Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہونا بہت بڑا المیہ ہے جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے

    پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے

    آخر کیا وجہ بنی کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس رپورٹ پر نہ خود عمل کیا اور نہ ہی عملدرآمد کروایا اور نہ ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیا؟

    وزراء اعلٰی پنجاب سندھ، بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان ڈچ رپورٹ منگوا کر اس پر ورک کریں اور ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائیں

    قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی سوچ کو بدل لیں۔نیدر لینڈ نے بدلا اور بچ گیا۔ ہم کب بدلیں گے؟ یا ہر سال اگلے سیلاب تک پھر صرف رونا اور انتظار کریں گے؟

    نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ نے 2022 کے سیلاب کے فورا بعد 16 مئی 2023 میں سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے وزٹ کے بعد نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے اور پانی سے متعلقہ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ آبی وسائل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ورکشاپ منقعد کی تھی جس میں بین الاقوامی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، غیر ملکی مشنز اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جس میں پانی کی بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن (DRR) ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس موقع پر ڈچ ماہرین کے تعاون کو سراہتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین مسٹر احمد کمال نے وزارت آبی وسائل کے ذریعے پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان آبی وسائل اور سیلاب کے انتظام پر طویل المدتی تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ ہالینڈ کی سفیر مسز ہینی ڈی وریس نے کہا تھا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈز میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کی حمایت کی تھی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبی آفات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہالینڈ کی جانب سے جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ساتواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے، اور حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت سے استفادہ کیا جا سکے، اور مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے لچکدار اور موافقت پذیر انفراسٹرکچر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میڈیا چند دن شور مچاتا ہے، حکومت امداد مانگتی ہے، بیرونی ایجنسیاں تھوڑا سا فنڈ دیتی ہیں اور پھر سب کچھ بھول کر ہم اگلے سیلاب کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ ڈیم بنائے جاتے ہیں۔ نہ دریاؤں کی صفائی ہوتی ہے۔ نہ حفاظتی بند مضبوط کیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہم نے نیدرلینڈز ماڈل کو کیوں نہیں اپنایا اور نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کیا؟ کیا ہم اپنے ملک کے عوام کو ہر بار کی طرح ایسے ہی سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں دیں گے؟ ہر سال اربوں کے نقصانات کرتے رہیں گے۔ مگر کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے ماہرین سے استفادہ حاصل نہیں کریں گے؟ نیدرلینڈ نے سیلاب کو شکست دی، پاکستان کب جاگے گا؟ فرق صرف سوچ کا ہے۔ نیدرلینڈ کا تقریباً 26 فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں کئی بار یہ ملک تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہوا، مگر وہاں کے لوگوں نے اپنی تقدیر کو بدلا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سب کچھ اللہ کے حوالے ہے اور بس انتظار کیا جائے۔ بلکہ انہوں نے محنت، منصوبہ بندی اور سائنس کا سہارا لیا۔ انہوں نے ڈیم اور بیریئرز بنائے جو سمندر کے پانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ڈیلٹا ورکس جیسا منصوبہ بنایا جو دنیا کا انجینئرنگ کا عجوبہ مانا جاتا ہے۔سٹروم سرج بیریئرز تیار کیے جو طوفانی پانی کو روک لیتے ہیں۔ پولڈرز سسٹم بنایا جس سے نیچے زمین کو خشک کر کے زراعت کے قابل بنایا۔ اور پھر ڈیجیٹل سسٹمز لگائے جو ہر وقت پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے ہیں۔ نیدر لینڈ دنیا کا وہ ملک جس کا ایک تہائی حصہ سمندر کے نیچے ہے، آج سیلاب پر قابو پا کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور ہم، جنہیں اللہ نے بڑے بڑے دریا، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل دیے ہیں، آج بھی ہر چند سال بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور بس یہی کہتے ہیں: “یہ اللہ کا عذاب ہے، آزمائش ہے۔ ہم نیدرلینڈ سے چند ایک چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہمیں سمندروں کے بجائے دریاوں کے اوورفلو پر نظر رکھنا ہوگی، اس کے لیے زیادہ محفوظ اور تگڑے بند بنائے جائیں، بیراج اپ گریڈ ہوں، نہروں کے پشتے مضبوط کیے جائیں۔نیدر لینڈز ماڈل کا فلسفہ (پانی کو جگہ دو اور انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ساتھ لے کر چلو) پاکستان میں فائدہ دے سکتا ہے، مگر پاکستان کو اپنی مقامی حقیقت (مون سون، بڑے دریا، زیادہ گاد، کمزور ادارے) کو دیکھتے ہوئے مقامی ایڈاپٹیڈ ماڈل بنانا ہوگا۔ جبکہ نیدرلینڈ ماڈل کے تین پہلو قابلِ عمل پہلو ہیں جیسے کہ دریاوں کے ساتھ فلڈ بفر زون بنانا۔ نشیبی علاقوں میں خاص طور سے ایسا کیا جائے کہ شہروں میں بارش کے پانی کی سمارٹ مینجمنٹ۔ برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی وسعت بڑھانا، سیوریج کی بہتری، نشیبی جگہوں پر پانی چوس کنوئیں کھودنا تاکہ پانی زیرزمین چلا جائے وغیرہ۔ جبکہ مقامی سطح پر واٹر بورڈ اور واٹر مینجمنٹ کےمضبوط، مستحکم ادارے، ویسے تو پاکستان میں یہ خواب ہی ہے، حب کہ نیدر لینڈ ماڈل کا ایک حصہ اندرون سندھ میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری پانی کے کٹاؤ میں کمی ہو اور ڈیلٹا بڑھ سکے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر نیدر لینڈ جیسے چھوٹے ملک نے پانی کو دشمن کے بجائے ایک منصوبے کے ذریعے دوست بنا لیا تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ہمیں نئے ڈیمز اور ریزروائرز بنانے چاہییں۔ دریاؤں کے کناروں پر مضبوط حفاظتی بند اور بیریئرز بنانے ہوں گے۔ آبی وسائل کی وزارت میں سیاستدان نہیں بلکہ ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔ دریاؤں کے قریب بے ہنگم آبادی روکنی ہوگی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعلٰی سندھ، وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان ڈچ ماہرین کی 2023 والی رپورٹ منگوائیں اور اس پر ورک کریں اور ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب نیدرلینڈز کے واٹر مینجمنٹ کے ماہرین کی ٹیم آئی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی مگر واٹر مینجمنٹ پاکستان نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی، اگر اس وقت اس رپورٹ کی روشنی میں عملدرآمد کیا جاتا تو آج جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے وہ ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔

  • مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ اگر ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی اور بے نظیر بھٹو نے خواتین کو سیاست میں مقام دیا تو آج مریم نواز اسی سلسلے کی اگلی کڑی بن کر سامنے آئی ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر رہی ہیں جس نے مشکلات کا سامنا کیا، زمانے کی سختیاں جھیلیں اور اپنی ثابت قدمی کے ذریعے خود کو اس سطح پر لے آئیں جہاں انہیں ملک کی آئندہ قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ مریم نواز کی سیاست کا آغاز آسان نہیں تھا۔ پانامہ کیس کے دنوں میں وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنی ذات کو بھی کڑی تنقید اور الزامات کی زد میں پاتی رہیں۔ عدالتوں کے چکر، میڈیا ٹرائل اور مخالفین کے طعنے، یہ سب کسی عام شخص کو توڑ دینے کے لیے کافی تھے، لیکن مریم نواز نے ان حالات میں ہمت نہیں ہاری۔ عمران خان نے بارہا ان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی خاتون کے لیے انتہائی نامناسب تھے۔ جلسوں میں ان کے لیے مغلظ جملے بولے گئے، انہیں کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر مریم نواز نے جواب میں سیاست کے وقار کو گرنے نہیں دیا۔ انہوں نے صبر اور متانت کے ساتھ یہ طوفان جھیلا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ قیادت محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ برداشت اور وقار کا نام بھی ہے۔

    پانامہ کے دنوں میں ان کا عزم ان کے کارکنوں کے لیے حوصلہ تھا۔ وہ عدالتی کارروائیوں میں اپنے والد کے ساتھ پیش ہوتی رہیں، میڈیا کے کیمروں کے سامنے سر بلند رکھتیں، اور اس سب کے باوجود اپنی پارٹی کے بیانیے کو مضبوط کرتی رہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک وراثتی سیاست دان نہیں بلکہ ایک حقیقی لیڈر ہیں جو ہر مشکل کے سامنے ڈٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    وقت گزرا، سیاسی حالات بدلے، اور پھر وہ لمحہ آیا جب مریم نواز کو پنجاب کی ذمہ داری ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر انہوں نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے یہ واضح کر دیا کہ وہ صرف نعرے لگانے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے صوبے کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دی۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں اصلاحات متعارف کرائیں، ہسپتالوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، اور اسکولوں میں سہولتوں کو بڑھایا۔ ان کی پالیسیوں میں یہ واضح جھلک ملتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

    مریم نواز نے خواتین کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر معاشرے کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے انہوں نے خواتین کے روزگار کے منصوبے، ہنر سکھانے کے ادارے، اور مالی مدد کے پروگرام متعارف کرائے تاکہ خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ہنر کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے گئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں ترقی کریں۔

    ان کے اقدامات میں عوام کو ریلیف دینا بھی شامل رہا۔ مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے سبسڈی پروگرام متعارف کرائے گئے، سستا آٹا، مفت ادویات اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے مالی امداد جیسے اقدامات سے عوام کو سہولت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو محض طاقت کا کھیل نہیں سمجھتیں بلکہ اسے عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

    مریم نواز کی شخصیت کی ایک خاص بات ان کا اعتماد ہے۔ وہ کسی بھی فورم پر جب گفتگو کرتی ہیں تو ان کے الفاظ میں اثر ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کس طرح عوام کے دلوں کو اپنی بات سے چھوا جائے۔ ان کی تقریریں محض سیاسی جملے نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ ان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔

    پاکستانی سیاست میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملک کی قیادت کون کرے گا۔ اس سوال کا جواب اگر آج ڈھونڈا جائے تو مریم نواز ایک نمایاں نام کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے اندر وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک وزیراعظم میں ہونے چاہئیں۔ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی و عالمی سیاست کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہیں۔ ان کے پاس وہ تجربہ ہے جو انہیں اپنے والد کے ساتھ سیاست میں شامل رہ کر حاصل ہوا، اور ساتھ ہی وہ اپنی آزاد سوچ بھی رکھتی ہیں جس نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بڑے لیڈر نے اپنے حصے کی مشکلات جھیلی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور پھر شہادت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح مریم نواز نے بھی مشکلات دیکھیں اور ان پر قابو پایا۔ یہی مشکلات ایک لیڈر کو مضبوط بناتی ہیں اور یہی مشکلات مریم نواز کو بھی ایک مضبوط لیڈر میں ڈھال چکی ہیں۔

    مریم نواز کو مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر دیکھنا اب محض ایک خواب نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت، ان کا وژن، اور ان کے اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ وقت آنے پر ملک کی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ایک ایسی قیادت فراہم کر سکتی ہیں جو عوامی خدمت، شفافیت اور ترقی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔

    پاکستان کو اس وقت ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی قیادت جو نہ صرف عوام کے دکھ درد کو سمجھے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مریم نواز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ ان کا عزم، ان کی دانش فہم اور ان کا عوامی رابطہ انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان اور خواتین، مریم نواز کو اپنے مستقبل کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی لیڈر ہیں جو نہ صرف ان کے خوابوں کو سمجھتی ہیں بلکہ انہیں حقیقت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

    پاکستان کی سیاست میں مریم نواز کا بڑھتا ہوا کردار ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون کے طور پر سامنے آئی ہیں جنہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا، ہر طعنہ سہا، اور پھر بھی اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو انہیں مستقبل میں وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے امکانات کو تقویت دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امکانات حقیقت میں بدل سکتے ہیں، اور پاکستان ایک ایسی وزیراعظم دیکھ سکتا ہے جو اپنی بصیرت اور فہم سے قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔

  • پاک بھارت میچ رکوانے کے لیے دائر درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد

    پاک بھارت میچ رکوانے کے لیے دائر درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بھارتی سپریم کورٹ نے پاک بھارت میچ رکوانے کے لیے دائر درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

    متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاک بھارت میچ پر پابندی کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست میں 14 ستمبر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ایشیا کپ کرکٹ میچ پر پابندی لگانے اور اسے غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔اس پر بھارتی سپریم کورٹ نے پاک بھارت میچ رکوانے کے لیے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے کہا کہ اس میں ہنگامی نوعیت کا معاملہ کیا ہے ؟ اس وقت کچھ نہیں ہو سکتا، میچ ہونا چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ یہ ایک میچ ہے، اسےمیچ رہنے دیں اور میچ اتوار کو ہے۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر ہمیشہ سے ثالثی اور مذاکرات میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ فلسطینیوں اور اسرائیل یا دیگر گروپس کے بیچ ہو۔ موجودہ حملے نے قطر کو یہ محسوس کروایا ہو گا کہ چاہے وہ مذاکرات میں مصروف ہو اس کی سرزمین محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیل نے قطر میں ایک ہوائی حملہ کیا جس کا ہدف حماس کے رہنماء تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک امریکہ کی ثالثی کے تحت معاہدہ برائے جنگ بندی پر مذاکرات کر رہے تھے۔ امریکہ نے بھی اس حملے کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس حملے سے جیسا کہ خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تھی اس واقعہ نے اعتماد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ڈالی ہے۔ اس کے اثرات بہت وسیع اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر خلیجی ریاستیں قطر کے موقف کے ساتھ کھڑی ہوں گی عوامی سطح پر غم و غصہ زیادہ ہو جائے گا۔ قطر سمیت عرب ممالک میں یہ واقعہ اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی لہر کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دونوں اعتراف میں خلا پیدا کر سکتا ہے۔

    قطری حکام اور دیگر خلیجی ملکوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ امریکہ کس حد تک اپنے حفاظتی وعدوں اور اتحادی تعلقات کا تحفظ کرتا ہے خاص طور پر جب اس کا علاقائی مفاد ہو۔ امریکہ کی عالمی ساکھ اور خلیجی ریاستوں میں اس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک اسرائیل کی اس کاروائی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ قطر اور دیگر ممالک بین الاقوامی عدالتوں اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز میں اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی تلاش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ عوامی مظاہرے ہوں یا قطر میں شہری سطح پر رد عمل بڑھ جائے۔ شاید ایران اور اس کے حامی گروپوں کی اس واقعہ کے بعد سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ یمن، لبنان، ایران، شام وغیرہ میں جاری بحران اس واقعے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی کاروائیاں بین الاقوامی حدود کو عبور کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس واقعے نے خلیجی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہو سکتا ہے کہ قطر بین الاقوامی سطح پر شرکاء جمع کرے اور ممکنہ طور پر قانونی سفارتی چینلز اقوام متحدہ وغیرہ سے اقدام کی کوشش کرے۔ قطر اب خلیجی شراکت داروں سعودیہ، امارات، مصر وغیرہ کے ساتھ زیادہ قریب تعاون اور حملے کے اوپر مشترکہ پوزیشن بنائے۔ وائٹ ہاؤس نے حملے پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ فورم قطر کو تسلی دینے رابطہ اور سفارتی چینل کھولنے کی کوشش کرے تاکہ خلیجی تعلقات کمزور نہ ہوں۔ ایران اس واقعہ کی سخت مذمت کر رہا ہے وہ اس واقعہ کے بعد خود کو عرب دنیا میں زیادہ قابل اعتماد مخالف اسرائیل قوت ظاہر کر رہا ہے ایران قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی یا عوامی سطح پر حمایت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کے اس واقعے کے بعد اپنے دفاعی معاہدوں ہوائی حدود کی حفاظت اور حملوں کی روک تھام کے طریقہ کار پر دوبارہ توجہ دیں۔ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ مزید واضح اعتماد کی شرائط مانگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ کسی بڑے قدم کا امکان کمزور کر سکتا ہے امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ مزید ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ خلیجی ممالک کی تسلی کے لیے سفارتی مصالحت کی کوشش کرے گا تا ہم خطے میں سیاسی محاذ بندی سخت ہو سکتی ہے۔ کمزور ممالک ثالثی کے لیے متبادل ضمانتیں مانگیں گے مثلا بین الاقوامی یا قانونی گارنٹی۔ ABRAHAM STYLE پیش رفتوں کو دھچکا اور سعودی خلیجی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بڑے سیاسی قدم اٹھانے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کو اپنے عسکری سیاسی اتحاد اور خطے کے مفادات کے درمیان مزید توازن قائم رکھنا ہوگا اس کا اثر طویل مدتی شراکتوں اور اعتماد سازی پر پڑے گا۔ بین الاقوامی خرابی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو زیادہ احتیاطی رویہ اپنانا چاہیے شفافیت اور تلافی کے ذریعے سفارتی قیمت ادا کی جائے ورنہ امن کے راستے متاثر رہیں گے۔ نیتن یاہو کو ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • وزیراعلی مریم نواز   کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلی مریم نواز کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں اچھے کام اور پراجیکٹس دکھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے وزیراعلیٰ کی تصاویر کے ساتھ کسی آرٹسٹ کی بیک گراؤنڈ آواز کے ساتھ ڈاکومنٹری چلائیں۔ ڈاکومنٹری ویڈیوز میں افسران کو دکھانا یا انکا نام لینا بھی غیر قانونی ہے۔ پولیس اور دیگر افسران کو چاہئے کہ اپنی فوٹو کو آفیشل پیجز اور ڈاکومنٹری میں زبردستی لانا بند کریں۔انتظامی افسران کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ وہ پالیسی میکرز نہیں ہیں انکا کام پالیسی کا نفاذ ہے۔ اس لیے پریس ریلیز میں سوائے وزیراعلیٰ کے کسی کی بھی پالیسی، ہدایات یا احکامات کے الفاظ لکھنا بھی غیرقانونی ہے۔سیلابی صورت حال میں اے سی، ڈی سی، ڈی پی او سمیت سرکاری افسران کی فنکاریوں اور ماڈلنگ کی لاتعداد ویڈیوز پر شدید عوامی ردعمل اور غصہ ہے۔ سب سے زیادہ لعن تعن ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ، آر پی او ملتان اور ڈی پی او چکوال کی "اوورایکٹنگ” پر کی جارہی ہے۔سرکاری افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حقیقی اور بے مثال کام بھی متاثر ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جس طرح سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے کر رہی ہیں اور تمام محکموں کو ون یونٹ بنا کر ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کی سپرویژن کر رہی ہیں ایسی ایکٹو قیادت کو سلام۔

    موجودہ سیلابی صورت حال میں سب سے زیادہ امدادی کاروائیاں آرمی کی طرف سے کی گئیں جن کی میڈیکل کور، فوری طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، انجنئرنگ والے بلا تعطل ریلیف اینڈ ریسکیو کیلئے پل اور راستے تعمیر کررہے ہیں جبکہ ایوی ایشن والے کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے زریعے دور دراز علاقوں سے افراد کو ریسکیو کر رہے ہیں اور خوراک و ضروری سامان کی فراہمی کو ممکن بنارہے ہیں۔ پولیس اور سول انتظامی افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ سے وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی سیلاب پیکج اور افواج پاکستان کی قربانیاں سوشل میڈیا سے اوجھل ہوکر رہ گئیں ہیں۔ عوام سیلاب سے مر رہے ہیں اور سرکاری افسران بے شرمی اور دھٹائی کی ساری حدیں پار کرکے سارا دن فوٹو شوٹ کرتے پھر رہے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے پاگل افسران کی ہڈ حرامی کی قیمت، گالیاں تو حکومت کو ہی پڑتی ہیں۔سرکاری ملازمین کی ایکٹنگ اور سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن پر شدید عوامی تنقید پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے پہل کرتے ہوئے گذشتہ روز سوشل میڈیا کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ ایک طرف سوشل میڈیا ویڈیو پر چھوٹے ملازمین کو معطل اور نوکریوں سے برخاست کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پی ایس پی افسران چلتے پھرتے ماڈلنگ کر رہے ہیں، معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کرکے انکی ویڈیوز بناکر بھی لائک اور ویوز بٹورے جارہے ہیں۔ آئی جی پنجاب کا نوٹیفیکیشن نہ صرف ادھورا ہے بلکہ ”وہی قاتل وہی منصف“ کے مصداق جن ٹک ٹاک سٹارز کے کرتوتوں سے پولیس ڈیپارٹمنٹ مذاق بن کر رہ گیا ان کو ہی مجاز اتھارٹی بنا دیا گیا۔ پولیس کا اصل کام چھوڑ کر سنگم اور چلپل پانڈے بنے پی ایس پی افسران کو ہی اختیار دے دیا کہ جو بھی ویڈیو بننی ہے تم سے اجازت لیکر بنے گی۔

    بطور پولیس سربراہ آئی جی ادارے کا Face ہوتا ہے۔اس لیے صوبائی سربراہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر اپنی بات کہہ سکیں اور انکو کرنی بھی چاہئے ناکہ ہر کوئی اپنی دکان کھول لے۔ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی او، ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر لیول کے جونیئر افسران کو چاہئے کہ بوقت ضرورت پریس بریفنگ کریں نا کہ سرکاری گاڑی اور دفاتر کو ذاتی تشہیر کا زریعہ بنا لیں۔میری ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران سے کوئی ملاقات نہیں ہے لیکن انکے اس عمل کی تعریف ضرور کروں گا گہ وہ روزانہ کھلی کچہری کرتے ہیں لیکن کبھی بھی شکایت یا انصاف کے حصول کیلئے دفتر اور کھلی کچہری آنے والے معزز شہریوں کی طرف کیمرہ نہیں کرتے۔ جبکہ دیگر آر پی او، سی پی او، ڈی پی او سمیت اے ایس پی کی اکثریت دفاتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں جو سراسر خلاف قانون اور قابل گرفت جرم ہے۔

    شہری کی پرائیویسی خراب کرنے پر شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض افسران کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج کرکے جیل بھیجا جائے۔سرکاری افسران کی طرف سے معزز شہریوں کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے جیسی گھٹیا حرکات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کا مقابلہ ہے، ہر طرف ایکٹنگ ماڈلنگ اور کیمرے ہی کیمرے کوئی کارگردگی نہیں رہی۔ عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوگئے ہیں اور ہر کوئی کیمرہ اٹھائے یہ بتانے اور جتلانے میں لگا ہے کہ اس نے سرکاری کام کرکے بہت بڑا کارنامہ کردیا ہے، خود کو لارڈ اور عوام کو حقیر بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چیف سیکرٹری کی طرف سے صوبے بھر کے ملازمین کیلئے مجموعی واضح حکم نامہ جاری ہونا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ لاقانونیت اور اختیارات سے تجاوز کے اس دھندے کو فوری بند کرنے کی احکامات صادر فرمائے جائیں۔اپنی شہرت کی بھوک مٹانے اور چند ویوز کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی کو داؤ پر لگانے والے قطعی معافی کے حقدار نہیں۔

  • شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    بصد احترام یہ چند گزارشات، ایک خیرخواہانہ جذبے کے تحت قلمبند کی جا رہی ہیں، کہ شاید کوئی دل پھڑک اٹھے، کوئی سوچ چونک جائے اور کوئی قدم راہِ سنت کی طرف مڑ جائے۔
    پہلے زمانے میں، جب علم کی روشنی ناپید اور جہل کا اندھیرا غالب تھا، لوگ "جو دیکھا، وہی کیا” کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ نہ پوچھنے کا سلیقہ، نہ سمجھنے کا شعور، بس "لوگ کیا کہیں گے” کا طوق گردن میں ڈال کر، ہر رواج و رسم کی پیروی کیے چلے جاتے تھے کیوں کہ جہالت وہ اندھیر نگری ہے جہاں عقل کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.
    مگر اب دور بدل چکا ہے:
    علم کی روشنی سے منور ہے ہر اک راہ
    اندھیرے چھٹ گئے، اب چراغ خود جلانے کا وقت ہے!

    آج معلومات کی دنیا ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، ہر پلیٹ فارم پر دین کی اصل تصویر موجود ہے۔ اب خرافات اور بدعتوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اصلاح کے در کھل چکے ہیں۔
    ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ افراد ایسے مواقع پر عشق و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے:
    کیا جذبات شریعت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟

    اگر کوئی عمل سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی سے ہٹ کر کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری طور پر خوبصورت و خوش نما کیوں نہ لگے، آخر کار گمراہی کے گڑھے میں جا دفن ہوتا ہے. یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایسے کاموں کی بنیاد دین سے محبت اور عقیدت میں ڈوب کر رکھی جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی سو آنہ درست ہے کہ وہ گمراہی کی سڑک بن جاتی ہے. بنیادیں ڈالنے والے زیر زمین ہو جاتے. اصل روح کی مراجعت باقی ہی نہیں رہتی اور پھر رفتہ رفتہ یہ لوگوں کے جذبات کا کھیل بن جاتا ہے. اس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، جن کا اصل سرمایہ یا تو جہالت ہے یا دنیا داری. عشق فساد میں بدل جاتا ہے، وہی محفلیں فتنوں کا گڑھ بن جاتی ہیں کیوں کہ جب بدعت حسنہ(اس بھی اصل نہیں ملتی بعضوں کے ہاں) کی گلی میں قدم رکھا جائے تو بدعت سیئہ کے دروازے خود بخود کھلتا چلے جاتے ہیں.
    جو پندِ حق سے دور ہوئے، وہی ذلیل و خوار ہوئے
    چراغِ مصطفیؐ جس دل میں بجھا، وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوا

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حلقے جو کبھی ان خرافات کے داعی تھے، اب خود ان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔ مگر حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ شاید "گیند ہاتھ سے نکل چکی ہے”۔ اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی کوششوں کو فروغ دیں، نا کہ ایسی رسومات کی ترویج کو جو بظاہر محبت کے رنگ میں ہیں، مگر حقیقت میں دین کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

    اب سوال یہ ہے: کرنا کیا چاہیے؟
    جواب سادہ ہے، مگر عمل کے لیے اخلاص درکار ہے۔
    1. سب سے پہلے تمام تر فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ادب و احترام کے ساتھ سیرتِ طیبہ ﷺ کی با سلیقہ محافل منعقد کی جائیں. بغیر کسی نام و نابود، دکھلاوے ؛ور فضول خرچی کے.
    2. نعتیہ محافل ہوں، لیکن آدابِ نعت اور حدودِ شریعت کے اندر!
    3. آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق آگاہی کے سیشن ہوں اور پورا سال سنتِ نبوی کی روشنی میں گزارنے کی ترغیبات ہوں.
    4. تعلیمی ادارے "سیرت کوئز”، نعتیہ مشاعرہ، مطالعہ سیرت کی نشستیں، اور سیرت پر مبنی لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ نسلِ نو دین کی اصل روح سے روشناس ہو۔
    5.گھر،دفاتر،بازار اور العرض جہان کہیں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام ہو.
    یاد رکھیے!
    عشق وہی معتبر ہے جو اطاعت کی دہلیز سے ہو کر گزرے
    محبت وہی باعزت ہے جو سنت کی چوکھٹ سے بندھی ہو
    ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں کی آگ بجھائیں، نہ کہ اس میں ایندھن ڈالیں۔ کیونکہ:
    جو دین کے نام پر کھیل رچائے، وہ دل کو نہیں، دین کو جلاتا ہے.
    پس آئیے! محبت رسول ﷺ کو اس کے اصل قالب میں اپنائیں، شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور معاشرے میں وہ روشنی پھیلائیں جو مدینہ کی گلیوں سے چلی تھی اور قیامت تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
    نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
    اللہ سے ملاتے ہیں یہ سنت کے راستے
    ان ہی راستوں پے چل کے منزل ملے گی
    جنت میں لے جائیں گے یہ سنت کے راستے
    دو عالم میں چاہتے ہو گر کامیابی
    اپنا لو خوشی سے یہ سنت کے راستے
    مانا کے کٹھن ہے ان راستوں پے چلنا
    مگر جام کوثر دلائیں گے یہ سنت کے راستے
    صحابہ نے کٹوا دی تھیں گردنیں
    لیکن چھوڑے کبھی نہ یہ سنت کے راستے

  • اقوام متحدہ کا  اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کا اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے جاری اجلاس کو عالمی سیاست کے لئے ایک نہایت اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما اس پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایسے با ت کریں گے جو صرف کسی ایک خطے نہیں بلکہ پوری انسانیت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اس اجلاس پر ہوں گی۔ اس وقت دنیا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیسے موسمیاتی تبدیلی، عالمی معیشت کی غیر یقینی کیفیت، امن و سلامتی کے چیلنجز کو دنیا کا سامنا ہے۔ موجودہ اجلاس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ عالمی طاقتوں کے سربراہان بشمول امریکی صدر براہ راست خطاب کریں گے۔ امریکی صدر کی تقریر پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔ امریکی صدر کے خطاب میں عالمی تجارتی پالیسیوں ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی سلامتی پر ان کی تقریر ہو سکتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ بعض دنیا کے بڑے مسائل پر کوئی مشترکہ حکمت عملی سامنے آئے۔ تاہم بڑی طاقتوں کے باہمی اختلافات مشترکہ حکمت عملی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کسی مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہو سکتی ہیں۔ موجودہ اجلاس عالمی تعاون اور یکجہتی کے جذبے کا ایک امتحان ہے ۔ جس کے نتائج آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس جہاں عالمی قیادت کے لئے ایک امتحان ہے وہاں صدر ٹرمپ کا خطاب مستقبل کی عالمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں کی راکھ سے پیدا ہونے والی اقوام متحدہ اپنی بقا کی جدوجہد میں 80 سال مکمل ہو گئے۔ اس دوران اس اقوام متحدہ کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن پر عملدرآمد آج تک نہیں ہوا۔ فلسطین، کشمیر سمیت کئی عالمی فیصلے ہوئے مگر دنیا کے کئی ممالک جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ کشمیریوں پر آج تک ظلم کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کو دنیا کی اقوام کے مسائل اور جنگی ماحول پیدا کرنے والے ممالک کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔