Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز جب وزیراعلیٰ آفس سے اس بات کی خبر ملی کی ٹریفک پولیس کی بدمعاشیوں کے خلاف اسٹوڈنٹس کی پکار پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری طور پر منگل کی صبح ٹریفک مسائل کے حوالے سے خصوصی اجلاس رکھا ہے تو طلبہ و طالبات کیلئے یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز، خوشی اور ایکسائٹمنٹ والی بات تھی کہ ان کی وزیراعلیٰ ان کیلئے کس قدر باخبر اور فکر مند ہیں۔ مریم نواز کا مقبولیت کا گراف 67فیصد سے 95فیصد پر آگیا لیکن اگلے ہی دن یعنی آج دوپہر میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز سے سخت مایوسی ہوئی ناصرف طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے بلکہ ہر قانون پسند شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سی ٹی او اور ٹریفک وارڈن کو حکم دیا جاتا کہ سات دن میں چار لاکھ پبلک ٹرانسپورٹرز کی اوریجنل نمبر پلیٹ نہ لگی اور کروڑوں روپے کی کرپشن بند نہ ہوئی تو سی ٹی او سمیت سب کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹریفک پولیس کو وارننگ دی جاتی کہ معزز شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کرو خاص طور پر طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ جو ہمارا مستقبل ہے۔
    پہلے پہل تو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز کی گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ تھی اب تو تھانوں اور دیگر سرکاری ملازمین نے بھی سیف سٹی کیمرہ کے آن لائن چالان اور دیگر غیرقانونی حرکات کیلئے بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں بھگانا شروع کردی ہیں۔ کیا قانون کا اطلاق صرف ٹیکس دینے والے معزز شہریوں کیلئے رہ گیا ہے؟
    اس پریس ریلیز میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ بنا نمبر پلیٹ گاڑی چلانا کتنا بڑا جرم ہے، میڈم وزیر اعلیٰ بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کام کررہے ہیں۔ میڈم جن رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو آپ کے سامنے غریب بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہی غربت کارڈ صرف لاہور شہر میں 1200کروڑ ماہانہ کی غیر قانونی کمائی کا زریعہ ہیں۔ ایک ہزار سے دو ہزار فی رکشہ و پبلک ٹرانسپورٹ وصولی کی بجائے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف پانچ ہزار کروڑ ماہانہ سرکاری خزانے میں آئیں بلکہ محفوظ اور پرامن لاہور و پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پریس ریلیز میں ٹریفک پولیس کو غیرقانونی پارکنگ کی سرپرستی سے روکنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹریفک پولیس جس غیر قانونی پارکنگ سے مبینہ طور پر پرسنل پاکٹ کرپشن کیلئے پانچ سے دس کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے اگر وہی پارکنگ منظم طریقے سے لاہور پارکنگ کمپنی کو کرنے دے تو پانچ سو کروڑ ماہانہ سرکار کیلئے اکٹھا کرسکتی ہے اسی طرح پورے پنجاب میں پانچ ہزار ارب صرف پارکنگ سے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

    یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹریفک پولیس جتنی رقم بطور رشوت اکٹھا کرتی ہے سرکار کو اس رقم کا 900فیصد نقصان کرتی ہے۔ کیونکہ اگر سرکار کو 1000ملنا چاہیے تو رشوت میں 100اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ900فیصد صرف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونے والے رقم کا نقصان ہے جبکہ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہی رکشے اور پبلک ٹرانسپورٹرز روڈ ایکسیڈنٹس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں ہر ایک منٹ میں 1500روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ 80فیصد موٹرسائیکل اور رکشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہ ون وے اور فاسٹ لین کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں اشارے پر بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اغوا، قتل اور دہشت گردی میں پچانوے فیصد یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن ٹریفک پولیس کمائی کے ان اڈوں پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔

    آج سپہر تین بجے کے قریب گارڈن ٹاؤن سے نکلا تو سپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر سے حمید لطیف ہسپتال تک پرائیویٹ دفاتر، مارکیٹ اور کار شوروم کی گاڑیوں، کھانے کی اشیاء کی ریڑھیوں اور رکشوں سے ہاف سڑک پر قبضہ تھا، لمحہ فکریہ اور بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ سینٹر آف دی لاہور کلمہ چوک ناصرف رکشہ سٹینڈ کا منظر پیش کررہا تھا بلکہ رکشہ والے اسے ہوم سٹیشن سمجھ کر کھلے عام رانگ وے کا استعمال کر رہے تھے۔ گذشتہ روز شاہ عالم مارکیٹ جانا تھا تو بانساں والا بازار ون وے کی وجہ سے کلوز تھا اور متبادل راستے کی طور پر میوہاسپتال کی بیک سائڈ سے گیا جبکہ میرے سامنے ہی وارڈن بنا نمبرپلیٹ رکشوں کو ون وے پر جانے دے رہا تھا (ویڈیو ثبوت موجود ہے) میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک سو سے زائد غیر قانونی دکانیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، پولیس سمیت سرکاری گاڑیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر وارڈن شہری کی ویڈیو بنا سکتا ہے تو شہری کو بھی حق دیا جائے کہ وہ بھی وارڈن کی بدتمیزی، پارکنگ مافیا اور پبلک ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کی ویڈیو بنا کر بطور ثبوت وزیراعلیٰ آفس کو بھیج سکیں۔ اگر ویڈیو بنانے پر معزز شہریوں پر پیکا لگ سکتا ہے تو اسی پیکا ایکٹ کا نفاذ وارڈن اور دیگر سرکاری ملازمین پر بھی ہونا چاہئے۔ جو نوجوان مستقبل میں مریم نواز کو بطور وزیراعظم اس لیے دیکھنا چاہتے تھے کہ مریم رول آف لاء کی بات کرتی ہے وہ آج سخت مایوس ہیں اور کسی نئے راہنما کی تلاش میں ہیں، اس سے قبل کی اس ملک کی اکثریتی آباد یعنی نوجوانوں کی آپ سے ساری امیدیں دم توڑ دیں آپ واضح الفاظ میں ”رول آف لاء“ کا اعلان کریں ٹریفک پولیس سمیت دیگر کرپٹ اور بدتمیز اہلکاروں کو جیل بھیجیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • "فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق

    "فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق

    یوں تو بلوچستان ازل سے کئی طرح کی سازشوں کی وجہ سے بد امنی کا شکار رہا مگر 2013 میں جب سی پیک کا آغاز ہوا تب سے لے کرآج تک مسلسل بدترین دہشت گردی کی آگ بلوچستان کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی افراد سب سے زیادہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات نہایت گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں ،بلوچستان میں بھارت دہشت گردی پھیلا رہا، اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری سب سے بڑا ثبوت ہے، غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ کیوجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے،بلا شبہ یہ بات درست ہے مگر ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے کہ بلوچستان کے موجودہ انتہائی خراب حالات کہ ذمہ دار پاکستان کے مخالفین کے علاوہ خود ریاست پاکستان کی کوتاہیاں اور ناقص حکمت عملی بھی ہے۔ جن میں سے سب سے بڑی وجہ بلوچوں کے مطالبات اور ان کی فریاد کو رد کرنا اور دھتکارنا ہے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد بھی ایک اہم ایشو ہے، ابھی تک بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ہی ملوث نکلتے ہیں، تاہم لا پتہ افراد کے معاملے میں ریاست پاکستان کو بہترین حکمت عملی اپنانی چاہیے اور ان افراد کا ٹرائل کورٹ میں چلانا چاہیے انہیں عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے ان میں سے جو کوئی دھشت گردی میں ملوث پایا جائے اسے آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جو کوئی ایسی کسی کاروائی میں ملوث نہیں پایا جاتا اس کو رہا کیا جائے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ وہ باشعور اور جمہوریت پسند لوگ ہیں جو جنوری 1965 میں فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جس وقت فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف لڑ رہی تھیں تو خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سیکیورٹی گارڈ تھے۔ اسی طرح غوث بخش بز نجو خضدار کے علاقے میں پولنگ کے عمل کے انچارج تھے۔ لہذا اس بات کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں نازک صورتحال کو سنبھالنے اور دہشت گردی جیسے معاملے سے نپٹنے کے لیے مضبوط جمہوری نظام کا قائم ہونا ضروری ہے جس میں شفاف انتخابات کے ذریعے ایسے عوامی نمائندے کو لایا جائے جو عوام کے مسائل سنے اور انہیں حل کرے۔ بلوچوں کی فریاد سنی جائے ان کے درد کا مداوا کریں۔ قدرتی ذخائر اور معدنیات کے حوالے سے شروع کیے جانے والے پروجیکٹس ،اس حوالے سے پاس کیے جانے والے بلز اور بنائی جانے والی پالیسیاں پبلک کی جائیں تاکہ مقامی افراد کو معلوم ہو سکے ۔ معدنیات سے مستفید ہونا مقامی افراد کا پہلا حق ہے انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہماری گزارش ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو سنجیدگی ،عقل و تفہیم سے لیں ان کے مطالبات سنیں ان پر غور کریں۔ وہ وعدہ نبھائیں جو حکومت پاکستان نے الحاق کے وقت بلوچیوں سے کیا تھا اور بڑھتی ہوئی نفرتیں کم کریں ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں اور ہمارے اپنوں کو ہی ہمارے خلاف کھڑا کریں۔ یاد رکھیں پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

  • ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کہ بھائی ناشتہ کرلیا میں نے کہا کہ نہیں موسٹ ویلکم تشریف لائیں اکٹھے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک میوچل دوست لاہور آئے ہوئے ہیں ہم دھرم پورہ پائے کھانے جارہے تھے آپ کو بھی پک کرلیتے ہیں۔ ہم گارڈن ٹاؤن سے نکلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد کے گھر سے نہر کی طرف جانے والے ڈبل روڈ پر رکشہ و ریڑی والوں نے ہاف سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کینال روڈ سے دھرم پورہ کیلئے یوٹرن لینے لگے تو سامنے سے بنا نمبر پلیٹ رکشوں کا قافلہ بلا خوف و خطر رانگ وے استعمال کرتا ہوا آرہا تھا۔ دھرم پورہ دونوں اطراف بیچ سڑک ناجائز پارکنگ اور تجاوزات ہی تجاوزات۔ مشہور اقبال ٹی سٹال کا رخ کیا تو وہاں بھی منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک اور ہال روڈ سے گاڑی گزارنا مشکل تھا۔ جس سڑک سے بھی گزرتے بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود وزارت داخلہ میں تعینات سنئیر افیسر نے بتایا کہ گذشتہ چھے ماہ میں متعدد دفعہ مختلف ایجنسیز کی طرف سے ایس آئی آر(سپیشل انفارمیشن رپورٹ) آئی ہیں کہ مبہم اور بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں سیکیورٹی رسک ہیں اس کے باوجود مبہم، بنا نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگاکر نمبر پلیٹ کو چھپانے والی ٹریفک پولیس سمیت دیگرسرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟ تیسرے افیسر کا کہنا تھا کہ اغوا، چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی بنا نمبر پلیٹ گاڑی کا پرچہ متعلقہ سی ٹی او پر ہونا چاہئے۔
    ٹریفک کی روانی میں ناکامی، نااہلی اور جعل سازیوں کی پردہ پوشی کیلئے پولیس ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی مدد سے ہر وقت خبروں میں رہ کر جھوٹے دعووں سے ارباب حکومت اور اداروں کو مس گائیڈ کرنے کی بجائے غیر قانونی پارکنگ، گارگو اڈوں، پبلک ٹرانسپورٹر کی ریگولر کمائی چھوڑ دیں ٹریفک مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مسائل ہی ٹریفک پولیس کے وسائل ہیں۔
    پولیس سروس کے دوست نے کہا کہ بزدار دور میں انہیں سی ٹی او لاہور کی آفر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سی ٹی او نہیں کہیں ڈی پی او کی آپشن ہو تو ٹھیک ورنہ سی پی او پنجاب آفس ہی ٹھیک ہے۔ پی ایس پی دوست نے کہا کہ آفر کرنے والے نے کہا کہ سی ٹی او کے بعد آپ ساری ڈی پی او شپ بھول جائیں گے۔ یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی سی ٹی اوکے بعد کسی ڈی پی او شپ کی ضروت نہیں۔
    تینوں افسران کا کہنا تھا کہ سی ٹی او، ای چالان ڈیفالٹر سرکاری گاڑیوں کے خلاف ان بڑھکوں سے کس کو اور کتنا بیوقوف بنائے گا؟
    تم ایک ایک ای چالان ڈیفالٹر گاڑی کی نشان دہی بھی کرلو گے اور انکو پکڑ بھی لو گے کیونکہ وہ ان قانون پسند شہریوں کی ہیں جو دونمبر نہیں ہیں جو اوریجنل نمبر پلیٹ لگاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ بنا نمبر پلیٹ والوں کو نہیں پکڑو گے۔
    ای چالان سسٹم میں بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ایک تہائی چالان ایسے ہوتے ہیں جو جسٹیفائیڈ نہیں ہیں کیونکہ اگر اچانک آگے والا بریک لگا دے یا سپیڈ سلو کردے تو "مڈ وے” میں آپکا چالان۔ لائن کی خلاف ورزی بھی بائیک اور رکشہ والوں کی تیز رفتار کٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
    گاڑی میں موبائل استعمال کرتا، بنا سیٹ بیلٹ والا نظر آجاتا ہے تمہیں اگر نظر نہیں آتا تو کروڑوں روپے ماہانہ کی اکانمی والے مبہم اور بنا نمبر پلیٹ رکشے، ٹرک ٹویٹا اور بسیں نظر نہیں آتیں۔ عام شہری سڑک پر گاڑی کھڑی کرتے نظر آجاتا ہے لیکن پرائیویٹ دفاتر اور کار شوروم کی بیچ سڑک ریگولر غیر قانونی پارکنگ نظر نہیں آتی۔
    سارا لاہور اور پنجاب ٹریفک جام میں پھنسا ہوتا ہے لیکن تم روڈ سائڈ تجاوزات اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے؟
    کوئی سڑک بتا دو جہاں بیچ روڈ ریڑیاں اور رکشے راستہ روک کر دکانداری نہیں کر رہے؟
    لفٹر کے زریعے اکٹھے ہونے والے رقم پنجاب حکومت کی بجائے سی ٹی او ویلفئیر اکاؤنٹ میں کس قانون کے تحت جاتی اور کہاں خرچ ہوتی ہے؟
    یہ لاقانونیت، زورزبردستی اور فاشزم کی انتہا نہیں کہ نشئی پبلک ٹرانسپورٹررز کو کھلی چھٹی کیونکہ وہ ریگولر روزانہ اور ماہانہ دیتے ہیں جبکہ معزز شہری جو ٹریفک پولیس کی بجائے سرکار کو جائز ٹیکس دیتے ہیں ان کے ساتھ بدمعاشیاں کرکے نمبر گیم پوری کرو۔
    تم جن اسٹوڈنٹس کا ریکارڈ خراب کرنا چاہتے ہو ضروری نہیں کہ وہ سارے بڑے ہوکر کرپٹ اور قانون شکن سرکاری ملازم ہی بنیں گے ان میں سے بہت سارے ایماندار لوگ بھی آئیں گے جو اس بدبودار کرپٹ اور قانون شکن سرکاری کلچر کو ختم کریں گے۔
    پورے پنجاب کی پولیس کا ریکارڈ دیکھ لیں پولیس کی مدعیت میں مقدمات کی تعداد بامشکل ایک فیصد ہوگی جبکہ ٹریفک پولیس کی مدعیت میں ہر روز درجنوں ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ معزز شہریوں پر بدتمیزی کا الزام لگاکر ٹریفک پولیس کا استغاثہ دینا اختیارات سے تجاوز اور فسطائیت ہے۔
    تم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے مامور ہو یا اپنی فرسٹیشن نکالتے ہوئے شہریوں سے دست و گریبان ہونے کیلئے۔ نمبر گیم کے لیے معزز شہریوں پر ایف آئی آرز کرانا فاشزم کی انتہا ہے۔ ٹریفک پولیس معزز شہریوں کیلئے خوف کی علامت اور غنڈہ فورس بنتی جارہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹر اور غیر قانونی پارکنگ والوں کیلئے تمام تر قانون شکن اقدامات کیلئے معاون فورس۔ تیز فلیش لائٹ کے خلاف کاروائی کی بجائے دن بہ دن فلیشر لائٹ استعمال کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ،، اخوت کا سفر ،، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی بہترین کتاب ہے جو فاؤنٹین ہاوس کے سمینار ہال میں منعقدہ نویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر اہل قلم کو تحفتا پیش کی گئی ادبی چاشنی سے بھر پور یہ بہت معلوماتی کتاب ہے سر ورق پر لکھا ہے ،، قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام ،، اخوت ،، کی کہانی ،،

    اس کتاب میں نامور شخصیات مثلا مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ڈاکٹر سعادت سعید ، اور عطا الحق قاسمی کی آراء شامل ہیں، یہ محترم امجد صاحب کے پر خلوص سفر اور جدوجہد کی کہانی ہے دس ہزار کے قرض سے شروع ہونے والا سفر آج کامیابیوں سے ہمکنار ہے اخوت یونیورسٹی آج محترم امجد صاحب کی ذات کی طرح ہی امید کی کرن ہے روشنیوں کا مینارہ ہے

    ڈاکٹر امجد صاحب نے امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے لا اسکول میں ان کی دعوت پر خطاب کیا اور ہارورڈ کینڈی اسکول کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اس کتاب میں اس کی رو داد موجود ہے ، امجد صاحب کے خلوص اور کامیابیوں کا سفر طویل اور جدوجہد سے بھر پور ہے ان کو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں حاصل ہیں انشاءاللہ انہیں نوبل پرائز ملے گا جو نہ صرف ان کے کاز بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا –

  • قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب آرگنائزر نیشنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ ہیں اور ان کے شوہر شعیب منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ہیں دونوں اپنی قومی زبان اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں. قرۃالعین العین اردو ورثہ کے نام سے ویب سائٹ بھی چلا رہی ہیں گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک میٹنگ رکھی تاکہ زبان و ادب کے حوالے سے اہل قلم سے مشاورت کی جائے اور ادب کی مختلف اصناف پر بات کی جائے اور اردو ورثہ کے لیے معیاری تخلیقات پر کام کیا جائے

    اس پروگرام میں کنول بہزاد ، فرح خان ، رابعہ نعمان ، دعا عظیمی ، ظفر ، سرفراز احمد ، راحت فاطمہ اور بصیرت نے شرکت کی بہت عمدہ گفتگو ہوئی شعر وادب علم عروض اور مختلف موضوعات پر سب نے اظہار خیال کیا تجاویز بھی دیں محفل میں شریک شاعر احتشام حسن صاحب نے اپنی نظم نوسٹلجیا بھی سنائی یہ نشست جوہر ٹاؤن میں کیپسن سی میں منعقد کی گئی، قرۃالعین العین اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائے آمین

  • دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس بار قوم پہلے سے زیادہ متحد، پُرعزم اور ہوشیار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو غیر متزلزل عزم سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں‌ترجمان پاک فوج واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ملوث ہے یہ حملہ صرف ایک سکول پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، معصومیت اور تعلیم پر حملہ تھا۔ ایسے سفاک درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دہشت گرد اس قسم کی شرانگیزی یا بربریت کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت اور جارحیت کو چھپانے کے لیے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کو ہوا دینا ایک کھلی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے۔لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی پاکستانی سکیورٹی فورسز جدید تربیت، اعلیٰ جذبے اور عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔آپریشن بنیان مرصوص 10 مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کومنہ توڑ جواب دیا

    پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلیجنس ادارے دن رات ملک کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر حملہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آخری دہشت گرد اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔یہ لمحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کی ان گھناؤنی سازشوں کا نوٹس نہ لیا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو خطے میں بدامنی کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بڑے ممالک کو پاکستان کے شواہد کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ریاستی دہشت گردی بند کرے۔پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور قومی جذبے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایک آواز ہو کر اپنی قیادت، افواج اور اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا فوج کی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ ہم سب کو ایک سپاہی بن کر، قلم سے، زبان سے، اور عمل سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔پاکستان ایک زندہ قوم ہے، اور ان شاءاللہ، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔

  • ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب ایک لطیف اور روحانی فن ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے، احساسات کو جگاتا ہے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ادیب کا تعلق صرف کاغذ اور قلم سے نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ ادیب اپنے مشاہدات، تجربات، درد، خوشی اور سچائی کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے تاکہ سماج کو ایک بہتر سمت دی جا سکے۔مگر آج کل ایک افسوسناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ ادب کے نام پر تقاریب منعقد کر کے ادیبوں کو سیاسی جماعتوں کے پروگرامز میں بلایا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا عنوان تو "ادبی ایوارڈز "کے نام پر رکھا جاتا ہے، مگر اصل مقصد سیاسی تشہیر، سیاسی شخصیات کی مدح سرائی یا مخصوص نظریات کی ترویج ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں ادیبوں کے لیے باعث اذیت بن جاتی ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

    ادیب کا سب سے بڑا وصف اُس کی غیر جانبداری، غیر وابستگی اور فکری آزادی ہے۔ وہ کسی جماعت، مسلک یا مفاد سے بالا ہو کر انسانی اقدار اور سچائی کی بات کرتا ہے۔ وہ نہ کسی لیڈر کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی نعرے کی گونج میں اپنی آواز کھوتا ہے۔ ادیب کا ضمیر اُسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے قلم کو کرائے پر دے یا سچائی کو مصلحت کی نظر کرے۔جب ایسے ادیبوں کو زبردستی سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر ادب کا نام استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اُن کی شخصیت، وقار اور مقصدِ ادب کی توہین ہوتی ہے۔سیاست، اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار کا حصول، اپنی جماعت یا لیڈر کی پروموشن، اور اکثر اوقات اس میں مصلحت، منافقت اور مفاد پرستی شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ ادب کا اصل مقصد شعور بیدار کرنا، فکر پیدا کرنا اور سچائی کو بے باکی سے بیان کرنا ہے۔ادب سیاست کا تابع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب ادب کو سیاست کے تابع کیا جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے اور ایک پروپیگنڈہ کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    سیاستدان وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اُس کے بیانیے، وفاداریاں اور نظریات بھی حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ مگر ایک سچا ادیب اپنی فکر پر قائم رہتا ہے۔ اس کا قلم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر سچ لکھتا ہے۔ اُسے کسی وزارت، اعزاز یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ضمیر کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کئی سیاستدانوں کو بھلا دیا، مگر ادیبوں کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت کو واقعی ادب سے محبت ہے تو وہ ادب کو اس کے اصل مقام پر رہنے دے۔ ادبی شخصیات کو اس لیے مدعو نہ کیا جائے کہ وہ اسٹیج پر بیٹھ کر لیڈروں کی تعریف کریں، انکے حق میں تحریریں لکھیں ،سوشل میڈیا پر انکے لئے بیانیہ بنائیں بلکہ اُنہیں مکمل آزادی دی جائے کہ وہ سماج، سیاست اور اقتدار کے بارے میں جو چاہیں کہیں۔ادیبوں کو محض اس لیے بلا لینا کہ اُن کے نام سے تقریب کو معتبر بنایا جا سکے، یا اُن کی موجودگی سے سیاسی رنگ کو “ادبی” بنایا جا سکے، نہایت افسوسناک رویہ ہے۔

    ادب کو سیاست سے جدا رکھیے۔ اگر سیاستدانوں کو ادب سے سچی محبت ہے تو وہ ادیبوں کی فکر کو سنیں، اُن کی تنقید کو برداشت کریں اور اُن کے قلم کو آزاد رہنے دیں۔ ورنہ ادب کے نام پر ہونے والی سیاسی محفلیں نہ صرف ادیبوں کے لیے توہین آمیز ہیں بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہیں،ادیب وہ نہیں جو سیاسی بینر تلے بیٹھ کر تقریریں کرے، ادیب وہ ہے جو بے خوف ہو کر سچ کہے ،چاہے وہ سچ اقتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

  • ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
    بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
    تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
    وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
    پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
    ‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
    Thank-you!
    اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
    میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
    اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
    یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
    ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
    ‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
    اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
    میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
    ایک نہیں۔
    دو نہیں۔
    تین نہیں۔
    چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
    مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
    ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
    ‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
    یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
    دور دور تک کوئی نہیں۔
    مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
    میرے بعد کوئی نہیں یے !
    الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
    پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
    یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
    پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
    روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
    اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔

    ‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
    ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
    ‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
    قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
    کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
    کیوں کہ:
    ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
    وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

  • منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر :  راحین راجپوت

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ، اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ایک ایسی ہی شخصیت سعید خان المعروف اداکار رنگیلا کی بھی تھی جو اپنی لازوال اداکاری کے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے اور آج رنگیلے کو ہم سے جدا ہوئے بیس سال گزر گئے لیکن وہ اپنی خودساختہ اداکادی کی وجہ سے رہتی دنیا تک ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    سعید خان المعروف اداکار رنگیلا دنیائے شوبز کا وہ نام ہے جس کا نام لیتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے انڈسٹری کو ایک نئی جہت اور ایک نئی پہچان دی ۔

    24 مئی 2025 ء کو رنگیلے کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال مکمل ہو جائیں گے ، لیکن ہم چاہ کر بھی رنگیلے کی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ سے بے نیاز ہو کر نہ صرف پاکستان فلم انڈسٹری کا نام روشن کیا بلکہ انڈسٹری پر اپنے عہد کی ایک گہری چھاپ چھوڑی ۔ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی ۔ انہوں نے چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے شائقین فلم کو محظوظ کیا ۔

    اداکار رنگیلا یکم جنوری 1937 ء کو ضلع ننگرہار ، افغانستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد سعید خان تھا ، جبکہ انڈسٹری میں شہرت انہوں نے اپنے مزاحیہ نام رنگیلا سے حاصل کی ۔ذریعہ معاش کے سلسلے میں انہوں نے افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور اور بعد میں لاہور کا رخ کیا ، جہاں شروع میں انہیں فلمی سائن بورڈ پینٹ کرنے پڑے ، لیکن بعد میں باضابطہ فلمی کیریئر کا آغاز 1958 ء میں فلم "جٹی” سے کیا ۔ اس فلم میں رنگیلا مزاحیہ اداکار کے طور پر سامنے آئے ۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ۔ اس فلم میں لوگوں نے رنگیلے کے کردار کو بہت پسند کیا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھان لی ، یہی کامیابی بعد میں جنون کی کیفیت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگیلے نے اپنے آپ کو فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار ، کہانی نویس اور موسیقار کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔

    1969 ء میں رنگیلا نے اپنی پروڈکشن میں پہلی فلم ” دیا اور طوفان ” بنائی جس میں انہوں نے بحیثیت فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار اور مصنف کام کیا ۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے رنگیلے کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگا دئیے ۔ اس فلم میں رنگیلے نے اپنا لکھا ہوا گانا ” گا میرے منوا گاتا جا رے ، جانا ہے ہم کا دور ” بہت دردناک آواز میں گایا ۔ یہ گانا اسی فلم کے ہیرو اداکار اعجاز پر فلمایا گیا ۔اس کے بعد ” رنگیلا پروڈکشن "کے بینر تلے ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں ایک فلم "رنگیلا ” 11 ستمبر 1970 ء کو پاکستانی سینما کی زینت بنی جس میں رنگیلے نے ٹائٹل رول ادا کیا ، اس فلم کے نغمات اسٹریٹ ہٹ ثابت ہوئے ، اس فلم میں رنگیلے کے گائے ہوئے دو نغمے بھی شامل کئے گئے جو بہت مشہور ہوئے ، جن میں ایک نغمہ ” ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ، آج ان کی تعبیر ملی ۔ ” اور دوسرا ” منور ظریف کے ساتھ ” چھیڑ کوئی سرگم ” یہ دونوں نغمے موسیقار کمال احمد نے لکھے ، اور اس فلم کی موسیقی بھی خود کمال احمد نے ترتیب دی ، اسی فلم کا ایک گانا تصور خانم کی آواز میں اداکارہ نشو بیگم پر پکچرائز کیا گیا ، ” وے سب توں سوہنیاں” نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا ۔ الغرض یہ فلم منفرد انداز میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی ۔

    یکم اکتوبر 1971 ء میں ان کی ایک اور ہیٹ ٹرک فلم ” دل اور دنیا منظر عام پر آئی ۔ اس فلم نے بھی کراچی سرکٹ میں شاندار پلاٹینم جوبلی منائی ۔ اس کے علاوہ ان کی سپر ہٹ فلم ” انسان اور گدھا ” جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی دیگر فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، نوکر مالک ، سونا چاندی ، مس کولمبو ، باغی قیدی ، تین یکے تین چھکے ، آنسو بن گئے موتی ، جیسے جانتے نہیں ، امانت ، دو رنگیلے ، کبڑا عاشق ، عشق نچاوے گلی گلی ، ہمراز ، ہیرو ، انٹرنیشنل گوریلا ، عورت راج ، دو تصویریں ، دوستی ، گہرا داغ ، بازار حسن ، میڈم باوری ، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ ، میری محبت تیرے حوالے ، صبح کا تارا ، گنوار ، جہیز ، نمک حلال ، دو رنگیلے ، ایمان دار ، بے ایمان ، کاکا جی ، راجا رانی ، امراؤ جان ادا ، پردہ نہ اٹھاؤ ، صاحب بہادر اور فلم قلی شامل ہیں ۔ رنگیلے کو بہترین سکرین پلے رائٹر ، کامیڈین ، مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے نو مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

    رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے جتنی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں وہ سب کی سب ہی لازوال اور اپنے عہد کی شاہکار فلمیں ثابت ہوئیں ۔ پردہ سکرین پر رنگیلے کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی ۔ رنگیلے نے فلموں میں کامیڈین سے لے کر ہیرو تک کا سفر انتھک محنت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر طے کیا ، یہاں تک کہ رنگیلے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔ رنگیلے کے پاس ہر ڈائریکٹر ، پروڈیوسر کی لائن لگی ہوتی کہ وہ ہماری فلم میں کام کرے ۔ رنگیلے نے اپنی محنت اور ذہانت سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی تقریباً تمام ہیروئن کے ساتھ کام کیا ۔

    اداکار رنگیلے کی آواز بھارتی گلوکار مکیش سے ملتی تھی ۔ جب مکیش کا انتقال ہوا تو بھارت نے رنگیلے کو بطور گلوکار کام کرنے کی پیشکش کی ، لیکن مصروفیت کے باعث اس نے بھارت میں کام کرنے سے انکار کردیا ۔
    رنگیلے نے تین شادیاں کیں ۔ چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اس عظیم اداکار کو زندگی کے آخری ایام میں گردوں ، جگر اور پھیپھڑوں کے مسائل نے آ گھیرا ، جس کے علاج کے لئے اسے کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں امداد کی پیشکش ہوئی تو اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔ وفات سے پہلے اداکارہ نشو بیگم نے اپنے اور رنگیلے پر فلمایا گیا گانا ” وے سب توں سوہنیاں ” رنگیلے کے پاس بیٹھ کر اتنی دردناک آواز میں گایا کہ پاس بیٹھے سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سب لوگ رنگیلے کی زندگی اور صحت کے لئے دعائیں مانگنے لگے لیکن افق کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ ان موذی امراض کا مقابلہ کرتے کرتے بالآخر 24 مئی 2005 ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں اس ابدی سفر پر روانہ ہو گیا جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔ ان للہ وان الیہ راجعون ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم اداکار رنگیلا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔

  • ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    کرونا وبا کے بعد پوری دنیا کے کام کرنے میں تبدیلی آئی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی مثال ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام ہے ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ورک فرام ہوم کئی لحاظ سے مفید ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں ،پہلے ہم ا س کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں

    روزانہ دفتر آنے جانے میں کئی گھنٹے ضائع ہوتے ہیں، جو گھر سے کام کرنے کی صورت میں بچ جاتے ہیں۔
    ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ، دفتر کے کھانے اور لباس کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔یہ بچت سالانہ ہزاروں روپے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو کام یا والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ سب ذہنی سکون میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جو کام کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔بغیر رکاوٹ کام کرنے سے بعض افراد کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔دفتر کے غیر ضروری شور، غیر متعلقہ ملاقاتوں یا داخلی سیاست سے بچاؤ ملتا ہے۔کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔

    ملازمین دنیا کے کسی بھی مقام سے کام کر سکتے ہیں۔ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تک پہنچ سکتے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔افراد اپنے آبائی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔کم سفر کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔دفاتر میں توانائی کی بچت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایک "گرین ورک کلچر” کی طرف مثبت قدم ہے۔

    ورک فرام ہوم کے چیلنجز
    1. پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی کمی:

    ہر فرد کے لیے خود کو منظم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔گھر کے ماحول میں کام اور آرام کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے، جس سے توجہ متاثر ہوتی ہے۔غیر منظم معمولات، دیر سے سونا یا بروقت کام نہ کرنا عام مسائل بن جاتے ہیں۔

    2. تنہائی اور ذہنی دباؤ:

    دفتر کا سماجی ماحول نہ ہونے کے باعث انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ٹیم ورک، ساتھیوں سے مشورے، اور غیر رسمی گفتگو جیسے عوامل کی کمی ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

    3. رابطے اور تعاون میں کمی:

    ورچوئل میٹنگز ذاتی تعامل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔غلط فہمیاں اور موثر رابطے کی کمی ٹیم کے کام کو متاثر کرتی ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو آمنے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔

    4. ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار:

    مستحکم انٹرنیٹ اور جدید آلات کی عدم دستیابی کام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
    سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
    ٹیکنالوجی سے ناآشنا افراد کے لیے یہ نظام ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

    5. کارکردگی کی نگرانی کا مسئلہ:
    گھر سے کام کرتے ہوئے آجر کے لیے ملازم کی کارکردگی اور وقت کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سے مائیکرو مینجمنٹ اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو ملازمین کے حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔

    6. کام کی زیادتی اور وقت کی حد بندی کا فقدان:
    گھر اور دفتر کی حدود واضح نہ ہونے کے باعث "آف ڈیوٹی” وقت بھی کام میں لگ سکتا ہے۔یہ بات ذہنی تھکن (Burnout) اور جسمانی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔