Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    فلسطینی مزاحمت کا ایک واقعہ جو دنیا کو بتا گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان اور قربانی میں ہے

    مغربی میڈیا اسرائیلی فوج کو دنیا کی ناقابل شکست قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو ٹیکنالوجی، اسلحے اور تربیت میں بے مثال ہے۔ لیکن فلسطینی سرزمین پر جب حقیقت کھلتی ہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح گر جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیلی فوج کی کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوتی ہیں بلکہ ان کی بزدلی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔

    یہ بات سب سے زیادہ اس وقت آشکار ہوئی جب ایک اکیلا فلسطینی فائٹر اسرائیلی فورس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ یہ نوجوان نہ کسی بکتر بند گاڑی پر سوار تھا، نہ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بلکہ ایک کلاشنکوف جو شاید AMD-65 ہے جو کہ ہنگری کی بنائی ہوئی AKM کی ہی ایک شکل ہے اور شاید ایک AGS-17 گرنیڈ لانچر ہے جو روسی تیار کردہ ہے اور گاڑی وغیرہ پر نصب ہوتا ہے۔ اس کے پاس صرف ایمان، غیرت اور عزم کا سرمایہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے پیدل دستے بار بار اس پر ٹوٹ پڑے، لیکن وہ انہیں ناکام بناتا رہا۔ آخرکار جب فوجی دستے بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک ڈرون کے ذریعے اسے نشانہ بنایا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسرائیلی فوج کو دو بدو مقابلے کا حوصلہ نہیں، وہ صرف فاصلے سے وار کر سکتی ہے۔

    اسی مزاحمت کی روح کو فلسطین کے عظیم شاعر محمود درویش نے اپنے کلام میں بیان کیا:
    «أُحِبُّكَ يا وَطَنِي فَإِنَّ مَسْمَعِي وَمَنْظَرِي
    لَوْلَا الدِّمَاءُ لَمَا تَمَّ الطَّهَارَةُ وَالجِدُّ»
    محمود درويش، قصيدة: على هذه الأرض ما يستحق الحياة
    یہی وہ خون ہے جو فلسطینی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ اسرائیلی فوج صرف نہتے شہریوں کے خلاف طاقت دکھاتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی فضائی بمباری کا نشانہ بنتے ہیں، زمینی لڑائی میں نہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج براہِ راست لڑائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ اور فلسطینی مزاحمت کار بھی اکثر و بیشتر بلکہ 99 فیصد فضائی کارروائی میں ہی شہید ہوئے ہیں۔
    7 اکتوبر اس بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب اسرائیلی فوج چھ گھنٹے تک ردعمل نہ دے سکی۔ ان کی حکمتِ عملی محض فضائی حملوں پر مبنی تھی، اور جب زمین پر سامنا کرنا پڑا تو ان کے سپاہی لڑکھڑا گئے اور پسپا ہو گئے۔ طاقتور فوج کا یہ پروپیگنڈا محض ایک فریب ہے جو سرمایہ اور میڈیا کے زور پر دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔
    اسی حقیقت کو محمود درویش نے غزہ کے بارے میں کچھ یوں کہا:
    «غَزَّةُ بَعِيدَةٌ عَنْ أَقَارِبِهَا وَقَرِيبَةٌ مِنْ أَعْدَائِهَا
    لِأَنَّهُ مَتَى تَفَجَّرَتْ غَزَّةُ صَارَتْ جَزِيرَةً وَلا تَكْفُّ الانْفِجَارَاتُ»
    — محمود درويش،
    ترجمہ: "غزہ اپنے رشتہ داروں سے دور مگر دشمنوں کے قریب ہے، کیونکہ جب غزہ پھٹتا ہے تو ایک ایسا جزیرہ بن جاتا ہےجس کے دھماکے تھمنے کا نام نہیں لیتے”

    یہ اشعار اس حقیقت کا عکس ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر جب بھی ایک دلیر مجاہد کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔ اس اکیلے مجاہد کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
    وہ اکیلا مجاہد دراصل پوری قوم کی مزاحمت کا چہرہ ہے۔ اس نے دنیا کو بتا دیا کہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ محض کھوکھلے دعوے ہیں، اصل طاقت ایمان، قربانی اور سچائی ہے۔ اسرائیلی فوج جب بھی کسی بہادر اور سچے حریف کا سامنا کرتی ہے تو اس کے مصنوعی دعوے اور پروپیگنڈا ریت کی طرح بکھر جاتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو فلسطین کی ہر گلی، ہر بچہ اور ہر شہید دنیا کو سناتا ہے: ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت کی روشنی اسے آخرکار شکست دے کر رہتی ہے۔

  • بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام عالم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان نے اگر بھارت سے جنگ جیتی جہاں پاک فوج کا کردار تھا وہاں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن حیران کن حد تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ہے۔ آخر یہ پاکستان، جمہوریت اور عوام سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔ برطانوی راج میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا کلیکٹر کے پاس انتظامی عدالتی اور پولیس تینوں طرح کے اختیارات تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نو آبادیاتی نظام آسانی سے چل سکے رعایہ پر قابو رکھا جائے اور بغاوتوں کو دبایا جا سکے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں یہ نظام جاری رہا لیکن بعد میں 2001 میں پولیس آرڈر اور لوکل گورنمنٹ اصلاحات کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا۔ انگریز کا نظام بنیادی طور پر عوامی نمائندگی نہیں کرتا تھا بلکہ نو آبادیاتی کنٹرول کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے کچھ بیوروکریٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ عدالتی اختیار ملیں لیکن وکلا کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ سمیت زیادہ تر جمہوری ممالک نے انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے وہاں پولیس، میئر یا منتخب مقامی حکومت کے ماتحت ہے نہ کہ کسی بیوروکریٹ یا مجسٹریٹ کے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط ڈھانچہ برطانیہ سمیت دیگر جمہوری ممالک میں بنایا گیا مجسٹریٹی نظام نو آبادیاتی اور غیر جمہوری تھا۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اداروں کی علیحدگی شفاف، احتساب اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ پرانا غلامی والا ڈھانچہ واپس لانا۔ نظام کی ساخت سے زیادہ عمل درآمد اور نیت کا ہے اگر پولیس اور عدلیہ کو آزاد اور جواب دے بنایا جائے تو مجسٹریٹی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

    حیرت انگیز طور پر 2024 میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا مجسٹریٹی نظام ختم کرنے کا بل دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے باوجود ایوان صدر جاتے ہوئے گم کر دیا گیا جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ پارلیمنٹ ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کو باز پرس کرنی چاہیے کہ وہ بل کہاں گیا۔ سن 1973 کے متفقہ آئین میں بھی مجسٹریٹی نظام ختم کرنے پر اتفاق ہوا مگر ہر دور میں بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ بیوروکریسی اخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو اور اس قوم کو جس میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں دوبارہ غلامی کے دور میں کیوں جانا چاہتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر تمام محکموں کی سربراہی ان کے پاس ہے اور ان محکموں کا جو حال ہے وہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی معلوم ہے۔ آذاد کشمیر میں آج حالات خراب ہیں وہاں مجسٹریٹی نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سابقہ فاٹا میں ڈی سی جج ہوا کرتا تھا اور پولیس بھی تھی مگر وہاں کی آگ فوج نے اپنے خون سے بجھائی۔ سوال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام وہاں کیا کرتا رہا؟ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ ڈی سی کے مکمل کنٹرول میں ہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں وہاں بھی اگر پاک فوج نہ ہو تو سوچیے کہ پھر کیا ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی مجسٹریٹی نظام ہے ذرا غور سے سوچیے کہ اسلام آباد کے کیا حالات ہیں زیادہ پیچھے جائیں تو اسی مجسٹریٹی نظام کے دور میں امریکی سفارت خانے پر ایک ہجوم چڑھ دوڑا اور یہ واقعہ سن 1979 کا ہے اور 1989 کا حملہ اسی مجسٹریٹی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے کیونکہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بیوروکریسی کا ایک گروپ مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک آذاد مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پولیس کو پروفیشنل بنائیں۔ پاکستان کے قریبی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے شہروں میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بیوروکریسی کا گروپ اب پنجاب اور سندھ میں حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے ذمہ داران ریاست پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومت اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ مشرق و مغرب کی صف بندیاں بدل رہی ہیں، طاقت کے مراکز نئی کروٹیں لے رہے ہیں، اور ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض الفاظ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک فولادی ڈھال، ایک روشن مینار اور ایک ایسا پیمان ہے جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کوئی معمولی سفارتی تعلقات نہیں، یہ دو دلوں کی دھڑکن، دو روحوں کا امتزاج اور ایمان کی خوشبو میں بسا ہوا وہ تعلق ہے جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے دن سے ہی لہلہانے لگیں۔ سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ہر کڑے امتحان میں ریاض نے اسلام آباد کا ہاتھ تھاما۔ چاہے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا خون آشام منظرنامہ ہو، یا 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کا کڑا طوفان، سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی بن کر ساتھ دیا ہے۔

    ادھر پاکستان نے بھی ہر لمحہ یہ ثابت کیا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی سپاہی جب مکہ اور مدینہ کے ذکر پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں تو دنیا جان لیتی ہے کہ یہ تعلق سود و زیاں کا نہیں، بلکہ عقیدت ،محبت اور ایمان کا رشتہ ہے۔
    آج جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے عزائم بڑھ رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے سرگرم ہیں، ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز اعلان ہے۔ یہ صرف عسکری معاہدہ نہیں، بلکہ پوری مسلم امہ کے اجتماعی دفاع کی صدا ہے، ایک ایسی صدا جس کے پیچھے کروڑوں دلوں کی دعائیں اور جذبے شامل ہیں۔
    پاکستان اپنی ناقابلِ تسخیر فوج، ایٹمی قوت اور بے مثال جنگی تجربات کے ساتھ سعودی عرب کے لیے فولاد کا بازو ہے۔ اور سعودی عرب اپنی تیل کی دولت، مالی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ساتھ پاکستان کے لیے معاشی سہارا اور سفارتی پشت پناہ ہے۔ یہ دو بازو جب ملتے ہیں تو امتِ مسلمہ کا ایک فولادی حصار تشکیل پاتا ہے جسے توڑنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔
    قارئین! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ (7 مئی تا 10 مئی) میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ صرف دفاع نہیں بلکہ جارح دشمن کو اس کی سرزمین پر جا کر جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارت اور شجاعت سے بھارت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی محض عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان خطے کی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
    اس شاندار فتح کے پیچھے فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی حکمتِ عملی، جرآت مندانہ فیصلے اور آپریشنل ہم آہنگی کارفرما تھی۔ ان کی قیادت نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ایک لڑی میں پرو دیا اور دشمن کی چالوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ یہی بصیرت سعودی عرب کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
    یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ایران، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ آئیں، امتِ مسلمہ ایک مشترکہ سلامتی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ اگر ہم نے اس اتحاد کو مضبوط کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
    گزشتہ برسوں میں دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرا ہوا اور معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنستا ہوا ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر آج وہی دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ سب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی متوازن قیادت کا ثمر ہے جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کا عہد ہے۔ یہ اتحاد معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی میں بھی نئے دروازے کھولے گا۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیمی تبادلے امت کے رشتے کو مزید گہرا کریں گے، اور مشترکہ منصوبے دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ مسلم امہ صرف خواب دیکھنے والی قوم نہیں بلکہ خواب کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتی ہے۔

    آخر میں، میں اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ دفاع صرف بارود اور توپ کے گولوں میں نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس اتحاد میں ہے جو دلوں کو جوڑ دے، قوموں کو قریب کر دے اور ایمان کی ڈور میں باندھ دے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہ کرن امت کو پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم ایک ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
    یقین جانیے، آنے والے دنوں میں یہ اتحاد صرف خطے کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور عسکری نقشے کو بدل دے گاان شاء اللہ۔ پاکستان اور سعودی عرب — یہ دو بھائی دراصل ایک ہی بدن کی دو سانسیں ہیں، ایک ہی چراغ کی دو لوئیں ہیں، اور ان کا یہ دفاعی پیمان امتِ مسلمہ کے فولادی حصار کی ضمانت ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔

  • مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں، جن کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اپنے وجود سے ایک عہد، ایک روحانی روشنی اور ایک فکری توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔ایسی ہی جلیل القدر شخصیات میں سے ایک مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ رحمہ اللہ تھے۔آپ نے دین کی خدمت صرف منبر و محراب سے ہی نہیں کی، بلکہ قلم، تقریر اور تدریس کے ذریعے بھی دین اسلام کا پیغام عام کیا۔ ان کے فتاویٰ، خطبات اور بیانات آج بھی مدارس، جامعات اور مساجد میں زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مشکل بات سادگی سے کہنے کا فن انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا تھا۔ان کی تحریروں اور تقاریر میں اعتدال، بصیرت اور حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو افتراق کی بجائے اتحاد کی دعوت دی اور فقہی اختلافات کو ایک فکری وسعت سمجھا، نہ کہ نفرت یا تعصب کا ذریعہ۔

    شیخ عبد العزیز رحمہ اللہ 1943ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی یا انتہاٸی کم ہو گٸ تھی۔عام طور پر یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اسے حکم ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا اور علم دین کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالی نے انہیں روحانی بصیرت اور ایسا روشن دل و دماغ عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے علماء کے استاد بنے اور لاکھوں لوگوں کو دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ان کے بارے ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ 10 برس کے تھے،تو ایک بزرگ عالم دین نے ان کے قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق کو دیکھ کر کہا مجھے لگ رہا ہے ”یہ لڑکا اگرچہ نابینا ہے مگر اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسا نور رکھا ہے، جو آنکھوں والوں کو بھی نصیب نہیں“۔

    شیخ رحمہ اللہ نہایت عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ وہ اپنے شاگردوں، مہمانوں، حتیٰ کہ خدام سے بھی محبت و نرمی سے پیش آتے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے فکر مند رہتے، ان کے والد اور دادا بھی دین کے خادمین میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں نے ان کی ابتدائی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔شیخ رحمہ اللہ نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ خطبہ حج کا فریضہ کئی سالوں تک ان کے سپرد رہا، جسے وہ احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، دلیل اور اخلاق کا امتزاج نمایاں ہوتا تھا، جو ہر سننے والے کوبہت متاثر کرتا۔وہ علم کو عبادت اور فتوی کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سنا جاتا تھا۔
    کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ شیخ نے اس کو دعا کے ساتھ مختصر جواب میں فرمایااللہ تعالی تمہیں دین کی خدمت کے لیے چنے گا، دل کو ہمیشہ صاف رکھنا۔ کئی سالوں بعد وہی نوجوان ایک معروف عالم دین بن کر ان کے قدموں میں آ بیٹھا اور کہنے لگاشیخ! آپ کی دعا اور تعبیر نے میری زندگی بدل دی ہے۔
    شیخ رحمہ اللہ انتہائی مصروف شخصیت ہونے کے باوجود نماز کو کبھی مؤخر نہیں کرتے تھے۔ ان کے خادموں کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے لیے ہر حال میں فوراً کھڑے ہو جاتے، چاہے کتنی ہی اہم میٹنگ یا مہمان موجود ہوتے۔ان کی تلاوت قرآن اور قیام اللیل میں اتنی رقت ہوتی کہ بعض اوقات لوگوں کو ان کے رونے کی آواز مسجد کے باہر تک سنائی دیتی تھی۔

    شیخ رحمہ اللہ اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی تھے۔موجودہ دور کی سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت، تعصب اور فکری انتشار ہے۔ ایسے میں انھوں نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا”اختلاف رائے فطری ہے، لیکن دلوں کا فاصلہ شیطانی ہے“۔بین المذاہب مکالمہ ہو یا عالمی اسلامی کانفرنس، انہوں نے ہمیشہ عدل، رواداری اور توحید کو مرکز خطاب بنایا۔

    شیخ رحمہ اللہ کے آخری ایام سادگی، عبادت اور خاموشی میں گزرے۔ ان کی صحت کچھ عرصے سے ناساز تھی، مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ آیا۔23 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب ریاض شہر میں ان کا انتقال ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا بھر کی بڑی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ تھا۔

    شیخ عبد العزیز آل الشیخ رحمہ اللہ کی وفات بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا فہم باقی ہے۔وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی آواز باقی ہے۔وہ مٹی میں جا سوئے، مگر دلوں میں زندہ ہیں،جو ہمیشہ ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات و خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوۓ علمی ورثہ کو امت کے لیے فاٸدہ مند بنا دے۔آمین یارب العالمین

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com