤتھ افریقین مڈل آرڈر نے بتا دیا رنز کا تعاقب کیسے کیا جاتا ہے۔۔سری لنکا کو ایشین چمئین بنانے میں 50 فیصد حصہ مڈل آرڈر کا رہا۔۔۔سوریا کمار کی مثالیں دی جا رہی ہیں تو سوریا کمار بھی نمبر چار پر آ کر بلے بازی کرتے ہیں۔۔بلکہ سوریا, دنیش کارتک اور پانڈیا تینوں مڈل آرڈر میں پرفارمنسز دے رہے ہیں۔۔

    بابر کی کپتانی کبھی بہترین اور کبھی انتہائی بدترین درمیانی راہ نہیں ہے۔۔۔فائنل کا درجہ لیے میچ میں آؤٹ آف فارم خوشدل کو حیدر کی جگہ لانے کی سوچ سمجھ سے باہر تھی۔۔۔حیدر اور خوشدل دونوں ہی مسلسل ناکام جا رہے تھے لیکن فیصلہ کن میچ میں آپ اسی کھلاڑی کے ساتھ جائیں گے جو پہلے سے کھیل تھا اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر کھیلا تھا۔۔

    خوشدل کے لیے پرچی کے نعرے لگے جو کہ تکلیف دہ تھے۔۔۔ہوم کراؤڈ اگر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر خوشیاں منائے تو وہ زناٹے دار طمانچہ ٹیم منیجمنٹ کے منہہ پر ہے۔۔۔۔قصور ٹیم منیجمنٹ کا ہے جس نے آؤٹ آف فارم ڈراپ کھلاڑی کو فیصلہ کن میچ میں کھیلایا اور پھر 200 کے تعاقب میں نمبر چار پر اتار دیا جبکہ محمد نواز دستیاب تھے۔۔۔

    آصف علی کا ٹیلینٹ دو درجن گیندوں تک محدود ہو گیا ہے۔۔۔آخری اوورز میں باری آئے تو کچھ چھکے لگنے کے چانسز ہیں اگر باری 12ویں اوور تک آ گئی تو میچ کی صورتحال سے قطع نظر وہ اننگز نہیں جما پاتے ہیں حالانکہ وہ بطور "مستند بلے باز” کھیلتے ہیں۔۔
    شان مسعود جس فارم کو لے کر ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ کھو چکی ہے۔۔۔افتخار احمد پر شاید ٹیم منیجمنٹ کی ہدایات کا اثر ہے۔۔شاداب اور نواز کا بیٹنگ میں کیا رول ہے اس کا اللہ کے سوا ٹیم منیجمنٹ کو پتہ ہے۔۔۔۔دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم منیجمنٹ ضائع کر رہی ہے۔۔۔۔

    فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ بھی شاہین اور حارث نکال کر تشویشناک ہے۔۔۔شاہین انجری سے واپس آئیں گے ان پر دباؤ ہو گا۔۔نسیم شاہ بھی واپسی کریں گے۔۔۔۔وسیم جونیئر, حسنین اور دھانی وہ اسلحہ ہیں جو ملک اور دشمن کے لیے بیک وقت خطرہ ہے کسی طرف بھی چل سکتے ہیں۔۔

    اگر انہی چراغوں سے روشنی کرنی ہے تو ہر بلے باز کو ایک مستقل نمبر اور رول دیں۔۔۔ٹاپ یا مڈل آرڈر کے مستند بلے باز بہتر کھیلیں تو آخری اوورز میں زیادہ چھکوں کی آس نہیں رہتی ہے۔۔۔ البتہ کسی غیر معمولی صورتحال میں بیٹنگ آرڈر ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔۔

    اس سیریز میں نہ تو کھلاڑی ذمہ داری لینے کے موڈ میں لگے نہ ہی ٹیم منیجمنٹ کا کوئی پلان نظر آیا۔۔۔کسی کھلاڑی نے کوشش نہیں کی کہ مثبت ذہن سے کھیلے اور کسی مسئلے کا حل ثابت ہو۔۔

    نیوزی لینڈ میں شیڈول سیریز کے بعد ورلڈکپ میں جانا ہے۔۔۔اس سیریز میں مسئلے حل نہ ہوئے تو ورلڈکپ میں ہمیں فرشتوں کی مدد درکار ہو گی جو کم از کم ہمیں کیچز ہی پکڑ دیں باقی گزارا ایک دو کھلاڑیوں کے چلنے سے ہو جائے گا۔۔

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔

  • "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اور کردار سب سے اچھے ہوں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق اور کردار کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ نرم مزاج، ہمدرد اور معاشرے میں کسی بھی حیثیت کے باوجود ہر ایک کے لئے ہمیشہ مہربان تھے۔ حتیٰ کہ ان کے دشمن بھی اس کے کردار کی بہت زیادہ باتیں کرتے تھے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “مضبوط وہ نہیں ہے جو اپنی طاقت سے لوگوں پر غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ احسان سے نہ دو بلکہ اس سے بہتر چیز سے اس کی تلافی کرو۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔‘‘
    (بخاری ومسلم)

    “جب دو مسلمان ملیں گے، مصافحہ کریں گے اور ایک دوسرے سے مسکرائیں گے تو اللہ ان دونوں کو معاف کر دے گا۔” ( ترمذی)

    “ایمان میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری ومسلم)

    “سب سے پیاری چیزیں جن سے میرا رب اپنی تسبیح کرتا ہے وہ رحم اور شفقت ہے۔” (صحیح البخاری)

    “اپنے بھائی کے لیے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔” (ابو داؤد)

    ان احادیث سے ہم یہ سیکھیں گے کہ اچھے اخلاق ہمارے ایمان کا ایک اہم حصہ ہیں، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور کبھی کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہیے جس نے ہم پر ظلم کیا ہو۔ اس کے بجائے، ہمیں بہت زیادہ مہربان اور معاف کرنے والے بن کر ان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    جب ہم دوسروں سے ملتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مسکراہٹ اور مصافحہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ شائستگی کا یہ آسان عمل کسی کو قابل قدر اور تعریف کا احساس دلانے میں بہت آگے جا سکتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں، چاہے ہماری سماجی حیثیت یا معاشی صورتحال کچھ بھی ہو۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کا بہترین کردار تھا۔ وہ اپنی شفقت، ہمدردی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش آئے، چاہے ان کی سماجی حیثیت یا مذہب کچھ بھی ہو۔

    حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فصاحت و بلاغت کے انداز میں بھی مشہور تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا اور اس انداز میں بات کی جو سچائی اور مہربان دونوں تھی۔ ان کی تقریریں ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا ہوتی تھیں، بغیر کسی سخت یا جارحانہ انداز کے۔

    مجموعی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور شائستہ انداز نے انہیں اس وقت کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا۔ اور یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:

    ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے کپڑے کے ساتھ گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور شائستگی سے کہا، “معاف کیجئے، جناب، لگتا ہے آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان کو ٹھیک کرنے میں آپ کی مدد کروں؟” وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔

    ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور ان کے بالکل سامنے حاجت کی۔اعرابی کی بدتمیزی سے سب کو ناگوار گزرا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسی بات کہنے کے بجائے چھوڑ دوں گا جس سے اللہ ناراض ہو۔

    ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ضرورت ہے اور اس نے کہا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا چاہیئے. اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ لے لو اور اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدو۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنازے کے پاس سے گزر رہے تھے اور آپ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “کیا یہ کافی نہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں؟ ہم سب کو اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔”

    ایک دفعہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا چاہیے اور اس آدمی نے کہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ نبیؐ نے اپنی قمیص اتار کر اس شخص کو دے دی اور فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اس رقم کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرو۔

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست حیرت زدہ ہے یہ ملک میں کیا تماشا جاری ہے انتہائی حساس معاملات کو گلیوں‘ چوراہوں‘ جلسے‘ جلوسوں میں زیر بحث لایا جارہا ہے۔ کہانی سلیکٹڈ سے شروع ہو کر امپورٹڈ تک اور اب حساس ترین معاملات کو موضو ع بحث بنا کر کون سی خدمت سرانجام دی جارہی ہے؟ ملکی فضائوں میں سائفر ہی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ عالمی دنیا بھی حیران ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سیاستدانوں کو کیا ہوگیا سیاسی جنگ لڑتے لڑتے حساس معاملات پر لڑنا شروع کردیا۔ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

    مہنگائی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ صحت کے مسائل‘ گندگی کے مسائل و عوامی مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ پنجاب کی عوام پر تو دوہرا عذاب ہے ان کو ڈاکوئوں‘ چوروں‘ رسہ گیروں‘ قبضہ مافیا‘ لینڈ مافیا کے سپرد کردیا گیا ہے۔ مغلیہ دور میں محلوں میں خوشامدی اور مسخرے ہوا کرتے تھے آج کے دور میں سیاستدانوں کی خوشامد اعلیٰ پولیس افسران اور سول انتظامیہ کرتی ہے۔ منافع بخش پوسٹنگ کے لئے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنا‘ صرف سیاستدانوں کی ہاں سے ہاں ملانا ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر اور راولپنڈی جو حساس ترین شہر ہے جرائم میں اضافہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ پر سوالیہ نشان ہے؟ آئی جی پنجاب بھی بے بس نظر آتے ہیں

    مقتدر حلقے کو اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر فوری نوٹس لینا ہوگا ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کو جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہوتا ہے لیکن جب پولیس بے بس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بن جائے تو پھر مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ وطن عزیز کے سیاستدانوں کو سائفر سے فرصت ملے تو خطے کے حالات پر بھی توجہ دیں افغانستان میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے اثرات اس پورے خطے میں پڑ سکتے ہیں۔ پاک فوج کی ساری توجہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں بالخصوص افغان بارڈر پر ہے ملک میں سیاسی تماشے سے فرصت ملے تو امن و امان کی صورت حال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔

  • زومبیز — ریاض علی خٹک

    زومبیز — ریاض علی خٹک

    سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

    فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

    ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

    اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.

  • "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ربیع الاوّل ایک ایسا عظیم الشان مہینہ ہے ۔ جس میں تاریکی، روشنی میں بدلی۔اور جہالت ، تہذیب میں تبدیل ہوئی۔ ربیع الاول کی اس قدر فضیلت کی وجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ ہے۔ اسی ماہ یعنی ربیع الاول کی 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، پیغمبروں کے سردار، جنت کے سردار کے نانا، آقا کائنات، وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کائنات فانی میں بھیج کر نہ صرف مسلمانوں یا انسانوں، بلکہ کائنات کی ہر اک مخلوق پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات کیے ۔ ہمارے لیے ماں باپ بنائے۔ رشتے بنائے ۔

    پھر ان رشتوں میں ہمارے لیے پیار و احساس جیسے جذبات پیدا کیے۔ موسم ، رنگ برنگے پھول اور دل کو چھو لینے والی قدرتی حسن سے مالا مال جگہیں بنائیں۔پھر کھانے کے لیے کیا کیا نہ بنایا ۔یہ سب بڑے احسانات ہیں۔ مگر ان سب احسانوں سے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہمارے درمیان اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجنا ہے۔اس احسان کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

    لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍo (سورۃ آل عمران 3 : 164)

    ترجمہ: "بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔

    بلاشبہ عرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے گمراہی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چاروں جانب گناہوں اور جہالت کا اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ اچھائی کا ہونا ناممکن سا ہوگیا تھا۔ باپ ، بیٹے کا دشمن تھا۔ اور بیٹیوں کو باپ زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ رشتوں کی تمیز ختم اور خون سفید ہوچکے تھے ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے آکر ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے قابل بنایا۔ جہالت کو تہذیب اور اندھیرے کو روشنی میں ایسے بدلا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔ بیوی کو باندھی سمجھنے والے ، اسے نصف ایمان کا درجہ دینے لگے ۔

    بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی بجائے انھیں رحمت سمجھا جانے لگا۔یہ سب کیوں نہ ہوتا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور اسوہ اس قدر کامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن بھی آپ کی صداقت اور ایمانتداری کو سلام کرتے تھے ۔

    سلام اے آمنہ کے لال ‘ اے محبوب سبحانی
    سلام اے فخر موجودات ‘ فخر نوعِ انسانی

    سلام! اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
    سلام! اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

    سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    ربیع الاول کی آمد سے قبل ہی مسلمان اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں، دفاتر اور مساجد میں چراغ کیا جاتا ہے ۔گھر ،گھر ،گلی ،گلی روشن نظر آتی ہے ۔ مگر ربیع الاول میں جس ہستی کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں ۔ کیا اس ہستی کا پیغام ہمیں یاد ہے ؟۔ گھر تو روشن کر لیتے ہیں ۔ مگر دلوں میں نفرتیں، کدورتیں اور بغص ہی رکھتے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جہالت کے اندھیروں میں پھر سے ڈوبتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ماہ ربیع الاول کے پیغام کو فراموش کر کے ، اس ماہِ مبارک میں صرف گھر روشن اور جھنڈیاں لگانے شروع کر دی ہیں۔

    بیشتر لوگ اب بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ سارے واقعات رونما نہ ہوتے ۔اگر ہم نے ربیع الاول اور اس ماہِ مبارک میں پیدا ہونے والی ہستی کے پیغام کو روشن کیا ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے گھروں کو روشن کرنے کی بجائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو روشن کیا ہوتا تو آج کا یہ معاشرہ بہت بہتر ہوتا۔

  • لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    بائیس سال سے درس و تدریس سے وابستہ ہوں. ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے مختلف قومیتوں سے دن رات کا واسطہ رہتا ہے.ان دو دہائیوں میں پہننے اوڑھنے کے اطوار بہت بدل گئے ہیں. آپ اگر انٹرنیشنل لیول کے ادارے میں کام کرتے ہیں تو گمان غالب ہے کہ مغربی پہناوا زیادہ نظر آئے گا. عرب کلچر میں عبایا کے نیچے زیادہ تر مغربی لباس ہی پہنا جاتا ہے. اسی طرح ایشیائی غیر مسلم ممالک کی خواتین بھی زیادہ تر ویسٹرن وئیر ہی پسند کرتی ہیں. پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر جگہ دستیاب ہے اور دوسرا وہی ہماری ذہنی غلامی.

    جہاں تک میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے ہم پاکستانی خواتین ابھی تک اپنی اصل سے جڑی ہوئی ہیں. پاکستانی برانڈز کے خوشنما اور انتہائی ڈیسنٹ کپڑے. دلکش پرنٹس، نفیس کڑھائی اور پھر اس پہ بڑا سا دوپٹہ آپ کی شخصیت کو تمکنت اور وقار عطا کرتا ہے.

    عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ہر کپڑا، ہر فیشن سب کے لیے نہیں ہوتا. لیکن پاکستانی لباس کی خاص بات یہی ہے کہ وہ ہر جسامت، رنگت اور عمر کو سوٹ کرتا ہے. ویسٹرن کپڑے خاص جسامت کے لوگوں پر ہی اچھے لگتے ہیں. پہننے والے پہنتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو کیسے لگتا ہے وہ سب بتاتے نہیں. اس لیے لباس وہی پہننیے جو آپ کو سوٹ کرتا ہو آپ کی پسندیدہ ماڈل کو نہیں.

    اپنی اصل سے جڑے ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف پروقار لگتی ہیں بلکہ بطور ایک پاکستانی آپ اپنے کلچر کو پروموٹ بھی کر رہی ہوتی ہیں. اپنا تجربہ بتاؤں تو میری کولیگز اب کھاڈی، نشاط لینن، سفائر، جے ڈاٹ، گل احمد کے ساتھ سایا، ست رنگی، کیسریا اور ژیلبری کی بھی فینز ہو چکی ہیں.

  • خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو .تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو .تجزیہ :شہزاد قریشی

    مہنگائی،بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں اضافہ،ذمہ دار کون،تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی گلیاروں میں ان دنوں ہاہا کار مچی ہے۔ دھڑا دھڑ آڈیو اور ویڈیو سامنے آرہی ہیں۔۔ سیاستدان اسے ایک دوسرے کیخلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ اگر عمران خان جذباتی ہیں تو شہبازشریف بھی جذباتی انسان ہیں۔ ایک سابقہ وزیراعظم ہیں اور دوسرے موجودہ وزیراعظم۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ دونوں کی آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ ایک پورے لائو لشکر کے ساتھ مرکز میں حکومت کر رہے ہیں اور دوسرے صوبوں میں حکومت کر رہے ہیں۔ دونوں کو سیاست سے فرصت نہیں ملتی عوام کو چوروں، ڈاکوؤں، منشیات فروشوں، لینڈ مافیا کے سپرد کر گیا ہے۔ مرکز کی پولیس کو پروٹوکول اور عمران کے خلاف مقدمات بنانے کی فرصت نہیں جبکہ پنجاب میں من پسند ،سفارشی پولیس افسران کو تعینات کرنے میں عوام کو وزیراعلیٰ اور ان کے ہمنوا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

    راولپنڈی انتہائی حساس ترین شہر ہے یہ شہر بھی اب محفوظ نہیں دن دہاڑے، ڈکیتی، قبضے، سرعام منشیات فروشی۔ اس حساس ترین شہر کا مقدر بن چکی ہیں۔ انقلابی باتیں کرنا بہت اچھی بات ہے مگر ان باتوں کا عوام کیا کرے اگر قوم سکھ کا سانس نہیں لیتی تو ان انقلابی نعرے اور باتیں کرنے والوں کو اپنے انجام کی خبر ہونی چاہئے۔ پنجاب میں تھانوں کی بولیاں لگ رہی ہیں تجربے کار اور کرائم پر کنٹرول کرنے والوں کو پولیس لائن جبکہ سیاسی پشت پناہی اور ناتجربہ کار لوگوں کو ان کی من مرضی کے تھانوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان ہیروئن اور آئس کے عادی بن رہے ہیں۔ مہنگائی بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں بلاشبہ اضافہ ہو رہا تاہم پولیس کی بھی کوئی ذمہ داری ہے۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں بڑھتے ہوئے سنگین جرائم کو دیکھ کر یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ پنجاب حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ بلاشبہ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا علاج ممکن نہیں یہ مایوسی ہے اور مایوسی گناہ ہے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو روانہ کیا کہ وہ گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے دن رات ایک کریں گزشتہ رات گئے میں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں جاگ رہا ہوں اور کام کر رہا ہوں گزشتہ حکومت نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا تھا تھوڑا وقت درکار ہے امید ہے ملک کی معیشت بحال ہو جائے گی قوم مایوس نہ ہو قوم کے بنیادی مسائل اسی وقت حل ہونگے جب معیشت مستحکم ہوگی۔ قارئین خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو مایوس چہروں پر رونق دوبارہ آئے عوام سکھ کا سانس لیں۔ عوام کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی کی خرید و فروخت میں آسانی پیدا ہو۔