Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    پنجاب میں عید کے تینوں دن ناصرف الائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا گیا بلکہ پنجاب کی گلیاں بازار اور وہ جگہیں بھی صاف سھتری اور اجلی نظر آئیں جہاں اس سے قبل میونسپل کارپوریشن والے کبھی پہنچے ہی نہیں تھے، عید کے تینوں دن”ستھرا پنجاب“ اور ”شکریہ مریم نواز شریف“ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ صفائی کے بہترین انتظامات پر پنجاب کا ہرشہری تعریف کیے بن نہ رہ سکا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس دفعہ جب عید پر پنجاب کی گلی کوچوں کی مکمل صفائی کا اعلان کیا اور انتظامی افسران نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب کا تاریخی گرینڈ صفائی آپریشن شروع ہونے لگا ہے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشن اتنی جلدی اور واقعی کامیاب ہوجائے گا لیکن حکومت پنجاب نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر ماضی میں بہت تنقید ہوتی رہی کہ اتنے زیادہ وسائل کے باوجود صفائی والا عملہ کام نہیں کر رہا لیکن اس ایک ہفتے میں ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ کام چوری کی وجہ سے گالی بنے ویسٹ مینجمنٹ والے ہر طرف ایکٹو اور کام کرتے نظر آئے جبکہ پنجاب کی عوام تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔ فرق صرف فیصلہ سازی، فوکس، چیک اینڈ بیلنس اور عوامی فیڈ بیک کیلئے وزیراعلیٰ شکایات سیل فعال کرنے کا تھا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کی کامیابی کیلئے ستھرا پنجاب، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی اس مہم کو کامیاب بنانے کا واضح ٹاسک دیا تھا۔ صفائی اور الائشوں کو ٹھکانے لگانے میں کوتاہی کی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا کہ جسے بھی شکایات ہو وزیراعلیٰ شکایات سیل پر واٹس ایپ کردے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک الفاظ اور زیرو ٹالرینس کے تحت صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا حکم اور عوامی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کرنے سے سب کو احتساب کا ڈر تھا اس لیے مشن امپاسیل پاسیبل ہوگیا۔

    تاریخی اور کامیاب ترین صفائی مہم اور حقیقی ستھرا پنجاب کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ناصرف مبارکباد بلکہ دل سے شکریہ بھی لیکن گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ستھرا پنجاب کو کامیاب کروایا اسے صرف پانچ دن کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ باقاعدگی سے فالواپ لیتی رہیں اور اسی طرح عوامی شکایات اور فیڈبیک کیلئے وزیراعلیٰ سیل فعال رہنا چاہئے تاکہ محکمہ صفائی اور انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر موجود رہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی پنجاب کی عوام نے آپ کو بہت زیادہ شاباش اور دعائیں دی تھیں لیکن ستمبر 2024سے شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے اعلان کو انتظامی افسران نے سابقہ حکومت کی طرح محض اعلان سمجھا اور فارگرانٹڈ لیتے ہوئے رسمی کاروائی کا جعلی فوٹو شوٹ کیا۔

    رواں سال جنوری میں مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف زیروٹالرینس کا حکم دیا تو یہ آپریشن بڑی کامیابی سے شروع ہوا، ہر کوئی تعریف کرنے پر مجبور ہوا کہ یہ پہلی وزیراعلیٰ ہیں جو قبضہ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اشرافیہ کی سرپرستی میں بدمعاشیہ کے زیراثر چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمین کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کر ابھریں۔ انتظامی افسران کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کئی مہینوں سے جاری آپریشن کے باوجود بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ہوسکا وجہ وہی کہ انتظامی افسران تجاوزات لگوا کر ملنی والی ریگولر کمائی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ رسمی آپریشن کے بعد تجاوزات وہیں واپس آجاتی ہیں۔ میڈم وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب ایک ہفتے میں اس لیے کامیات ہوا کہ عوامی فیڈ بیک کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا تھا جس سے انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر تھا۔ یہاں چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کی واگزاری کا مشن ہے اس مشن کی کامیابی کیلئے وزیراعلیٰ انکروچمنٹ مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہئے پھر اثر دیکھیے گا کہ تجاوزات دنوں میں ختم ہوں گی کیونکہ عوام بتائے گی کہ کس کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے اور کون سے سیاسی اور انتظامی افراد یہاں سے بھتہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سال سے مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب کی ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ، بلانمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کاروائی نہیں کرتی کہ یہ بنا نمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹرز اور پارکنگ مافیا پنجاب کی ٹریفک پولیس، پنجاب ہائی ویز پولیس اور چیف ٹریفک آفیسرز کو مجموعی طور پر سو ارب سے زائد کی رقم ماہانہ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں سب سے زیادہ جعلی اور کیمیکل ملادودھ پنجاب میں فروخت ہوتا ہے، گدھوں اور مردہ گوشت کی کہانیاں اس قدر عام ہیں کہ دوسرے صوبوں والے ہم پر میمز بناتے ہیں لاہور اور پنجاب والوں کو بکرے کا گوشت صرف عید پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی وجہ سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی والے سارا دن ریسٹورنٹس سے خصوصی ڈسکاؤنٹ کیلئے مارے مارے پھر ہوتے ہیں اور بعد میں انکی چاکری کرتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی میلوں ٹھیلوں کیلئے سپانسرشپ لیکر انھی فوڈ پراڈکٹس مالکان کے بینیفشری ہوکر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ میڈم وزیراعلیٰ، صحت مند پنجاب، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات فری پنجاب بھی آپ کے فلیگ شپ پروگرامات ہیں ان کیلئے بھی وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل قائم کریں جہاں عوام واٹس ایپ کے زریعے فوری فیڈ بیک اور شکایات درج کروا سکیں۔ شکایات سیل اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کی کامیابی کیلئے اس سیل کی سربراہی کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کو دی جائے تاکہ زیروٹالرینس کے ساتھ جدید، صاف ستھرے، صحت مند، ماحول دوست اور تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    maliksalman2008@gmail.com

  • سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت
    تحریر۔ اقصی یونس رانا
    سگریٹ نوشی پاکستان میں ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جو نہ صرف صحت عامہ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں، جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، اور سانس کی خرابی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی نہ صرف خود پینے والے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اُس کے اردگرد موجود افراد کو بھی "تمباکو نوشی کے دھوئیں” کے ذریعے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، جسے "passive smoking” کہا
    ‎جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 164,000 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور صحت عامہ پر تمباکو کے تباہ کن اثرات سے ملکی معیشت کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

    ‎31 مئی کو انسدادِ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں تمباکو کی خرید و فروخت اور استعمال پر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک 2030 تک پائیدار ترقی کے طبی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ ادارے نے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف صحت کے شعبے کے لیے وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ ترقیاتی ترجیحات کو بھی تقویت ملے گی۔ ڈبلیو ایچ او نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ تمباکو سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مکمل معاونت جاری رکھے گا۔

    ‎پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن یہ اقدامات اکثر مؤثر طریقے سے نافذ نہیں ہو پاتے۔ حکومت نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری وارننگ، اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم ان قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

    ‎سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے سب سے اہم کردار آگاہی کا ہے۔ لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے، خاص طور پر نوجوانوں کو جو جلدی سے اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں تمباکو مخالف مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو ابتدا ہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ میڈیا کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اور تمباکو نوشی کو "فیشن” کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک خطرناک عادت کے طور پر دکھانا ہوگا۔

    ‎علاوہ ازیں حکومت کو تمباکو انڈسٹری پر مزید سخت پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں، ان کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو، اور سگریٹ کی دستیابی کو مشکل بنایا جائے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے۔والدین، اساتذہ، اور مذہبی رہنما بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں اور خود بھی سگریٹ نوشی سے گریز کریں تاکہ ایک مثبت مثال قائم ہو۔ اساتذہ اور مذہبی شخصیات نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں اس لت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کریں۔

    ‎ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ تمباکو کی تمام مصنوعات انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہیں، اور ان کے منفی اثرات خاص طور پر بچوں اور نوعمر افراد پر زیادہ تیزی سے مرتب ہوتے ہیں۔ نوجوانی میں تمباکو نوشی کا آغاز مستقبل میں مستقل صحت کے مسائل اور لت میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے۔

    ‎تحقیقی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے دوہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: ایک طرف حکومت کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اور دوسری جانب تمباکو کا استعمال کم ہونے سے اس سے جڑی بیماریوں کا بوجھ اور صحت کے نظام پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ یہ حکمت عملی صحت عامہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مالیاتی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

    ‎سال 2023 میں پاکستان میں تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اعداد و شمار کے مطابق تمباکو نوشی میں 19.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 26.3 فیصد سگریٹ پینے والوں نے تمباکو کا استعمال کم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں 66 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2023-24 کے مالی سال میں ٹیکس آمدنی 237 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال 2022-23 میں یہ آمدنی 142 ارب روپے تھی۔ یہ واضح پیش رفت ٹیکس پالیسی کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    ‎تاہم فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت سگریٹ پر عائد ٹیکس کی شرح ‘ڈبلیو ایچ او’ کی سفارش کردہ حد یعنی خوردہ قیمت کے 75 فیصد سے کم ہے، جو کہ عالمی معیار سے کمزور حکمت عملی تصور کی جاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کو عالمی معیارات کے مطابق بڑھایا جائے تاکہ عوام کو تمباکو نوشی سے بچایا جا سکے اور صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔

    آخر میں، سگریٹ نوشی صرف ایک شخصی عادت نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اگر ہم آج اقدامات نہ اٹھائیں تو کل ہمیں صحت، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ایک سگریٹ فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

    ‎مجموعی طور پرپاکستان کو تمباکو کے خلاف پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس میں مسلسل اضافے اور سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

  • خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    لفظوں کی پکار

    غزہ کی زمین سرخ ہو چکی ہے۔ ملبے کے نیچے دبی ہوئی ننھی لاشیں، ماؤں کی سسکیاں، اور ویران مسجدیں… یہ سب ایک سوال بن کر اُمت مسلمہ کے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں، مگر افسوس! یہ ضمیر شاید سو چکا ہے — یا بدتر، مر چکا ہے۔

    اسرائیلی بمباری صرف عمارتوں کو نہیں گرا رہی، بلکہ انسانیت کے دعووں کو بھی خاک میں ملا رہی ہے۔ عالمی ادارے، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں، اور نام نہاد مہذب دنیا سب تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک کردار خود اسلامی دنیا کا ہے، جو محض بیانات، قرار دادوں اور تصویری مذمتوں تک محدود ہو چکی ہے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

    "المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله”
    یعنی: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
    (صحیح بخاری)

    مگر ہم نے اپنے بھائیوں کو چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے خاموشی اوڑھ لی۔ ہماری زبانیں مصلحت کے تالے میں بند ہیں، اور دل مفاد کی زنجیروں میں قید ہیں۔

    آج اسلامی ممالک کی طاقت صرف عسکری نمائشوں تک محدود ہے۔ اتحاد صرف کانفرنس ہالز کی میزوں پر موجود ہے۔ اور بیت المقدس کی اذیت…؟ وہ چیخ چیخ کر ہمیں پکارتی ہے، مگر ہم تجارتی معاہدوں اور سفارتی توازن کے نشے میں بے حس ہو چکے ہیں۔

    یہ کیفیت نئی نہیں۔ جب تک صلاح الدین ایوبی کی آنکھوں میں بیت المقدس کی غلامی کا دکھ تھا، وہ سکون سے سو نہیں سکتا تھا۔ مگر ہم…؟ ہم ہنستے ہیں، خریداری کرتے ہیں، تفریح کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں… ہم زندہ ہیں۔

    نہیں!
    ہم زندہ لاشیں ہیں، جو نہ بولتی ہیں، نہ تڑپتی ہیں، اور نہ ہی اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نیند سے جاگیں۔ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔ فلسطینی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ظالموں کی معیشت کو کمزور کریں۔ دعائیں کریں، شعور پھیلائیں، اور اپنی نسلوں کو سچ سکھائیں۔

    ورنہ وہ دن دور نہیں جب تاریخ ہمیں اسی عنوان سے پکارے گی:
    "خاموش اُمت… زندہ لاشیں!”

    jabbaraqsa2@gmail.com

  • ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، کہتی ہے میری نظر شکریہ ۔۔۔۔۔۔

    آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ۔۔۔۔

    جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں ۔۔۔۔

    اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔

    تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے لازوال گیتوں پہ اپنے منفرد رقص سے فلم انڈسٹری پہ دھاک بٹھانے والی ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے ۔
    غزالی آنکھوں والی رانی بیگم نے اپنے منفرد رقص اور لاجواب اداکاری سے تیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا ۔
    اپنے تیس سالہ فلمی کیریئر میں اس نے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کردار کو اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ آغاز میں بیشک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہی بات رانی بیگم پر بھی صادق آتی ہے ۔
    تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی بیگم کا اصل نام ناصرہ تھا ، لیکن فلم انڈسٹری میں شہرت اس نے اپنے فلمی نام رانی بیگم سے حاصل کی ۔
    رانی بیگم ماضی کی معروف گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں ۔ وہ 8 دسمبر 1946 ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔
    رانی کی فنی تربیت کے لئے اس کے والد نے اسے مختار بیگم کے حوالے کر دیا ۔
    ناصرہ جب سولہ برس کی ہوئی تو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اسے رانی کا نام دے کر اپنی فلم ” محبوب” میں کاسٹ کیا ۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی ۔ فلم محبوب کی طرح یکے بعد دیگرے دس فلموں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد 1967 ء میں ہدایت کار حسن طارق بٹ کی فلم
    ” دیور بھابھی ” کی کامیابی کے بعد اداکار و ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ” چن مکھناں” بھی سپر ہٹ فلم قرار پائی ، اس کے بعد رانی پہ کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
    1968 ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ” بہن بھائی” منظر عام پر آئی ، اس فلم کا ایک گیت” ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی ” بھی بہت مشہور ہوا ۔
    1970 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” انجمن ” نے رانی بیگم کی شہرت و مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا ، خاص طور پر اس فلم کے سونگ اور ان پہ رانی بیگم کے رقص نے وہ کامیابی حاصل کی جس کے بعد رانی بیگم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس فلم میں رانی کے علاوہ سنتوش کمار ، صبیحہ خانم ، دیبا اور اداکار وحید مراد نے کام کیا ۔
    رانی بیگم نے اپنے عہد کے تقریباً سبھی قد آور اداکاروں کے ساتھ کام کیا مثلاً محمد علی ، وحید مراد ، سنتوش کمار ، درپن ، کمال ایرانی ، شاہد ، سدھیر ، حبیب ، ندیم ، علی اعجاز ، غلام محی الدین اور اداکار یوسف خان شامل ہیں ۔
    ان سب اداکاروں میں اداکار شاہد اور اداکار وحید مراد کے ساتھ رانی بیگم کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا ۔

    رانی بیگم کی کچھ قابلِ ذکر اُردو فلموں میں امراؤ جان ادا ، خوشبو ، تیری خاطر ، تہذیب ، سیتا مریم مارگریٹ ، ترانہ ، شمع پروانہ ، انجمن ، دیور بھابھی ، ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساؤ ، ثریا بھوپالی ، ناگ منی ، میرا گھر میری جنت ، دل میرا دھڑکن تیری ، پیاس ، ہزار داستان ، سہیلی ، گونگا اور فلم نذرانہ اور ان کی چند ایک پنجابی فلموں میں محرم دل دا ، دیوانہ مستانہ ، سونا چاندی ، موج میلہ ، دنیا مطلب دی اور فلم بابل شامل ہیں ۔
    جب بھارت میں فلم امراؤ جان ادا بنائی گئی تو بعد میں ان کی کاسٹ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ رانی بیگم جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    رانی بیگم نے مجموعی طور پر 168 فلموں میں کام کیا ، جن میں 103 اُردو اور 65 پنجابی فلمیں شامل ہیں ۔
    ان کی آخری فلم ” کالا طوفان ” 1987 ء میں ریلیز ہوئی ۔
    رانی بیگم نے اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی دلکش مسکراہٹ ، خوبصورتی ، معصومیت ، جذباتی مکالموں ، اور منفرد رقص سے لاکھوں دلوں پر راج کیا اور اتنی مہارت سے ہر کردار ادا کیا کہ وہ کردار امر ہو گیا ۔

    انہیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ ” نگار ایوارڈ ” سے نوازا گیا ۔
    رانی بیگم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی ڈرامہ سیریلز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ، ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں خواہش اور فریب سر فہرست ہیں ۔

    اپنے فلمی کیریئر میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود رانی بیگم اپنی حقیقی زندگی میں ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی ۔
    ان کی پہلی شادی ہدایت کار حسن طارق سے ہوئی جس سے رانی بیگم کا بیٹا علی رضا پیدا ہوا ، جبکہ دوسری شادی معروف فلم ساز جاوید قمر اور تیسری شادی کرکٹر سرفراز نواز سے ہوئی ، مگر بد قسمتی سے ان کی یہ تینوں شادیاں ناکام رہیں جس کا رانی کو ساری زندگی افسوس رہا ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کیا ۔

    زندگی کے آخری دنوں میں انہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ۔ جس کے طویل علاج کے بعد بھی یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بالآخر 27 مئی 1993 ء کو 47 برس کی عمر میں رانی بیگم اِنتقال کر گئیں ۔
    (ان للہ وان الیہ راجعون)

    وہ لاہور کے مسلم ٹاؤن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
    اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ رانی بیگم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )
    آج 2025 ء میں رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے لیکن ان کی اداکاری ، انداز گفتگو اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

  • اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد لاہور میں ہوا، جس میں شرکت کا موقع ملا، اس تقریب کے دوران اپووا کے بانی و صدر محترم ایم ایم علی سے ملاقات ہوئی، جو نہایت شفیق اور ادب دوست شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ملاقات کے دوران انہیں قصور کے دورے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ وعدے کے مطابق وہ وفد کے ہمراہ قصور پہنچے۔

    قصور پہنچنے پر اپووا کے معزز وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا،وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی کے ہمراہ حافظ محمد زاہد (سینئر نائب صدر)، سفیان علی فاروقی (نائب صدر)، اسلم سیال (نائب صدر میل ونگ) شامل تھے۔ وفد کے ہمراہ ایڈیٹر "باغی ٹی وی” ممتاز اعوان بھی اپنی فیملی سمیت موجود تھے۔استقبالیہ انتظامات میں مقامی صحافیوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی، اور مہر شوکت علی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام احباب کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور ادب دوستی کا عملی مظاہرہ قابل ستائش تھا۔ظہرانے کے بعد اپووا کے وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر لے جایا گیا جہاں پریڈ دیکھنے کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر تمام شرکاء بارڈر پہنچے۔ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جیسے ہی پریڈ کا آغاز ہوا، پاکستانی عوام کی جانب سے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے:
    "اللہ اکبر”, "پاکستان زندہ باد”, اور "پاک فوج کو سلام”۔

    پاکستانی سائیڈ پر عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر چہرے پر وطن سے محبت جھلک رہی تھی۔ جبکہ دوسری جانب یعنی بھارتی سائیڈ پر ماحول خاموش، سناٹے اور پژمردگی کا شکار نظر آیا۔ چند ہی بھارتی شہری وہاں موجود تھے، اور ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور مایوسی کے سائے نمایاں تھے۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہو، اور بھارت کی جانب سے کیے گئے "آپریشن سندور” کا حال یہ ہوا کہ سارے بھارتی ہی "بیوہ” ہو گئے

    گنڈا سنگھ بارڈر سے واپسی پر قصور میں اپووا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کیا گیا. یہ دفتر مستقبل میں ادیبوں، شاعروں، کہانی نویسوں اور لکھاریوں کے لیے ایک علمی و فکری پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اپووا کی جانب سے ادبی خدمات کی توسیع اور فروغ کے لیے یہ قدم نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ قصور میں اپووا دفتر کا قیام یقینی طور پر اہل قلم کے لئے ایک سنگ میل ہے، جو ادب، ثقافت اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔

    آخر میں ہم اپووا کی پوری ٹیم، بالخصوص بانی صدر ایم ایم علی اور ان کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قصور جیسے تاریخی اور ادبی شہر کو اپنی موجودگی سے نوازا اور خدمت کا موقع دیا، امید ہے کہ اپووا کا یہ جذبہ خدمت مستقبل میں بھی علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنے گا،اللہ کرے کہ اپووا کا یہ کارواں یوں ہی محبت، ادب اور علم کی شمعیں روشن کرتا رہے۔

    پاکستان زندہ باد

  • ایک چھوٹے  سے انقلاب کی  داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    ایک چھوٹے سے انقلاب کی داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    میں نے بڑے بڑے انقلابوں کی داستانیں پڑھی بھی ہیں ، سنی بھی ہیں – لیکن اپنی آنکھوں سے جس انقلاب کو دیکھا وہ پی ایم اے میں میری آپ بیتی ھے-
    پی ایم اے پہنچے تو فوج نے سب سے پہلے میرے نخرے کا علاج کیا- سر کے باھر بال نہیں رھنے دیئے اور سر کے اندر نخرا، نہ کوئی شک- ابھی پی ایم اے کا گیٹ کراس کئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ہم بالکل good year ٹائر کی طرح روانی سے فرنٹ رول کرنا سیکھ چکے تھ-پی ایم اے جانے سے پہلے میں گھر پر گنی چنی چیزیں ،گوشت، قیمہ ، انڈے ، سموسے، چاٹ ، گول گپّے ،بسکٹ وغیرہ ہی کھاتا تھا- اڑھائی مہینے بعد میں جب پہلی بار ،گھر مڈ ٹرم کی چھٹی آیا، تو ماں میری حیران رہ گئی، میں قربانی والے بکرے کی طرح ، سب کچھ کھا رھا تھا- والد صاحب زیر لب مسکرا رھے تھے کہ ” پتر ھون سنا، تینوں کہنا ساں نہ پڑھ لے”-

    جیسے ہی سرکاری اوقات کار ختم ھوتے ہیں ، جونیئر کیڈٹ سینئر کیڈٹ کی پناہ میں آ جاتے ہیں- یہ کیسے ھوتا ہے- جی، یہ جادوئی عمل ہر پلاٹوں میں ایک سینئر جنٹل مین کیڈٹ کے ذریعے عمل میں آتا ھے- جیسے ہر کلاس کا مانیٹر ہوتا ھے ایسے ہی ہر پلاٹوں کا اور پھر کورس کا ایک سینئر جنٹلمین کیڈٹ ( ایس جی سی) نامزد ہوتا ھے اور سارے احکامات اس کے ذریعے پوری پلاٹون تک پہنچتے ہیں- کوئی فون یا وائرلیس نہیں ہوتا – ایس جی سی ،دو ٹانگوں اور زبان کا ستعمال کر کے سارے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ھے- ہر پلاٹوں کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا والی وارث ہوتا ھے- چھوٹا تیسری ٹرم کا کیڈٹ ھوتا ھے جسے کارپورل کہتے ہیں- بڑا چوتھی ٹرم کا کیڈٹ ہوتا ھے جسے سارجنٹ کہتے ہیں- ان دونوں کا آپس میں روحانی رابطہ ہوتا ھے- چھوٹا چھوڑتا ھے تو بڑا بلا لیتا ھے اور بڑا جب کہتا ھے آپ لوگ جائیں تو چھوٹا باھر ہی مل جاتا ھے- ہمارا چھوٹا ھماری بیرک کے کنارے پہلے کمرے میں رھتا تھا-

    پی ایم اے کلچر میں میٹافورز اور سگنل کا استعمال بہت اھم ھے- ڈرل سکیئر، پی ٹی گراؤنڈ، کوت، میس، ایچ ایس، سیچل، ڈی ایم ایس، ڈرل شوز، مَفتی، مَفتی شوز، ایس ڈی، جی سی آفس ، اینٹی روم، ھینڈز ڈاؤن، رول، فراگ جمپ اور اسی طرح کے سینکڑوں میٹافور ذہن میں ایسے بیٹھے کہ آج تک ازبر ہیں-

    قیامت کی گرمی ھو یا مائنس ٹمپریچر، آپ ریگستان میں ہیں یا سیاچن پر، کھانا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا ھے، پورے ڈریس کوڈ کے ساتھ- کھانے والا ٹیبل ٹینٹ میں لگے یا باقاعدہ کمرے کے اندر ، اس کا درجہ میس کا ہی رھے گا- دال بھی ، بھنی ھوئی مرغی کی طرح کانٹے سے اور نہایت ادب سے کھائی جائے گی- کھانے کے ایک ایک نوالے کا بل آفیسر کی اپنی ذمہ داری ھے- نہ کبھی کوئی کسی کا مذھب پوچھا، نہ ذات – سب کو اپنی سینیارٹی کا پتا ہوتا ھے- چپ چاپ بغیر کرسی کی آواز نکالے بیٹھتے جاتے ہیں – اس سارے ماحول میں صرف ایک شخص ایسا ہوتا ھے جو کوئی بھی لطیفہ سنا سکتا ھے، کوئی قصہ یا تاریخی واقعہ اور اگر موڈ ھو تو کل صبح روٹ مارچ کا حکم یا آج ھی رات نائیٹ ٹرینگ اور وہ شخص بلحاظ عہدہ CO کہلاتا ھے-

    بہت ہی محدود وسائل میں سلیقے کی زندگی گزارنا بہت بڑا فن ھے- زندگی میں پیسے اتنے معنی نہیں رکھتے جتنا، جینے کا سلیقہ- پی ایم اے سے یہی ” سلیقہ” سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اس سلیقے کے قیدی بن کر رھے- فوج کی کھٹی میٹھی یادیں میری زندگی کا اثاثہ ھے-

  • کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتیں جو قلم سے لکھی جاتی ہیں، اور نہ ہی وہ جو اشاعت کی زینت بنتی ہیں۔ کچھ کہانیاں خامشی کے دبیز پردوں میں لپٹی، وقت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی کسی کتاب کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ وہ جھروکوں سے جھانکتی ہیں، گلیوں کے گرد گھومتی ہیں، اور گواہی دیتی ہیں کہ انسان صرف جیتا نہیں، جھیلتا بھی ہے۔

    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سننے کے لیے کان نہیں، دل درکار ہوتا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز مزدوری کے لیے نکلتی ہے، اور شام کو بچوں کے لیے ہنسی اوڑھ کر لوٹتی ہے — اُس کی زندگی ایک مکمل کہانی ہے، جو شاید کبھی لکھی نہ جائے۔ وہ بزرگ جو پنشن کے لیے قطار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں، وہ بچہ جو سڑک پر کتابیں بیچتے ہوئے تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو ہر در سے مایوسی لے کر بھی ہار نہیں مانتا — یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ان کے لیے کوئی مصنف نہیں۔

    ادب کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ اُن احساسات کو بھی جگہ دے جنہیں دنیا نظر انداز کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات ادب بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بیان سے انکار کرتے ہیں، اور کچھ سچ ایسے جو سننے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "کہانی جو لکھی نہ گئی” وجود پاتی ہے — اور قاری کے دل میں کوئی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

    ہم نے اکثر داستانوں کو انجام کی تلاش میں پڑھا، مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو انجام سے پہلے ہی بھلا دی گئیں۔ ان میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ قافیہ، نہ منظرنامہ — فقط حقیقت ہوتی ہے، خالص اور بے رحم۔ وہ سچائی جو صرف نظر انداز کیے گئے لوگوں کے چہروں پر لکھی جاتی ہے، یا اُن آنکھوں میں جو سوال بن کر جمی رہتی ہیں۔

    یہ کالم اُنہی خاموش کہانیوں کی ایک پکار ہے — اُن لفظوں کی جو دل میں دب کر رہ گئے، اُن خوابوں کی جو بکھرنے سے پہلے پلکوں پر اترے ہی نہ تھے۔ یہ اُن لمحوں کی ترجمانی ہے جنہیں کبھی کسی نے لکھنے کے قابل نہ سمجھا، مگر وہ آج بھی ہمارے اردگرد سانس لیتے ہیں۔ وہ گلی کا نکڑ، وہ بند دروازہ، وہ خاموشی میں لپٹی کراہ — سب کچھ زبان بننے کو بےتاب ہے۔

    جب ایک دن یہ سب کہانیاں اپنے لکھنے والے پا لیں گی، تب ادب کا دامن بھی مکمل ہوگا۔ تب شاید کوئی مصنف کہے گا:
    "میں نے وہ کہانی لکھ دی جو لکھی نہ گئی تھی۔”

    ہر درد کے نام،
    ہر بے نام آواز کے احترام میں۔

    ای میل: jabbaraqsa2@gmail.com

  • پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔
    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔
    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔
    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ءکے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے ۔جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوتی ہے۔
    روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری ہیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی عازمین کو رخصت کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت حج کےلئے جائیں گے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے ہم کوشش کررہے ہیں جلد ہی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔
    اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔
    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔
    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا” کسی حد تک یہ بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے مکمل طور پر درست نہیں مانتی۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس پر زیادہ ٹیکس لگا دینا اس کی روک تھام نہیں ہو سکتا ہاں کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کی دسترس سے دور ہو سکتا ہے لیکن ایسا صرف کچھ وقت کے لیے ہو سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی ایک بہت بری لت ہے دراصل ایک بہت بری عادت، بہت بری بیماری ہے جو ایک بار کسی کو لگ جائے تو اس کا بچنا مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں انسان دھنستا ہی جاتا ہے ہاں ایک کام ضرور ہو سکتا ہے اگر انسان پختہ ارادہ کر لے تو کسی بھی مشکل یا دلدل سے باہر آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو اس کے علم کی بنا پر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یاد رہے علم کی بنا پر اسے فرشتوں سے سجدہ کروایا تو اس کا مطلب ہے کہ علم ہی درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت قران پاک میں فرماتے ہیں:
    "اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔”(سورہ الفاطر:28)

    علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس سے انسان کے دل میں آگاہی اور شعور کا پودا لگتا ہے اور روز بروز علم کی بنیاد پر ہی اس کی آبیاری ہوتی ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس کے باعث انسان رب کی معرفت حاصل کرتا ہے ذہن و دل میں رب کی محبت اور اس کے خوف کو بٹھاتا ہے اور پھر غلط کاموں سے رک جاتا ہے۔

    حدیث کے مطابق ایمان، امید اور خوف کے بین بین ہے۔ جس دل میں ایمان ہوگا وہیں پر اللہ کا خوف بھی ہوگا اور انسان برائی کرتے ہوئے ڈرے گا بھی اور وہ رب کی ناراضگی سے گھبرائے گا بھی، جس دل میں ایمان ہوگا وہی دل رب سے امید بھی باندھے گا کہ اگر میں برائیوں سے رکوں گا تو رب کے انعام کا حقدار بنوں گا۔ فرمان نبوی کے مطابق: "ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہ اس کے والدین ہیں جو اس کو یہودی مجوسی اور عیسائی بناتے ہیں۔” تو ثابت ہوا کہ کوئی بھی بچہ برائی کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا یہ والدین کی تربیت اور ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ وہ برائیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ سگرٹ نوشی بھی ان برائیوں میں سے ایک برائی ہے جو اچانک سے کسی انسان کی زندگی میں نہیں آتی۔ سگریٹ نوشی کے خاتمے سے پہلے آئیے جانیے کہ اس برائی کا اغاز کہاں سے ہوا تھا؟ کون تھا جس نے آج کی نوجوان نسل کو اس جگہ کھڑا کر دیا جہاں وہ اچھے برے کی تمیز بھول گیا۔ جہاں وہ حلال اور حرام کی پہچان بھول گیا۔ دیکھنے میں یہ تین انچ لمبی اور ایک چھوٹے بچے کی انگلی جتنی معمولی نظر آنے والی شے دراصل معمولی نہیں ہے 19ویں صدی کی اوائل میں امریکہ کے جیمز بکانن ڈیوک نے اس برائی کی بنیاد رکھی پہلے وہ سگرٹ کو ہاتھ سے بناتا رہا بعد ازاں اس نے مشین ایجاد کی جہاں وہ ہاتھ سے ایک دن میں 200 سگرٹ بناتا تھا اب وہاں وہ ایک دن میں ایک لاکھ بیس ہزار سگرٹ بنانے لگ گیا اور وہاں کے رہائشیوں کے لیے یہ تعداد بہت زیادہ تھی لہذا اس نے سگرٹ کو دنیا میں اشتہارات کے ذریعے اور بعض دفعہ مقابلہ حسن میں مفت بانٹنا شروع کر دیے اور اس طرح برائی اتنے سستے طریقے سے پھیل گئی کہ جس کا خمیازہ آج بھی نسلیں بھگت رہی ہیں۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جس نے کسی برائی کی بنیاد رکھی یا آغاز کیا وہ گناہ گار ہے۔”
    برائی کا آغاز کرتے وقت انسان یہ سوچتا نہیں کہ یہ برائی نسلوں تک جائے گی اور رہتی دنیا تک جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کی سزا ساری کی ساری ایجاد کرنے والے اور بنیاد رکھنے والے کو ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”(سنن ترمزی1864) اسی طرح قران پاک میں شراب کی حرمت کو لے کر جو احکامات بیان کئے گئے ہیں ان کے مطابق شراب خریدنا، اس کا پینا، اس کا کاروبار کرنا سب حرام ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ حلال و حرام میں فرق کیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سگرٹ نوشی حرام کے زمرے میں نہیں آتی لیکن روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بھی چیز نشے کے طور پر استعمال ہوتی ہے وہ چاہے سگریٹ ہو چاہے وہ اس سے ملتی جلتی کوئی بھی چیز وہ سب حرام کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پذیر جتنے بھی ممالک ہیں ان میں سگریٹ کی طلب میں ہر سال 3.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ انسانی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ لوگ ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ان میں سے 80 فی صد غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ پاکستان میں بھی تمباکو کی صنعت کا مجموعی حجم تقریبا ایک ارب روپیہ ہے اور اس میں مختلف اقسام منظر عام پر آتی ہیں جن میں کچھ نقلی ہیں کچھ اصلی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب سگریٹ کو مہنگا کیا جاتا ہے تو اس کے بعد دو طرح کی کوالٹی سامنے آتی ہیں کیونکہ مہنگا سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہوتا ہے تو وہ بہت ہلکی اور سستی کوالٹی کا سگریٹ استعمال کرتا ہے۔ ایسے سگریٹ بہت سستے داموں میں بکتے ہیں۔ حکومت اگر اس پر ٹیکس بھی لگائیں گے تو ہمارے پاس اتنی زیادہ ایسی کمپنیز اور اتنے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو سگریٹ کی نقل بنانے میں ماہر ہیں تو ہر وہ چیز جس کی اصل پر ٹیکس لگے گا وہ ہر چھوٹے چھوٹے علاقوں کے اندر بننی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حکومتی طور پہ تو سگریٹ پر ذیادہ ٹیکس لگے کی اپیل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے لیول پر اپنے بچوں کو، اپنے سکولز میں، اپنے کالجز میں سگریٹ کے نقصان کے بارے میں آگاہی دیں۔ اسی طرح جو غریب طبقہ ہے اس کے لیے بھی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔

    حکومتی اداروں کے لیے میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    "تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(صحیح بخاری) حکومت وقت بھی شریعت کے نظام و قانون سے دور، خوف الہٰی سے دور، دولت اور عہدوں کے نشے میں چور، روز محشر کو گئی بھول۔ یاد کیجیے! حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تھا: "دریائے دجلہ و فرات کے کنارے کوئی پیاسا کتا بھی مر گیا تو پکڑ عمر کی ہو گی۔” کیسے تھے وہ لوگ؟ نہ عہدوں کی ہوس، نہ دولت کی لالچ، نہ زندگی کے حریص بس خدمت حلق تھا ان کا کام۔ دور حاضر میں حکومت وقت کو عہدوں کا جنون ہے۔ وہ یہ فراموش کر چکے کہ یہ عہدے نہیں ذمہ داریاں ہیں اور ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لاپرواہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے یہ نہ سمجھا کہ ایک دن آئے گا جہاں سورج سوا نیزے پر ہو گا۔ جہاں ہر ایک کے اعمال کا حساب ہوگا۔ جہاں ماتحتوں اور رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ جہاں حکومت رب کعبہ کی ہو گی اور دنیا کا ہر طاقت ور بادشاہ ہر حکمران تھر تھر کانپ رہا ہو گا۔ وہاں سوال ہو گا کہ جوانی کہاں گزاری اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہاں سوال ہو گا تمہیں حکومت دی گئی تھی امت محمدیہ کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں تھا تم نے کیا کیا؟ اپنے تھوڑے سے عہدوں کے نشے میں چور نوجوانوں کے ہاتھوں میں نشہ تھما دیا۔ عوام حکومت کی ماتحت ہوتی ہے اس کی رعیت ہوتی ہے اس کے ایک ایک عمل کے بارے میں حکمرانوں سے پوچھا جائے گا۔ جہاں کہیں برائیوں کے اڈے ہیں، جہاں کہیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں سگریٹوں کے دھوئیں ہیں سوال تو ہو گا۔ زندگی ایک نعمت ہے، رب کا عطیہ ہے، رب کا تحفہ ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ رب کی امانت ہے اور رب امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بالکل برداشت نہیں کرتا۔ بچہ دین فطرت پر پیدا ہوا تم نے اس سے کیا بنا دیا؟ میں تو کہتی ہوں سگریٹ پہ زیادہ ٹیکس کی بات چھوڑیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہی ہو جانا چاہیے۔ مسلمان نوجوان نسل اپنے ارادوں و عزائم میں بہت مضبوط ہے۔ ایک مسلمان کو اللہ نے دس کافروں پر فوقیت دی ہے۔
    اس کا وقار ایسا تو نہیں جو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑ جائے۔
    اس کا کردار ایسا تو نہیں کہ سگریٹ کی چنگاری کی طرح پاؤں تلے مسلا جائے۔
    اس کی گفتار ایسی تو نہیں جو ہوا میں لہرا جائے۔
    اس کے افکار ایسے تو نہیں جو ایک تین انچ کے ٹکڑے کے محتاج ہوں۔

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ شریعت کے قانون کی پاسداری کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں۔ آج عہدوں کے نشے میں چور حکمرانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ روز محشر جب رعیت کے بارے میں سوال ہوگا تو کیا جواب دیں گے؟ افسوس صد افسوس! اپنے چند ٹکوں کے لیے امت مسلمہ کو سگرٹ کے دھوئیں کے حوالے کر دیا. برائیاں تبھی جنم لیتی ہیں جب انسان کا دل خوف الہٰی سے خالی ہو جاتا ہے۔ جب اس کا یقین روز محشر کے بارے میں ڈگمگا جاتا ہے۔
    "ہمارے لیے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال۔”(سورہ البقرہ:139) حکمرانوں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسان کو اللہ نے عقل و شعور سے نوازا ہے انہیں خود بھی چاہیے کہ وہ برے اعمال سے دور رہیں۔ صاحب علم و فہم سے گزارش ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ہمیں بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
    تو آئیے! بارش کا وہ پہلا قطرہ بن جائے جو ہمت کرتا ہے اور اپنے پیچھے ڈھیروں بوندا باندی کو لے کر آتا ہے۔
    آئیے! ہاتھ بڑھائیے اٹھیے اور نفع مند مومن بن جائیں جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و بھلائی کے نور سے آگاہی دیتا ہے۔
    آئیے! سگرٹ نوشی کی روک تھام کے لیے آگاہی پروگرام کا انعقاد کریں اور کم پڑھے لکھے لوگوں تک بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ اس کے نقصانات بتائیں اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کریں۔
    تو کون بنے گا؟
    انصار اللہ!

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: عائشہ اسحاق
    سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر اسے غریب کی پہنچ سے دور کرنے کا مقصد لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کروانا ہے تو یہ طریقہ نہایت نامناسب ہے کیونکہ ٹیکس میں اضافہ غریب سے سگریٹس تو واقعی دور کر سکتا ہے مگر یہ طریقہ غریب کو سمگلنگ شدہ ناقص گھٹیا درجے کا سستا سگریٹ پینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے خلاف مختلف پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے غریب کا فائدہ نہیں بلکہ مزید نقصان ہوتا ہے۔ 2024 کے اختتام پر پیش کی جانے والی مالی رپورٹ کو دیکھیں تو 63 فیصد تک غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار عروج پر رہا۔ ماہر ٹیکس امور کے مطابق 2021 میں قانونی طور پر سگریٹ کا کاروبار 80 فیصد اور غیر قانونی سیگرٹس کا کاروبار 20 فیصد تھا جو کہ 2024 میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہونے کی باعث سمگلنگ شدہ غیر قانونی سگریٹ 63 فیصد تک جا پہنچا۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی لت ہے جو امیروں اور غریبوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے مگر ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے جب سیگرٹ کے پیکٹ کہ قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو امیر ادمی کے لیے اسے خریدنا کچھ مشکل نہیں ہوتا مگر اس کے برعکس غریب سیگرٹ نوشی کے عادی افراد قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں اور برانڈز کے سگریٹ کو خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد سمگلنگ شدہ اور لوکل کمپنیوں کی طرف سے تیار کیے جانے والے سگریٹ سستے داموں خرید لیتے ہیں۔ ان سیگرٹس میں کوئی نہیں جانتا کہ اجزا کس طرح کے استعمال کیے جاتے ہیں تمباکو کون سا استعمال کیا جاتا ہے لہذا یہ رجسٹرڈ برانڈز کے سگریٹ کی نسبت کہیں زیادہ مضر صحت ثابت ہوتے ہیں۔

    اول تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیگرٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ہلکا نشہ ہے اور یہ عمل اہستہ اہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں ہمارے مذہب دین اسلام میں کسی قسم کا بھی نشہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک مکروہ عمل ہے اور پھر یہ حقیقت واضح ہے کہ سگرٹ امراض کلب پھیپھڑوں کے امراض کینسر اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لہذا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں سگریٹ بنانے، خریدنے اور بیچنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

    لیکن اگر حکومت پاکستان ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی اور ٹیکس بڑھا کر سیکرٹ کے استعمال میں کمی واقعہ کرنے کی خواہاں ہے تو میری ذاتی طور پر رائے ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں کمی واقع کر دی جانی چاہیے تاکہ سمگلنگ جیسے گنھوونے دھندے کو مات ہو سکے۔
    کسٹمز انٹیلیجنس نے رواں سال مختلف کاروائیوں میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ کے تقریبا چار لاکھ سے زائد پیکٹ پکڑے۔ غیر قانونی سگریٹس کی خرید و فروخت سے 300 ارب سے زائد ٹیکس چوری ہوا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ غیر قانونی سمگلنگ شدہ سگریٹ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ملکی مالی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔

    ارٹیکل 6 کے تحت سیگرٹس بنانے والی تمام کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کی بھی رجسٹریشن کرنی چاہیے پاکستان میں دکانداروں کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی جس کی وجہ سے یہ بات معلوم نہیں ہو پاتی کہ کون پیڈ سگرٹ فروخت کر رہا ہے اور کون نان پیڈ فروخت کرتا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز کا رجسٹرڈ نہ ہونا لوکل کمپنیوں اور سمگلرز کی چاندی چمکانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ عمل لوگوں کی خاص کر نوجوانوں کی صحت اور ان کی زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ اس معاملے میں مختصرا یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض ٹیکس بڑھا کر سگریٹ کو غریبوں کی پہنچ سے دور کرنا کوئی مثبت حکمت عملی نہیں یا تو پاکستان میں سگریٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے یا پھر لوکل کمپنیوں اور غیر قانونی سگریٹ کی خرید و فروخت پر روک تھام کے لیے سیگرٹس کے تمام مینوفیکچرز اور ڈسٹری بیوٹرز حتی کہ تمام دکانداروں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔