Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا” کسی حد تک یہ بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے مکمل طور پر درست نہیں مانتی۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس پر زیادہ ٹیکس لگا دینا اس کی روک تھام نہیں ہو سکتا ہاں کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کی دسترس سے دور ہو سکتا ہے لیکن ایسا صرف کچھ وقت کے لیے ہو سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی ایک بہت بری لت ہے دراصل ایک بہت بری عادت، بہت بری بیماری ہے جو ایک بار کسی کو لگ جائے تو اس کا بچنا مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں انسان دھنستا ہی جاتا ہے ہاں ایک کام ضرور ہو سکتا ہے اگر انسان پختہ ارادہ کر لے تو کسی بھی مشکل یا دلدل سے باہر آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو اس کے علم کی بنا پر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یاد رہے علم کی بنا پر اسے فرشتوں سے سجدہ کروایا تو اس کا مطلب ہے کہ علم ہی درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت قران پاک میں فرماتے ہیں:
    "اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔”(سورہ الفاطر:28)

    علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس سے انسان کے دل میں آگاہی اور شعور کا پودا لگتا ہے اور روز بروز علم کی بنیاد پر ہی اس کی آبیاری ہوتی ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس کے باعث انسان رب کی معرفت حاصل کرتا ہے ذہن و دل میں رب کی محبت اور اس کے خوف کو بٹھاتا ہے اور پھر غلط کاموں سے رک جاتا ہے۔

    حدیث کے مطابق ایمان، امید اور خوف کے بین بین ہے۔ جس دل میں ایمان ہوگا وہیں پر اللہ کا خوف بھی ہوگا اور انسان برائی کرتے ہوئے ڈرے گا بھی اور وہ رب کی ناراضگی سے گھبرائے گا بھی، جس دل میں ایمان ہوگا وہی دل رب سے امید بھی باندھے گا کہ اگر میں برائیوں سے رکوں گا تو رب کے انعام کا حقدار بنوں گا۔ فرمان نبوی کے مطابق: "ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہ اس کے والدین ہیں جو اس کو یہودی مجوسی اور عیسائی بناتے ہیں۔” تو ثابت ہوا کہ کوئی بھی بچہ برائی کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا یہ والدین کی تربیت اور ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ وہ برائیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ سگرٹ نوشی بھی ان برائیوں میں سے ایک برائی ہے جو اچانک سے کسی انسان کی زندگی میں نہیں آتی۔ سگریٹ نوشی کے خاتمے سے پہلے آئیے جانیے کہ اس برائی کا اغاز کہاں سے ہوا تھا؟ کون تھا جس نے آج کی نوجوان نسل کو اس جگہ کھڑا کر دیا جہاں وہ اچھے برے کی تمیز بھول گیا۔ جہاں وہ حلال اور حرام کی پہچان بھول گیا۔ دیکھنے میں یہ تین انچ لمبی اور ایک چھوٹے بچے کی انگلی جتنی معمولی نظر آنے والی شے دراصل معمولی نہیں ہے 19ویں صدی کی اوائل میں امریکہ کے جیمز بکانن ڈیوک نے اس برائی کی بنیاد رکھی پہلے وہ سگرٹ کو ہاتھ سے بناتا رہا بعد ازاں اس نے مشین ایجاد کی جہاں وہ ہاتھ سے ایک دن میں 200 سگرٹ بناتا تھا اب وہاں وہ ایک دن میں ایک لاکھ بیس ہزار سگرٹ بنانے لگ گیا اور وہاں کے رہائشیوں کے لیے یہ تعداد بہت زیادہ تھی لہذا اس نے سگرٹ کو دنیا میں اشتہارات کے ذریعے اور بعض دفعہ مقابلہ حسن میں مفت بانٹنا شروع کر دیے اور اس طرح برائی اتنے سستے طریقے سے پھیل گئی کہ جس کا خمیازہ آج بھی نسلیں بھگت رہی ہیں۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جس نے کسی برائی کی بنیاد رکھی یا آغاز کیا وہ گناہ گار ہے۔”
    برائی کا آغاز کرتے وقت انسان یہ سوچتا نہیں کہ یہ برائی نسلوں تک جائے گی اور رہتی دنیا تک جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کی سزا ساری کی ساری ایجاد کرنے والے اور بنیاد رکھنے والے کو ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”(سنن ترمزی1864) اسی طرح قران پاک میں شراب کی حرمت کو لے کر جو احکامات بیان کئے گئے ہیں ان کے مطابق شراب خریدنا، اس کا پینا، اس کا کاروبار کرنا سب حرام ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ حلال و حرام میں فرق کیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سگرٹ نوشی حرام کے زمرے میں نہیں آتی لیکن روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بھی چیز نشے کے طور پر استعمال ہوتی ہے وہ چاہے سگریٹ ہو چاہے وہ اس سے ملتی جلتی کوئی بھی چیز وہ سب حرام کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پذیر جتنے بھی ممالک ہیں ان میں سگریٹ کی طلب میں ہر سال 3.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ انسانی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ لوگ ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ان میں سے 80 فی صد غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ پاکستان میں بھی تمباکو کی صنعت کا مجموعی حجم تقریبا ایک ارب روپیہ ہے اور اس میں مختلف اقسام منظر عام پر آتی ہیں جن میں کچھ نقلی ہیں کچھ اصلی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب سگریٹ کو مہنگا کیا جاتا ہے تو اس کے بعد دو طرح کی کوالٹی سامنے آتی ہیں کیونکہ مہنگا سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہوتا ہے تو وہ بہت ہلکی اور سستی کوالٹی کا سگریٹ استعمال کرتا ہے۔ ایسے سگریٹ بہت سستے داموں میں بکتے ہیں۔ حکومت اگر اس پر ٹیکس بھی لگائیں گے تو ہمارے پاس اتنی زیادہ ایسی کمپنیز اور اتنے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو سگریٹ کی نقل بنانے میں ماہر ہیں تو ہر وہ چیز جس کی اصل پر ٹیکس لگے گا وہ ہر چھوٹے چھوٹے علاقوں کے اندر بننی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حکومتی طور پہ تو سگریٹ پر ذیادہ ٹیکس لگے کی اپیل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے لیول پر اپنے بچوں کو، اپنے سکولز میں، اپنے کالجز میں سگریٹ کے نقصان کے بارے میں آگاہی دیں۔ اسی طرح جو غریب طبقہ ہے اس کے لیے بھی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔

    حکومتی اداروں کے لیے میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    "تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(صحیح بخاری) حکومت وقت بھی شریعت کے نظام و قانون سے دور، خوف الہٰی سے دور، دولت اور عہدوں کے نشے میں چور، روز محشر کو گئی بھول۔ یاد کیجیے! حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تھا: "دریائے دجلہ و فرات کے کنارے کوئی پیاسا کتا بھی مر گیا تو پکڑ عمر کی ہو گی۔” کیسے تھے وہ لوگ؟ نہ عہدوں کی ہوس، نہ دولت کی لالچ، نہ زندگی کے حریص بس خدمت حلق تھا ان کا کام۔ دور حاضر میں حکومت وقت کو عہدوں کا جنون ہے۔ وہ یہ فراموش کر چکے کہ یہ عہدے نہیں ذمہ داریاں ہیں اور ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لاپرواہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے یہ نہ سمجھا کہ ایک دن آئے گا جہاں سورج سوا نیزے پر ہو گا۔ جہاں ہر ایک کے اعمال کا حساب ہوگا۔ جہاں ماتحتوں اور رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ جہاں حکومت رب کعبہ کی ہو گی اور دنیا کا ہر طاقت ور بادشاہ ہر حکمران تھر تھر کانپ رہا ہو گا۔ وہاں سوال ہو گا کہ جوانی کہاں گزاری اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہاں سوال ہو گا تمہیں حکومت دی گئی تھی امت محمدیہ کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں تھا تم نے کیا کیا؟ اپنے تھوڑے سے عہدوں کے نشے میں چور نوجوانوں کے ہاتھوں میں نشہ تھما دیا۔ عوام حکومت کی ماتحت ہوتی ہے اس کی رعیت ہوتی ہے اس کے ایک ایک عمل کے بارے میں حکمرانوں سے پوچھا جائے گا۔ جہاں کہیں برائیوں کے اڈے ہیں، جہاں کہیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں سگریٹوں کے دھوئیں ہیں سوال تو ہو گا۔ زندگی ایک نعمت ہے، رب کا عطیہ ہے، رب کا تحفہ ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ رب کی امانت ہے اور رب امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بالکل برداشت نہیں کرتا۔ بچہ دین فطرت پر پیدا ہوا تم نے اس سے کیا بنا دیا؟ میں تو کہتی ہوں سگریٹ پہ زیادہ ٹیکس کی بات چھوڑیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہی ہو جانا چاہیے۔ مسلمان نوجوان نسل اپنے ارادوں و عزائم میں بہت مضبوط ہے۔ ایک مسلمان کو اللہ نے دس کافروں پر فوقیت دی ہے۔
    اس کا وقار ایسا تو نہیں جو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑ جائے۔
    اس کا کردار ایسا تو نہیں کہ سگریٹ کی چنگاری کی طرح پاؤں تلے مسلا جائے۔
    اس کی گفتار ایسی تو نہیں جو ہوا میں لہرا جائے۔
    اس کے افکار ایسے تو نہیں جو ایک تین انچ کے ٹکڑے کے محتاج ہوں۔

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ شریعت کے قانون کی پاسداری کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں۔ آج عہدوں کے نشے میں چور حکمرانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ روز محشر جب رعیت کے بارے میں سوال ہوگا تو کیا جواب دیں گے؟ افسوس صد افسوس! اپنے چند ٹکوں کے لیے امت مسلمہ کو سگرٹ کے دھوئیں کے حوالے کر دیا. برائیاں تبھی جنم لیتی ہیں جب انسان کا دل خوف الہٰی سے خالی ہو جاتا ہے۔ جب اس کا یقین روز محشر کے بارے میں ڈگمگا جاتا ہے۔
    "ہمارے لیے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال۔”(سورہ البقرہ:139) حکمرانوں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسان کو اللہ نے عقل و شعور سے نوازا ہے انہیں خود بھی چاہیے کہ وہ برے اعمال سے دور رہیں۔ صاحب علم و فہم سے گزارش ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ہمیں بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
    تو آئیے! بارش کا وہ پہلا قطرہ بن جائے جو ہمت کرتا ہے اور اپنے پیچھے ڈھیروں بوندا باندی کو لے کر آتا ہے۔
    آئیے! ہاتھ بڑھائیے اٹھیے اور نفع مند مومن بن جائیں جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و بھلائی کے نور سے آگاہی دیتا ہے۔
    آئیے! سگرٹ نوشی کی روک تھام کے لیے آگاہی پروگرام کا انعقاد کریں اور کم پڑھے لکھے لوگوں تک بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ اس کے نقصانات بتائیں اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کریں۔
    تو کون بنے گا؟
    انصار اللہ!

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: عائشہ اسحاق
    سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر اسے غریب کی پہنچ سے دور کرنے کا مقصد لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کروانا ہے تو یہ طریقہ نہایت نامناسب ہے کیونکہ ٹیکس میں اضافہ غریب سے سگریٹس تو واقعی دور کر سکتا ہے مگر یہ طریقہ غریب کو سمگلنگ شدہ ناقص گھٹیا درجے کا سستا سگریٹ پینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے خلاف مختلف پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے غریب کا فائدہ نہیں بلکہ مزید نقصان ہوتا ہے۔ 2024 کے اختتام پر پیش کی جانے والی مالی رپورٹ کو دیکھیں تو 63 فیصد تک غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار عروج پر رہا۔ ماہر ٹیکس امور کے مطابق 2021 میں قانونی طور پر سگریٹ کا کاروبار 80 فیصد اور غیر قانونی سیگرٹس کا کاروبار 20 فیصد تھا جو کہ 2024 میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہونے کی باعث سمگلنگ شدہ غیر قانونی سگریٹ 63 فیصد تک جا پہنچا۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی لت ہے جو امیروں اور غریبوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے مگر ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے جب سیگرٹ کے پیکٹ کہ قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو امیر ادمی کے لیے اسے خریدنا کچھ مشکل نہیں ہوتا مگر اس کے برعکس غریب سیگرٹ نوشی کے عادی افراد قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں اور برانڈز کے سگریٹ کو خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد سمگلنگ شدہ اور لوکل کمپنیوں کی طرف سے تیار کیے جانے والے سگریٹ سستے داموں خرید لیتے ہیں۔ ان سیگرٹس میں کوئی نہیں جانتا کہ اجزا کس طرح کے استعمال کیے جاتے ہیں تمباکو کون سا استعمال کیا جاتا ہے لہذا یہ رجسٹرڈ برانڈز کے سگریٹ کی نسبت کہیں زیادہ مضر صحت ثابت ہوتے ہیں۔

    اول تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیگرٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ہلکا نشہ ہے اور یہ عمل اہستہ اہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں ہمارے مذہب دین اسلام میں کسی قسم کا بھی نشہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک مکروہ عمل ہے اور پھر یہ حقیقت واضح ہے کہ سگرٹ امراض کلب پھیپھڑوں کے امراض کینسر اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لہذا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں سگریٹ بنانے، خریدنے اور بیچنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

    لیکن اگر حکومت پاکستان ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی اور ٹیکس بڑھا کر سیکرٹ کے استعمال میں کمی واقعہ کرنے کی خواہاں ہے تو میری ذاتی طور پر رائے ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں کمی واقع کر دی جانی چاہیے تاکہ سمگلنگ جیسے گنھوونے دھندے کو مات ہو سکے۔
    کسٹمز انٹیلیجنس نے رواں سال مختلف کاروائیوں میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ کے تقریبا چار لاکھ سے زائد پیکٹ پکڑے۔ غیر قانونی سگریٹس کی خرید و فروخت سے 300 ارب سے زائد ٹیکس چوری ہوا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ غیر قانونی سمگلنگ شدہ سگریٹ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ملکی مالی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔

    ارٹیکل 6 کے تحت سیگرٹس بنانے والی تمام کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کی بھی رجسٹریشن کرنی چاہیے پاکستان میں دکانداروں کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی جس کی وجہ سے یہ بات معلوم نہیں ہو پاتی کہ کون پیڈ سگرٹ فروخت کر رہا ہے اور کون نان پیڈ فروخت کرتا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز کا رجسٹرڈ نہ ہونا لوکل کمپنیوں اور سمگلرز کی چاندی چمکانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ عمل لوگوں کی خاص کر نوجوانوں کی صحت اور ان کی زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ اس معاملے میں مختصرا یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض ٹیکس بڑھا کر سگریٹ کو غریبوں کی پہنچ سے دور کرنا کوئی مثبت حکمت عملی نہیں یا تو پاکستان میں سگریٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے یا پھر لوکل کمپنیوں اور غیر قانونی سگریٹ کی خرید و فروخت پر روک تھام کے لیے سیگرٹس کے تمام مینوفیکچرز اور ڈسٹری بیوٹرز حتی کہ تمام دکانداروں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر:عبداللہ راؤ
    ایک طرف ملک مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے، تو دوسری طرف تمباکو نوشی جیسے مہلک عادتیں غریب اور متوسط طبقے کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جو شخص دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، وہ دن بھر کی مزدوری کے بعد ایک سگریٹ کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتار کر سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ سکون وقتی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، کیونکہ یہی دھواں اسے آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جا رہا ہے۔

    ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ دل، پھیپھڑوں، منہ اور حلق کے کینسر جیسے موذی امراض کا ایک بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے، جو نہ صرف فرد کی صحت بلکہ اس کے خاندان کی معاشی حالت کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں اگر سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ جب سگریٹ مہنگی ہوگی تو کم آمدنی والے افراد کے لیے اسے خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ نتیجتاً نوجوان اور غریب طبقہ اس زہر سے دور رہنے پر مجبور ہوگا۔ یاد رکھیں، یہ صرف ایک مالیاتی قدم نہیں، بلکہ ایک سماجی اصلاح ہے ، ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب،

    نقاد کہیں گے کہ ٹیکس سے حکومتی آمدن بڑھے گی مگر غریب مزید پس جائے گا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس لگانا دراصل غریب کو بچانا ہے۔ اسے بیماری، بھاری میڈیکل بلز اور قبل از وقت موت سے محفوظ رکھنا ہے۔ ایک سگریٹ مہنگی ضرور ہو گی، مگر شاید اسی مہنگائی کے سبب کسی کا باپ، بھائی یا بیٹا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔ اس 31 مئی کو ہمیں صرف تقاریر نہیں کرنی بلکہ عملی اقدامات کی حمایت کرنی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر قانون سازی، سگریٹ پر بھاری ٹیکس اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہی وہ راستے ہیں جو ہمیں ایک صحت مند، خوشحال اور سگریٹ فری پاکستان کی طرف لے جا سکتے ہیں،کیونکہ جب سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا اور یہی دوری، زندگی کی نزدیکی ہے۔

  • تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو نوشی…. صرف ایک انفرادی عادت نہیں بلکہ ایک المیہ بن چکی ہے، جو نہ صرف انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملکی معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی تاریک کر رہی ہے۔ اس تناظر میں غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف شروع کی جانے والی مہم قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔تمباکو نوشی کے نقصانات پر اگر غور کیا جائے تو فہرست بہت طویل ہے۔ یہ عادت پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، اور سانس کی تکالیف کا باعث بنتی ہے۔بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی بالواسطہ متاثر کرتی ہے۔معاشی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتی ہے، کیونکہ علاج مہنگا اور دیر پا ہوتا ہے۔

    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر تمباکو پر ٹیکس بڑھایا گیا تو غریب آدمی سگریٹ نہیں خرید سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصد ہونا چاہیے، اگر سگریٹ اتنی مہنگی ہو جائے کہ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے تو وہ شخص شاید انہی پیسوں سے بچوں کے لیے پھل لے آئے، جو ان کی صحت کے لیے مفید ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ ایک نسل کو تباہی سے بچانے کی کوشش بھی ہوگی۔آج کا نوجوان تمباکو نوشی کو "فیشن” اور "سٹائل” سمجھتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک زہر کو اپنے جسم میں اتار رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو آنے والے وقت میں نشے کی دوسری اقسام، جیسے چرس، آئس، اور ہیروئن تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

    اگرچہ حکومت نے تمباکو نوشی پر مختلف پابندیاں لگا رکھی ہیں، مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانہ، اشتہارات پر پابندی، اور سگریٹ پیک پر وارننگ، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی تعلیمی ادارے، مسجد یا ہسپتال کے باہر کھڑے افراد کو تمباکو نوشی سے روکا گیا ہو؟یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے معاشرے کو متحرک ہونا پڑے گا۔ہمیں اپنی مہم کا آغاز ان اداروں سے کرنا ہوگا جہاں سے اصلاح ممکن ہو،تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو بچپن سے ہی تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی دی جائے۔مساجد جہاں علما خطبوں میں اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔میڈیا، تمباکو مخالف اشتہارات اور کہانیاں عام کی جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرے تاکہ ان کی دستیابی کم ہو،تمباکو سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت و تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرے،ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنائے تاکہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جا سکے۔

    صحت مند پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، جس کی تعبیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اجتماعی سطح پر تمباکو نوشی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں، بچوں، بزرگوں اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی لعنت سے بچانا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک بیمار، آلودہ اور نشہ زدہ قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک باہمت، صحت مند اور روشن خیال قوم، جو آنے والے وقت میں دنیا کے سامنے ایک مثال بن سکے۔آئیں، تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔

  • پانی  کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا
    قحط کے سائے منڈالارہے ہیں ،کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے ملک کی ضرورت
    معیشت بچانے کیلئے قرض لے لیا ،پانی کیلئے کس کے پاس جائیں گے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    بھارت سفارتی سطح پر تنہا ہوچکا،اسحاق ڈار کی ڈپلومیسی نے پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنادیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکی صدر کی روزانہ کی بنیاد پر پالیسیوں کی تبدیلیاں ایک سوالیہ نشان ہے ، اگر ٹرمپ یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہوئے سامراجی خواہشات پر زور دیتے ہوئے یو ایس ایڈ کو تباہ کرتے ہوئے ، وائس آف امریکہ کو خاموش کراتے ہوئے امریکہ کے اندر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے دستبردار ہو کر چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ان پالیسیوں سے ناکامی امریکہ کے مقدر میں ہے، امریکی مارکیٹیں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اشارہ دے رہی ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی شاید اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقاوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی ہے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت بھارت اس معاہدہ پر عمل کرنے سے دستبردار ہوسکتا ہے ، مودی بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کے راستوں پر لے کر جا رہا ہے اگر بھارت ایس حرکت کرے گا تو دنیا بھارت پر دبائو ڈالے گی اس سلسلے میں وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار عالمی دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں مودی خواب تو دیکھ سکتا ہے مگر خواب حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکتا،تاہم صاحب اختیارات، ذمہ داران ریاست بیورو کریٹس، ملکی سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز سوچیں ارض وطن کی ملکیت خدا پاک کی ہے ،

    صاحب اختیارات سے التجاہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان پانی کی کمی کی طرف جا رہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں پانی ایک سنگین مسئلہ ہے کالا ڈیم کی تعمیر اس سرزمین کی زندگی بچانے اور آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کے لئے فیصلہ کریں پانی کی کمی سے قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھاتی دیتے ذرا سوچئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا جا سکتا ہے مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے ادھار لیا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی ریاست کے اس سنگین مسئلہ پانی پر بھی توجہ دیں کالا باغ ڈیم کے لئے بھی کبھی ایک کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کریں یہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے خدارا ہوش کیجئے

  • شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ اور خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی عام خاتون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ہونا ناقابل برداشت ہونا چاہئے لیکن ایک معلم کے ساتھ مجرموں والا رویہ ہونا ہم سب کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کے آفیشل پیچ پر لگی تصاویر اور ویڈیو نے ناصرف اساتذہ اکرام کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور غیرت مند فرد کو رلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری خود اور اپنے ہمنوا افسران کے ہمراہ کرسیوں پر براجمان ہو کر بادشاہانہ تمکنت کے ساتھ معزز خواتین اساتذہ کو کھڑے کرکے ہئیرنگ کر رہا ہے۔ مرد و خواتین اساتذہ کو مجرموں کی طرح کھڑے کرکے سننا استاد کی توہین اور جتنی مذمت کی جائے اتنی کم والا شرمناک رویہ ہے۔
    پورے پنجاب کے اساتذہ اور ہر شہری اس رویے پر شدید دکھی اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس شرمناک رویے پر سیکرٹری سے معافی اور وزیراعلیٰ سے سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ جب آپ نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیا تو دنیا بھر کی تعلیمی و سماجی تنظیموں کی طرف سے آپ کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں خواتین کی بااختیاری اور تعلیمی و معاشرتی ترقی کے نئے دور کا آغاز کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کا خیر مقدم کیا بلکہ اس امید کا اظہار کیا تھا کہ شعبہ تعلیم میں وزارت اور سیکرٹری کسی خاتون کو دے کر دنیا کو پنجاب اور پاکستان میں خواتین کی تعلیمی ترجیحات کا پیغام دیا جائے گا۔
    پولیس کے رویہ کے بارے عوام کو عمومی شکایت ہوتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے وہاں بھی اگر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا استاد ہے تو حیا کرتے ہیں۔ بیوروکریسی میں بہت سارے افسران جو اچھے خاندانی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں آج بھی اگر انکا استاد انکے دفتر آجائے تو وہ اپنی سیٹ پیش کرتے ہیں یا کم از کم ریوالونگ چئیر کی بجائے ان کے ساتھ کرسی یا صوفے پر بیٹھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے استاد سے بڑے نہیں ہوسکتے۔ آرمی اور جوڈیشری میں قابل تعریف حد تک استاد کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
    اللہ کے نبی نے بیشتر دفعہ فرمایا کی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ؟
    ایک موقع پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ استاد کے مقام کیلئے رسول اللہ سے باب العلم کا لقب پانے والے اور جنت کے سردار حضرت علی کا یہ قول کافی ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ امام علی بن حسین زین العابدین کا کہنا ہے کہ استاد کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسکی موجودگی کا لحاظ کیا جائے۔
    خلیفہ ہارون الرشید کے دونوں بیٹے استاد کے جوتے پکڑنے میں پہلے کرنے کیلئے مقابلہ کرتے تھے۔
    سیکرٹری تعلیم نے معزز اساتذہ کو کھڑے کرکے نا صرف ان کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ ان کی پیشگی اجازات کی بغیر انکی ویڈیو بنا کر اور سوشل میڈیا پر اپلود کر کے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی کی، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور بنا اجازت سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی معزز شہری کی ویڈیو نہ تو بنائیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی کا کام کرکے احسان نہیں کرتا جو زبردستی انکی ویڈیو اور تصاویر بنا کرسوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلی اور وزیراعظم کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر کاموں کا کریڈٹ اور تشہیر صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کا۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ تعارف و تعریف؛ (Concept of Budget)

    تاریخی طور پہ دیکھا جائے۔ تو بجٹ ایک لاطینی زبان کے لفظ "بلگا” اور فرانسیسی لفظ "بوجٹ(Bougette)” سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی چمڑے کے کسی تھیلے یا بیگ یا پرس کے ہیں۔

    اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے وزیر خزانہ اور پہلے وزیراعظم مسٹر رابرٹ پول جب پارلیمنٹ میں مالی امور کی منظوری کے لئیے جاتے۔ تو ان کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہوتا تھا۔ جس میں ملک کے مالی امور سے متعلقہ اہم دستاویزات ہوتیں۔ بعد میں یہ تھیلا "بجٹ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یوں تاریخی اعتبار سے بجٹ کا آغاز 1745ء میں برطانیہ سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اصطلاح آمدنی و اخراجات سے بڑھ کر مالیاتی منصوبہ بندی، مالی امور کے نظم و نسق اور ملکی وسائل کی تفویض کاری کے پورے عمل تک وسعت اختیار کر گئی۔

    علم معاشیات کی رو سے اگر ہم بجٹ کی اصطلاح کی تعریف کریں۔ تو ” بجٹ ایک مالیاتی یا زری منصوبہ نما دستاویز ہے۔ جس میں کسی حکومت کو اسے ایک مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی وصولیوں جو وہ مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اور ایک مالی سال کے دوران کئے جانے والے وہ اخراجات جو وہ مختلف مدوں پر کرتی ہے۔ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں نئے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے لئیے تخمینہ سازی بھی کی جاتی ہے ۔ اور پچھلے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے اعدادوشمار بھی ظاہر کئیے جاتے ہیں ۔”

    حکومت کے معاشی فرائض ؛ (Economic Functions of Govt)

    کسی بھی ملک کی حکومت کو تین بنیادی مالی فرائض سر انجام دینے پڑتے ہیں۔

    1_ معاشی استحکام ؛ (Economic Stability)
    جس میں ملکی معیشت سے افراط ِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنا نیز بیروزگاری کی سطح کو کم کرنا ہے۔

    2_ معاشی ترقی ؛ (Economic Growth)
    جس میں ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر جن میں ذرائع نقل و حمل ، انفرمیشن ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور توانائی کی بہتر و سستی فراہمی ہے۔ مزید مخصوص صنعتوں کو اعانوں کی فراہمی تاکہ ملکی معاشی افزائش یا معاشی گروتھ یعنی ملکی پیداوار خواہ وہ صنعتی ہو یا زرعی (GDP) میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔

    3_ معاشی فلاح و بہبود ؛ (Economic Welfare)
    جس میں ملکی عوام کو صحت و تعلیم ، امن و دفاع، رہائش و نقل و حمل کی سہولیات کی بہتری و اضافہ کرنا شامل ہے۔
    کسی بھی حکومت کو اپنے سرکاری معاملات چلانے نیز یہ تمام فرائض ادا کرنے کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے ان اخراجات کو بخوبی پورا کر سکے۔

    سرکاری بجٹ کا ڈھانچہ ؛ (Structure of Govt Budget)

    حکومت ٹیکسوں ، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد وغیرہ سے یہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ اور ان اخراجات کی مدوں میں خرچ کرتی ہے ۔
    سرکاری بجٹ کی تین ممکنہ صورتحال ہو سکتی ہیں۔

    1_ متوازن بجٹ ؛ ( Balanced Budget)

    اگر تو حکومت کی آمدنی اور اس کے اخراجات آپس میں برابر ہوں۔ تو ایسے بجٹ کو متوازن بجٹ (Balanced Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں ،

    Govt Revenue = Govt Expenditures

    2_ فاضل بجٹ ؛ (Surplus Budget)
    اگر کسی بجٹ میں حکومت کا ریونیو ، اس کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ تو اسے فاضل بجٹ (Surplus Budget) کہا جاتا ہے۔ جو کہ معاشیات دانوں کی نظر میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وافر وصول کر رہی ہے۔ مگر ان کی سہولیات اور معاشی ترقی پہ خرچ نہیں کر رہی۔ جس سے بجٹ فاضل بن رہا ہے۔ مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کا بجٹ فاضل بن پائے ۔ جیسے,

    Govt Revenue > Govt Expenditures

    3_ خسارے کا بجٹ ؛ (Deficit Budget)
    اسی طرح اگر کسی ملک کے اخراجات اس کے ریونیو سے بڑھ جائیں ۔ تو اسے خاسر بجٹ یا خسارے کا بجٹ(Deficit Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں

    Govt Revenue < Govt Expendituresترقی پزیر ممالک کا زیادہ تر خاسر بجٹ ہی ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس خسارے کے پورا کرنے کے لیئے حکومتوں کو سرکاری و بیرونی قرضہ جات اور امداد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی فراہمی کے لئیے آئی ۔ ایم۔ ایف ، ورلڈ بنک اور ایسے کئی ادارے و ممالک وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک کو بھاری سود اور کئی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بجٹنگ یا بجٹ سازی؛

    بجٹ سازی کے عمل کو "بجٹنگ” کہا جاتا ہے ۔ کسی ملک کی وزارات خزانہ پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار اور نئے مالی سال کے اہداف و تخمینوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی مالی مدت کے لئیے بجٹ سازی کا عمل سر انجام دیتی ہے۔ اس کے لئیے وزارتِ خزانہ ملک کے تمام اہم شعبوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے ۔

    بجٹ سازی کی اقسام ؛

    معاشیات میں بجٹ سازی کے تناظر میں بجٹ کی 9 ممکنہ اقسام ہیں ۔ یا بجٹ 9 طرح کے ہو سکتے ہیں۔

    1_ جامد بجٹ(Static Budget)
    ایک بار بجٹ بننے کے بعد ایسے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یعنی یہ پورے مالی سال میں جامد رہتا ہے۔

    2 لچکدار بجٹ (Flexible Budget)
    ایسے بجٹ کی ایک بار بجٹ سازی کے بعد مالی مدت کے دوران بوقت ضرورت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یعنی شبعوں میں تفویض کردہ وسائل میں بوقت ء ضرورت تبدیلی ممکن ہے۔

    3_ فنکشنل بجٹ (Functional Budget)
    ملکی معیشت یا کسی آرگنائزیشن کے ہر شعبے کا اس کی ضرورت کے مطابق الگ الگ بجٹ بنانا فنکشنل بجٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

    4_ ماسٹر بجٹ (Master Budget)
    فنکشنل بجٹ کا مجموعہ ماسٹر بجٹ ہوتا ہے۔ جس میں معشیت کے تمام شبعہ جات کے الگ الگ بجٹ کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ،
    Master Budget =Production Budget + Marketing Budget +Development Budget + Administration Budget….etc.

    5_ زیرو بیسڈ بجٹ (Zero- Baised Budget)
    ماضی کے اعداد و شمار سے صرف نظر کرتے ہوئے حالیہ آمدنی و ضرورت کے مطابق جو نیاء بجٹ بنایا جاتا ہے ۔ جس میں پچھلی مالی مدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اسے زیرو۔ بیسڈ بجٹنگ کہا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ یہ پہلی بار حالیہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔

    6_ شراکتی بجٹنگ (Participative Budgeting)
    شراکتی بجٹ، بجٹ سازی کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں بجٹ سازی کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے شہری، رہائشی، یا کسی تنظیم کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہء نظر کا مقصد بجٹ سازی کے فیصلوں میں شفافیت، جوابدہی، اور کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔
    سادہ الفاظ میں بجٹ سازی کے اس طریقہ ء کار میں کسی معیشت یا آرگنائزیشن کی تمام اپر اور لوئر دونوں درجوں کی منجمنٹ تخمینہ سازی میں اپنی رائے دیتی ہے ۔

    7_نافذ کردہ بجٹنگ ( Imposed Budget)
    نافذ کردہ بجٹنگ میں بجٹ سازی میں کسی ملک یا آرگنائزیشن کی صرف اپر لیول منیجمنٹ ہی حصہ لیتی ہے۔ اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ نافذ کردہ بجٹنگ ، شراکتی بجٹنگ کے بلکل منافی بجٹ سازی کا طریقہ ء کار ہے۔

    8_ رولنگ بجٹ
    (Rolling Budget Or Budget Rollover)
    ماضی کے اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھ کر مستقبل کے تخمینوں سے مطابقت رکھتا ہوا جو نئی مالی مدت کے لیئے نیا بجٹ بنایا جاتا ہے۔ اسے رولنگ بجٹ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک یا آرگنائزیشنز میں رولنگ بجٹ سازی ہی کی جاتی ہے۔

    9_ سالانہ بجٹ (Annual Budget)
    ایک نئے مالی سال کے لئیے کوئی ملک یا آرگنائزیشن اپنے معاشی تخمینوں و اہداف اور اپنی آمدنی و اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بجٹ تیار کرتی ہے۔ اسے سالانہ بجٹ کہا جاتا ہے۔

    حاصل ء بحث ؛ ( Conclusion )
    بجٹ کسی بھی ملک یا آرگنائزیشن کے لیئے ایک دو طرفہ بک کیپنگ کی طرح ہے۔ جس میں ایک طرف اس کی آمدنی ہے۔ تو دوسری طرف اس کی حالیہ و مستقبل کے ترقیاتی اخراجات ہیں۔ جن کی مطابقت کا ایک مخصوص مالی مدت(ایک سال) کے لئیے پلان بجٹ ہے۔

  • پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    گلی میں شدید دھوپ اور گرمی میں قربانی کے بکرے اور گائے بندھی ہوئی نظر آئیں۔ گرمی کی شدت سے بیچارے بکروں کی زبان حلق سے باہر آ رہی تھی۔ گاڑی روک کر پانی کی بوتل جو اپنے لیے رکھی تھی باہر بندھے بکرے کے برتن میں ڈال دی اس نے فور۱” سے پہلے ٹھنڈا پانی پیا اور مشکور نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا جیسے اس وقتی ریلیف کیلئے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پاس بیٹھے چوکیدار سے کہا کہ ان کے مالکان کو سمجھاؤ اتنی گرمی ہے گھر میں کسی پنکھے کے نیچے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ چوکیدار نے بتایا کہ صاحب جی میری ڈیوٹی ان کا باہر خیال رکھنا ہے کہ کوئی چور ی نہ کر کے لے جائے، باقی ساری گلی والوں نے بکرے اور گائے اس لیے باہر باندھے ہوئے ہیں کہ ہر آتے جاتے کو دکھا سکیں کہ وہ قربانی کررہے ہیں۔ مجھے ہماری اجتماعی گھٹیا سوچ پر شدید دکھ ہوا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا ہی رہ چکا ہے جبکہ قربانی فرض کرنے کا حقیقی سبق تو یہ تھا کہ آپ اپنی عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ جس بکرے کو ہم نے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے اس کو شدید دھوپ اور گرمی میں اذیت دیکر ہماری قربانیاں کیسے قبول ہوسکتی ہیں۔؟

    خدارا نمود و نمائش میں پاگل ہوکر ان معصوم اور بے زبان جانوروں پر ظلم نہ کریں ورنہ اللہ کی قسم تمہاری قربانی قبول ہونا تو دور یہ جانور اللہ کے ہاں تمہاری شکایت کریں گے۔ اس اذیت کے بدلے تمہارا گریبان پکڑیں گے۔ بکرا منڈی کے انتظامی افسران سے بھی گزارش ہے جہاں اتنے اللے تللوں کے جعلی بل تیار کرتے ہیں وہیں ان بے زبان جانوروں کیلئے پنکھے، ائیر کولر اور سایہ فراہم کرکے دعائیں لیں۔

    اگر آپ کا بکرا بھی باہر گلی میں بندھا ہے یا کہیں گرم جگہ تو اسی فوری سایہ دار جگہ اور ٹھنڈی ہوا فراہم کریں۔
    ہمارے گھر میں عید سے چند دن پہلے بکرا آجاتا ہے اگر گرمی ہوتو مناست ٹھنڈی جگہ اور پنکھے کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب سردیوں کی عید ہوتی تھی تو امی بکرے کو جرسیاں اور کمبل پہنا کر خیال رکھتی تھیں۔ بکرے کو چیف گیسٹ کا سٹیٹس دیا جا تھا، دالیں، پھل سبزیاں اور تازہ چارہ کھلایا جاتا تھا۔ امی نے سختی سے تلقین کرنی کہ یہ اللہ کا مہمان ہے اس کی خدمت کرو گے تو اللہ قربانی قبول کرے گا۔ ہمارے گھر میں بولنے والا راء طوطا ہے جسے گرمیوں میں اے سی کمرے میں اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں شفٹ کردیا جاتا ہے۔ گھر میں آنے والے ہر پھل پر پہلا حق طوطے کا ہوتا ہے۔ گھر کی چھت پر دو درجن سے زائد مٹی کے کونڈے ہیں جن میں باجرہ، گندم اور پانی رکھا جاتا ہے تاکہ پرندے کھانا کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔

    لکھاری کا کام حکومت،افراد اور اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں ہوتا۔ لکھاری کا اصل کام یہی ہے کہ معاشرتی برائیوں اور مسائل کا ذکر کیا جائے۔اس لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ منافقانہ شرم و ہچکچاہٹ کی بجائے معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا رہوں۔

    آئے دن کسی نہ کسی معصوم جانور اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں دیکھ کر دل شدید رنجیدہ ہوتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ پیٹس لورز کلب (pets Lovers Club) بنایا جائے جہاں خاص طور پر معاشرتی ناانصافی اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ غیرانسانی رویوں اور ظلم و ستم کا شکار سٹریٹ ڈاگ، بلیوں سے لیکر ہر طرح کے جانوروں کیلئے کئیر سینٹر ہو۔ زخمی جانوروں اور پرندوں کیلئے ہسپتال اور ریہبلیٹیشن سینٹر ہو۔ جو احباب بھی Pets Lovers Club(پیٹس لورز کلب) کا حصہ بننا چاہتے ہوں ضرور انباکس کریں ہم اجتماعی کاوش سے انسانیت دوستی کی اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔

    حکومت کو چاہئے کہ گھریلو جانوروں کیلئے انسپیکشن کا سسٹم ہو اگر کسی کو گھر میں PET رکھنے کا شوق ہو تو مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ جانوروں اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔

    میں نے عید الفطر پر بھی لکھا تھا کہ اگر عید کی حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو ذاتی ملازمین کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، بینکوں اور پبلک مقامات کی سکیورٹی اور دیگر ڈیوٹی پر مامور ایسے افراد کو عیدی ضرور دیں جو اپنی عید قربان کر کے بھی ہماری حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور عید جیسے اہم تہوار پر بھی حصول رزق حلال کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
    ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
    مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے

  • یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    28 مئی 1998ءایک ایسا دن تھاجب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی واحد نظریاتی ریاست نے اپنے دفاع کو فولادی حصار فراہم کرتے ہوئے دنیا کفر کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اپنے جغرافیے کی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ اپنی نظریاتی سرحدوں پر بھی کسی قسم کی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ یہی دن ”یومِ تکبیر“ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ دن جب پاکستان نے خود کو دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر منوایاجس کی وجہ سے پورے عالم اسلام بلکہ دنیا میں موجود ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند اور پیشانی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوگئی۔
    جب پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو یہ سفر آسان نہ تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ماہرین، وسائل اور وقت، سب کچھ محدود تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی اور رب العزت پر توکل یقین اور بھروسہ لامحدود تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مخلص اور باصلاحیت سائنسدانوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور دیگر اداروں میں شب و روز تحقیق جاری رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے دباﺅ ، دھمکیاں اور معاشی پابندیوں کی باتیں کی گئیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب رکاوٹیں اس وقت غیر موثر ہو گئیں جب پاکستان کے جذبے نے ان سب کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداہی سے جن مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے فرمانروا جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز تھے ۔ وہ اسلام کے سچے خادم اور بہت ہی دور اندیش حکمران تھے ۔ وہ پاکستان سے بھی بے حد محبت کرتے تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان عسکری اعتبار سے مضبوط تر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ ملک فیصل بن عبدالعزیزنے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلئے مملکت کے خزانوں کے منہ کھول دیے ۔ اس طرح سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں مختلف حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں ان میں باہم شدید قسم کے اختلافات بھی رہے لیکن تمام تر باہمی مخالفت کے باوجود ایک بات پر سب متفق رہیں کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت سے لیس کرنا ہے ۔ بہر حال وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ 11مئی 1998ءکو بھارت نے ایک بار پھر پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارتی قیادت نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو جنوبی ایشیا میں ”نیا سورج“ طلوع ہونے کے مترادف قرار دیا۔بھارت خود کو علاقے کا چوہدری اور پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست سمجھنے لگ گیا۔ہندو بنیا اپنے تئیں اس زعم کا شکار ہوگیا کہ اب پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بھارت ایٹمی دھماکے کرچکا تو اس کے بعد دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں۔ عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں کہ پاکستان کو دھماکہ نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ معاشی پابندیوں، قرضوں کی بندش اور سفارتی دباو جیسے تمام حربے آزمائے گئے۔ امریکہ، جاپان، اور یورپی ممالک نے وطن عزیز پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو یہ باور کرایا کہ اگر اس نے دھماکہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے اور پاکستان کو بدترین قسم کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
    ان حالات میں پاکستان کے لیے فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک طرف شدید عالمی دباو تھا تو دوسری طرف پوری قوم کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو اس کے ایٹمی غرور کا جواب دیا جائے۔ عوام، افواج، اور دانشور طبقہ ایک آواز ہو چکا تھا۔ آخرکار غیرت مند، محب وطن، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مسلم ممالک بالخصوص مملکت سعودیہ عربیہ کی مشاورت سے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد، قومی غیرت اور دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جس پر آج بھی قوم فخر کرتی ہے۔ 28 مئی 1998 ءکو بلوچستان کے ضلع چاغی میں دھات کے پہاڑوں نے لرز کر گواہی دی کہ پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔ پانچ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کو مو¿ثر جواب دیا اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ اسلامی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کی۔اس مشکل ترین وقت میں مملکت سعودی عربیہ نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مالی تعاون کیساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ ایک طرف بھارت کی جارحیت تھی، دوسری طرف اندیشہ ہائے دور دراز تھے معاشی اور سفارتی پابندیوں کے خدشات تھے ۔ تب اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا دورہ کیا ۔اگرچہ اس وقت ملک فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے فرمانروا تھے تاہم ان کی علالت کی وجہ سے امور مملکت ولیعہد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز چلارہے تھے ۔ نواز شریف نے ملک فہد اور ولیعہدملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔سعودی فرمانروا ملک عبداللہ نے نواز شریف کو ہر قسم کے مالی اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا
    یہ وہ وقت تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباو¿ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ان حالات میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا ۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ تیل دینا شروع کیا تھا۔تیل کی فراہمی کا یہ سلسلہ 1998 ءکے بعد بھی کئی برس تک جاری رہا ۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں کئی قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی جاچکی تھیں اس وجہ سے سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کو تیل ’ادھار‘ دیا جارہا ہے لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے کبھی بھی سعودی عرب نے پاکستان سے نہیں لئے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولیعہد ملک عبداللہ آٹھ ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے ۔آغاز واشنگٹن سے ہوا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نیوسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کےلئے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے ۔واشنگٹن سے شروع ہونے والے اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا تھا ۔ دورے کی اس ترتیب میں دنیا کےلئے پیغام تھا کہ ملک عبداللہ کے نزدیک پاکستان ایسے ہے جیسے اپنا گھر ہو ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو انھیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ بھی کروایا گیا ۔ یہ بات معلوم ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ وہ حساس ترین جگہ ہے جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص خصوصاََ غیر ملک پر بھی نہیں مارسکتا ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو ایوان شاہی میں ان کےلئے بیمثال استقبالیہ کا اہتمام تھا تب ولی عہد ملک عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے انھیں اپنا فل بردار قرار دیا شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ہاف برادر تھے ۔ یہ تھا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سعودی عرب کا کردار جس پر آج ہر پاکستان کو فخر ہے ۔ حقیقت یہ کہ اگر سعودی عرب کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو پاکستان میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب ہوتی نہ ہی پاکستان کےلئے ایٹمی دھماکے کرنا ممکن ہوتا اور نہ آج پاکستان کےلئے اپنا دفاع کرنا ممکن ہوتا ۔