Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خدارا DC اور  ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    خدارا DC اور ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک کمشنر اور درجن بھر ڈپٹی کمشنرز کے ہیں۔ مذکورہ ڈپٹی کمشنرز کا کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑوں نے سارے ڈپٹی کمشنرز کو گالی بنادیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کرنے والے گندے انڈوں نے انتہائی عزت اور فخر کی علامت "ڈپٹی کمشنر” کی سیٹ کو داغدار کردیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دو تین ڈپٹی کمشنر جس طرح عوامی تذلیل کرکے نمبر گیم بنانا چاہتے ہیں ایسی "بے غیرتی” انہی کو مبارک۔
    سنئیر بیوروکریسی کا کہنا تھا کہ سول سروس کو جتنا گندہ اس دور کے افسران نے کیا ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کچھ سنئیر افسران کے حوالے سے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلاں اچھا خاصا سمجھدار افسر ہوتا تھا پتا نہیں یہ ”ک ن ج ر وں“والے شوق میں کیسے پڑ گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کو لعنتی کام سمجھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھی افسران اس قدر "بے غیرت اور واحیات” ہوچکے ہیں کہ انکا بس نہیں چلتا کہ واش روم میں بھی کیمرہ لگوا لیں۔

    خوش آئند بات ہے کہ بیوروکریسی کی اکثریت سیلف پروجیکشن کے اس غیر قانون دھندے کو ناصرف لعین سمجھتے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔ کمشنرز اور سیکرٹریز کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو چاہئے کہ سیلف پروجیکشن کے غیر قانون دھندھے پر مجرمانہ خاموشی توڑ دیں، سول سروس کو گالی بننے سے بچانے کیلئے ٹک ٹاکر افسران کو فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے ورنہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ان صوبائی سربراہان کے دور میں "صوبہ بنانا ریپبلک” بنا ہوا تھا اور یہ صاحبان عوام بھاڑ میں جائے والی پالیسی اپنائے صرف”باس“ کی جی حضوری کرکے اپنی مدت بڑھاتے رہے۔
    خواتین ٹک ٹاکر افسران خاص طور پر پولیس افسران کے بارے ساتھی افسران جس طرح کے تبصرے کرتے ہیں وہ اس قدر "ذومعنی” ہیں کہ تحریر نہیں کیے جاسکتے صرف اتنی گزارش ہے کہ ”بی بی خدا دا واسطہ جے“ اپنی نہیں تو خاتون ہونے کی ہی عزت کا خیال کرلیں۔

    سوشل میڈیا پروجیکشن کی لعنت کا شکار ہونے والوں میں پولیس والے سر فہرست ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کی اکثریت اور نو مولود PERA والے بچے اس غلاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جبکہ باقی سروسزز کے افسران بھی پیچھے نہیں رہے۔ پولیس والوں نے جتنی نفرت سوشل میڈیا سے سمیٹی ہے اتنے تو یہ ڈالر بھی نہیں کما سکے ہونگے اگر گالیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ایک ڈالر کیلئے ایوریج کم از کم پانچ ہزار بندے کی غائبانہ گالیاں سنتے ہوں گے۔ لوگ سرکاری دفاتر اور کھلی کچہریوں میں اپنے مسائل کی درخواست دینے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ ان کم ظرف سرکاریوں نے اپنی بے نسلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے ذاتی مسائل کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھا دینی ہے۔

    ٹک ٹاکر افسران کیلئے میرے سخت الفاظ کا چناؤ انہی ٹاک ٹاکرز کے ساتھی افسران کی طرف سے ان کیلئے ادا ہونے والے الفاظ اور القابات کا ہاف ہوتا ہے جبکہ عوام میں پائی جانی والی نفرت کا بامشکل 20فیصد تحریری شکل میں لاتا ہوں۔
    سیاستدانوں اور سرکاری افسران سے مایوس عوام کی آخری امید چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کو سرکاری افسران کی شہرت کی خاطر تماشا بنانا بند کروایا جائے۔

    خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
    راشن تو بٹ رہا تھا مگر فوٹو سے ڈر گیا

    غیرت سے عاری بے مروت سرکاری کارندوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ سیلاب متاثرین بھکاری نہیں ہیں جن کے ساتھ تم فوٹو سیشن کرتے پھر رہے ہو۔سرکاری افسران کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب اللہ کی پکڑ آئے اور ان پر خدائی آفت ٹوٹے اور اس وقت کوئی ان جیسا بے شرم موقعے کا افسر ہو۔

  • ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلابی صورت حال میں بیوروکریسی سمیت تمام سرکاری مشینری نے قابل تعریف کام کیا۔ لیکن اس آزمائش کی گھڑی میں بھی بہت سارے افسران کا سارا زور سیلف پروجیکشن پر ہے۔ ایسی ایسی واحیات اور گھٹیا ایکٹنگ کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آرہی ہیں کہ ان ٹھرے ہوئے سرکاری غنڈوں پر لعن تعن کیے بن رہا نہیں جاتا۔ٹک ٹاکر افسران کو عوام کی طرف جن القابات اور گالیوں کے ساتھ پکارا جارہا ہے وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔ جتنی محنت اورجانفشانی سے یہ ایکٹنگ والی ویڈیوز بنوا رہے ہیں اس سے آدھی محنت سے سیلاب متاثرین کی بحالی کوشش کریں تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

    او بے شرم اور بے حیا سرکاری فرعونوں تمہیں غریب عوام کے ٹیکس سے تنخواہ، لگثری گاڑیاں اور گھر عوامی فلاح و بہبود کیلئے دیے جاتے ہیں نہ کہ سیلف پروجیکشن اور ایکٹنگ کیلئے۔ حرام خورو تم اپنی سیلف پروجیکشن کی ویڈیوز کیلئے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو ان کی عزت نفس مجروح کر رہے ہو۔

    سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔

    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، خاص طور پر خواتین پولیس افیسرز سوشل میڈیا کی جہالت میں اس قدر پاگل اور ذہنی مریض بن چکی ہیں کہ اپنے دفتر، وردی اور سرکاری گاڑی کو شوٹنگ/ایکٹنگ کلب سمجھ لیا ہے۔ خواتین افسران میں سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا جنون انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔سیلف پروجیکشن کیلئے عوام کی ویڈیوز بنانے والے تمام قانون شکن افسران پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج ہونا چاہئے جبکہ اختیارات سے تجاوز پر وفاقی افسران کے خلاف ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن جبکہ صوبائی افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے نوکری سے فارغ کردینا چاہئے۔

    شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔وزیراعظم پاکستان، تمام وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے درخواست ہے کہ خدارا سرکاری ملازمت کو گالی بننے اور عوامی نفرت سے بچانے کیلئے سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر بے عزت کرنا۔

    سیلاب کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔ سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر "شو آف” کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال ہونا، ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ پھول پھینکنے والے سارے منشیات فروش، زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔ او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔ افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سرکاری افسران گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

  • حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ عورت کی عزت ، حیا ، وقار اور اسلامی شناخت کی علامت ہے ۔ حجاب ۔۔۔ عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ حجاب ڈے کی بنیاد فرانس میں حجاب کے خلاف پابندیاں بنیں۔ فرانس میں مسلم خواتین کے برقع اوڑھنے پر تنازعات پیدا ہونے کے بعد اپریل میں ہیملٹن کی مشہور میک ماسٹر یونیورسٹی میں کچھ مسلم و غیر مسلم طلبہ نے حجاب ڈے منایا۔ کچھ عرصے بعد یہ دن فرانس میں قومی سطح پر منایا جانے لگا۔ کچھ عرصہ بعد کینیڈا میں بھی اس دن کو منایا جانے لگا۔ فرانس اور کینیڈا کے بعد اب چار ستمبر کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔اسی طرح امریکہ کی ایک مسلمان خاتون نزیما خان نے حجاب ورلڈ ڈے منانے کا اعلان کیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو باور کروایا جائے کہ حجاب بوجھ نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ اس دن کے منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ حجاب پر تنقید کرتے ہیں ، مسلمان خواتین سے نفرت کرتے ہیں ان کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ان کے متعصبانہ سلوک کی وجہ سے مسلمان خواتین کن مشکلات اور تعصبات کا شکار ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آج حجاب ڈے ایک عالمی تحریک تحریک بن چکا ہے، جس میں ساٹھ سے زائد ممالک کی خواتین اور ادارے شریک ہوتے ہیں۔

    اسلام عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں حجاب کا حکم واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور مومنہ عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔”(سورة النور: 31) اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: "اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔”(سورة الاحزاب: 59)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب عورت کی عزت کا حصار ہے۔ یہ صرف ظاہری لباس نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جو عورت کو پاکیزگی، سکون اور وقار عطا کرتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے بھی عورت کی عفت و عصمت کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے فوراً اپنے دوپٹے بڑے کرلیے اور سر سے پاوں تک اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔ یہ صحابیات کے ایمان اور فرمانبرداری کا عملی ثبوت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورت کےلئے روزمرہ کی ضروریات اور خوراک سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔ حجاب کرنے کے فوائد ہی فوائد ہیں ۔ حجاب کرنے والی خاتون نہ صرف اپنی حفاظت کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو برائیوں سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔حجاب کرنے سے روحانی سکون اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حجاب اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ جو عورت یہ حکم پورا کرتی ہے، اس کے دل میں ایمان کی تازگی اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتی ہے۔ حجاب عورت کو وقار بخشتا ہے۔ لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کردار اور حیاءکی حفاظت کرتی ہے۔

    حجاب معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور برائی کے دروازے بند کرتا ہے۔ یہ عورت اور مرد دونوں کو گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ جب خواتین حجاب اختیار کرتی ہیں تو معاشرے میں بد نظری، ہراسانی اور بے حیائی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے ایک پاکیزہ معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔

    حجاب عورت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس پر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔جہاں حجاب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں وہاں حجاب نہ کرنے کے بیشمار نقصانات بھی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔ جو عورت حجاب نہیں کرتی وہ براہِ راست اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کا انجام آخرت میں سخت عذاب اور درد ناک عذاب ہے۔حجاب نہ کرنے کا دوسرا مطلب ہے بے پردگی ۔ بے پردگی معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ نہ صرف عورت کو بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔مغربی معاشروں میں جہاں حجاب کو نظرانداز کیا گیا، وہاں عورت محض جسمانی کشش اور تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجتاً عزت و وقار کی بجائے وہ اشتہارات اور خواہشات کی تسکین کا آلہ سمجھی جانے لگی۔بے پردگی اور مخلوط زندگی طلاق، بے وفائی اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ چیز خاندان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

    اسلامی تاریخ میں صحابیات کے کردار سے ہمیں حجاب کی حقیقی روح سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہمیشہ وقار اور حیاءکے ساتھ زندگی گزاری اور خواتین کے لیے عملی نمونہ پیش کیا۔
    حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی حیاءاور عفت ایسی تھی کہ غیر محرم کی موجودگی میں بھی مکمل پردے کا اہتمام فرماتیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ فرماتی ہیں کہ عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو خود کو مکمل طور پر ڈھانپے تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ایک موقع پر جب ان کا لباس باریک تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً توجہ دلائی کہ عورت کے جسم کا ظاہر صرف ہاتھ اور چہرہ ہے، باقی سب ڈھانپنا ضروری ہے۔یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صحابیات نے حجاب کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنایا اور آنے والی نسلوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑا۔آج مغرب میں حجاب پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ کبھی اسے دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے اور کبھی عورت کی آزادی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب ہی عورت کی اصل آزادی ہے، کیونکہ یہ اسے ہوس پرست نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ الحمدللہ دنیا بھر کی لاکھوں مسلم خواتین ہر قسم کے دباو¿ اور تعصب کے باوجود حجاب پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہی ایمان اور غیرت کا مظہر ہے۔اسلام نے عورت کو وہ عزت عطا کی ہے جو کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دی۔ حجاب اس کی عزت کا سب سے بڑا نشان ہے۔ یہ عورت کی پاکیزگی، حیاءاور وقار کی ضمانت ہے۔ حجاب ترک کرنا دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث ہے۔میں اپنی ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ وہ نہ صرف خود حجاب ڈے کے موقع پر نہ صرف خود حجاب کی پابندی کریں بلکہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی اس کی ترغیب دیں، تاکہ ہمارامعاشرہ پاکیزگی، امن اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکے۔

  • میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا  تحریر : عائشہ اسحاق

    میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا تحریر : عائشہ اسحاق

    آج کل جس بھی نیوز چینل یا سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہر طرف تباہی مچاتے ہوئے سلابی ریلے اور درد سے بھری داستانی دکھائی دیتی ہیں اس سب کے ساتھ ہر نیوز چینل پر بڑھ چڑھ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف ریسکیو ٹیمیں ، پاک فوج کے دستے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات فراٹے مارتے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر سلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ہر نیوز چینل پر ان تمام کاروائیوں کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں مگر حقیقت وہی خوفناک اور دردناک ہے کہ میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ہوئے با اثر لوگوں سے پوچھا جائے کیا پہلی بار سیلاب آیا ہے یا گلیشرز پہلی دفعہ پگھلے ہیں ،77 سال بیت جانے کے بعد بھی یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ قدرت کا بھی کچھ تقاضا ہوتا ہے ہر سال گلیشرز پگھلتے ہیں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں دریاؤں ندی نالوں میں طغیانی ہوتی ہے سیلاب آے ہیں تو پھر کوئی مثبت بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟ انڈیا کسی صورت پاکستان کو پانی دینے پر آمادہ نہیں مگر جب یہی پانی برسات کے موسم میں بھارت کو اپنی موت دکھائی دیتا ہے تو وہ بلا تاخیر سپیل کھول دیتا ہے جس سے پاکستان میں مزید تباہی مچتی ہے تو کیا ہمارے سیاسی اقتداری با اثر حکمران اس سب حقیقت سے نا واقف ہیں؟

    ہر سال لاکھوں کیوسک میٹھا پانی جو پورے ملک کو سیراب کر سکتا ہے بنجر زمینیں آباد کر سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں جب یہاں ڈیمز بنائے گئے ہوتے یہ پانی ڈیمز میں محفوظ کیا جاتا تو یہی میٹھا پانی ہر طرف ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے اور حکمرانوں کی لالچی پولیسیوں کی وجہ سے یہ پانی غریبوں کی دنیا اجاڑ رہا ہے، خوشحالی لانے کی بجائے زندگی اور گرہستیاں اجاڑتے ہوئے سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے۔جی نہیں یہ سب اچانک یا قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانیت کا لالچ ہے، جو ہر طرف خوفناک تباہی مچاتے ہوئے لاکھوں دردناک داستانیں پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ ان اقتداریوں سے پوچھا جائے 77 سال بیت جانے کے بعد بھی ڈیمز کہاں ہیں؟ ملک ڈوبتا نہیں ہے ڈبویا جاتا ہے اور یہی آج 2025 میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ پانی میرے وطن کے غریبوں کی ہستیاں اور بستیاں کسی ڈائن کی طرح نگل رہا ہے اور اقتداری اپنے محلوں میں محفوظ پرتیش زندگی گزار رہے ہیں ہوا میں اڑتی سواریوں پر اج بھی سالہ سال پرانی روایت کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اجڑے ہوئے غریبوں کے نام پر اربوں روپیہ بطور امداد وصول کیا جاتا ہے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے۔۔۔

  • سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی عمر دیکھتے ہوئے بغور جائزہ لیا جائے تو ان سیاسی جماعتوں کا مستقبل سامنے آ جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں اس جماعت کی ممکنہ نئی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں۔ مریم نواز مستقبل میں پارٹی کی اصل جانشین سمجھی جا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری عمر اور بیماری کے باعث زیادہ متحرک نہیں رہے۔ پیپلزپارٹی کی ممکنہ نئی قیادت بلاول بھٹو زرداری پارٹی کو نوجوان قیادت دینے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ابھی تک عمران خان کی حد تک مقبول ہے لیکن عمران خان کی عمر اور قانونی مسائل ان کی سیاست پر اثر ڈال رہے ہیں۔ ممکنہ بظاہر نئی قیادت عمران خان کی پارٹی میں کوئی واضح جانشین نظر نہیں آرہا۔ کچھ نام زیر بحث ہیں جیسے شاہ محمود قریشی لیکن وہ بھی عمر رسیدہ ہے۔ مجموعی طور پر اگر ان تین سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بغور جائزہ لیا جائے تو نون لیگ کی بھاگ دوڑ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں آئے گی۔ پیپلزپارٹی کو بلاول بھٹو زرداری آگے لے کر چلیں گے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل سب سے زیادہ غیر یقینی ہے۔ کیونکہ عمران خان کی جماعت میں کوئی ایک شخصیت عمران خان کی طرح سب پر بھاری نہیں دکھائی دیتی۔

    اگر مریم نواز کامیاب سیاست کرتی ہیں تو مسلم لیگ ن مستحکم رہے گی ورنہ ن لیگ کا اثر صرف پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی مکمل کمان سنبھالیں گے سندھ میں مضبوط رہیں گے لیکن پنجاب میں مشکل ہوگی۔ اگر بلاول بھٹو نے نوجوان ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا تو پارٹی قومی سطح پر دوبارہ ابھر سکتی ہے۔ بصورت دیگر پیپلزپارٹی صرف سندھ تک محدود رہ جائے گی۔ عمران خان عمر اور صحت کے مسائل کے باعث پس منظر میں جا سکتے ہیں پارٹی کو قیادت کے خلا کا سامنا ہوگا۔ کچھ نوجوان آگے آ سکتے ہیں مگر کوئی بھی عمران خان جیسی مقبولیت نہیں رکھتا۔ اگر عمران خان کو متبادل قیادت نہیں ملی تو پارٹی تقسیم یا کمزور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا کرشماتی لیڈر ابھرا تو پی ٹی آئی ایک بار پھر مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم ن لیگ کا مستقبل مریم نواز کے ساتھ جڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل بلاول بھٹو کے ساتھ جڑا ہے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ جن کو عرف عام میں مرکزی قیادت کہا جاتا ہے ان میں اکثریت عمر رسیدہ ہیں۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز کو نوجوان سیاسی قیادت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ جڑا ہے۔ کچھ ایسی صورتحال سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں بھی گزر رہی ہیں۔

  • تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    ” دور نبوت کے بچے “ یہ دس کتابوں پر مشتمل حسین و معنوی سیٹ ہے ، جسے فور کلر اور معیاری طباعت کے ساتھ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے، یہ بچوں کی تربیت و کردار سازی میں ایک بے مثال علمی و دینی خزانہ ہے۔ یہ کتابیں نہ صرف بچوں کے دل و دماغ کو ایمان کی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں اسلامی اخلاق و ایمان کے ساتھ مضبوط کردار اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے کیونکہ بچے آئندہ نسل کے معمار ہوتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت میں اسلامی اصلاحی اور اخلاقی کتابیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ دور نبوت کے بچے اسی سلسلہ کی خوبصورت کڑی ہے یہ خوبصورت سیٹ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے ۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اس پرفضا کاوش میں دس مندرج ذیل ہستیاں شامل ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنھما۔ یہ دونوں شہزادے رسول اللہ ﷺ کے نواسے،جگر گوشہ فاطمہ بتول ، باغ نبوت کے پھول اور نوجوانان جنت کے سردار ہیں ،سیدنا عبداللہ بن عباس ہیں جنھو ں نے رسول مقبول ﷺ کے زیر سایہ بچپن گزارا ،انھیں بچپن ہی سے علم سے خاص شغف تھا ، سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے ۔مزاج میں سنجیدگی تھی اس لیے رسول مقبول ﷺ نے ان کے لیے علم وحکمت کی دعا کی تھی اور یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ اسے مفسر قرآن اور دین میں سمجھ والا بنا دے ۔ کتاب میں سیدنا عبداللہ بن زبیر کا تذکرہ شامل ہے جو عظیم شاہسوار تھے اور شجاعت وفراست میں بے مثال تھے ۔ ، عبداللہ بن جعفر دور نبوت کے وہ عظیم بچے ہیں جنھیں سخاوت کا دریا کیا گیا ہے وہ اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے ، عبداللہ بن عمر مطیع اعظم ہیں انھیں رسول ﷺ سے شدید محبت تھی ، یہ محبت ہمارے آج کے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ، عبداللہ عمرو ہیں وہ عظیم خاندان کے چشم وچراغ تھے ، ان کو وراثت میں عقل مندی ، بہادری اور فصاحت وبلاغت کی صفات ملیں اور وہ ہر وقت جنت کے متلاشی رہتے تھے ، سعید بن عاص ایک ایسے انوکھے سخے ہیں جنھیں رسول ﷺ نے مستقبل کا معزز آدمی قرار دیا تھا وہ جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے ۔ غلام وہ تھیلیاں لے جاکر نمازیوں کے سامنے رکھ دیتا ، ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کے دینار خود اٹھا لیتے ۔ پھر کتاب میں اسامہ بن زید کا تذکرہ شامل ہے جو وفا کا پیکر تھے ۔ وہ غلام کے بیٹے تھے لیکن ان کی خوش بختی کا کیا کہنا کہ انھیں دنیا کے بہترین رہبر ملے اور اس کےلئے محبت ، شفقت اور تربیت کے خزانوں کے منہ کھل گئے وہ وفا کا پیکر تھے جنھوں نے رسول ﷺ سے وفا نبھائی ۔ ، خادم خاص رسول مقبول ﷺ انس بن مالک رضی اللہ عنہ محض آٹھ سال کے تھے یہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی خوش قسمتی سے وہ رہبر اعظم محمد ﷺ کے خادم خاص بن گئے ۔آغوش نبوت میں تربیت حاصل کرنے والے ان بچوں کے کمالات، بچوں کو اخلاقی و روحانی فضیلت کی طرف مائل کرتے ہے ۔ یہ کتابیں ان کی معصوم ذہانت میں نیکی، تقویٰ، صبر اور قربانی کی اعلیٰ اقدار بٹھاتی ہیں، جو ہماری دینی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اشاعت نے اس مجموعے کو قوتِ بیان، فصاحت اور آسانی سے قابلِ فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ ہر کتاب ایک ایسا منبع ہے جو بچوں کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت جگانے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے معاشرتی کردار کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے، جو اسلام کے روشن چہرے کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ کتابیں والدین، اساتذہ اور مربیوں کے لیے بہترین وسائل ہیں، جن کی مدد سے بچے زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے، حق و سچ کا ساتھ دینے، اور فضائل و نیکیاں اپنانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی شخصیت سازی پر زور دیتے ہوئے، یہ سیٹ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق بچوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور انہیں صداقت، عزم، اور محبت کے سنہرے اصولوں سے روشناس کرواتا ہے۔ کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتابیں دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہیں تعلیم وتربیت کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔دس کتابوں پر مشتمل سیٹ کی رعایتی قیمت1870 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین، روس اور بھارت کے حوالے سے جو نیا بلاک یا اقتصادی و سیاسی اتحاد کی بات ہو رہی ہے وہ اکثر (BRICS) یا اس سے آگے بڑھنے والے اقدامات کے تناظر میں سمجھا جا رہا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلاک امریکہ اور ڈالر کو کمزور نہیں کر پائے گا ڈالر عالمی ریزرو کرنسی ہے۔ تقریبا 60 فیصد سے زائد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے ہیں۔ عالمی تیل و گیس کی زیادہ تر تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ امریکہ کی مالیاتی منڈیاں شفاف اور مستحکم سمجھی جاتی ہیں جس سے سرمایہ کار ڈالر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ روس پر مغربی پابندیوں نے اسے چین پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک مشترکہ کرنسی یا مالیاتی نظام بنانے کے لیے اعتماد ادارہ جاتی ڈھانچہ اور سیاسی یکجہتی کی ضرورت ہے جو اس وقت کمزور ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت۔ ٹیکنالوجی۔ اور عالمی اداروں آئی ایم ایف۔ ورلڈ بینک پر اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک ڈالر کے متبادل پر کام کر رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر اس کی فوری گنجائش نہیں ہے۔ روس اور چین کے درمیان توانائی کے معاہدے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں ہو رہے ہیں لیکن یہ سب ابھی جزوی ہے عالمی نہیں۔ امریکہ اور ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ عالمی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے شگاف آ رہے ہیں۔ چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب ہے نہ یہ ڈالر کو کمزور کر سکتے ہیں نہ امریکہ کی عالمی برتری کو چیلنج۔ داخلی تضادات اور اعتماد کی کمی انہیں کبھی متحد نہیں ہونے دے گی۔

  • پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    یہ زمین ہمیشہ سے پانی کی مہربانیوں سے زندہ رہی ہے۔ دریاؤں کی روانی نے دھرتی کو زرخیز کیا، کھیتوں کو سنہری خوشبو بخشی اور بستیوں میں زندگی کے چراغ جلائے۔ مگر کبھی کبھی یہی پانی جلال میں آ کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بادلوں نے زمین کو پھر آزمایا۔ بوندوں نے پہلی بار دھوکہ نہیں دیا، لیکن جب یہ بوندیں ریلوں میں ڈھلیں تو بستیاں ان کے حصار میں آ گئیں، اور خواب پانی کی شاخوں پر جھولتے رہ گئے۔

    یہ منظر نیا نہیں۔ ہم ہر سال یہی تماشہ دیکھتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، زندگیاں بہا لے جاتا ہے، اور پیچھے چھوٹی چھوٹی امیدوں کی مٹی رہ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ پانی تو اپنا راستہ لے گا، یہ قدرت کا قانون ہے۔ لیکن انسان کے حصے میں تدبیر ہے، منصوبہ بندی ہے۔ جن قوموں نے پانی کو رحمت بنایا، انہوں نے مضبوط بند باندھے، ذخائر بنائے، اور آنے والے دنوں کے لیے تیاری کی۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے خواب سیاست کے دھارے میں بہا دیے۔ ڈیم کے فیصلے میزوں پر سوتے رہے اور دریاؤں نے بستیاں جگا دیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ بھارت سے آنے والا پانی تباہی کا سبب ہے۔ یہ جزوی سچ ہے، لیکن کیا یہ پوری کہانی ہے؟ نہیں۔ اگر ہمارے پاس بڑے ذخائر ہوتے، چھوٹے ڈیمز کی قطاریں ہوتیں، اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہوتا، تو یہ پانی ہماری زمین کی پیاس بجھاتا، ہمارے مستقبل کو روشن کرتا۔ مگر ہم نے وقت کو کھو دیا، اور اب پانی ہماری کوتاہیوں کا ماتم کر رہا ہے۔

    یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، فیصلہ سازی کا ہے۔ ہمیں پانی سے دشمنی ختم کرنی ہوگی۔ یہ وہ دشمن نہیں جس سے جنگ جیتی جا سکے، یہ وہ دوست ہے جس سے تعلق نبھانا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج بھی دیر کی، تو آنے والے برسوں میں یہ سوال اور کڑا ہوگا:
    “ہم نے پانی کو دوست کیوں نہ بنایا؟”

    پانی کی یہ یلغار ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ قدرت سے لڑا نہیں جا سکتا، اس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے چھوٹے بڑے ذخائر، واٹر مینجمنٹ، اور قومی اتفاقِ رائے پر کام نہ کیا تو خواب یونہی پانی کی شاخوں پر لٹکتے رہیں گے۔

  • بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    ستم رسیدہ دریاؤں کے کنارے آج ایک بار پھر آہ و بکا کی صدائیں بلند ہیں، جہاں لہراتی موجوں نے بستیاں نگل لیں، مویشی بہا دیے، اور انسانوں کو بے سر و سامانی کی تصویر بنا دیا۔ پنجاب کے زرخیز میدان ہوں یا خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کے دہانے، رواں سال کا سیلاب ایک قہر بن کر ٹوٹا، اور اس قہر کو بڑھاوا دینے میں بھارتی آبی جارحیت نے بھی کسی کسر کو باقی نہ رکھا۔بھارت کی جانب سے بنا پیشگی اطلاع کے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں کا پاٹ تو جیسے صدیوں کی قید سے آزاد ہوا، اور اس طغیانی نے پنجاب کے درجنوں اضلاع کو نگل لیا۔ بین الاقوامی آبی معاہدات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کیے گئے اس عمل کو ماحولیاتی دہشت گردی سے کم نہیں کہا جا سکتا۔ بھارت کی یہ آبی یلغار نہ صرف فصلوں کو تباہ کر گئی بلکہ دیہی معیشت کی کمر بھی توڑ گئی۔

    ایسے ناگہانی حالات میں جہاں ریاستی مشینری اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود متاثرین کی مکمل داد رسی کرنے سے قاصر دکھائی دی، وہیں افواج پاکستان کا متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،کھانا تقسیم کیاجا رہا ہے،تو دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے رضاکاروں کے ذریعے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے عین مرکز میں، امداد کے ہاتھ تھامے، یہ کارواں متاثرین کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا،مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر نہ صرف پنجاب کے 25 متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا گیا بلکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور سندھ کے علاقوں میں بھی بھرپور ریلیف آپریشن جاری ہے۔لاہورموہلنوال کی خیمہ بستی، جہاں تین ہزار سے زائد متاثرین مقیم ہیں، وہاں مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید نے دورہ کر کے نہ صرف متاثرین سے ملاقات کی بلکہ خود کھانا تقسیم کیا۔ پکی پکائی خوراک کی فراہمی، بچوں کے لیے دودھ اور خشک راشن، خواتین کے لیے ملبوسات اور جوتوں کی تقسیم، سب کچھ ایک منظم نظم کے تحت جاری ہے۔

    لاہور، سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد اور تاندلیانوالہ کے نواحی علاقوں میں جہاں پانی نے زندگی کو مفلوج کر دیا تھا، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے کشتیوں کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی متاثرین تک پہنچائیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور پاک فوج کے افسران کی موجودگی میں متاثرہ دیہاتوں میں ریلیف کے مناظر جذبۂ خدمت کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔سیلاب صرف انسانوں کا امتحان نہیں تھا، مال مویشی بھی اس افتاد کا شکار ہوئے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق نے متاثرہ علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ، سیلج اور دیگر خوراک کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ شفیق الرحمان وڑائچ اور حمید الحسن گجر کی قیادت میں گنڈا سنگھ والا، تلوار چیک پوسٹ اور نواحی دیہات میں دو ہزار سے زائد جانوروں کے لیے خوراک پہنچائی گئی۔باجوڑ، بونیر، مینگورہ، صوابی، سوات اور شانگلہ میں مرکزی مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے سینکڑوں بیوہ خواتین اور متاثرہ خاندانوں میں خشک راشن، بستر اور برتن تقسیم کیے۔ عبدالغفار منصور کی قیادت میں سوات کے ڈاگ میلہ گراؤنڈ میں گھر کا سامان بانٹا گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مشن صرف وقتی ریلیف کا نہیں، بلکہ مکمل بحالی کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کسی سیاسی تشہیر کے بغیر، نہایت سادگی اور خدمت کے جذبے کے تحت جاری ہے۔ مرکزی ترجمان تابش قیوم نے قصور میں 22 سیلاب زدہ دیہاتوں کا دورہ کر کے نہ صرف کھانا تقسیم کیا بلکہ امدادی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔سیلاب ایک قدرتی آفت سہی، مگر اس کے اثرات انسانی کوتاہی، ناقص حکومتی منصوبہ بندی اور ہمسایہ ملک کی بدنیتی سے کہیں زیادہ گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف اپنی آبی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہے بلکہ انسانی خدمت کو محض حکومتی فریضہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا،مرکزی مسلم لیگ کی خدمات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب نیت نیک ہو اور ارادے مضبوط، تو ایک سیاسی جماعت بھی بحران میں امید کا چراغ روشن کر سکتی ہے،مرکزی مسلم لیگ نے جس غیر معمولی انداز میں سیلاب متاثرین کی مدد کی، وہ ہماری قومی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس وقت جب قوم کو یکجہتی، ہمدردی اور عملی خدمت کی اشد ضرورت ہے، ایسے اقدامات قوم کی اجتماعی روح کو بیدار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

  • ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم، کڑوے ضرور ہیں مگر منافق نہیں ہیں ہم

    زندگی میں سب کو خوش رکھنا اور ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے میٹھے بول بولتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔ جبکہ کچھ لوگ سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان کی بات کسی کو بری لگے۔ یہ بلاگ انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی بات صاف، سچی، اور دل سے کہتے ہیں ، اور اسی لیے اکثر "کڑوے” کہلائے جاتے ہیں۔سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ دل کو چبھنے والا، کانوں کو ناگوار، اور ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی سچ وہ آئینہ ہے جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ہم واقعی ہیں۔جو لوگ سچ بولتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی نظروں میں "کڑوے” بن جاتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں چاپلوسی نہیں ہوتی، لیکن ان کے دل میں کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی کہتے ہیں اور یہی چیز انہیں منافقوں سے الگ کرتی ہے۔

    منافقت بظاہر نرم خوئی، شائستگی، اور میٹھی باتوں کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، لیکن اندر سے یہ ایک زہر ہے۔ منافق لوگ ہر کسی کے سامنے ایک نیا چہرہ رکھتے ہیں، ہر کسی کی پسند کے مطابق ڈھل جاتے ہیں، لیکن دل میں ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ وقتی طور پر پسند کیے جاتے ہیں، لیکن جب اصلیت سامنے آتی ہے تو اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑتا نہیں۔وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں، وہ معاشرے کا اصل آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ باتیں بتاتے ہیں جو شاید ہم سننا نہ چاہیں، لیکن ان باتوں سے ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں۔یہ لوگ وفادار دوست، سچے رشتہ دار، اور مخلص ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں وقتی طور پر تلخ ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد دل آزاری نہیں، بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔

    زندگی ایک سٹیج نہیں کہ جہاں ہر وقت اداکاری کی جائے۔ اگر ہم اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے لگیں، تو ہم اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم کیسا انسان بننا چاہتے ہیں،وہ جو سب کو خوش کر کے اپنا اصل کھو دے؟یا وہ جو سچ بول کر دلوں میں اپنی جگہ بنائے، چاہے وہ جگہ سب کے دل میں نہ ہو؟”کڑوے ضرور ہیں، مگر منافق نہیں ہیں” یہ جملہ ان تمام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اگر آپ بھی سچ بولتے ہیں، اپنی بات صاف طریقے سے رکھتے ہیں، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے خود کو نہیں بدلتے ، تو آپ اکیلے نہیں، یہ دنیا شاید آپ کو فوری طور پر نہ سمجھے، لیکن وقت گواہی دے گا کہ سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں، اور منافقت کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔