Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    معاشرہ خاندان سے بنتا ہے اور خاندان نکاح کے رشتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کا ساتھ نہیں ،بلکہ نسلوں کی پرورش اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ ہے،لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ رشتہ پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ طلاق اور علیحدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے سکون کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

    طلاق کے بڑھنے کی سب سے اہم وجہ صبر اور برداشت کی کمی ہے۔ معمولی باتیں جنہیں کبھی نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اب بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ انا اور ضد کے باعث میاں بیوی بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویے نے رشتوں کو کمزور اور گھروں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔

    والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ شادی کے آغاز پر ہی بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کسی بات پر سمجھوتا نہ کرنا اور ہر مسئلہ ہمیں بتانا، جبکہ بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر بات نہ ماننا ورنہ وقار ختم ہو جائے گا۔ یوں نئی زندگی کی بنیاد ہی اختلاف اور بے اعتمادی پر رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے رویے رشتے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔معاشی دباؤ بھی کم اہم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی نے گھروں کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بعض اوقات اگر بیوی زیادہ کماتی ہے تو شوہر میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اعتماد کی جگہ مقابلہ بازی اور محبت کی جگہ شکوے لے لیتے ہیں۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں ایک خیالی دنیا دکھاتی ہیں، جہاں سب کچھ حسین لگتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نوجوان ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اختلافات کو حل کرنے کے بجائے فوری علیحدگی کو ہی آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اخلاقی کمزوری بھی اہم سبب ہے۔ جب ایک دوسرے کے حقوق نظرانداز ہوں، عزت اور اعتماد ختم ہو جائے اور ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دی جائے تو رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ معمولی مسائل کو بڑا بنانے کی عادت رشتے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوتا ہے جو ٹوٹے ہوئے گھر کے اثرات سہتے ہیں۔

    یہ مسئلہ صرف قانون یا عدالتوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت شعور کی بیداری ہے۔ اگر میاں بیوی برداشت، ایثار اور قربانی کو اپنا لیں اور والدین مداخلت کے بجائے تعاون کی راہ دکھائیں تو گھروں میں سکون واپس آ سکتا ہے۔ معاشرے کو بھی ایسے رجحانات کو فروغ دینا ہوگا جو رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں نہ کہ توڑنے کا۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں محبت اور اعتماد کے بجائے تنہائی اور ویرانی کا سامنا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم خاندانی نظام کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

  • طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور باہمی رسہ کشی کے بیچ سب سے زیادہ دباؤ اور نقصان عام آدمی ہی برداشت کرتا ہے۔ طاقتور ملک اپنی معیشتیں،دفاعی حکمت عملی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں عام شہریوں کی زندگیاں، ان کے وسائل اور ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو، مہاجرین کا بحران ہو، یا جنگوں کے نتیجے میں تباہ حال زندگیاں، ہمیشہ قیمت وہی لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل۔ایک طرف بڑی ریاستیں اپنے مفادات کے لیے ترقی، سلامتی اور آزادی کے نعرے لگاتی ہیں مگر حقیقت میں ان ہی فیصلوں کے بوجھ تلے غریب اور کمزور طبقات کچلے جاتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی بساط کی طرح ہے جس پر بڑے کھلاڑی اپنے مہرے آگے بڑھاتے ہیں۔ مگر وہ مہرے دراصل کروڑوں عام انسانوں کی زندگیاں ہیں جو طاقت کے کھیل میں قربانی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کی سیاست آج بھی طاقت کے ایوانوں میں اسی طرح شور مچا رہی ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ طاقتور ممالک اپنی معیشت، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ان کے اجلاس، ان کے بیانیے اور ان کے فیصلے دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام شور و غوغا کے بیچ ایک سوال دب جاتا ہے۔ ان سب کا خمیازہ کون بھگتتا ہے؟

    سچ پوچھیے تو وہی عام انسان جو اپنے چھوٹے سے گھر میں بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہی کسان، وہی مزدور جو دن بھر پسینہ بہا کر شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے فیصلے جب مہنگائی، جنگ یا معاشی بحران میں ڈھلتے ہیں تو سب سے پہلے انہی کے چولہے بجھتے ہیں۔ طاقت کے یہ بڑے کھیل عام آدمی کی زندگی کو یوں کچل دیتے ہیں جیسے پہاڑ کسی ننھی کلی کو روند دے۔ بڑے بڑے ملک اپنے قومی مفاد کے نام پر معاہدے کرتے ہیں، جنگیں چھیڑتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں مگر یہ سب کرتے وقت کوئی نہیں سوچتا کہ ان کے جھگڑوں کی زد میں آنے والے بے قصور انسانوں کا کیا ہوگا؟ کون ان کے بچوں کے آنسو پونچھے گا؟ کون ان کے خوابوں کو بچائے گا؟ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب بھی طاقتوروں نے اپنے مفاد کے لیے فیصلے کیے سب سے زیادہ خون عام انسان کا بہا۔ کبھی وہ مہاجرین بن کر سرحدوں پر ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی وہ بیمار ہو کر دوائی کو ترستا ہے، کبھی وہ بے روزگار ہو کر بھوک سے لڑتا ہے،

    آج کا عام آدمی طاقت کے اس کھیل کا سب سے کمزور مہرہ ہے۔ ملک جب چاہیں اسے آگ میں جھونک دیتے ہیں، جب چاہیں اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ دنیا سوچے طاقت کے یہ کھیل کب تک؟ کب تک یہ عام انسان پسے گا؟ کب تک وہی بھاری قیمت ادا کرے گا جس نے نہ جنگ چھیڑی نہ معاہدہ کیا نہ فیصلہ؟ زمین پر سب سے قیمتی شے قیمت نہیں انسان کی زندگی ہے لیکن افسوس طاقت کے ایوان یہ سچ کب سمجھیں گے؟
    بقول شاعر:
    سلطنتیں لڑتی رہیں اپنی جیت کے لیے
    مگر ہر بار عام انسان ہی مٹ گیا

  • پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    8ستمبر کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کی جرات، حوصلے اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی یاد دلاتا ہے۔ جب پاک بحریہ نے دشمن کے دل میں ایسا خوف بٹھایا کہ وہ آج تک سمندر میں مکمل آزادی سے حرکت کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔ دوارکا پر کیا گیا دلیرانہ حملہ ہو یا آبدوز ”غازی” کی خاموش مگر ہلاکت خیز موجودگی، ہر لمحہ اس قوم کے بیٹوں کی قربانی، مہارت اور بہادری کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ یہی جذبہ، یہی ولولہ آج بھی پاک بحریہ کے ہر افسر اور جوان کے دل میں زندہ ہے۔ ایک ایسا عزم جو وقت کی کسوٹی پر مزید نکھر چکا ہے اور ایک ایسا وعدہ جو ہر چیلنج کے سامنے سینہ سپر ہے۔ آج پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ برتری سے آراستہ ایک ایسی قابلِ فخر بحری طاقت بن چکی ہے جس کی گونج نہ صرف بحیرہ عرب کی وسعتوں میں بلکہ عالمی بحری افق پر بھی سنائی دیتی ہے۔

    جب 1965ء میں جنگ کا آغاز ہوا تو پاک بحریہ ایک نوآموز قوت تھی مگر اس نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ آبدوز ”غازی” نے بھارتی نیوی کو بحر ہند میں بند کر دیا، حتیٰ کہ بھارت نے اپنا طیارہ بردار جہاز ”وکرانت” سات سو کلومیٹر دور چھپا دیا۔ 8 ستمبر کو دوارکا پر حملہ ایک ناقابلِ یقین مگر مکمل طور پر کامیاب آپریشن تھا جس نے دشمن کی بحریہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آج بھی یہ آپریشن دنیا کی بہترین بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے یہ معرکہ نہ صرف پاک بحریہ کی مہارت بلکہ دشمن پر اس کے خوف کی بھی علامت بن چکا ہے۔اسی شاندار روایت کو زندہ رکھنے کے لیے پاک بحریہ نے ہر دور میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا بلکہ سمندری دفاع کے نظریے کو وسعت دی۔ جدید جہازوں، آبدوزوں، میزائل سسٹمز، میری ٹائم نگرانی کے آلات اور فضائی صلاحیتوں سے لیس پاک بحریہ نہ صرف پاکستان کے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم میری ٹائم فورس کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہے۔حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بھارتی جارحیت کیخلاف افواج پاکستان کا آپریشن ”بنیان مرصوص” بھی پاک بحریہ کی جنگی تیاریوں اور چابکدستی کا ایک اور شاہکار ہے۔ اس آپریشن کے دوران نہ صرف دشمن کی سمندری جارحیت کو بروقت ناکام بنایا گیا بلکہ اس کے عزائم کو اتنی کاری ضرب لگی کہ وہ کھل کر سامنے آنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ پاک بحریہ کے جنگی جہازوں اور فضائی یونٹس نے بھارتی بحریہ کی خفیہ نقل و حرکت کو بروقت پہچانا اور اس کے خلاف دفاعی پوزیشن سنبھالی۔ دشمن ہماری مشقوں کی خفیہ نگرانی کرتا رہا، مگر پاک بحریہ کی الرٹنیس نے اس کی ہر چال کو ناکام بنا دیا۔ یہ آپریشن اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاک بحریہ ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو، ہائبرڈ وار ہو یا میری ٹائم اسٹریٹیجک تھریٹس، پاکستان نیوی ہر محاذ پر اپنی موجودگی اور برتری منوا چکی ہے۔ بلکہ ہر سال بحری امن مشقوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو بحری راستوں میں بھی کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

    پاکستان نیوی نہ صرف دشمن پر عسکری میدان میں بھاری ہے بلکہ انسنایت کے محاذ پر بھی سب سے آگے ہے۔ دشمن، جو ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا، وہ بھارت جو سرحدوں پر اشتعال انگیزی، آبی جارحیت، مقبوضہ کشمیر میں ظلم، اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتا ہے — اسی بھارت کے زخمی شہری کو جب سمندر کی بے رحم لہروں میں زندگی اور موت کی کشمکش کا سامنا تھا، تو مدد کے لیے جس ہاتھ نے اسے تھاما، وہ پاک بحریہ کا تھا۔ ایک ایسا لمحہ جہاں دشمنی نہیں، انسانیت جیت گئی۔ لائبیریا کے آئل ٹینکر سے موصول ہونے والی ہنگامی درخواست پر پاک بحریہ نے جس سرعت، مہارت اور خلوص کے ساتھ بھارتی عملے کے زخمی رکن کو ریسکیو کیا اور کراچی منتقل کر کے بروقت طبی امداد فراہم کی، وہ نہ صرف بحری پیشہ ورانہ اخلاقیات کا منہ بولتا ثبوت ہے یقینا یہ وہ برتری ہے جو صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ظرف، جذبے اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ بھارت کے بے بنیاد الزامات کے بعد پاکستان نیوی کے اس عمل کو دیکھ کر دنیا کہہ اٹھی کہ پاکستان نیوی نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ دلوں کی فاتح بھی ہے۔اب پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کا اعتراف دشمن بھی کر نے پر مجبور ہو چکا ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو جب عبرتناک شکست کا سامنا ہوا اور اپنے عوام کے سامنے بری، بحری اور فضائی ہر محاذ پر شرمندگی اٹھانا پڑی تو بھارتی نیول چیف نے پاکستان بحریہ کی ”حیرت انگیز ترقی“ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جدید جنگی جہازوں، زیرِ تعمیر آبدوزوں اور تیز رفتار دفاعی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور برملا اعتراف کیا کہ ہم اپنی پوری حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ گھبراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن جان چکا ہے کہ وہ خود ”کتنے پانی میں ہے”۔یقیناً، پاک بحریہ ایک قابلِ فخر قومی قوت ہے جو نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ دنیا کے دیگر بحری خطوں میں بھی پاکستان کے وقار اور سلامتی کی محافظ بنی ہوئی ہے۔

    پاکستان نیوی کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کے میدان میں بھی پاکستان بحریہ نے وہ خدمات انجام دی ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ چاہے وہ قزاقی کے خلاف مشن ہوں، اقوامِ متحدہ کے امن مشن ہوں یا خطے میں سمندری تجارت کی حفاظت، پاکستان نیوی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاک بحریہ کی ”امن مشقیں ” دنیا کے مختلف اسٹریٹیجک سوچ رکھنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہیں جوکہ دفاعی لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاک بحریہ کی موجودہ قیادت —چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں نہ صرف عسکری میدان میں اصلاحات لا رہی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر ڈیفنس، اور نیول انٹیلیجنس جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے ایئر وار کالج کراچی کے دورے کے دوران نیول چیف نے جدید عسکری تربیت اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ سطح آب، زیرِ آب اور فضائی شعبوں میں بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے پاک فضائیہ کی پیش رفت کو بھی سراہا، جس نے خطے میں دفاعی توازن کو نئی جہت دی ہے۔ نیول چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان نیوی دشمن کے ہر حملے کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں ”امن مشقیں ” محض دفاعی تیاریاں نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام ہیں کہ ہم ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہیں، مگر اپنی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے کہ اگر کوئی جارحیت کا سوچے گا، تو اسے سمندر کی گہرائیوں میں دفن کر دیا جائے گا۔

    آج دنیا تیزی سے بلیو اکانومی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک کے لیے سمندر میں استحکام اور تجارت کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاک بحریہ نے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی سیکیورٹی کے لیے بھی مربوط اقدامات کیے ہیں۔ قومی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے استعمال، بندرگاہی تحفظ، اور میری ٹائم ٹریڈ روٹس کی سیکیورٹی میں پاکستان نیوی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اب لمبی مسافتوں کا سفر منٹوں میں طے ہو رہا ہے، اور پانیوں پر قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ پاکستان بحریہ کی کہانی صرف توپوں، جہازوں اور آبدوزوں کی نہیں، بلکہ یہ قربانی، ہمت، جذبے اور غیر متزلزل حب الوطنی کی کہانی ہے۔ یہ وہ فورس ہے جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، سمندر کی گہرائیوں میں مادرِ وطن کے دفاع کی ایسی دیوار کھڑی کی جسے عبور کرنا دشمن کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔ 8 ستمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر آج ہم پرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاک بحریہ سمیت تمام مسلح افواج کی قربانیاں ہیں۔ پاکستان نیوی آج بھی اپنی شاندار روایات کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، جب جذبہ ایمانی، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت سے لیس جوان سمندر کی حفاظت پر مامور ہوں تو سمندر بھی ان کے لیے سر نگوں ہو جاتا ہے۔

  • سعودی عرب کا قومی دن  ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب کا قومی دن ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اے اہلِ ایمان! آج کا دن صرف ایک قومی جشن نہیں، بلکہ یہ وہ لمحہ فخرو افتخار ہے جب امتِ مسلمہ نے ایک نئی صبح دیکھی وہ صبح جس کے پہلے چراغِ سفر کو شاہِ صالح، شیرِ صحرا، شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے روشن کیا۔ یہ سرزمین صرف ریت اور چٹانیں نہیں، یہاں ہر ذرے میں کعبہ کی خوشبو، ہر نسیم میں اذان کی صدا بسی ہوئی ہے۔ اس لیے مملکتِ سعودی عرب کا قومی دن دراصل ہر مسلمان کے دل کا دن ہے؛ یہ دن ہے توحید کی دعوت، خدمتِ حرمین کی قسم اور امتِ مسلمہ کی تجدیدِ عہد کا۔
    1902ء جسے تاریخ میں ایک سنہری سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اسی سال شاہ عبدالعزیز نے ریاض کو فتح کر کے نہ صرف ایک شہر بلکہ ایک قوم کو بیدار کیا۔ اس فتح میں جذبہ و حوصلہ اور ولولہ تھا، مگر اس سے زیادہ ایمان کی روشنی اور حرارت تھی ۔ایک بصیرت جس نے خانہ بدوش قبیلوں کو ایک امت میں ڈھالا۔ صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں نجد، الاحساء ، قطیف، مکہ و مدینہ سمیت دیگر علاقوں کو ایک پرچم تلے لا کر جدید سعودی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب شاہ عبدالعزیز نے انقلابِ تعمیر کے ساتھ ساتھ دلوں کی تعمیر بھی کی قرآن و سنت کو عوامی زندگی کا مرکز بنایا اور امتِ مسلمہ کے لئے اتحاد و اشتراک کے دروازے کھولے۔
    شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامی دنیا کے بڑے رہنماؤں کو 13 تا 19 مئی 1926ء میں اپنے ہاں مدعو کیا تو انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ ریاست کا سفر سیاسی یا سیاحتی نہیں بلکہ روحانی و فکری سفر ہوگا۔شاہ عبدالعزیزکی دعوت پر بلائی گئی اس کانفرنس میں ہندوستان سمیت دور دراز کے علما و رہنما شریک ہوئے، جس میں بر صغیر کے جید علمائے اہلحدیث سمیت مولانا محمد علی جوہر جیسی عظمتیں بھی موجود تھیں۔ یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے لیے ایک تاریخی نقطۂ عروج تھا ایک صدائے اتحاد جو آج بھی صحرا کی ہوا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔
    صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز نے صرف زمینیں ہی فتح نہیں کیں، بلکہ برائیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے شراب و بدعنوانی کے مراکز کو ختم کیا، لوٹ مار اور جرائم وڈاکہ زنی کے خلاف سخت اقدام کیے اور خاص طور پر تعلیم کی بنیاد رکھی۔ 1944ء میں مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی جامعہ اسلامیہ نے علومِ اسلامیہ کے فروغ کو نئی جہت دی ایسی جامعہ جس میں عالم اسلام کے طلبہ مفت وظیفوں اور رہائش کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف علم کا گہوارہ بنی بلکہ امت کی فکری قوت کا سرچشمہ بھی ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں یہ علوم اسلامیہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس میں پوری دنیا سے تشنگان علوم دینیہ آتے اور علوم سے سیراب اور آراستہ ہوکر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ یونیورسٹی اسلام کے غلبہ واحیاء کی ایک عالمی تحریک ہے ۔
    صحرا کے نیچے تیل کی صورت میں موجود چمکتی نعمت نے سعودی معاشرہ کو بدل ڈالا تیل کی دریافت نے ملک کی تقدیر بدل دی۔ جس معاشی ڈھانچے کا دارومدار کبھی حاجیوں پر عائد ٹیکس تک محدود تھا، وہ جلد ہی عظیم اقتصادی قوت بن گیا۔ تیل کی آمدنی نے نہ صرف انفراسٹرکچر، سڑکیں، پل اور ریلوے لائنیں ممکن بنائیں بلکہ حرمین شریفین کی توسیع، مذہبی و تعلیمی اداروں کی تعمیر اور عالم اسلام میں انسانی خدمات کے پھیلائو کے لیے بے پناہ وسائل فراہم کیے۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک ان وسائل کو عوامی فلاح وبہبود ، حرمین کی خدمت اور قرآن و سنت کی نشر و اشاعت پر خرچ کیا یہی وہ روح ہے جو آج بھی سعودی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
    شاہ عبدالعزیز کے بعد آنے والے سعودی حکمرانوں نے اسی روش کو آگے بڑھایا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدیدیت اور روایات کے درمیان ایک نادر توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی پر عظیم منصوبے شروع کیے۔ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کی شاخوں کو ملک کے ہر شہر تک پھیلانے جیسے اقدامات نے علمی فروغ کو تیز کیا۔ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بے شمار اسکالرشپس، ضرورت مند شہریوں کے لیے گھروں کا انتظام اور طبی سہولیات تک رسائی یہ سب اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جو عوام کے دل جیت رہی ہے۔
    مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع، زمین دوز راستے، سہولیاتِ طواف اور حجاج و عوام کے لیے جدید انتظامات یہ سب اسی عقیدت ومحبت کی عملی تصویریں ہیں جو سعودی حکمرانوں نے قائم کی ہیں ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کیلئے ’’ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ‘‘ اور حدیث پرنٹنگ کمپلیکس جیسی کوششیں دنیا بھر میں قرآن و حدیث کی عام دستیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ علم کی یہ دولت جب دنیا کے کونے کونے تک پہنچتی ہے تو یہ مملکت کا حقیقی عہد بنتی ہے ۔ اس سے غیر مسلموں کو اسلام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں ۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات تاریخ میں محبت و اعتماد کی مثال ہیں۔ 1951ء کا پہلا باہمی معاہدہ، شاہ فیصل کا پاکستان دورہ، اور شاہ فیصل مسجد کا قیام تعلقات کی قدر و منزلت کے عکاس ہیں۔ 1965ء کی جنگ، 1973ء کے سیلاب یا بعد کے زلزلوں میں سعودی امداد نے ہمیشہ پاکستانی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں ۔ حالیہ سیلاب کے دوران بھی سعودی امدادی سرگرمیوں اور دس لاکھ ڈالر سے زائد کی فوری مدد نے ثابت کیا کہ سعودی عرب نہ صرف جغرافیائی طور پر برادر ہے بلکہ دل و دماغ سے بھی ہمارا حامی ہے۔
    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جہاں سعودی معاشرے کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا، وہیں فلسطین، یمن اور شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کو اولین ترجیح دی ہے ۔ خاص کر اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے یہ معاہدہ دراصل امت مسلمہ کے دل کی آواز ہے ۔ اب مسلمان قیادت کا امتحان یہ ہے کہ اس کی قوت صرف داخلی ترقی کے لیے نہ ہو بلکہ عالم اسلام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی صرف ہو ۔یہی نقطہ اس قوت کا محور ہو ۔اور یہی جذبہ ہم نے سعودی حکمرانوں میں دیکھا ہے۔
    اے میرے بھائیو! سعودی عرب کا قومی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان، تعمیر اور خدمت کی جو روشنی ہوا کرتی ہے، وہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ یہ روشنی امتِ مسلمہ کے دلوں کو روشن کرتی ہے۔ شاہ عبدالعزیز کی بصیرت، شاہوں کی تسلسلِ خدمت، حرمین کی نگہبانی اور پاکستان جیسے بھائی ملکوں کے ساتھ خلوصِ تعلق نے سعودی عرب کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا روشن منارہ بنا دیا ہے۔
    آؤ! ہم سب مل کر اس عظیم دن کو خراجِ عقیدت پیش کریں، اور یہ عہد کریں کہ حرمین کی خدمت، امت کی وحدت اور علم و عمل کی ترویج کے اس مقصد کو جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زبانوں اور اعمال سے اس بھائی چارے کو مضبوط رکھیں۔ سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں ہمارا دل بھی برابر دھڑکے، اور جب وہ سربلند ہے تو سراپاِ امتِ اسلام بھی فخر محسوس کرتی ہے۔اللہ پاک سعودی عرب کو ترقی و استحکام عطا فرمائے، حرمین کی حفاظت ہو، اور امت مسلمہ کو وہ عزت و عظمت نصیب ہو جس کی وہ حقدار ہے۔ آمین۔

  • خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کوئی تو آگے بڑھ کر ظالموں کا ہاتھ روک دے،یہ پھول دنیا کا مستقبل ہیں ،اس طرح روندا نہ جائے
    انسانیت کہاں گئی،غزہ اور یوکرین کسی کو نظر نہیں آرہا،بحران انسانی المیہ بن چکا ،اب تو بول پڑو
    مریم نواز سیلاب متاثرین کی خدمت عبادت سمجھ کر رہی ہیں،پاکستان ایسے حکمرانوں کی ضرورت

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    دنیا کے تمام سربراہانِ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے اپیل ہے کہ وہ فوراً بلا تاخیر موثر اقدامات کریں تاکہ غزہ، یوکرین اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں لاکھوں انسانوں کی جانیں اور روزگار چھین لیا گیا ،وہاں جنگیں بند کرائی جائیں، انسانی ہمدردی بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ذمہ داری کی روشنی میں فوری فائر بندی انسانی رسائی اور متاثرین کی حفاظت پر توجہ دی جائے، موجودہ انسانی المیہ روکا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے، جنگیں صرف موجودہ نسل نہیں ، معیشت، صحت عامہ اور بین الاقوامی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں، اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے ادارے کردار ادا کریں تو وہ اس عالمی بحران کو کم کر سکتے ہیں، غزہ میں شہری ہلاکتیں اور وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے کی شدت برقرار ہے،کسی بھی قوم یا دنیا کے طاقتوروں کے پاس سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ بچوں کے آنسو نہ روک سکیں تو ان کی طاقت ادھوری اور بے مقصد ہے،یہ معصوم بچے دنیا کے ہر کونے میں دکھ اور ظلم سہہ رہے ہیں ان کے ننھے ہاتھوں میں خوشیاں دیں ان کی آنکھوں سے آنسو مٹا دیں ان کے دلوں میں خوف کے بجائے سکون اور مسکراہٹیں بھر دیں،عالمی طاقتوروں کی ذمہ داری ہے کہ معصوم روحوں کی حفاظت کریں، کوئی بھی جنگ، اختلاف، طاقت ان بچوں کے دکھ کے برابر نہیں ہو سکتی ان کی معصومیت آج کی دنیا کے طاقتوروں کی انسانیت کا امتحان ہے،خدا کے لئے ان پر رحم کریں آج کے یہ بچے کل کا چراغ ہیں، ان کے آنسو خوشیوں میں بدل دیں، ان کے خوف کو سکون میں بدل دیں، یہ بچے پوری دنیا کا کل ہیں اور یہی پوری دنیا کی امید ہیں،پنجاب میں سیلابی صورتحال اور مریم نواز شریف کے اقدامات ایسے ہیں کہ یہ اقدامات عوام کا اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ قیادت کے عملی اقدامات کو اجاگر کرتے ہیں، سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران شفافیت ،تیز رفتار امداد اور طویل المدتی بحالی منصوبے ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔،دیکھا جائے تو مریم نواز کی حکومت نے یقینًا بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ہیں، مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل پاکستان میں کئی عوامل پر منحصر ہے، ان کی موجودہ مقبولیت پارٹی کی پالیسی قومی سیاسی حالات اور ان کے کردار کی شفافیت و قیادت کی صلاحیت اور چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، اگر پنجاب میں عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری نظام کی بہتری جاری رہی تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ قومی سطح پر اپنی شخصیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں، اگر حالات یوں ہی رہے جیسے اب ہیں یعنی عوامی توقعات کا خیال رکھا جائے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رہے تو مریم نواز شریف کے لیے امکان ہے کہ وہ آئندہ پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں، اگر عوامی توقعات پر پورا نہ اتریں تو ان کے لئے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں پھر ان کا سیاسی مستقبل سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے کامیابی کے لئے محنت حکمت عملی اور سنجیدہ قیادت درکار ہے

  • عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    وہ جو اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے، اسے خبر نہیں کہ باہر کی دنیا بدل چکی ہے۔ وہ خود ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ پاکستان نے ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
    — مریم نواز، وزیراعلیٰ پنجاب

    یہ بیان محض لفظوں کا کھیل نہیں، بلکہ حقیقت کی عکاسی ہے۔ عمران خان، جو کبھی پاکستان کی سیاست میں ایک مقبول اور اثرورسوخ رکھنے والا نام تھے، آج اپنی چرب زبانی، وعدہ خلافیوں اور سیاسی ناکامیوں کی وجہ سے ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی حکومت کے دوران بڑے بڑے منصوبے صرف وعدوں تک محدود رہے، معیشت بحران کا شکار رہی، اور عوامی توقعات کے برعکس اداروں کے ساتھ تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے۔ ہر بیان میں شعلہ انگیزی اور جذباتی نعرے تو تھے، مگر عملی میدان میں کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی توقعات کے بجائے محض سیاسی شو چلائے گئے، اور اس دوران حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں پس پشت ڈال دی گئیں۔

    عمران خان کی چرب زبانی اور عوامی بیانات اکثر حقیقت سے دور رہے۔ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکانے میں ماہر تھے، مگر عملی منصوبے اور نتائج ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے۔ ان کے دورِ حکومت میں بڑے اقتصادی منصوبے جیسے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، اور معاشی استحکام کے دعوے زیادہ تر جزوی کامیابی تک محدود رہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی بروقت مکمل نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی سیاست پر شک و شبہات نے جنم لیا۔ سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک، جو پہلے ان کی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے، اب کسی تعاون کے لیے تیار نہیں۔ عالمی رہنما اور ادارے ان کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، اور عمران خان کی چرب زبانی کے باوجود ان کی عالمی کشش کمزور پڑ گئی ہے۔

    انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بھی عمران خان کے خلاف محاذ قائم کر دیا۔ ہر ٹویٹ، ہر بیان اور ہر پالیسی پر سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید جاری رہی۔ بلاگز، نیوز ویب سائٹس اور ٹک ٹاک و یوٹیوب پر ان کے بیانات کا تجزیہ اور تنقید ہوتی رہی۔ اکثر لوگ ان کی چرب زبانی اور وعدہ خلافیوں کو نمایاں کرتے رہے۔ ان کے سوشل میڈیا پیغامات نے کبھی کبھار مثبت اثر پیدا کیا، مگر مجموعی طور پر عوامی تنقید اور مباحثے نے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ میمز، طنز اور طنزیہ ویڈیوز نے ان کی عوامی شبیہ کو متاثر کیا، اور نوجوان طبقے میں ان کے خلاف ردعمل کو مزید بڑھایا۔

    عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری ان کے مخالفین، خصوصاً خواتین کے خلاف بیانات ہیں۔ ان کے بعض بیانات نے عوامی رائے اور میڈیا میں شدید تنقید کو جنم دیا۔ خواتین کے خلاف مبینہ بیانات اور جارحانہ زبان نے انہیں عوامی سطح پر تنقید اور قانونی خطرات سے دوچار کیا۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماؤں اور مخالفین کے بارے میں ان کے جارحانہ بیانات نے نہ صرف سیاسی تنازعہ بڑھایا بلکہ ان کی عالمی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ بیانات اب سوشل میڈیا اور خبروں میں مسلسل ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، جو ان کے سیاسی مستقبل کو مزید محدود کر رہے ہیں۔

    ان کے قانونی مسائل نے بھی ان کی سیاسی کشش کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف کرپشن، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے مقدمات چل رہے ہیں، جنہوں نے ان کی ساکھ کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔ ہر قانونی کیس نے عمران خان کی حکومت اور ان کے سیاسی دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا، اور عوامی اعتماد میں کمی پیدا کی۔ عدالتوں میں سماعتیں، میڈیا میں رپورٹنگ، وکلاء کے بیانات اور عوامی ردعمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔

    حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا سیاسی عروج جنرل قمر باجوہ کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ان کا سیاسی سفر دراصل "باجوا پراجیکٹ” تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔ جب باجوہ نہیں رہے تو عمران خان بھی سیاسی میدان سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کی چرب زبانی، جذباتی بیانات اور وعدے اب نہ عوام کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ عالمی سطح پر کسی کی توجہ حاصل کر پا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی دعوے، جو کبھی بڑے عوامی جلسوں اور میڈیا میں چرچے کا مرکز بنتے تھے، اب محض ماضی کی ایک یاد بن گئے ہیں۔

    پاکستان آج ترقی، استحکام اور مضبوط اداروں کی طرف گامزن ہے۔ عمران خان کی کہانی اب ایک ایسا باب ہے، جو شعلہ بیانی، چرب زبانی اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اب ملک کی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتے۔

    یہ حقیقت ہر پاکستانی کے لیے واضح ہے کہ اگر سیاسی بیانات اور نعرے عملی اقدامات اور نتائج سے ہم آہنگ نہ ہوں تو وہ محض عوامی جذبات کو بھڑکانے تک محدود رہ جاتے ہیں۔ عمران خان کا کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اب وہ ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر عوام کی یادوں میں موجود ہیں، جبکہ پاکستان نے ایک نئے ترقیاتی اور استحکام کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

    اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں واپسی کے امکانات بھی محدود ہیں۔ قانونی مسائل، عوامی ردعمل اور سیاسی تنقید کے درمیان، ان کے لیے دوبارہ مؤثر کردار ادا کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بیانات، عالمی سطح پر عدم دلچسپی، اور قانونی دباؤ انہیں ایک محدود اور ختم شدہ سیاسی شخصیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب ملک کے روشن مستقبل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ عمران خان کی سیاست اب ماضی کی بات ہے، اور پاکستان ایک نئے، روشن اور مستحکم عہد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں عملی اقدامات اور نتائج کی اہمیت جذباتی بیانات سے کہیں زیادہ ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں تو عوام کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتے ہیں مگر اکثر متاثرین تک بروقت اور مکمل امداد نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں سیاسی و سماجی جماعتوں کی کارکردگی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ انہی جماعتوں میں مرکزی مسلم لیگ بھی ہے جس نے حالیہ تباہ کن سیلاب میں متاثرین کی جس طرح مدد کی، وہ اس کے خدمتِ خلق کے تسلسل کا عملی ثبوت ہے۔

    سیلاب کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکن سب سے پہلے میدان عمل میں اُترے۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں روزانہ ہزاروں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، کپڑے اور خیمے فراہم کیے گئے۔ کراچی سے کپڑوں اور خوراک کی بڑی کھیپ روانہ ہوئی، راولپنڈی سے سامان سوات، بونیر اور گلگت بلتستان پہنچایا گیا۔ کراچی کی ٹیمیں پہلے دن ہی متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچ گئیں، جہاں نہ صرف صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لگائے گئے بلکہ ملبہ ہٹانے کے لیے مزدور اور آلات بھی فراہم کیے گئے۔ یہ سب کچھ بروقت اور منظم انداز میں کیا گیا تاکہ متاثرین کو فوری سہارا مل سکے۔

    مرکزی مسلم لیگ کی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم رہیں۔ درجنوں دیہات میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی، مفت ادویات تقسیم ہوئیں اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں۔ ان سرگرمیوں نے ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومتی ادارے کمزور پڑ گئے تھے اور متاثرہ لوگ بے یار و مددگار تھے۔

    یہ جماعت ماضی میں بھی مختلف آفات اور سانحات میں عوام کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ زلزلے ہوں یا طوفانی بارشیں، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہمیشہ میدانِ خدمت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یتیم بچوں اور بیواؤں کی کفالت ہو یا قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد، اس جماعت نے خدمتِ خلق کو اپنی سیاست کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ یہی تسلسل حالیہ سیلاب میں بھی نظر آیا جس نے اسے عوام کے دلوں میں مزید جگہ دی۔

    افسوس یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے مرکزی مسلم لیگ کے کردار پر وہ روشنی نہیں ڈالی جس کی یہ مستحق تھی۔ بڑی سیاسی جماعتیں زیادہ تر بیانات تک محدود رہیں مگر عملی میدان میں مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیاں عوام کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہوئیں۔ شاید سیاسی پس منظر اور جماعت کے بارے میں کچھ تحفظات کے باعث میڈیا کی توجہ کم رہی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرین نے اس جماعت کو خالص خدمت کے جذبے کے ساتھ یاد کیا۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں آفات کے دوران سرکاری مشینری اکثر متاثرین تک بروقت نہیں پہنچ پاتی، وہاں رضاکارانہ نیٹ ورک اور خدمت پر یقین رکھنے والی جماعتیں خلا کو پُر کرتی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاست صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت سے جڑی ہوئی عملی جدوجہد ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مرکزی مسلم لیگ نے ثابت کیا ہے کہ خدمتِ خلق ہی سیاست کی اصل پہچان ہے، اور یہی پہچان عوامی اعتماد اور مستقبل کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت بن سکتی ہے۔