Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
    برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
    پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
    دن تے گن میں مر جانا ای
    تیرے بن میں مر جانا ای
    میں گُڈی دے کاغذ ورگا
    توں کن من میں مر جانا ای
    جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
    اوسے دن میں مر جانا ای
    ۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
    تول نہ، من میں مر جانا ای
    ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
    ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
    ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
    سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
    ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
    ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
    ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    کمال کردے او بادشاہو
    کسے نوں مارن دا سوچدے او
    کسے تے مردے او بادشاہو
    تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
    تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
    اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
    کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
    وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
    مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
    ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
    آپ تے صدقے ہو سکناں میں
    اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
    اکو واری کُھو لے بیبا
    ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
    اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
    اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
    لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
    جے میرے تے میں نئین مرنا
    ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
    “ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
    پتھر اُتے لیک ساں میں وی
    ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
    آدم تک تے سبھ نوں دسنا
    خورے کتھوں تیک ساں میں وی
    حرمل جس دم تیر چلایا
    چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
    اوہنے گل سوئی ول موڑی
    نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
    عمرے! مینوں رول رہی ایں
    تینوں نال دھریک ساں میں وی
    ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
    ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
    میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
    ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
    تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
    مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
    یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
    صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
    تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
    ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
    ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
    ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
    کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
    یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
    میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
    ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
    ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
    ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
    دُنیا بند پٹاری وانگر
    کھولے کون مداری وانگر
    ساہ جُثے دا سچا رشتہ
    کھوٹا ساڈی یاری وانگر
    دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
    قسمے چیز کراری وانگر
    اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
    اُس بازار دی باری وانگر
    اک ہیرے نوں کہندا رہناں
    کٹ کلیجا آری وانگر
    ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
    ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
    ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
    ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
    یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
    دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
    توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
    توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
    تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
    پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
    ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
    میرے لیڑے رت بھرے نیں
    تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
    کٹھیاں جین دی عادت پا کے
    وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
    آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
    کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
    کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
    ہسن والی گلّ تے وی
    ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
    قسمت لُٹن آئی سی
    کردا تے کیہ کردا میں
    سارے بھانڈے خالی نیں
    ہوکا وی نہیں بھردا میں
    خود مریا واں تیرے تے
    تیتھوں نہیں ساں مردا میں
    المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

  • اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
    ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی

    اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

  • محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    کس کی داستان پہلے کہیں مماثلت اتنی ہےکہ خدشہ ہے پہلے کی پڑھ کر دوسرے کی سمجھ جائیں گے سب۔ بہرحال شہرہ آفاق مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم کے صفحہ نمبر 269 ، باب شہر دو قصہ ذیلی باب پنجم میں ملا عبد الصمد عرف مُلا عاصی کا قصہ لکھتے ہیں جس میں ایک مقام پر ذکر ہے بی اے کے امتحانات سے قبل مُلا عاصی کی ریاضت کا جو انہوں نے کامیابی کے حصول کے لیے کی۔ کوشش ہے اپنے الفاظ میں بیان کروں مشابہت ہوگی چونکہ متاثرین مشتاق یوسفی سے ہوں لہذا قلم و اسلوب میں ان کا رنگ جھلکے گا کیونکر کہ مشتاق یوسفی کو جس نے بھی پڑھا سیکھالازمی یہ کمال صاحب کتاب کا ہے نہ کہ صاحب تحریر کا۔

    ملا عاصی نے امتحان کی تیاری شروع کرنے کا آغاز کیا سب سے پہلے بازار سے سونف اور دھنیا خشک لائے اور اس کو ملا کر سفوف تیار کیا۔ اس کے بعد تمام تصاویر جو ان کے کمرے میں تھیں(انڈین ایکٹریسسز کی) اتار کر خاندان کے بزرگوں کے فوٹو ٹانگے ۔ مثنوی زہر عشق اور اس نوع کی کتب صندوق میں بند کیں۔ ہر کام اور عیش و عشرت چھوڑنے کا تہیہ کیا کرسمس کے دن سے یوم امتحان تک اور دل ہی دل میں Both days inclusive کہہ کر مسکرا دیے کی تیاری کے دباو کے زیر اثر چہرہ دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے لہذا آئینے پر کپڑا ڈالا۔سر منڈایا کہ دماغ کو تراوٹ ملے اس پر سرسوں کے تیل کی مالش کرائی 7 بادام توڑ کر ان کو پانی میں بھگویا کہ تاروں کی چھاوں میں رات بھر بھیگے بادام حافظہ بڑھاتے۔ علی الصبح بادام نوش فرمائے اور پھر بازار سے پچھلے پانچ سالہ پر چے، خلاصے اور کتب خرید کر لے آئے اس ذخیرہ میں سابق طلبا نے قلم زد اہم حصوں کے علاوہ ان خطرناک مقامات کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں اکثر طلباء فیل ہوئے بعض حصے تو مثل لائٹ ہاوس تھے جو علم کے سمندر میں بھٹکے مسافروں کو انتباہ کرتے تھے کہ یہاں کئی اداس نسلیں مدفون ہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سب سے لائق طالب علم کے پاس جاکر اس کی تمام کتب مستعار لیں محلے کے ایک لڑکے کو اجرت پر مقرر کیا کہ کہ ان کتب کو دیکھ کر اہم انڈر لائن حصے میری کتب پر بھی انڈر لائن کر دو اپنی کتب نے سائیکل پکڑی تمام تر درسی کتب معہ خلاصہ جات ایک پرانی کتابوں کی دکان سے خریدے اور پچھلے سال ٹاپ کرنے والے طالبعلم کے گھر جاکر اس کے اہم حصوں پر نشان لگوا لیے۔ واپسی پر کھڑے پیر پریس سے دو مہریں Important اور Most important بنوا کر ایک ٹاپر کی منت کی کہ بقدر اہمیت مہریں لگاتے جاو۔ اس کے بعد مُلا عاصی نے تمام کتب کے وہ حصے جو اہم نہ تھے قینچی سے کاٹ دیے کہ کتاب کی صخامت سے طبیعت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ، تجربہ اور کشف کی بنیاد پر چند مزید اسباق بھی کتر دیے۔ اس کے بعد جب ملا عاصی کو لگا کہ ممتحن کے خلاف آدھی جنگ تو وہ جیت چکے لہذا اب پڑھ لینا چاہیے تو انہیں یاد آیا کہ سب کتابیں پڑھ کر امتحان دینا کہاں کی دانائی ہے انسان کو خود سے بھی کچھ پتا ہونا چاہیے لہذا فیصلہ کیا کہ زندگی اور بینائی نے اگر وفا کی تو امتحانات تک چیدہ چیدہ کتب کے اہم حصے ایک نظر دیکھ لیں گے کس واسطے کہ ہر کتاب کو عرق ریزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب امتحان سر پہ پہنچا تو کمرہ نشیں ہو کر قریبی پڑوسی سے کہا کہ باہر سے تالا لگا دو تاکہ یکسو ہو کر پڑھائی ہو سکے لیکن شام تک دماغ کا تالا نہ کھلا۔ لہذا پڑھائی شروع نہ کی۔ ایک ہندو طالبعلم سے برہمچا رہنے کا گُر پوچھا تھا اس نے کہا تھا کہ سوئی پاس رکھو اور کسی بھی بری تمنا یا خیال کے آنے پر انگوٹھے میں چبھو لو خیر ایک گھنٹے میں دونوں انگوٹھے پن کُشن بن چکے تھے اب کی بار پاوں کے انگوٹھے میں پن چبھونی پڑی۔

    رات ڈھلے سائیکل لی اور صبح تک شہر کے تمام پرنٹنگ پریس کی ردی بوروں میں بھر کر گھر منتقل کی اور کاغذ کی کترنیں جوڑ کر اندازے قائم کیے جس جس استاد پر شبہہ تھا کہ پیپر سیٹر ہو سکتا اس کے گھر کے ملازمین بچوں تک کو کھنگال ڈالا۔ گھر کے دروازے پر رات گئے جاکر مراقبہ کیا۔ جب امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا تو تمام کاوشوں پر مبنی دس سوال کا ایک پرچہ آوٹ کیا اور پوری رات گھوم کر علم کے متلاشی طلباء میں بانٹا۔ ستم بالائے ستم کہ ان کے آوٹ کردہ دس میں سے آٹھ سوال پہلے پرچے میں آ گئے اور ملا عاصی نے امتحان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ جس علم سے ذاتی فائدہ ہو رہا ہو وہ کشف باطل کر دیتا۔ غرض یہ کہ جتنی محنت انہوں نے کورس کے انتخاب اور پرچہ آوٹ کرنے میں کی اس کا ایک چوتھائی کر لیتے تو امتحان پاس ہوجاتا۔

    محکمہ تعلیم کے بارے سمجھ تو گئے ہوں گے مختصراً عرض کر دیتا ہائیر سیکنڈری، ہائی ، مڈل پرائمری، پی ایس ٹی ، ای ایس ٹی، ایس ایس ٹی، ایس ایس، ٹرپل ایس، ہیڈ ٹیچر، ایچ ایم ایس ایم، سب کا حال بیان ہے الگ الگ ذکر قارئین کو الجھائے گا۔ اسمبلی میں ناخن چیک، بال چیک، یونیفارم چیک، ٹائی، کیپ بیلٹ لازمی۔ بعد از اسمبلی ناظرہ قرآن و ترجمہ بلحاظ کلاس ۔ منتھلی سٹوڈنٹ رینکنگ پروفارما، ٹیچر رینکنگ، حاضری رجسٹر پر الگ ایپ پر الگ روزنامچہ ترتیب دینا۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں میں رابطہ، داخلہ مہم اس کے ذیل میں کارنر میٹنگز، یوپی ای رجسٹر بنانا۔ داخلے اوپن تو ہیں ہی گھروں سے جاکر آوٹ آف سکول طلباء لانے داخلے کے ہر سال ٹارگٹ اکتوبر میں پھر نیا داخلہ ٹارگٹ، ڈی ورمنگ ہر سال، الیکشن، مردم شماری زراعت شماری، ووٹرز کا انراج، ویری فیکیشن، میٹرک نہم دہم۔ ایف اے امتحان، پیپر مارکنگ، پر یکٹیکل امتحان ڈیوٹی ، پولیو، کورونا چلو گزر گیا وہاں بھی رہی ڈیوٹی۔ گندم خریداری سرکاری طور پر جب ہو ٹیچرز کی ڈیوٹی کاکردگی ایپ پر زیبرا کراسنگ سکول کی ہر ہفتے پکچرز، سارا سال ڈینگی ایکٹوٹیز، سکول کے اندر شجر کاری، صفائی پنکھے تک صاف جالے ختم۔ پینے کا صاف پانی واش پوائنٹ واش کلب، سکول مینیجمنٹ کونسل اجلاس این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈ بینک کے چکر ایک ہیڈ چینج ہو تو سائن اپ ڈیٹ کرانے کے لیے دو رنگین تصاویر، شناختی کارڈ بائیو میٹرک ویری فیکیشن سیلری سلپ کوسگنیٹری کی پینشن بک یا زمین کا فرد معہ فزیکل حاضری بینک۔ سکول میں کوئی درخت جو کٹوانا ہو دیوار کے پاس ہو یا موٹر کے تو درخواست ہائر اتھارٹی کو ان کی جانب سے محکمہ جنگلات کو فارورڈ محکمہ جنگلات کا وزٹ درخت کی سرکاری قیمت کا تخمینہ اس کے بعد کم از، کم بولی کا ریٹ مقرر، منتھلی پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کاروائیاں درج لگ۔ بزم ادب معہ رجسٹر کاروئی۔ Tablet پر اخراجات کا انراج الگ کیش بک پر مینوئل الگ ۔ باتھ روم صفائی، کریکٹر بلڈنگ کونسل اب سکول بیس ایمرجنسی پلان، سالانہ ایکشن پلان، ورک پلیس تحفظ جواتین کمیٹی، COT فارم، اے ای او وزٹ ایم ای اے وزٹ، ٹیچر ڈائری مکمل لیسن پلان بنے ہوں۔ دفتر سے روزانہ تقریباً ڈاک اس سب میں پڑھائی کا تعلق ملا عاصی کی پڑھائی جتنا رہ جاتا
    ۔ اوپر سے 2018 کے بعد بعدبھرتی بند۔ ریشنلائزیشن معطل، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

  • ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ایسا لگتا ہے ٹریفک پولیس نے سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔ ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا والوں کے ترلے منتیں کرکے فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ فرمائشی انٹرویوز میں بلند وبانگ دعوے اور بھڑکیں مارنے کا مقصد اپنی کمائی کے اڈوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چھے لاکھ رکشے ہیں جن میں سے تین لاکھ کے قریب لاہور میں ہیں۔میں نے چند ماہ قبل بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں والوں کاسروے کیا تو ہر دوسرے رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ چلاتے ہیں اور اس کے عوض مختلف علاقوں کے حساب سے 500سے لیکر 2000روپے تک روزانہ دیتے ہیں۔ اگر تین لاکھ رکشہ ڈرائیور میں سے محض ایک لاکھ رکشہ والے 1000 روپیہ بھی دیں تو یہ رقم لگ بھگ دس کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اگر رکشہ والوں کے الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی 100میں سے کم ازکم 90 کی بیک سائڈ پر نمبر پلیٹ نہیں ہوگی۔ رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ, بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔ موٹرسائیکل اور رکشہ سمیت بے شمار ٹرانسپورٹ والے فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کررہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟

    اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔

    لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ آٹھ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان13لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے چالیس کروڑ روزانہ، 12ارب ماہانہ 144ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5446ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ اس سے بڑی لاقانونیت کیا ہوگی کہ موجودہ سی ٹی او کے دور میں ٹریفک پولیس لاہور پارکنگ کمپنی کے ملازمین کو سرکاری پارکنگ فیس وصول کرنے پر زدوکوب کرتی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کرواتی رہی ہے جبکہ غیر قانونی پرائیویٹ پارکنگ فیس وصول کرنے والے آزاد ہیں۔ پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔

    مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مال اور پارکنگ سٹینڈ بغیر رجسٹریشن سو روپے سے لیکر پانچ سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔خطرناک پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ مافیا سرکاری جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ فیس صول کررہا ہے۔ مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔

    ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سڑک اور بازار کے دونوں اطراف روڈ پر موجود غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سو فٹ چوڑی سڑک بامشکل 15فٹ باقی رہ جاتی ہے۔تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ کسی کو بھی سرکاری پارکنگ فیس کے بغیر گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

  • اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب بھارت نے پہلگام ڈرامے کا سارا الزام حسب روایت پاکستان پر لگا کر خطے میں ایک اور جنگی جنون کی لہر دوڑا دی۔ بھارت کی اس بے بنیاد الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا جواب پاکستان نے نہایت دانشمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے دیا۔ عالمی برادری کو باور کروایا گیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، تاہم اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پھر وہ دن بھی آیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، دس مئی کا دن، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری تاریخ میں ایک مثال بن گیا بلکہ دشمن کے تین ہفتوں پر محیط جنگی منصوبوں کو صرف تین گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی حکومت، جس نے جنگ کا شعلہ بھڑکانے کی کوشش کی، وہی حکومت چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔

    آپریشن بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی پر پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ ہر طرف جذبہ حب الوطنی کی فضا قائم ہوئی اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی مناسبت سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے ایک پُروقار تقریب منعقد کی گئی ،اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے پر بلا تامل لاہور کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ صحافی دوست عباس علی بھٹی تھے۔ ہم پریس کلب لاہور کے قریب واقع ہوٹل پاک ہیری ٹیج پہنچے جہاں ممتاز اعوان نے پرتپاک استقبال کیا۔

    تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتے سے ہوا، جس کے بعد قلم کے سپاہیوں نے ایک زبان ہو کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ناصر بشیر،اشفاق احمد،چوہدری غلام غوث،نوید شیخ،سید امجد حسین بخاری،ندیم انجم،عبدالصمد مظفر،حاجی لطیف کھوکھر،محمد نادر کھوکھر،امجد نذیر،محمد سعید،محمد دانش رانا،امان اللہ نیر شوکت،مہر اشتیاق احمد،ملک فیصل رمضان،سجاد علی بھنڈر،فہد نفیس،خرم شہزاد،محمد ابرار شریک ہوئے،اس کے علاوہ اپووا کے قائدین بانی و صدر ایم ایم علی،سینئر نائب صدر،حافظ محمد زاہد،نائب صدور: سفیان فاروقی، محمد اسلم سیال،جوائنٹ سیکرٹری، محمد بلال،ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن، نادر فہیمی بھی شریک ہوئے،مدیحہ کنول، نیلوفر سمیع، آصفہ مریم، نرگس نور، ثوبیہ خان نیازی، نادیہ وسیم، نیئر سلطانہ، یاسمین محمود،شاعرہ ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد،سونیا معراج، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول بھی تقریب میں شریک ہوئیں.

    اپووا کی تقریب میں پرتکلف ناشتے کے بعد اس خوشی میں کیک کاٹا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ امن و استحکام کا پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ماضی میں ڈی ایس پی قصور بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مبارکباد دی گئی اور اُن کے ادبی و انتظامی کردار کو سراہا گیا۔اپووا کی اس تقریب نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے اہلِ قلم صرف تخیل کی دنیا میں ہی نہیں جیتے، بلکہ جب وقت آئے تو وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اپووا نے ایک نئی مثال قائم کی کہ لکھنے والے بھی دفاع وطن کے محاذ پر پیچھے نہیں رہیں گے۔ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے جسے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج کے دن ہم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

    بانی صدر ایم ایم علی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جلد ہی اپووا کا وفد قصور کا دورہ کرے گا۔

  • ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎پاکستانی معاشرے کے لیے اہم وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ملک کو دانشورانہ سرمایہ فراہم کر سکتی ہیں ، نیز اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات کے ساتھ زیادہ قریب سے جوڑنے ، اساتذہ کے علم کو بڑھانے ، اداروں کے درمیان صحت مند موابلے کو فروغ دینے اور علم سے جڑی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صنعت کاری کو فروغ دینے ، تکنیکی پارکس بنانے اور یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی پہل اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد کرے گی ۔ پیداوار میں اضافہ ، مسابقت اور معاشی ترقی معاشرے اور کاروبار کے تمام شعبوں میں ہنر مند مزدوروں کو تخلیقی صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ ٹیلنٹ ہنٹ گالا کے دوران ، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے طلباء اور عہدیداروں کی شاندار بات چیت دیکھی گئی ۔ ملک کی تقریبا 80 معروف ترین کاروباری کمپنیوں نے نئی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور اپنے اداروں کی تشہیر کے لیے اپنے بوتھ لگائے ۔ اوپن ہاؤس میں کارپوریٹ سیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت ادارے میں دی جانے والی تعلیم پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے ۔

    فاؤنڈیشن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباۂ کی مارکیٹ میں روزگار کی شرح بہت بہتر ہے ۔ 2024 کی بی بی اے کلاس کے آن لائن بزنس مالک اجواد عرفان نے اس رپورٹر کو بتایا کہ ان کے تقریبا 11 ساتھی کل وقتی کام کر رہے ہیں اور 5 یا 6 اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ۔ 2022 کے کمیونیکیشن سائنس گریجویٹ ، سید انیس ، جنہوں نے خود اپنی رائے شیئر کرتے ہوئے ایک ویگر اور انفلوئنسر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے ، نے نوٹ کیا کہ ان کی کلاس کا 70% مناسب ملازمت حاصل کر سکے لیکن اس شعبے میں نہیں جس میں وہ تعلیم یافتہ تھے بلکہ دوسرے شعبوں میں۔ یونیورسٹی کے دیگر گریجویٹس نے بھی اسی طرح کے تبصرے کئے ۔ اس لیے اگر کوئی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا چاہتا ہے تو تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مہارت اور پیداواری محنت میں سرمایہ کاری کرنا بہت ضروری ہے ۔ معاشی ترقی کئی عوامل سے نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے جن میں حکومتی پالیسی ، بیرون ملک تجارت ، سرمایہ کاری اور تکنیکی پیش رفت شامل ہیں ۔ حالیہ گریجویٹس تب ہی کام کر سکیں گے اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کالج اور وزارت صنعت تعاون کریں گے ۔ منافع پر مبنی کاروباروں کا اثر تحقیق میں یونیورسٹیوں کے روایتی کام پر سوال اٹھا رہا ہے ، اس لیے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔ چونکہ یونیورسٹیوں نے انڈرگریجویٹ تعلیم سے آگے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں ، اس لیے طلباء کو روزگار کے بازار کے لیے بہتر طور پر لیس کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ۔ اقتصادی تعاون اور معیار زندگی میں اضافہ کرکے ، یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونے میں متعلقہ رہنا ہوگا ؛ یہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے ۔ سمجھدار پالیسیاں جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اگر وہ لوگوں کو مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت دیں ، اس لیے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے ۔ پاکستانی صنعت انتہائی مسابقتی نہیں ہے ، اور کئی مطالعات نے اس کی بنیادی وجہ پرتیبھا کی عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی اکثریت اس سطح سے مطمئن نہیں ہے جس پر حالیہ کالج گریجویٹس کی مہارت کے سیٹ موجودہ ملازمت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔

    عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیاں قابلیت سے زیادہ صلاحیتوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ان حالات میں ، ایک یونیورسٹی کے لیے شاندار صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹس تیار کرنا قابل ستائش ہے ۔ اس مسئلے کو تین اہم شعبوں کو حل کر کے حل کیا جا سکتا ہے ۔ گریجویٹس کے درمیان مہارت کے فرق کو دور کرنے کے لیے پہلے انٹرن شپ پروگراموں کو نافذ کرنا ، مارکیٹ پر مبنی کورسز بنانا اور کبھی کبھار اپ ڈیٹ کرنا ، اور صنعتی کلسٹرز کے لیے مہارت میں بہتری کے تربیتی منصوبے قائم کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارتیں وہ شعبہ ہے جس میں لوگوں میں اپنی مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلباء کو کئی شعبوں میں انٹرن شپ تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے میں ان کی مدد کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں ہنر مندی پیدا کرنے کے لیے مختصر سیمینار چلائے جانے چاہئیں ۔ ممکنہ کمپنیوں کا فی الحال کورسز کے ارتقاء پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، معاشیات ، کاروبار اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجودہ دستیاب کورسز سے کم مطمئن ہیں ۔ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وہاں کی یونیورسٹیوں کو سال میں ایک بار ہنر مندی کی ترقی ، بازار کی ضروریات کے ساتھ نصاب کی صف بندی ، اور جدت طرازی پر رپورٹ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ ایچ ای سی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ کافی بات چیت کریں اور ضرورت کے مطابق اپنے پروگراموں میں ترمیم کریں ۔ دوسرا ، اگر یونیورسٹیوں کا مقصد روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے ، تو تعلیمی تربیت کو مہارت کی تشخیص پر بنایا جانا چاہیے ۔ اس مقصد تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ مہارت پر مبنی تعلیم پر بہت زیادہ وزن کا اندازہ لگانا ۔ موجودہ درجہ بندی کا نظام تخلیقی اور مہارت پر مبنی سیکھنے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ عملی مثالوں کے ذریعے اپنے علم کو ظاہر کرنے والے طلباء کے بجائے حفظ اور بازگشت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ کام کے کافی تجربے اور قابل فروخت صلاحیتوں کی کمی کے باعث گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ طلباء کی تحقیق اور حتمی منصوبوں میں حاصل کردہ چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کرنے کے لیے درجہ بندی اور تشخیصی نظام کو بتدریج تبدیل کرنے سے روزگار کے فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

    یونیورسٹیوں کو طلباء کی خدمت کے مراکز اور معیار میں بہتری کے خلیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا تعین کرنے کے لیے طلباء کو باقاعدگی سے رائے شماری کرنی چاہیے اگر وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلباء یونیورسٹی کے نصاب کے ذریعے پیش کردہ ہنر مندی کے فروغ کے امکانات سے کتنے خوش ہیں ۔ تیسرا مسئلہ صنعت کے سلسلے میں تمام مہارتوں پر طلباء کی اوسط حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں منفی ادراک کا فرق ہے ۔ نوجوانوں کی ملازمت کی اہلیت ، پیداواری صلاحیت اور مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو مل کر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی سازوں ، اسکالرز اور کاروباری اداروں سب کو رابطے کی کھلی لائن برقرار رکھنی چاہیے اور جان بوجھ کر تعاون کرنا چاہیے ۔ مطالعے کی تمام سطحوں پر طلباء کو کمپنیوں کی طرف سے قابل قدر مختلف قسم کی صلاحیتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ، کیریئر کے مشورے کو یونیورسٹی کے کورسز میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ طلباء کے باقاعدہ پروگراموں بشمول کانفرنسوں ، سیمینارز ، ورکشاپس ، واقفیت ، اور مطالعاتی دوروں سے طلباء کو اپنے شعبے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ نیٹ ورک کرنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں ۔

  • "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر :  عائشہ اسحاق

    "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر : عائشہ اسحاق

    کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان سیز فائر کے نام پر ایک سازش کا شکار ہوا۔ وہ مقاصد آج بھی ادھورے رہ گئے جن کے لیے کئی دہائیوں سے بارہا کوششیں کی گئیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان اس سازش کا کس طرح سے شکار ہوا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 6 مئی 2025 کو بھارت پاکستان کے کئی شہروں میں حملہ آور ہو کر کھلی جارحیت دکھانے کے ساتھ ساتھ تمام تر جنگی قوانین اور بین الااقوامی حدود کی بھی خلاف ورزیاں کرتا رہا۔ بھارت نے پاکستان کی مساجد عام شہری بے گناہ مرد و خواتین اور معصوم بچے شہید کیے۔ پاکستان نہ صرف صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا بلکہ تمام عالمی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ بھی اس طرف دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ بھارت کس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر خاموش رہیں ۔ بھارت کو کھلی جارحیت سے روکنا تو دور کی بات رہی کسی نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر مذمت تک نہ کی۔ سب سے بڑھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر لا تعلقی دکھاتے ہوئےبیان دیا ہے کہ یہ معاملہ بھارت اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے اور وہ دونوں ممالک کے اس معاملے سے دور رہیں گے۔ مگر جب 10 مئی 2025 کو پاکستان نے ریٹیلییٹ کرتے ہوئے آپریشن "بنیان مرصوس” کا آغاز کیا اور بھارت کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ عظیم آپریشن محض چند گھنٹے جاری رہا جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی تنصیبات اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔بلا شبہ بھارت پاکستانی شاہینوں کے پنجوں میں جکڑا گیا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔ بھارتی مکروہ عزائم خاک میں مل چکے تھے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا غرور چکنا چور ہو چکا تھا۔ پاکستانی جانباز مجاہدین غازی بن کر لوٹے اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ پاکستانی قوم اپنے شاہینوں اور غازیوں کو تہ دل سے سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ عزوجل نے آپریشن "بنیان مرصوص” کو نصرت فرمائی اور یہ آپریشن اپنے نام کی طرح عظیم طاقت بن کر پوری دنیا کے دل و دماغ پر اپنا روعب و ہیبت طاری کرنے میں کامیاب رہا۔ بھارت پسپا ہو چکا تھا اور پاکستان اپنی طاقت ہمت ,شجاعت, زہانت اور دلیری کا لوہا پوری دنیا میں منوا چکا تھا۔

    یہی وہ وقت تھا جب ایک نئی سازش کی گئی۔ بھارت اپنی پسپائی اور مزید ہونے والی تباہی کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہا تھا اسی وجہ سے مکار اور ہوشیار دشمن نے فورا جنگ بندی کی اپیل کرنا شروع کر دی اور بھارت کا ساتھی امریکہ فوری طور پر حرکت میں آگیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کل تک جو لا تعلقی کا بیان آرہا تھا وہ فورا تعلق میں بدل گیا اور دونوں ممالک کو مسئلح کاروائیوں سے روکنا شروع کر دیا۔ یہیں سے امریکہ کا منافقانہ طرز عمل واضح ہوتا ہے۔ جب تک بھارت پاکستان پر حملے کر رہا تھا اور جارحیت پھیلا رہا تھا ہمارے جوانوں اور معصوم سویلینز کو شہید کر رہا تھا تب تک امریکہ اس معاملے سے لا تعلق رہا اور جیسے ہی پاکستان نے ریٹیلییٹ کرنا شروع کیا اور بھارت پسپائی کی طرف گیا تو امریکہ فورا اس معاملے میں کود پڑا۔ یہ منافقانہ عمل واضح کرتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے بھارت کا حمایتی رہا۔ پاکستان نے سیز فائر کی پیشکش کو فورا قبول کرتے ہوئے ایک سنہری موقع ہاتھ سے گنوایا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان باسانی کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا۔ وہ کشمیری مسلمان بہن بھائی جو کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم تشدد اور بربریت کا شکار ہوتے رہے ہیں انہیں ان سے چھٹکارا دلایا جا سکتا تھا۔ سیز فائر کا سراسر فائدہ بھارت کو ہوا بھارت شروع سے ایک مکار دشمن رہا اس طرح سے بھارت کو دم سادھانے کا موقع ملا جو اوسان خطا ہو گئے تھے دوبارہ سے اپنا آپ سنبھالتے ہوئے بھارت ماضی کی طرح پھر سے کسی روز کوئی نئی چال چلے گا نیا وار کرے گا۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ بھی ابھی تک معطل ہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کشمیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے بھارت نے سیز فائر میں اپنی عافیت جانی۔ جب کہ پاکستان سیز فائر کی پیشکش کو جلد قبول کر کے بھارتی اور امریکی سازش کا شکار ہوا۔ بطور پاکستانی آج ہم سب خوشی منا رہے ہیں لیکن بطور مسلمان ہم بھارت اور امریکہ کی سازشی وار کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے مسلمان کشمیری مظلوم بہن بھائی جو اس آپریشن سے آزادی کی امید جگا کر انتظار کر رہے تھے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم سے نجات حاصل کر جائیں گے ۔نہایت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شکست خوردہ بھارت ان مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سنہرا موقع تھا جب پاکستان اپنے زور بازو پر کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑوا سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیز فائر کی پیشکش پر یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے تھا کہ کشمیر کو ایک آزادانہ ریاست قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات نہایت قابل غور ہے کہ اگر امریکہ کے کہنے پر پاک بھارت جنگ بندی ہو سکتی ہے تو اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو سکتی۔؟ آج جب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے تو بطور مسلمان گزارش ہے کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کو تنبیہ کرے کہ وہ فلسطین میں کیے جانے والے مظالم بند کرے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان امت محمدی اور پھر پاکستانی ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ اپنے دیگر مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بھی اسی طرح سے اپنی جرات اور طاقت کا مظاہرہ کریں جس دلیری اور شان کے ساتھ ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا۔ یہ ان مظلوموں کا ہم پر حق ہے اور ہمارا فرض ہے۔ لہذا کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پیش رفت ہونا بہت ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستانی میمز بنا کر لطف اندوز ہونے میں مصروف ہیں اپنے کشمیری اور فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں پر کیے جانے والے مظالم اور غم کو کس طرح سے فراموش کر سکتے ہیں۔ فلسطینی معصوم بچوں کی ہوا میں اڑتی لاشیں کس طرح سے بھول گئے ہیں وہ کشمیری بچے جو بھارتی ظلم و جبر کے وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں انہیں کیسے فراموش کر دیا گیا ہے۔؟ جب کہ وہ مظلوم ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ غزہ انتہائی غذائی قلت کا شکار ہے اور ہزاروں بچے بھوک پیاس کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں یاد رہے ان مظلوموں کے حوالے سے روز محشر جب ہم سے باز پرسی کی گئی تو ہم کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے کیوں کچھ نہ کیا۔ لہذا مسلمان ہونے کے ناطے پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان سے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر بہترین حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کریں۔

  • تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج، دفائی بجٹ اور جدید جنگی سازوسامان والے بھارت کو شکست دے کر دنیا بھر میں بہادری کی انمٹ تاریخ رقم کردی۔

    پاکستانی عوام نے بھی اپنے محسنوں اور محافظوں کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں سے لیکر ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افواج پاکستان زندہ باد، شکریہ پاک فوج کی ریلیاں اور جلسے کیے، یوم تشکر اور جشن فتح کی کیک کاٹے جا رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہر جگہ سارا پاکستان اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں موجود اوورسیز پاکستانی بہت عرصے بعد ناصرف متحد نظر آئے بلکہ انتہائی فخر سے دنیا کو بتاتے نظر آئے کہ ہم پاکستانی ہیں وہ بہادر پاکستانی جنہوں نے دشمن کے مزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ و ناکام کر دیا۔

    ناقابل تسخیر افواج پاکستان کی بدولت پاکستان صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا کی سب سے مضبوط طاقت بن کر ابھرا ہے۔
    جس ریسٹورنٹ، کیفے، شاپ پر دیکھیں افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کیلئے 30سے 50فیصد ڈسکاؤنٹ کے ویلکم بینر لگے ہوئے ہوئے ہیں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے فوجیوں کے بچوں کیلئے فری ایجوکیشن کے بورڈ لگادیے۔ معمولی ٹھیلے، کھوکھے سے لیکر مارٹ اور میگامالز ہر جگہ افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹس کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تاجروں اور عوام کا کہنا تھا کہ آج ہم جس فخر اور تحفظ کے ساتھ زندگی انجوائے کررہے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے جنہوں نے ہرمشکل گھڑی میں ہمارا تحفظ کیا۔ اس لیے ہم عوام اپنی خوشی اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ آفر کر رہے ہیں۔

    دنیا میں چوتھے نمبر پر ملٹری فورسز اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے ملک بھارت کو صرف ساڑھے سات ارب ڈالر بجٹ کے ساتھ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والے پاکستان نے ایسی عبرت ناک شکست دی کی دنیا بھر کے تمام جنگی ماہرین تعریف کیے بن نہ رہ سکے۔
    بھارت نے اسرائیل کے سب سے طاقتور اور جدید ترین جنگی ڈرونز کا استعمال کیا جسے افواج پاکستان نے فضاء میں ہی تباہ و برباد کردیا جبکہ کچھ ڈرونز کو حفاظت کے ساتھ فوجی تحویل میں لے لیا۔ جنگی جہازوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل فرانس کے تیارکردہ دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے خطرناک جنگی طیارے رافیل کو فضاء میں مار گرانے کے کارنامے نے دنیا بھر کو حیران و پریشان کردیا کیونکہ یہ تاریخ کا پہلا واقع ہے کہ جنگی جہاز رافیل کو مار گرایا۔ افواج پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں فرانس کی اسلحہ ساز کمپنی کے شئیر گرچکے ہیں۔
    دنیا میں جنگی سازو سامان کیلئے بڑی انڈسٹری کے طور پر جانے والے روس کے سب سے پاورفل ائیر ڈیفینس سسٹم S-400کو چند منٹوں میں راخ کے ڈھیر میں بدل کر پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ بھارت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بھارت نے امریکہ کے زریعے رحم اورجنگ بندی کے ترلے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

  • ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا
    نواز شریف اورذوالفقار بھٹو کی محنت نے دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنا دیا
    فضائیہ کیلئے موٹرویز کی شکل لاتعداد رن ویز اور نوجوانوں کو جدیدٹیکنالوجی دی گئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاکستان کی ایٹمی، صلاحیت پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، پاک چائنہ دوستی کے ثمرات اور دفاعی تعاون پاکستان میں سائبر ٹیکنالوجی کا فروغ ،ایسے عوامل ہیں جنکی بدولت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیاگیا ، بھارت کی علاقے میں برتری کے خواب چکنا چور ہو گئے، قارئین گرامی! پاکستان کو میسر نصرت خداوندی کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی دستیابی میں کن شخصیات اور قومی محسنوں کا ہاتھ تھا یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے، ایٹمی صلاحیت کے حصول اور پاک چائنہ دوستی کی بنیاد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، پاک چائنہ دوستی کو آگے بڑھاتے ہوئے چین اور پاکستان کے مابین جے ایف تھنڈر کی پاکستان میں ہی تیاری کا کرشمہ اور ایٹمی دھماکوں سے لیکر پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیت کا نوجوانوں میں فروغ، موٹروے کی صورت میں پاک فضائیہ کو لامحدود رن ویز کی دستیابی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول میں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم اوراس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھروں اور غلیلوں کے بجائے لیب ٹاپس کے ذریعے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا فروغ کے نتائج آج سامنے آگئے،،اس میں میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت کو داد دینا بنتی ہے، آج ہماری قوم کو فتح مبارک ہو اور ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذہانت اور بے لوث خدمت، میاں نواز شریف کے جذبہ حب الوطنی سے پاکستان کے استحکام کے لئے اقدامات،بری ، بحری و فضائی افواج کی بہادری اور قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا، ہماری قوم کو یہ بھی عزم کرنا ہو گا کہ اپنے مکار دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لئے ہمہ تن مصروف مریم نوازشریف کی پاکستان میں تعلیم و ترقی کے لئے جاری کاوشوں کو تسلسل دینا ہو گا، کیونکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق لیب ٹاپس، سائبر تعلیم اور پاکستان میں انفراسٹرکچر کی جدت ہی استحکام پاکستان ہے، نوجوانوں کو کمپیوٹر ایجوکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے نہ کہ غلیلوں اور پتھروں کے بل بوتے پر اپنی ہی افواج اور ریاست پاکستان پر تنقید کے نشانے کی!نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے،،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی،،افواج پاکستان زندہ باد ،،پاکستان پائندہ باد

  • آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    10 مئی 2025 کو پاکستانی مسلح افواج نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھا، جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان پر میلی نظر رکھنے والے دشمنوں کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک اور جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    پاکستانی فوج کی بری، بحری، اور فضائی افواج نے اپنے بھرپور عزم، طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی کامیابی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستانی عوام کا اعتماد جیتا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی معیار اور عزم کو بلند کیا۔پاکستانی عوام نے افواجِ پاکستان کی اس بے مثال بہادری اور جوابی کارروائی کو سراہا۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن جب بھی وطن کی سلامتی کے لیے ضرورت پڑی، وہ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے حملہ کیا، لیکن پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے اس کی ساکھ کو دنیا بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس کے لیے ایک بدترین ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اپنی فوج کی طاقت کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔پاکستان کی افواج کی اس کامیابی نے نہ صرف دشمن کو ناکامی سے دوچار کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کر دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس موقع پر یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ یہ عہد پاکستان کی طاقت، عزم اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    10 مئی 2025 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب افواجِ پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشن پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کو سلام، اور ہم سب کا عہد ہے کہ وطن کی دفاع میں ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔