Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناؤ مہم چلا رہے ہیں۔جیسے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے ویسے ہی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ورنہ افسران اور گلی کے آوارہ لونڈے لپاڑے ایک جیسے نظر آنے لگیں گے۔
    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر شو آف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔تمہاری سیلف پروجیکشن محکمے کی عزت نہیں بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

    سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں،شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

    ایسے افسران کو نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے ان کی ویڈیوز بنا کر بےعزت کرنا۔ ہم آئے روز ڈرامہ دیکھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یہ سارا کچھ ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں، سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے کی جانی والی فنکاریاں اور جعل سازیاں ہیں۔ڈی پی او اپنے ایس ایچ او کو جبکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیلیدار اور پٹواری کو ایڈوانس ٹاسک دیتے ہیں کہ میرے آنے پر بہترین استقبال ہونا چاہئے اور پروفیشنل ویڈیو گرافرکو بلانا۔آپ غور کریے گا پھول پہنانے اور پتیاں پھینکنے والے سارے منشیات فروش،زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔

    گذشتہ دنوں ایک ایڈیشنل آئی جی ملنے آئے اور سوشل میڈیا کے ذکر پر انہوں نے اس بات کا اقرارکیا کہ فنکاریاں اور سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران نے ناصرف اپنے حلف سے روگردانی اور اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شرمسار کیا۔ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن میں سب سے زیادہ بدنامی اور عوامی نفرت پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سمیٹی۔لیکن بہت سارے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سول افسران پولیس سے زیادہ بڑے اور گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔انہوں نے اپنا موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھ کر بتائیں کہ یہ اسسٹنٹ کمشنر ٹھیک ہے،ویڈیو دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ سر یہ ہرگز اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہوسکتا۔کسی نے فیک اکاؤنٹ بنایا ہو گا ورنہ اسسٹنٹ کمشنر اس قدر واحیاتیاں کیوں کرے گا؟ کوئی بھی آفیسر اس قدر جاہل اور بے شرم تو ہونہیں سکتا، بیوروکریسی کا معیار اتنا بھی نہیں گر سکتا کہ ایسے گندے انڈے بھی آفیسر بن جائیں۔لیکن مجھے غلط ثابت ہونا پڑا کیونکہ یہ اسسٹنٹ کمشنر کا ذاتی اکاؤنٹ تھا۔ابھی میری حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے ایک خاتون کی ویڈیو دکھائی تو میں نے کہا کہ خواتین پر تنقید مناسب نہیں ویسے بھی کوئی مجبور عورت ہوگی جو سوشل میڈیا کے زریعے پیسے کمانا چاہتی ہے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سٹیج ایکٹریس نہیں بلکہ یہ بھی سرکاری ملازم ہے۔

    اگر سرکاری گاڑی اور پروٹوکول ساتھ نہ ہو تو سرکاری افسران سڑکوں اور چوراہوں پر جس طرح کی بیہودہ حرکتیں اور ایکٹنگ کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں انکو لونڈا لپاڑا سمجھ کر کسی سپاہی نے پکڑ کر تشریف لال کر دینی ہے بعد میں بتاتا پھرے گا کہ میں مراثی نہیں افسر ہوں۔بقول سنئیر افسران سیلف پروجیکشن والے ذہنی مریض ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے
    شہیدبھٹو اور نواز شریف نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا،انکی بے توقیری کرنے والے معافی مانگیں
    آج جو بچے جنگوں میں جانیں گنوارہے یا معذور ہورہے ،ان کا کیا قصور ؟دنیا آدھا نہیں پوراسوچے
    اقوام عالم کب تک جنگیں سہتی رہیں گی،کوئی تو آگے آئے اور یہ سلسلہ بند کرائے،دنیا امن چاہتی ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے،کوئی نہیں جانتا ایران اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہوگی، دنیا کی طاقتور قوتیں جو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہیں، دنیا بھر کے انسانوں پر رحم کریں، دنیا بھر کے انسان حالت جنگ میں رہنا پسند نہیں کرتے ،اگر دنیا بھر کے انسانوں سے سوال کیا جائے تو مجموعی طورپر عام شہری کی جنگ میں جانے کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو جہاں وہ رہتے ہیں آزادی سے رہنے کا حق ہونا چاہیے، جنگوں میں عام انسان مارا جاتا ہے اُن کے بچے مارے جاتے ہیں،عام انسانوں کی پکار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، عام انسان اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہے ،وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ذرا نہیں پورا سوچیے جو بچے جنگی علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں یا جابرانہ حکومتوں کی حکمرانی میں وہ بعد کی زندگی میں ہتھیار اٹھانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں،جنگی ماحول میں کوئی ڈاکٹر، انجنیئر ، سائنس دان نہیں بنتا، دنیا بھر کی فیصلہ ساز قوتیں انسانی دوستی کا پرچم بلند کریں ، آخر عام انسانوں کی کون سی خطا ہے جس کی اُن کو سزا دی جا رہی ہے ،عالمی دنیا کے حکمران مسلم ممالک ہوں یا امریکہ یا مغربی ممالک اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے باہر نکل کر سوچیں، غور کریں کہ مخلوق خدا کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ہو رہا، مشرق وسطیٰ کو جنگ کا میدان کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ اور مشرقی وسطیٰ جنگ کا میدان کیوں بن رہا ہے ؟ مشرقی وسطیٰ کے حکمران سوچیں اور غور کریں، ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں اور وسائل پر قبضہ کیا، ہر چند کے امن بہت اہم ہے ، انسان بہت مقدم ہے اور انسانیت بہت محترم ہے، مگر عالمی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے مضبوط دفاع لازم ہو گیا جو ہری طاقت کا حصول اہم ہو گیا آج عالمی غنڈہ گردی کو دیکھ کر ملک کی سیاسی لیڈر شپ یاد آتی ہے ،پاکستان کو عالمی غنڈہ گردی سے بچانے کے لئے ایک کردار بھٹو تھے ایک سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستان کے لئے جوہری قوت ضروری سمجھا جبکہ دوسرا نواز شریف جس نے ایٹمی دھماکے کئے، جنہوں نے بھٹو اور نواز شریف کی بے توقیری کی اُن کو آج ا پنے جرم کا اعتراف کرکے بھٹو کی مغفرت اور نواز شریف سے معافی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنا چاہیے

  • معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبروں، باتوں اور افواہوں کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع کی بدولت ہر شخص کی زندگی دوسروں کے سامنے ایک کھلی کتاب بنتی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق سچ مان لیں؟ اور کیا کسی کے بارے میں محض سنی سنائی بات پر تعلقات ختم کر دینا یا ان کی عزت اچھالنا درست ہے؟ہر گز نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ”(سورۃ الحجرات، آیت 6)

    یہ آیت ہمیں ایک واضح ہدایت دیتی ہے کہ کسی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ تحقیق کے بغیر کسی پر الزام لگانا، اس کی شخصیت کو بدنام کرنا یا اس سے تعلق ختم کر لینا ایک نہایت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

    ہم اکثر دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات جھوٹ ہو یا سچ کا فقط ایک پہلو۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے تعلقات کو خراب کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، دوری اور منافقت کو فروغ دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا”گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے”(صحیح بخاری)الزام تراشی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سچ سامنے آنے پر انسان شرمندگی کا شکار ہوتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔

    اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی کی خامی یا کوتاہی معلوم ہو بھی جائے، تب بھی ہمیں اس کا پردہ رکھنا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اس کی تشہیر کریں یا مزاق بنائیں۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا”(صحیح مسلم)،یہ عمل صرف نیکی ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ جب ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے تو ہماری اپنی عزت بھی محفوظ رہے گی۔

    کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز کے بارے میں ایک الزام سن کر فوری طور پر قطع تعلقی کرنا دراصل جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم بات کی حقیقت جانیں، فریقین کا موقف سنیں اور اس کے بعد ہی کسی رائے یا فیصلے پر پہنچیں۔بغیر تصدیق تعلق ختم کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی بار سچائی سامنے آنے پر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور تعلقات واپس جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور مہذب انسان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔عیب پوشی کریں، نہ کہ عیب جوئی۔تحقیق اور انصاف کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنیں، بگاڑنے کا نہیں۔

    تحریر:نور فاطمہ

  • اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اللہ رب العالمین نے قرآن الکریم میں فرمایا ہے ؛
    ترجمہ: ” ان (کافروں) سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا، اور ان پر تمہیں فتح دے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔”
    (سورۃ التوبہ – آیت 14)

    مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے ناصرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی محفوظ نہیں رہے۔ اسرائیل 2023ء سے لے کر 2025ء تک فلسطینی حمایتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کے کئی اہم ترین رہنماؤں اور اعلی قیادت کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ بلکہ لبنان، شام ،یمن،اردن اور ایران کی خودمختاری پہ بھی با رہا حملوں سے باز نہیں آیا ۔ جس میں اعلی قیادت و معصوم شہریوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    13 جون جمعہ کی علی الصبح بھی اپنی مجرمانہ فطرت سے مجبور دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پہ حملہ کیا۔ جس میں 200 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت شیراز، تبریز اور شمال مغربی ایران میں اہم جوہری و فوجی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے 9 اہم سائنس دانوں، اعلی فوجی قیادت جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ، ایرانی آرمی چیف جنرل علی باقری، ایران کے معظم ء اعلی سید علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی اہم کمانڈرز سمیت کئی معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حملوں میں ایرانی آئل ریفائنریز اور دنیا کی سب سے بڑی گیس ریفائنری پہ بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیل کے اس دہشت گردانہ فعل پہ تمام مسلم اُمہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں غم و غصہ کی شیدید لہر ڈور گئی۔ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کو ایران کی خودمختاری و خطے کی سلامتی و سالمیت پہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ۔ اور بھرپور انداز میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی میں ایران کی حمایت اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی باقاعدہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔

    مسلم دنیا میں ایران واحد اسلامی ریاست ہے۔ جو غزہ میں جاری اسرائیلی بیہمانہ جارحیت پہ نظریاتی و عملی طور پہ مسلسل علمِ حق بلند کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس پہ اپنا ایک واضح و اٹل موقف اور دلیرانہ مزاحمتی جہدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ایران نے کبھی امریکی و اسرائیلی گھٹ جوڑ کے دباؤ کو اقتصادی و تجارتی پابندیوں کی صورت جھیلا ۔ تو کبھی اپنے اہم رہنماؤں کی شہادتیں دیکھیں۔ مگر ایرانی استقامت و عزمِ حریت میں کبھی کوئی لغزش نہ آ سکی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مسلم اُمہ میں ایران اور ایرانی سپریم لیڈر محترم سید علی خامنہ ای کو قدر و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اگر ہم حالات و واقعات کا بغور جائز لیں۔ تو واضح نظر آتا ہے۔ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو شہ کس کی حاصل ہے۔”نو وار” (کوئی جنگ نہیں) کے سلوگن سے اقتدار پہ براجمان ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے بظاہر پر امن ہونے کا لبادہ اوڑھا۔ اور پچھلے دنوں مشرقِ وسطیٰ کا کچھ مبہم سا دورہ بھی کیا۔ طویل عرصہ سے خطے کے دہشت گرد ملک اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی آزادی کی بات بھی کی ۔ مگر صرف "بات” ہی کی۔ ورنہ تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بندش کے لئیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی کسی بھی قرارداد کو امریکہ ہی پاس نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے پرامن ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے ۔ ایران کو بھی مذکرات کی پیشکش کی ۔ جسے ایران نے قبول بھی کر لیا۔

    انہی مذاکرات کا سلسلہ پیر سے عمان میں شروع ہونا تھا۔ اب اگر مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔ تو اسرائیل کے کے پاس حملوں کا کیا جواز بنتا تھا۔ یعنی آپ ایک ہی وقت میں وقت و مقام طے کر کے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ۔ کہ کفار کا پلان تیار تھا۔ اور محض مذاکرات کا جھانسا دے کر اپنے پلان پہ عمل کیا گیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے ۔ کہ امریکہ نےاسرائیلی جارحیت سے دو دن قبل سے ہی مشرقِ وسطی سے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو انخلاء کی ہدایات جاری کی تھیں۔ امریکہ نے بظاہر ایران پہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا۔ مگر ساتھ ہی اسرائیل کا ناصرف ساتھ دینے کا واضح عندیہ دے دیا ۔ بلکہ ایران پہ دھمکیوں کی بوچھاڑ بھی کر دی گئی۔ کہ اس سے پہلے کچھ نہ بچے ایران اسرائیل سے معاہدہ کرلے ۔ ورنہ مستقبل میں ہونے والے حملے اور بھی وحشیانہ ہوں گے۔ یعنی کفار کے گھٹ جوڑ نے حالات و واقعات ایسے بنا دیئے ۔ کہ ایران مذکرات سے ہاتھ اٹھا لے۔

    اگر اس پورے منظر نامے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ ایران کے خلاف کفار کا یہ شیطانی اتحاد محض اس لیے قائم ہے۔ کہ ایران نے مسلم اُمّہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک واضح اسلامی و دینی عقیدے کی بنیاد پر صیہونی جارحیت کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا، اور باطل کی تمام تر دھمکیوں، سازشوں اور اتحادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

    ایران پہ صہیونی جارحیت کے بعد ایرانی شہر قم کی مسجدِ جمکران (Jamkaran Mosque) کے گنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے انتقامی پرچم یا "علامتِ انتقام” قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مردِ آہن محترم سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے لئیے تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور بدلہ لینے کا واضح عندیہ دیا۔ جس کی توقع ناصرف ایرانی بلکہ ہر مسلمان کر رہا تھا۔
    سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "وعدہِ صادق 3″( الوعد الصادق-3) کے نام سے اسرائیل پہ آپریشن آغاز کیا ہے۔ ایرانی بلیسٹک میزائلوں نے تل ابیب کو روشنیاں گل کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔
    ایران نے اپنے دفاع میں جو قدم اٹھایا ہے۔ بلکل درست اٹھایا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل مسلم ممالک کی خود مختاری میں مسلسل دخل اندازی کرتا آیا ہے۔ خود دہشت گرد صہیونی قابض ریاست ، موساد کی ایران میں موجودگی کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایسی دہشت گرد ریاست اور اس کے دہشت گرد حکمرانوں کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ صہیونی صدر نتین یاہو کا ذہن جنگی جنون میں مفلوج ہو چکا ہے۔ جو مکمل امریکی پشت پناہی میں اقوامِ متحدہ کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس وقت مسلم اُمہ کو کفار کے اس گھٹ جوڑ کے خلاف متحد ہونے اور ایک متفقہ موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
    اور آخر میں جنرل باقری آپ کی شہادت کا دلی دکھ ہوا۔۔۔۔۔
    بطور مسلم و پاکستانی ہم ہر طرح سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ رب العزت تمام ایرانی شہداء کے درجات بلند فرمائیں۔ اور ایران کو کفار کے خلاف فتح یاب فرمائیں۔
    اللّٰهُمَّ انصُرِ الإسلامَ والمسلمينَ۔
    آمین اللھم آمین

    یہ درس کربلا کا ہے
    کہ خوف بس خدا کا ہے

  • جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفادات کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ کتنے دن گذر گئے ایران اسرائیل جنگ کو عالمی قوتیں اور دیگر ممالک خاموش ہیں۔ انسانوں کو آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ کر بھی عالمی قوتوں اور دیگر عالمی حکمرانوں کی خاموشی کے پیچھے مفادات ہی تو ہیں۔ اس سے قبل غزہ ، روس،یوکرائن ، کشمیر اوردیگر دنیا کے وہ ممالک جہاں انسانوں کو آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رکھیئے یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، انسانوں کے بسنے کے لئے یہ زمین خدا پاک نے بنائی۔ انسانوں پر کسی طاقتو رکا ظلم اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں ، و ہ پاک ذات انسانوں پرظلم برداشت نہیں کرتی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے دونو ں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے قبل یمن ،لبنان ، شام و انسانوں کے قتل عام سے عالمی قوتیں آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے کس کام کے ؟ امریکہ ، چین ، روس اور دیگر عالمی قوتیں کس کام کی ؟ ان کو بے گناہ انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، عورتیں شامل ہیں ، ان کی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی ؟ مشرق وسطی کو موت ، تباہی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کی جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ دونوں کو میز پر بٹھا سکتا ہے مذاکرات کروا سکتا ہے ۔دونوں کی چابیاں ٹرمپ کے پاس موجود ہیں۔ ٹرمپ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچا سکتا ہے۔ اُمید ہے امریکی صدر انسانی ہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ بقول( ساحر لدھیانوی)؎
    خون اپنا ہویا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرقی میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر

    عالمی قوتیں امریکہ ہویا چین دیگرممالک اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر تیسری عالمی جنگ سے محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یورپی طاقتوں کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے زورد ینا چاہیئے۔ آج دنیا کوتباہ کن انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اور ماحولیاتی نتائج کے ساتھ خطرناک تصادم میں لپیٹنے کا خطرہ ہے۔ اقوام عالم اپنا کردارا دا کرے ۔ مسلم ممالک جذباتی نعروں سے نکل کر علم اور عمل کے راستوں کا انتخاب کریں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ماہِ جون کے آغاز کیساتھ ہی عوام کی نظریں نئے مالی سال کے بجٹ پہر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بجٹ دراصل ایک ایسا میزانیہ ہے۔ کہ جس میں نئے مالیاتی سال کے لئیے تمام تر اخراجات اور کلی آمدنی کے بارے میں تخمینہ سازی کی جاتی ہے۔ اور آمدنی کو مختلف ملکی شعبہ جات کے لئیے مختص کیا جاتا ہے۔
    امسال بھی پاکستان کا وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کی شنوائی تھی۔ جسے آئی۔ایم۔ایف سے کچھ اہم معاملات طے نہ ہونے کے سبب اجازت نہ مل سکی ۔ جس کی وجہ سے نیاء مالیاتی بجٹ تاخیر سے 10 جون 2025 کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں قائدِ ایوان میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔ حسبِ معمول اپوزیشن کا ہنگامہ بھی جاری رہا ۔ اور وزیرِ خزانہ اپنا کام کر کے روانہ ہو گئے۔

    اس بجٹ میں عوام کو حقیقت میں ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یا محض اعدادوشمار سے بہلا کر مطمئن کر دیا گیا ؟ جائزہ لیتے ہیں۔
    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کا مالی سال 26ـ2025 کے لئیے 17573 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں گروس فیڈرل آمدن کا ہدف 19298 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نیٹ فیڈرل ریونیو کا تخمینہ 11072 ارب روپے اور اس طرح بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے یعنی ٹوٹل GDP کا 5٪ ہے ۔ ایف ۔بی ۔آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14130 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ قرضوں اور ان پہ سود کی ادائیگی کے لئیے قریبا آدھے سے زیادہ بجٹ کا حصہ یعنی 8207 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

    تنخواہ در و پنشنر طبقہ جو اسوقت مہنگائی کے بوجھ تلے سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کئیے بیٹھا تھا۔ اس کو یہ ریلیف دیا گیا۔ کہ فیڈرل ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ کیا گیا پے۔ جبکہ پنشن میں اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط ء زر کی شرح سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ تخمینے میں افراطِ زر کی شرح 7.5 فی صد رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فی صد ہی ہے۔؟؟ گراؤنڈ رییئیلٹیز تو بہت آگے کی بات کر رہی ہیں۔ پیش کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پنشنز میں 7 ٪ اضافہ انتہائی کم ہے۔ مزید نئی پنشن اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں ہیں۔ جن کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد فیملی پنشن 10 سال تک محدود کرنا اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایک سخت فیصلہ ہے۔ جب کہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ اور ری ٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ،ملکی خزانے کے لئیے بہتر تجویز ہے۔

    تخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو 10 ٪ اضافہ بہت ہی کم ہے۔ اس مہنگائی میں کم سے کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہ کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ اور وجہ صنعت کو ریلیف دینا بتایا گیا۔ مگر یہ کیسا ریلیف ہے۔ جو صنعتوں کو غریب مزدور و محنت کش سے دلوایا جا رہا ہے۔!!
    وہی ایوان کہ جہاں یہ بجٹ پیش کیا گیا اور جس کی سربراہی اسپیکر صاحب کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ان کی اپنی اور چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور 2 لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ کر دی گئیں ہیں۔ کیا مہنگائی صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لئیے ہی پریشان کن ہے۔؟ یا تنخواہوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت صرف انہی کو ہے۔؟؟؟ یا پھر ملازمین و پنشنرز کے صبر کا درجہ زیادہ ہے۔ یا پھر قربانی کی توقع صرف اسی طبقے سے ہی ہے۔ !!!

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے۔ "انفراسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے۔ کرنا مشکل ۔” اور آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔ مزید ایچ ۔ای ۔سی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئیے بھی 1 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ جبکہ ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لئیے 70 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچرل ریفارمز مشکل ضرور ہوتی ہیں۔ مگر کرنا لازم ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی کی طرف آپ تبی جا سکتے ہیں۔ جب آپ کا انفراسٹرکچر بہتر ہو گا۔
    ارکانِ پارلیمان کے جو ہر سال فنڈز مختص کئیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپمنٹ بھی نظر آنی چاہئیے۔ مگر فنڈز کہاں جاتے ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں نہیں بہتر ہو رہا ، یہ نہیں معلوم!!

    ہیلتھ کی بات کی جائے تو اس کے لئیے 14.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جو کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مشترکہ منصوبوں کے لئیے ہیں۔ جبکہ کوئی بھی نیا منصوبہ یا پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
    تعلیم اور صحت کسی بھی ملک کے اہم شعبہ جات ہیں۔ ان کی ترقی و بہتری کے نئے منصوبے شروع کرنا اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔

    اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے ۔ تو ٹیکسوں کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔ اور 600 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ۔312 ارب روپے کے براہ راست نئے ٹیکس نافذ کئیے جائیں گے۔ سولر پہ 18 فی صد درآمدی ٹیکس ،فون پہ 25 فی صد ، فروزن اشیاء چپس ، آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس پہ 5 فی صد ایکسائز ڈیوٹی ،ای کامرس پہ 18 فی صد ٹیکس جبکہ پیٹرول پر 2.50 فی لیٹر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بجلی کے سرچارجز میں اضافہ کی کی بھی تجویز ہے۔ یعنی جنرل سیل ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کا بوجھ متوسط و نچلے طبقے پہ پڑے گا۔ ایک طرف صنعت میں گروتھ بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ تو دوسری طرف انرجی و پیٹرول پہ محصولات لگا کر
    قیمتیں بڑھائی جا رہیں ہیں۔ جب صنعت کے لئیے بجلی و پیٹرول ہی مہنگا دستیاب ہو گا۔ تو لازم عنصر ہے۔ کہ پیداوار بھی مہنگی ہو گی۔ جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا۔

    عام پروفٹ آن ڈیٹ (Profit on Debt)، یعنی بینک ڈپازٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 20% کر دی گئی ہے ۔ مزید انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے لئیے
    Artificial Intelligence Audit Selection System
    کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس کی شرح 0.6٪ سے بڑھا کر 1٪ کر دی گئی ہے۔ جس سے روزانہ کے لین دین کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مزید میزانیہ 26ـ2025 میں زراعت کا حجم 4.5 ٪ رکھا گیا ہے۔ مگر زرعی آلات ، بیج و فرٹیلائزرز پہ GGT کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کے لئیے نئی اصلاحات بھی نہیں جاری گئیں۔ جو اس وقت کی ضرورت ہیں۔ جیسے زرخیز زرعی زمین کی بے دریغ فروخت اور اس پہ رہائشی کالونیوں کی کنسٹریکشن کی روک تھام وغیرہ۔

    اس وقت پاکستان میں افراطِ زر کیساتھ تعلیمی یافتہ و سکلڈ بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اور برین ڈرین کی وجہ بن رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں قریباً 727,000 افراد جبکہ 2لاکھ ہنر مند و پڑھے لکھے افراد نے وطن کو خیر آباد کہہ دیا۔ مگر بجٹ میں نہ تو پڑھی لکھی افرادی قوت کو کھپانے کی کوئی تجویز زیر ء غور آئی ۔ نہ ہی برین ڈیرین کے خاتمے کے لئیے کوئی منصوبہ بتایا گیا۔
    پورے بجٹ کا جائزہ اور ادارہ شماریات کی رپورٹس بتا رہی ہیں۔ کہ قریباً تمام ضروریاتِ زندگی پہ ٹیکس لگا ہے۔ اور اشیاء عوام خاص طور پہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ درحقیقت جو افراطِ زر کے حالات ہیں اس کے مطابق عوام بلخصوص تنخواہ دار و پنشنر طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا۔

  • اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    ایران میں اس بار سائنسدانوں کی شہادت

    دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے حساس شخصیت -ایرانی آرمی چیف کی شہادت، پھر دیگر کمانڈرز…
    کیا یہ سب اتفاق ہے؟
    نہیں! دشمن کو کہیں نہ کہیں سے اندر کی مدد مل رہی ہے
    اور جب دشمن کو اندر سے مدد ملے، وہ ناقابلِ شکست ہو جاتا ہے

    اسرائیل اور امریکہ کی نظریں صرف ایران پر نہیں…
    بلکہ پورے عالم اسلام پر ہیں!
    اور اس بار جنگ ہتھیاروں سے نہیں، ٹیکنالوجی سے ہو رہی ہے

    آپ کے ہاتھ میں جو فون ہے
    وہی دشمن کی سب سے بڑی آنکھ ہے
    GPS… لوکیشن… کال ڈیٹا… سب کچھ شیئر ہو رہا ہے
    گوگل، ایپل اور AI سسٹمز دشمن کے ہتھیار بن چکے ہیں

    آپ کا فون آپ کا دشمن بھی ہو سکتا ہے
    خاص طور پر جب آپ دشمنوں کے نشانے پر ہوں
    آپ کی حرکتیں، نشست و برخاست، حتیٰ کہ سانسوں کی گنتی تک محفوظ کی جا رہی ہے

    لیکن صرف خطرہ صرف موبائل نہیں…
    اصل خطرہ ارد گرد کے غدار بھی ہیں
    جو اپنوں کے روپ میں دشمنوں کے سہولت کار بنے بیٹھے ہیں ،یہی لوگ اتنے حساس لوگوں کی شہادتوں کے راستے کھولتے ہیں…

    وقت آ گیا ہے کہ ایران سمیت ہماری اسلامی حکومتوں کو بھی آنکھیں کھولنی ہوں گی!اپنے موبائلز پر بھی شک کرنا ہو گااور اپنے اردگرد کے "میٹھے دشمنوں” کو پہچاننا سب سے ضروری ہے

    اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غداروں، ٹیکنالوجی کے جال،اور دشمنوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھے — آمین

  • قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب ٹریفک پولیس کی لاقانونیت اور فاشزم پر نہیں لکھنا کیونکہ انکو اثر تو ہونا نہیں اور اس ٹاپک پر بار بار لکھ کر میں خود بھی اکتا چکا ہوں۔
    جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے پنجاب ٹریفک پولیس100 ارب ماہانہ کے قریب کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی "ایزی منی” اور "پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے.
    میرے کالم کی وساطت سے طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ٹریفک پولیس کے رویوں کی شکایت کرتے ہوئے وارڈنز کو باڈی کیم لگانے کی تجویز دی تھی اور ساتھ یہ بھی گزارش کی تھی کہ ٹریفک وارڈن کو طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی اندراج سے روکا جائے۔ طلبہ کی اپیل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اگلے ہی دن وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک مینجمنٹ پر میٹنگ کال میں ٹریفک وارڈنز کے رویوں میں بہتری اور فوری طور پر باڈی کیم لگانے کا حکم دیا تھا۔
    سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو دوست الیکٹریکل انجینئرحمزہ اور انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کرنے والا شیراز سی ایس ایس کرنے کا خواب لیے امتحان کی تیاری کیلئے لاہور مقیم ہیں۔
    مڈل کلاس خاندان کے یہ بچے سستا ڈنر کرنے کیلئے مزنگ پراٹھے کا رخ کرتے ہیں اور مزید بچت کیلئے مزنگ پراٹھا کے ساتھ عابد مارکیٹ کارنر والے کھوکھے سے کولڈ ڈرنک لینے کیلئے گئے تو چند میٹر کا رانگ وے اختیار کرنے پر ٹریفک پولیس نے ایف آئی آر دے دی۔ رانگ وے پر چالان کی سہولت موجود ہے تو ایف آئی آر کا اندراج لازم کیوں؟ جب طالب علم درخواست کرتے رہے کہ ہم بوتل لینے آئے ہیں غلطی ہوگئی تو انہیں جرمانہ کرکے بھی سبق دیا جاسکتا تھا کہ نا کہ ایف آئی آر کرکے بچوں کا ریکارڈ کالا کرنا ضروری تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔ لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟ اسی عابد مارکیٹ کا جائزہ لے لیں، ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں، یہی صورت حال باقی لاہور اور پورے پنجاب کی ہے۔

    ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔
    اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
    آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ وزیراعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام ٹریفک اہلکاروں کو باڈی کیم لگائے جائیں اور انسپکٹر سے نچلے رینک تک دوران ڈیوٹی سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنا نمبر پلیٹ رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف بھی بلا تفریق کاروائی کا حکم صادر کیا تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے حکم کے باوجود بلانمبر پلیٹ پبلک و پرئیویٹ نمبرز کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی وجہ وہی ہے کہ کاروائی نہ کرنے کے بدلے ہزار روپے فی رکشہ و دو ہزار روپے مزدہ بس ملتا ہے جبکہ کاروائی کرکے ریگولر کمائی کا خاتمہ۔ میڈم وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ ایک سال سے زائد عرصہ سے آپ ٹریفک پولیس کی منتیں ترلے کرکے اپنا وقت ضائع کرتے رہے اور یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ چوری، ڈکیتی، اغوا، قتل و دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ ہر طرح کی مبہم و بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا اختیار پولیس اور سی سی ڈی کو دیا جائے کیونکہ بغیر شناخت سڑک پر آنا بھی سنگین جرم اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔

    گزشتہ آرٹیکل میں فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے ذکر کیا تو سینکڑوں شہریوں نے کیمیکل ملے جعلی دودھ، مردہ جانوروں کے گوشت اور ایکسپائر اشیاء کی سر عام فروخت پر فوڈ اتھارٹی کی لاپرواہی، ملاوٹ اور گراں فروش مافیا کی سرپرستی کی شکایات کے دھیڑ لگا دیے۔
    وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مزید فعال اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپلینٹ سیل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہر محکمے کے خلاف شکایات کیلئے بیوروکریسی کی بجائے ریٹائرڈ آرمی افسران یا نئے سول افسر بھرتی کیے جائیں جو ایمانداری سے وزیراعلیٰ تک رپورٹ پہنچائیں نہیں تو وہی ہوگا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ بیج میٹ اور سنئیر افسر کی وجہ سے شکایات ردی کی ٹوکری کی نظر ہوجائیں گی۔
    ملک سلمان