Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب یعنی پانچ دلیر دریاؤں کی وسیع القلب سرزمین ۔۔۔ بہادر سپوتوں کی سرسبز و شاداب سرزمین جس کے پکی ہوئی فصلوں سے لہلہاتے میدان دریا برد ہو کر آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آہ۔۔میرا پنجاب ڈوب رہا ہے!

    ہمارے دیس میں عجیب صورتحال ہے ۔ کہ ہم صرف "ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پہ چلتے ہیں۔ پہلے سے نہ کوئی تیاری کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے۔ تو بھاگ ڈور شروع ہو جاتی ہے۔دنیا میں اس وقت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں اول درجہ بندی میں شامل ہے۔ امسال بھی پاکستان میں ریکارڈ ساز گرم ترین خشک موسم ء گرما رہا۔ اور جب مون سون کا سیزن شروع ہوا ہے۔ تو پچھلے تمام رکارڈ توڑ رہا ہے۔ PDMA کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال2025ء میں پچھلے سال کی نسبت 73٪ زیادہ مون سون کی بارشیں ہوئیں ہیں۔ جس سے پیاسے دریا یکدم بپھر گئے۔ اور پنجاب کو شدید ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پنجاب کو 39 سال بعد ایسی شدید ترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے قریباً 1800 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ اور 15 لاکھ افراد متاثر و بے گھر ہو چکے ہیں۔ جو زرعی املاک و لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا تو ابھی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔ کسانوں کی محنت و جمع پونجی سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔ اور صورتحال مزید بدترین ہو رہی ہے۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب نے لاہور سے ملتان تک پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب صورتحال یہ ہے۔ کہ شہری علاقوں کو بچانے کے لئیے دریاؤں کے پل اور بند اڑائے جا رہے ہیں۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لئیے دریائے چناب کا ریلوے بند اڑایا جا چکا ہے۔ چناب پہ ہی قادر آباد ہیڈ ورکس پل اور ریواز پل کو پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئیے کنٹرولڈ بموں سے توڑا گیا ہے۔ ہر آبی گزرگاہ و دریا میں گنجائش سے زائد پانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ 1939 میں بنائے گئے تریموں میں 8 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی گنجائش ہے۔ جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلہ متوقع ہے۔

    پہلے کے۔پی۔کے میں یکدم سیلابی صورتحال، اب پنجاب میں سیلاب کی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد سندھ میں بھی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 50 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کہ جب زرعی پیداوار کے لئیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو خشک سالی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں۔ تو سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ ہر سال یہی پانی، سیلاب کی صورت تباہی مچا کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ جبکہ درست حکمت ء عملی سے اسے زرعی و توانائی کی پیداوار کے لئیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    مانا کہ آفات قدرتی ہوتی ہیں۔ مگر اپنے عمل کو بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت نے پانی جان بوجھ کے چھوڑا ۔ تو یہ ایک بے جا منطق ہو گی۔ کیونکہ دریاؤں کے قدرتی راستے ہوتے ہیں۔ انہی راستوں سے گزر کے اضافی پانی سمندر برد ہوتا ہے۔پنجاب میں سیلابی تباہی کی ایک بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پہ تجاوزات بھی بنی ہیں۔ جو عام لوگوں نے نہیں بلکہ بڑے نام اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دریاؤں کے کناروں پہ موجود جنگلات کو ختم کیا گیا۔ پھر دریائی کی زمین پہ ہی قبضہ کر کے بیچ دی گئی۔ دریا چند سال خشک کیا ہوئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ چھوٹے موٹے چھپڑ (جوہر) بن جائیں گے۔ سو اس کی زمین دل فریب ناموں کے ساتھ رہائشی سوسائٹیاں بنا کر اندھا دھن فروخت کرنی شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ دریائی گزرگاہوں پہ باقاعدہ رہائشی آبادیاں بنا کر ایک طرح سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اس کی واضح مثال لاہور میں راوی کی زمین پہ بنائی گئی کالونیاں ہیں۔ مقام ء افسوس تو یہ ہے ۔ کہ ان سوسائٹیوں کے مالکان میں کئی سیاستدان اور حکومتی نام آتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس عمل سے لاعلم نہ تھی، نہ ہے۔ چونکہ نام اپنے ہی نکلتے ہیں ۔ تو ہر حکومت خاموش ہے۔
    یہ لوگ یہ اصول بھول گئے ۔ کہ دریا اپنا راستہ نہیں بھولا کرتا۔ وہ واپس پلٹتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دریاوں نے اپنا حق واپس لے لیا۔ اور اب ان رہائشی سوسائٹیوں کے مالکان غائب ہیں۔ یا پھر ان سوسائٹیوں کو بچانے کے لئیے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے جس سے اس پاس کے گاؤں تباہ ہو رہے ہیں۔

    ناقص پالیسیوں کا المیہ یہ ہے ۔کہ ایک طرف ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف پاکستان کو پانی کی قلت کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان کو 2030ء تک پانی کی قلت کا شکار ملک (واٹر اسیکئر اسٹیٹ) قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنی بارش کا صرف 10٪ حصہ محفوظ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش قریباً 30 دن ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے پاس کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئیے۔
    پاکستان میں ذخیرہ شدہ پانی سالانہ دریا کے بہاؤ کا صرف 15% ہے، جو کہ عالمی اوسط 40% کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو 10 ڈیمز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈیمز موجود ہوں۔ تو دریائی پانی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جسے زرعی و بجلی بنانے کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور سیلابی تباہی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
    اس وقت 5 ڈیمز زیر ء تعمیر ہیں۔ نئے ڈیمز کی تعمیر میں تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم پہ اعتماد میں لے کے فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز دریا کی زمین پہ قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ اور جو اس ناجائز کام میں ملوث ہے ۔ اس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔یہ وقت سیاست اور مصلحت کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر آج پانی بچانے اور سیلابی تباہی کو روکنے کے لئیے فیصلہ کن اقدام نہ اٹھائے۔ تو ملک خشک سالی میں پیاسا اور بارش میں ڈوبتا رہے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو پس غریب طبقہ جاتا ہے۔
    ؂
    محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے!!

    اللہ رب العزت میرے وطن کے ہر باسی کی حفاظت فرمائے۔
    آمین.

  • بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    تینوں ممالک کا اتحاد ہوگیا تو اسلام آباد کو خارجہ پالیسی بدلنا ہوگی
    خلیجی ممالک ،ترکیہ سے تعلقات مضبوط،چین سے روایتی دوستی نبھانا ہوگی
    ملکی مفادات،معیشت اور دفاع کو سامنے رکھنا ہوگا،آئی ایم ایف کا اعتماد بھی ضروری
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    اگر چین اور بھارت واقعی زیادہ قریب آجاتے ہیں جو تاریخی سرحدی تنازعات کی وجہ سے آسان نہیں، تو یہ بڑی تبدیلی ہوگی جبکہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کھڑا ہے تاہم اگر بھارت اور چین کے تعلقات بہتر ہوجائیں ، وہ روس کے ساتھ بھی ایک بلاک میں آجائیں تو پاکستان کے لئے سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے،کیوں کہ روایتی اتحادی چین اور کبھی کبھار روس بھارت سے بھی تعلقات مضبوط کریں گے، ایسے منظر نامے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ توازن کے ساتھ چلانا ہوگا، مثلاً خلیجی ممالک میں ترکیہ حتی ٰکہ مغربی طاقتوں سے تعلقات کو بہتر کرنا، امریکہ کے لئے یہ صورت حال چیلنج ہوگی کیونکہ اگر روس، چین، بھارت ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں تو یہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کو مضبوط کرے گا ، اگر بھارت چین کے قریب ہو جائے تو یہ امریکی پالیسی کو جھٹکا لگے گا، اگر ایسا ہوا تو پھر امریکہ پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو زیادہ اہمیت دینے لگے گا تاکہ وہ چین، روس، بھارت بلاک کے مقابلے میں توازن قائم کرے، تاہم چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک بڑا چیلنج ہے، عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق چین اور بھارت کا سرحدی تنازع ان کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روک سکتا ہے، اگر چین روس اور بھارت واقعی ایک بلاک بن جاتے ہیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اُس کا قریبی اتحادی چین بھارت سے بھی قریبی تعلق سمجھے گا، جس سے پاکستان کو اپنی پالیسی میں نئے توازن کی ضرورت پڑے گی، امریکہ کے لئے یہ ایک بڑی جیو پوٹینیکل شکست ہوگی،کیوں کہ بھارت کو وہ چین کے لئے استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت ہوتا رہا ہے، عالمی بدلتی ہوتی صورت حال کے پیش نظر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ قومی سیاسی جماعتوں کو ملکی مفادات، جن میں دفاع، معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے کانفرنس کرنی چاہیے، پاکستان کی ایسی پالیسی ہونی چاہیے آئی ایم ایف سپورٹ جاری رہے۔ چینی سرمایہ کاری برقرار رہے، پاکستان کی ایک عالمی بلاک تک محدود نہ ہو، چین کے عسکری و اقتصادی تعلقات برقرار رکھے جائیں، امریکہ اور نیٹو کے کے ساتھ تعلقات و دیگر امور جاری رہیں ، نئی بلاک پالیسی سے بچتے ہوئے اپنی پالیسی ایسے رکھے جس سے ملکی مفادات برقرار رہیں

  • انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    سنہ 2005ء میں زلزلہ آیا تو پاکستان بھر سے خدمت خلق کے پروانے دیوانہ وار مشکل ترین راستوں کو عبور کرتے ، جہاں تک گاڑیوں سے رسائی ممکن ہوتی سفر جاری رہتا اور جہاں گاڑیاں ساتھ چلنے سے انکاری ہوجاتیں وہاں یہ محبان قوم و ملت قدموں کا سہارا لیتے اور سامان کو کندھوں پر ، گدھوں اور خچروں پر لاد کر دوردراز کے علاقوں میں پہنچ کر ریلیف اور خدمت کے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔خدمت خلق میں ایسے تجربہ کار ہوئے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھی خدمت انسانیت سے پیچھے نہ ہٹ سکے ۔معین راہی کی غزل کا کیا خوب صورت مطلع ہے کہ
    خاک کو کندن بنانا آگیا
    وقت کی بھٹی میں تپنا آگیا

    اورپھر آج جب بارشوں نے اپنا زور دکھایا ، بدلتے موسم نے عندیہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر اس خطہ پر بھی شدید پڑے گا اور گزشتہ سارے ریکارڈ ایک طرح سے بارشوں اور سیلاب کے ٹوٹ جائیں گے تو یہی خدمت گار پھر سے میدان میں موجودہیں۔ میدان سیاست میں دو جماعتیں ایسی ہیں جنھوں نے خدمت کے میدان میں اپنا آپ منوایا ہے ایک جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن اور دوسری پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خدمت خلق ہے ۔گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے علاقوں بونیر،باجوڑ، مینگورہ،شانگلہ اور دیگر علاقوں میں سیلاب اپنی تباہی کے ساتھ ساتھ بھاری پتھر بھی لے آیااور یہ پتھر اس قدر وزنی ہیں کہ بھاری مشینری سے ہی انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق شاید یہ ابھی ممکن نہیں ہوسکا کیوں کہ راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ بارش کی گاہے گاہے آمد نے اسے مشکل بنادیاہے ۔ جب دیگرجماعتیں حتٰی کہ حکمران قیادت بھی جمع تفریق میں لگی ہوئی تھی یہ الخدمت فائونڈیشن (جماعت اسلامی )اور خدمت خلق (پاکستان مرکزی مسلم لیگ) والے اپنے اپنے علاقوں سے نکلے اور تباہ شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے بونیر، باجوڑ، شانگلہ اور مینگورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاپہنچے ۔

    دامے درمے سخنے جو ہوسکا پہلے ہاتھ ساتھ لے گئے ، زخمیوں کو نکالااورمرہم لگایا، لاشوں کو نکالااور دفنایا،لواحقین کو سینے سے لگایا ، بھوکوں کو کھانا کھلایا اور پیاسوں کے لیے پانی کا بندوبست کیا۔ پھر جب ذرا وقت تھما تو محسوس ہوا کہ وسائل کم ہے اور مسائل زیادہ ہیں ۔پھر تو پاکستان بھر نے ریلیف کے کام میں اپنا آپ کھپا دیا۔راشن اس قدر پہنچا کہ خدمت میں مصروف تنظیموں کو کہنا پڑا کہ خوراک کی نہیں اب بھاری مشینری، خیموں اور ادویات کی ضرورت ہے تاکہ قیام کا عارضی بندوبست کیا جاسکے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کی ماہر اور تجربہ کار میڈیکل ٹیموں نے میڈیکل کیمپ لگانے شروع کیے اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پھیلتی وبائوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کراچی سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ٹیم فیصل ندیم اور ندیم اعوان کی معیت میں پہنچی اور خدمت میں جُت گئی اور ان کے خیبرپختونخواہ میں موجودگی کے وقت میں ہی کراچی میں بارش نے اپنا زور دکھا کر کراچی کو پانی میں ڈبو دیا لیکن یہ خدمت کے شیدائی اپنے گھروں کو پانی میں ڈوبا ہوا جان کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے ۔پاکستان بھر سے امدادی قافلے ابھی بھی جانب منزل رواں دواں ہیں کہ مسلمان کا شیوہ نہیں کہ اپنے بھائی کو تکلیف میں اکیلا چھوڑے۔صرف اہل فیصل آباد کی طرف سے ہی محمد احسن تارڑ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 1200سے زائد متاثرہ خاندانوں کے راشن پیک ، کپڑے،جوتے ، برتن اور ادویات وغیرہ تقسیم کی ہیں جب کہ اس سے قبل بھی فیصل آبادی ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کی معیت میں خشک راشن جس میں چاول ، چینی ، اچار، دالیں ،چنے ، چائے ، گھی ، آٹا اور مچھردانیاں تقسیم کرچکے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی دیگر شہروں کی ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔

    ابھی اہل پاکستان کے پی کے میں آئی اس آفت سے نبرد آزما تھے کہ راوی، ستلج اور چناب بپھر چکے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ندی نالوں میں بھی جولانی لے آئے۔ شہراقبال مسلسل بارش کے باعث ڈوبا تو شہرسے گزرتے قدیمی نالوں میں پانی نے اپنا آپ اس طرح سے دکھایا کہ تادم تحریر سیالکوٹ سیلاب زدہ ہے ، شکرگڑھ ، نارووال ، وزیرآباف اور پسرور بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور رہائشی گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ریسکیو1122، پولیس اور دیگر حکومتی ادارے بھی اپنے اقدامات میں مصروف ہیں اور مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بھی ان اداروں کے ساتھ مل کر خدمت میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب میں تاریخ کا بلند ترین سیلاب ہے جو اپنے ساتھ بے شمار مصائب ومشکلات بھی لارہا ہے۔ بارشوں کے لمبے دورانیے نے ایک مشکل صورت حال پیدا کی ہوئی تھی اور اس صورتحال میںبھارتی آبی جارحیت نے مزید تباہی مچائی۔اس پانی کی غیر متوقع اور بے پناہ مقدار نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ہزاروں خاندانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیاہے۔

    یہ سیلاب ہمارے لیے ایک سنگین سبق ہے اگر ہم سمجھ سکیں کہ ہمیں آئندہ اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ڈیمز کی تعمیر، پانی کے ذخائر میں اضافہ اور دریااؤں کے اطراف میں مضبوط حفاظتی دیواریں بنانا ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ہی جدیدearly warning systemکا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو وقت پر آگاہ کیا جا سکے کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ سیلاب اور اسی جیسی دیگر آفات اب کئی سال تک ہمارے ساتھ رہیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرے تاکہ پاکستان ان قدرتی آفات سے کم سے کم متاثر ہو۔

  • سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں لینڈ مافیا کا طاقتور ہونا ایک پیچیدہ مسلہ ہے جس کے پیچھے کئی تاریخی سماجی معاشی اور سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس کے زمین کا ریکارڈ (پٹواری سسٹم) پرانا ناقص اور آسانی سے چھیڑ چھاڑ کے قابل ہے۔ عدالتوں میں زمین کے مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں جس کا فائدہ لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی اکثر سیاسی دباؤ یا مالی فائدے کے تحت ان مافیاز کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ بہت سے لینڈ مافیا گروہ سیاسی جماعتوں اور بااثر لوگوں کے ساتھ براہ راست جڑے ہوتے ہیں سیاستدان ان کو تحفظ دیتے ہیں اور بدلے میں لینڈ مافیا انتخابی سپورٹ یا پیسہ فراہم کرتا ہے۔ شہروں میں رہائشی زمین کی مانگ بہت زیادہ ہے لینڈ مافیا خالی زمینوں پر قبضہ کر کے یا جعلی ہاوسنگ سکیمیں بنا کر کروڑوں روپے کماتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سستی رہائش کے منصوبے نہ ہونے کے باعث لوگ ان مافیاز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ رجسٹریشن۔ ریونیو۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری وغیرہ میں کرپشن عام جعلی کاغذات ڈبل فروخت اور جعلی سوسائٹیز بنا کر عام لوگوں کو لوٹنا آسان ہو گیا ہے۔ لینڈ مافیا کے پاس اپنے گن مین اور غنڈے ہوتے ہیں جو زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ عام ادمی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا اور اکثر انصاف کے حصول کے بجائے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں جائیداد اور زمین آتی ہے سٹے بازی اور بلیک منی زمین میں لگائی جاتی ہے اس سے مافیا کو مزید طاقت ملتی ہے۔ لینڈ مافیا ملک میں اس قدر پاور فل ہوا ہے کیونکہ ریاستی ادارے کمزور ہیں سیاسی پشت پناہی موجود ہے۔ عوام کے لیے ہاوسنگ کے متبادل محدود ہیں اور کرپشن نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ حالیہ لاہور کی راوی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک میں ایک ملک ریاض نہیں کتنے ہی ملک ریاض پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں پائے جاتے ہیں۔ ان لینڈ مافیا نے بڑے بڑے سیاست دانوں بیوروکریٹس اعلی پولیس افسران اور دیگر کو نہ صرف قیمتی ترین پلاٹوں سے نوازا بلکہ ان میں کئی ایسے ہیں جن کو بڑے بڑے فارم ہاؤس تیار کر کے دیے ہیں۔ اس کے پیچھے لینڈ مافیا کا مقصد صرف ان لوگوں کی زبان بندی ہے تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکیں۔ ذمہ داران ریاست کو چاہیے کہ اب اس لینڈ مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کرے جسے ریاست کیساتھ محبت ہو نہ کہ ان مافیا کے ساتھ۔جو حالیہ ایشو راوی ہاؤسنگ سوسائٹی والا سیلاب کی وجہ سے سامنے آیا جس کے باعث راوی کے اندر اور باہر کی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں اس کے مین کردار 2019 اور 2020 میں عمران خان کی حکومت تھی اور سابق وزیراعلی پرویز الہی اور ان کا بیٹا مونس الہی ان کرداروں نے ان کو اجازت دی تھی بعد ازاں جب حکومت چینج ہوئی تو حمزہ شہباز نے آ کر اس پروجیکٹ کو روکا اور غلط قرار دیا اب سوال یہ ہے کہ جن کرداروں نے کروڑوں اربوں روپے کھائے اور مفادات اٹھائے ان کو نظر انداز کر دیا گیا اور سی ایم مریم نواز جن کی حکومت کو ابھی ایک سال ہوا ہے ان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں اور جنہوں نے مفادات اٹھائے کروڑوں اربوں روپے اس ہاوسنگ سکیم کی مد میں لیے ان کو قوم کے سامنے لایا جائے

  • سیلاب اور بارشوں سے  تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب اور بارشوں سے تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے،غیرمنصوبہ بندی ہمیں بڑے سانحہ میں مبتلا کرسکتی
    کلائوڈ برسٹ عام ہوگیا،ناگہانی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے ازلی اقدامات ضروری
    پاکستانی حکمت عملی کامیاب،مودی پالیسیوں سے بھارت تقسیم ،پڑوسی ممالک نے بھی منہ موڑ لیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    بھارت، پاکستان اس وقت شدید بارش اور سیلاب کی زد میں ہیں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جاری ہے، گلگت ، بلتستان اور لداخ کے علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے دریائوں میں اچانک پانی کا بہائو بڑھ گیا ، اس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت بھی شامل ہے، جنگلات کی کٹائی ، غیر منصوبہ بندی ، رہائشی اور تجارتی تعمیرات، بارش کے قدرتی بہائو کو روک دیتی ہیں جس سے سیلابی شکل صورتحال پیدا ہوتی ہے، سائنسدانوں کے مطابق بادل کا پھٹنا اس عمل کو کہتے ہیں جب بہت کم وقت میں محدود دائرے میں اچانک شدید بارش ہو اگر کسی علاقے میں 30-20 مربع کلومیٹر کے دائرے میں ایک گھنٹے میں 100ملی میٹر بارش ہو تو اسے بادل کا پھٹنا کہا جا سکتا ہے، ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے طویل المدتی اقدامات کئے جائیں، ایسی صورتحال اس وقت پنجاب ، کے پی کے ،صوبہ سندھ اور دیگرجگہوں پر دیکھی جا رہی ہے ایک دوسرے پر تیر برسانے کے بجائے غور و فکر کیا جائے، ایک دوسرے کی تذلیل اور تحقیر کے سلسلے روکے جائیں اور خود احتسابی کی جائے، عملی اقدامات کئے جائیں، بھارت ایک طرف سیلاب کی زد میں ہے تو دوسری طرف مودی کی ناکام پالیسیوں اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے امریکہ اور چین دونوں ممالک سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، ٹرمپ کے اقدامات سے مایوس مودی نے چین کا رخ کیا ہے یاد رکھیئے! چین مودی کی پرانی باتوں اور پالیسیوں اور فیصلوں کو بھولا نہیں، مودی کا داخلی قوم پرستی کا بیانہ، پاکستان کے خلاف رویہ کشمیر کو واپس لینے کی دھمکیاں، آرٹیکل 370 جیسے اقدامات نے دشمنی کو بڑھایا مودی کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی بھارت سے منہ موڑ لیا ہے، بھارت کے داخلی صورتحال بھی بگڑ چکی ہے ہندوتوا مودی پالیسی نے ہندوستان کو بانٹ دیا ہے بھارت پر عالمی اعتماد کم ہو رہا ہے، مودی پالیسیوں سے بھارت داخلی تقسیم ہونے جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارتی حکمت عملی سے آج پاکستان کو عالمی سطح پر وہ مقام حاصل ہے جس کی قوم خواہش کرتی تھی۔

  • سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان ایک بار پھر قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور کلائوڈ برسٹ نے نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی مشکل وقت ہے ۔ایک طرف معاشی مشکلات ہیں دوسری طرف دہشت گردی کا عفریت ہے جس نے پاکستان کے دو صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ایسے حالات میں تباہ کن سیلاب نے حکومت اور عوام کی مشکلات میں بے حد اضافہ کردیا ہے ۔موسلا دھار بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید تباہی ہوئی ہے ۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، سینکڑوں گھر، مکانات اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا، کھیت کھلیان بہہ گئے اور ہزاروں خاندان بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔تباہی کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جو دیگر صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کیلئے اس سے نمٹنا مشکل ہے ۔ ایسے نازک لمحات میں دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں کی طرف سے مدد اور ہمدردی کے پیغامات موصول ہوئے۔ لیکن عملی قدم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب نے ہی اٹھایا ہے ۔

    سب سے پہلے سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے متاثرین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سلسلہ میں باقاعدہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو خط لکھا ۔ یہ پیغام اور خط محض سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ دلی محبت اور بھائی چارے کا مظہر تھا۔

    بعد ازاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر سعودی عرب کے امدادی ادارے "کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر” نے فوری طور پر پاکستان میں ریلیف آپریشن شروع کیا اور متاثرین کیلئے امدادی سامان روانہ کیاجو دس ہزار شیلٹر کٹس، دس ہزار فوڈ پیکجز ، سولر پینل اور کچن سیٹس پر مشتمل ہے ۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے مکمل رہائشی سامان شامل ہے جبکہ فوڈ کٹس میں روزمرہ ضرورت کی تمام اشیائے خورونوش موجود ہیں جو متاثرہ گھرانوں کے لیے وافر انتظام فراہم کریں گی۔ہر فوڈ پیکج کا وزن پچانوے کلوگرام ہے، جس میں آٹا، چاول، دالیں، چینی، چائے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ یہ پیکجز ستر ہزار سے زائد متاثرین کو ایک ماہ تک خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے، بستر، کمبل اور دیگر بنیادی رہائشی ضروریات شامل ہیں تاکہ بے گھر افراد کو فوری سہارا مل سکے۔ امدادی سامان میں سولر پلیٹ اور بلب بھی شامل ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں عارضی طور پر بجلی کا متبادل میسر آ سکے۔ یہ امداد مجموعی طور پر 10 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی ہے ۔

    کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے کنٹری ڈائریکٹر عبد اللہ البراک کی نگرانی میں امدادی سامان پاکستانی حکام کے سپرد کیا گیا۔اس مقصد کی خاطر اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں ایک باوقار تقریب ہوئی جس میں سعودی عرب کے سفیر جناب نواف بن سعید المالکی اور مشیر برائے الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ نے خصوصی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی نے کہا یہ امدادی سامان سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر روانہ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ بارشوں اور کلائو ڈ برسٹ کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں پر سعودی قیادت کو گہرا افسوس ہے اور اس مشکل گھڑی میں سعودی عوام اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔انھوں نے کہا یہ امداد صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی بھی ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت تعاون جاری رکھے گا تاکہ متاثرہ خاندان جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔اس موقع پررانا ثنا ء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستانی عوام نے بھی سعودی عرب کی اس بروقت مدد پر نہایت مثبت ردعمل دیا۔ سعودی قیادت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان وصول کرنے والے متاثرین نے ہاتھ اٹھا کر سعودی عرب کے لیے دعائیں کیں۔

    اگر ہم اس پورے واقعے کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر تعلقات محض سیاسی و تجارتی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے بلکہ حقیقی تعلقات وہی ہوتے ہیں جو دکھ درد میں ساتھ دینے سے پروان چڑھتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے امداد صرف ایک وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاک سعودی تعلقات وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ نے پاکستانی عوام کو شدید آزمائش میں ڈالامگر ان لمحات میں سعودی عرب کی ہمدردیاں اور عملی امداد ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ثابت ہوئیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے پیغامات نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے، کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی امداد نے متاثرین کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی، اور سعودی سفیر کے وعدوں نے امید کی نئی کرن روشن کی۔یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے تعلقات نہیں بلکہ دو بھائیوں کے رشتے کی مانند ہیں۔ یہ رشتہ اسلامی اخوت، قربانی، اعتماد اور محبت پر مبنی ہے، جو ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی تعلق آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی وحدت اور طاقت کی بنیاد بنے گا۔

  • بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا بھر میں امن معاہدے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے،عملدرآمد ندارد،انصاف مٹ گیا
    خود غرضی،لالچ مقبول ٹھہرے،وسائل،تیل وگیس اور معدنیات کے نام پر بدامنی جاری
    غزہ میں ایک روٹی کی قیمت موت،مجبور فلسطینی روز ذبح ہورہے،دنیا اندھی ،ذرا نہیں پورا سوچیے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    دنیا بھر میں امن معاہدے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف رحم اور مساوات سے آتا ہے،جب تک انسان اپنی خود غرضی، لالچ ،طاقت کی ہوس کو قابو میں نہیں لاتا ،جنگیں اور ظلم چلتے رہیں گے، بڑی طاقتیں اور بعض حکومتیں اپنے زمینی وسائل، تیل و گیس ،پانی ،معدنیات اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے جنگیں اور تنازعات کو ہوا دیتی ہیں، دنیا میں بھوک افلاس ایک انسانی مسئلہ نہیں ،لڑائیوں کی بڑی وجہ ہے جہاں بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی، وہاں چپقلش اور بد امنی بڑھتی ہے، دنیا کے بڑے ممالک اسلحہ فروخت کر کے اربوں ،کھربوں ڈالر کماتے ہیں، اگر دنیا میں جنگیں ختم ہو جائیں تو یہ کاروبار ختم ہو جائے گا اس لئے وہ امن کی بجائے جنگوں کو زندہ رکھتے ہیں، دنیا میں انسانیت رحم اور انصاف کی قدریں کمزور ہو چکی ہیں، طاقت، پیسہ اور سیاسی فائدوں پر توجہ دی جا رہی ہے، دنیا بھر میں انصاف کے بغیر امن ممکن ہی نہیں طاقتور ممالک کو کمزور ممالک کا استحصال کرنے کے بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے، صرف قانون کافی نہیں انسان کے دل میں بھی رحم اور انسانیت پیدا ہونی چاہیے ،غزہ کو ہی سامنے رکھیں وہاں قبریں روٹی سے زیادہ قریب ہیں،جدید سائنس جدید ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کا جدید میڈیا انقلاب اقوام متحدہ سلامتی کونسل او آئی سی عرب لیگ عالمی طاقتیں مشرق وسطی میں امن قائم کرنے میں اب تک ناکام نظر ارہی ہیں، حیرانگی اس بات پر ہے کہ حیران کن ترقی کے اس دنیا میں غزہ کے معصوم بچوں کے لیے قبریں روٹی سے زیاد زیادہ قریب کیوں ہیں وہاں موت امداد سے زیادہ تیز کیوں ہے۔ اللہ تعالی نے یہ زمین انسانوں کے لیے امن سے رہنے کے لیے بنائی تھی انسانوں نے دنیا میں خوف و ہراس پیدا کیا۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگی ماحول ہے وہاں قبروں میں اضافہ دکھائی دیتا ہے، موت سستی اور روٹی غزہ سمیت دنیا کے جنگی ماحول میں مہنگی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا میں بے گناہ لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں، جن ممالک میں جنگیں ہو رہی ہیں وہاں سے پرندے بھی بھاگنے پر مجبور ہیں، یاد رکھیے دنیا بھر کے انسان مٹی سے بنے ہیں مٹی میں لوٹائے جائیں گے اور دوبارہ اسی مٹی سے نکالے جائیں گے، سوچیے کیا جواب دیں گے اس خالق کو جس نے انسان کو پیدا کیا، ابن آدم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دے گا؟

  • تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    یہاں ذکر کسی ایسے خواب کا نہیں جس میں کوئی عاشق اپنے محبوب کے دیدار کا طلبگار ہو بلکہ یہاں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس عظیم خواب کے متعلق بات کی جا رہی ہے جو بظاہر مکمل ہونے کے باوجود بھی ادھورا ہے ہم آج تک یہی سنتے پڑھتے اور فخر انداز میں اپنی نسلوں کو بتاتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم کی ان تک کوششوں نے اسے تعبیری شکل دی بلاشبہ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ہم اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ خواب اقبال کا مقصد کیا تھا؟ اس میں چھپا راز کیا تھا؟علامہ اقبال کے خواب کا مقصد محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ایک ایسی ازادانہ ریاست کا حصول تھا جو مسلمانوں کے تابناک مستقبل کی ضمانت اور امن کا گہوارہ تھی چونکہ اس وقت مسلمان نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور اور ظلمت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، لہذا شاعر مشرق نے اپنی پرایمان شاعری کلام اور تصانیف کی بدولت مسلمانوں میں جذبہ ایمانی اور بیداری کی نئی روح پھونکی۔

    قائد اعظم نے بھی جب مسلمانوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم اور غلامانہ زندگی گزارتے دیکھا تو ان کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کا مطالبہ کیا شاعر مشرق کی شاعری مسلمانوں میں جوش ولولہ پیدا کرنے میں اتش فشاں ثابت ہوئی قائد اعظم کے دن رات کی محنت انکن اور سینکڑوں قربانیوں کے بعد بالاخر الگ وطن حاصل کرنے میں کامیابی ملی جو بلاشبہ تاریخ میں لکھی جانے والی مسلمانوں کی عظیم فتح ثابت ہوئی۔مگر وقت کا پہیہ چلا دشمنوں نے دم سادنا شروع کیا اور نئی سازشیں پنپنے لگیں ریاست پاکستان سے کچھ ضمیر فروشوں نے دشمنوں کے ہاتھوں محض چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان بیچ ڈالے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دشمنوں کی غلامی قبول کر لی یہی ضمیر فروش پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے گرہن ثابت ہوئے اور نتیجہ تن مسلمان الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے باوجود بھی اسی ذلت غلامی گمراہی اور بدحالی کے اندھے کنویں میں جا گرے جس سے چھٹکارا حاصل کیا تھا۔وہ ریاست جہاں اقبال کی شاہینوں نے فلک تک اڑان بھرنی تھی اپنی خودی کو پہچاننا تھا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے پوری دنیا میں لوہا منوانا تھا کائنات کو مسخر کرنا تھا اور ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کرنی تھیں اسی ریاست میں اقبال کے شاہینوں کے پر نوچ لیے گئے ان کی ذہانت وہ بصارت کی تیزی پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی اور وہی غلامانہ شکنجے میں جکڑ دیا گیا اور گمراہی کے اندھیرے راستوں پر بھٹکا دیا گیا کہ انہیں اپنی تباہی کا احساس تک بھی نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دور کی بات ہے مفلوج نظام کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگ آے راشن کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد ایک تھیلا آٹا حاصل کر لینا ہی اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ احساس پروگرام اور دیگر خیراتی فنڈز کے حصول کے لیے یونین کونسل کے متعدد چکر لگانا اور کچھ ہزار روپے حاصل کر لینا بھی آج کے مسلمانوں کی جیت ہے جبکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب عوام ان کے حصول کے لیے ابھی نہیں جانتا اوپر لگا رہے ہیں جیسا کہ میرپور میں آے کا تھیلا حاصل کرنے کے لیے ایک شخص اپنی جان سے ہاتھوں بیٹھا اور یہ واقعہ پر نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے کی افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں کہیں کوئی خاتون اور کہیں کوئی بچہ محض آے کا تھیلا راشن یا چند خیراتی روپیہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو پسماندگی کی انتہا ہے صبح سے شام تک لمبی لمبی قطاروں میں لگے رہنا اور دھکے کھانے کی جو اذیت اور خواری ہے اس کا تو پوچھیے ہی مت۔

    بات یہاں ختم نہیں ہوتی اقبال کے شاہین اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی اسی خواری کا سامنا کرتے ہیں جو آٹے راشن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے کسی ملازمت کے حصول کے لیے فارم بھرنے سے شروع ہونے والا سفر انٹرویو کے لیے کئی گھنٹے انتظار اور متعدد ٹیسٹوں سے گزرنے کے بعد ناکامی پر اختتام پذیر ہوتا ہے کیونکہ اعلی ملازمتوں کا کوٹا آتے ہی بااثر لوگوں کے عزیزوں اور رشتہ داروں یا چیلے چمچوں کی ملکیت بن چکا ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان رکشہ چلانے ریڈی ٹھیلے لگا کر اپنا پیٹ پالنے کے علاوہ کسی ادارے میں چپڑاسی یا چوکیدار بننے پر مجبور ہے غربت بے روزگاری بھوک اور فلاس کا عالم یہ ہے کہ اکثریت لاشعوری اور گمراہی کے راستوں پر چلتے ہوئے سٹریٹ کرائمرز بن چکے ہیں اور انہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کا بھرپور استعمال بڑے بڑے گینگز کے سرغنے منشیات فروش اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بخوبی کر رہے ہیں۔بے بس اور مجبور لوگ اپنے اور اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کی خاطر اور حصول پیسہ کی خاطر غیر قانونی طور پر ڈنکی لگا کر یورپ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں یہ وہ مجبور طبقہ ہے جو انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے ہاتھ چڑھ کر اپنی جا نوں کو سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کر رہا ہے حالیہ پیش انے والے تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے والے واقعات میں زیادہ تر تعداد پاکستانیوں کی ہی پائی جا رہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔اس کے علاوہ غربت کے مارے لوگ زہریلی گولیاں کھا کرنے پنکھے سے جھول کر نہروں میں کود کر اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں۔یہ ہے آزاد خود مختار ریاست کے مسلمانوں اور اقبال کے شاہینوں کی بدحالی کی داستان جسے پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا خواب ظاہر مکمل ہو کر بھی ادھورا ہے اور تکمیل خواب ابھی باقی ہے۔مزید لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ جس طرح حکومت پاکستان سکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری کر رہی ہے اس سے پیدا ہونے والے مسائل عام عوام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے غریب عوام صحت کے سہولیات جو پہلے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ان سے بھی محروم ہو جائیں گے اور سکولوں کے پرائیویٹ ہونے سے شرع نا خواندگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے کا امکان ہے یہ وہ دلدل ہے جس سے اپ عوام کا نکلنا نہایت مشکل ہو جائے گا تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کر کے جہالت کے وہی اندھیرے میں دھکیلنے کی سازش جڑ پکڑ چکی ہے۔

    پہلے ہی دشمن ضمیر فروشوں اور مفاد پرست غدار وطن ٹولے کی بدولت عوام کے ذہنوں اور ان کی سوچ کو قبضے میں لے چکے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ ،آٹے کی قطاروں میں مفت راشن کے لیے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ آزادی ہی اصل زندگی ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کی بقا اور بہتر مستقبل کی خاطر متحد ہونا ہوگا ذرا سوچنے کی بات ہے جو لوگ غربت اور حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے اور حرام موت کو گلے لگانا قبول کر لیتے ہیں ،ڈنکی لگا کر سمندروں کی گہری تاریکی میں ڈوبنا گوارا کر لیتے ہیں، وہ لوگ اپنے حقوق کی خاطر کیوں نہیں متحدر ہو کر ظالموں کے خلاف کھڑے ہوتے یہ ذہنی غلامی ہے۔اس کی اصل وجہ وہ خوف ہے جس کی دھاک ایک مخصوص طبقے نے عام عوام کے دلوں پر بٹھا دی ہے۔اس کے علاوہ مایوسی اور دین سے دوری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ اللہ واضح طور پر قران میں ہمیں مایوس ہونے سے منع فرماتا ہے۔یہ ظلم کے اندھیرے پھر سے چھٹ سکتے ہیں ذرا ہمت دکھانے کی دیر ہے مگر بات ہمیشہ کی طرح یہی اہم ہے کہ اس سب اقدامات کے لیے ہمارا متحد ہونا پہلی شرط ہے خدارا اقبال کے فلسفے کو سمجھیں اپنے اندر ایمان کا جذبہ پیدا کریں اور ان ظالموں کے ظلم سے چھٹکا رہا حاصل کریں اقبال کے خواب کی تکمیل ہم پر لازم ہے ۔جس دن شاعر مشرق کے شاہینوں نے اپنی اصل طاقت کو پہچانا اپنے ایمان کو زندہ کیا یہ وقت کے فرعون نست و نابود ہو جائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ باطل مٹ کر رہتا ہے بس جذبہ ایمانی چاہیے اج بھی ظلمت کے گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے وسیع صاف و شفاف کھلا اسمان اور اجلی صبح ہماری منتظر ہے۔

  • ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بعض اوقات حضرت انسان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مٹی کا بنا انسان جو ذر اور اپنی شہرت کے پیچھے بھاگتا بھاگتا خالی ہاتھ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ زر اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والے انسان کو جو دنیا میں رخصت ہوتے وقت ایک سرٹیفکیٹ ملتا ہے اس سرٹیفکیٹ کا نام ہے ڈیتھ سرٹیفکیٹ۔ قبر میں تنہا جائے گا اور روز حشر تنہا ہی اپنے اعمال کا حساب دے گا لیکن اس تمام حقیقت کے باوجود دنیا بھر کا انسان غفلت میں پڑا ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں نے رحمٰن کے راستے کو ترک کر کے شیطان کا راستہ اختیار کر لیا انسان اگر سوچے اور غور کرے تو اسے سمجھ آ جائے۔ عجب تماشہ ہے مٹی کا انسان تکبر بھی کرتا ہے تکبر اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں یہ سراسر شرک ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی انسانوں کی سرزمین ہے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہیں اور جو سرزمین خدا کی ملکیت ہے اس زمین کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے کے لیے بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا کیا کھیل اور تماشے سامنے آ رہے ہیں ۔

    اس وقت کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانہ کمزور درآمداد زیادہ اور برآمداد کم روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور مہنگائی عام آدمی کے لیے بڑا مسلہ ہے۔ توانائی بحران بجلی اور گیس کی قلت صنعت و زراعت کو متاثر کرنا ہے۔ جمہوری ادارے کمزور ہیں اور اکثر سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات پر چلتی ہیں اختیارات کی کھینچا تانی نے ان مسائل میں اضافہ کیا۔ تعلیم کا نظام کمزور اور یکساں نہیں سرکاری۔ پرائیویٹ۔ مدرسہ نظام الگ الگ ہیں۔ صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور نوجوانوں کو مواقع کی کمی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ کرپشن اور رشوت کا کلچر اور اس پر قانون سازی کی کمی صوبائی اور لسانی اختلافات یہ وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے ہم کہاں جا رہے ہیں؟

    پانی کی کمی اور دریاؤں پر بڑھتے دباؤ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خشک سالی جنگلات کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی اگر ان تمام مسائل پر توجہ دی جائے غور کیا جائے۔ سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے اگر حکومت اور ادارے ایمانداری شفافیت اور قابلیت کے ساتھ کام کریں تو یہ مسائل آہستہ آہستہ حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اپنی توجہ ملک اور قوم کے مسائل پر مرکوز رکھیں۔ پاک بھارت جنگ اور پاک امریکہ تجارتی معاہدوں کے بعد امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں عسکری قیادت پاک فوج اور دیگر ادارے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جبکہ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز یہ ادارے ہیں۔ پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی نے امریکہ اور مغربی ممالک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہے جس کی تکلیف ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بہت زیادہ ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اب وقت آگیا ہے پوری قوم پاکستان کے وقار، پاکستان کی سلامتی اور ملک و قوم کے جو اصل مسائل ہیں اس پر توجہ دے۔

  • "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    یادوں کی پٹاری کھولوں تو 14 اگست 2025 کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہوں گی۔ میری یادداشت بھی عجیب ہے کبھی کبھی تو عرصہ دراز کے واقعات یاد ہوتے ہیں تو کبھی کل کی بات بھول جاتی ہوں۔ سفر زیست میں مجھے ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، الحمدللہ! مجھے اچھی باتیں اور اچھے لوگ یاد رہ جاتے ہیں اور بری باتیں اور برے لوگوں کو میں خود فراموش کر کے سفر زیست میں آگے بڑھ جاتی ہوں۔ گلا شکوہ نہیں کرتی بلکہ وہ راستہ اور اس طرف جانے والے ہر راستے کو چھوڑ دیتی ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللّٰہ ہی بہترین کار ساز ہے۔ ارے ہم باتوں باتوں میں کہا نکل گئے۔ ہم تو بات کر رہے تھے ماہ اگست کی، اگست کا مہینہ آزادی کی خوشخبری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللّٰہ رب العزت نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے دین اسلام کی پیروی میں آزاد ہیں۔ میں ایک سادہ سی گھریلو خاتون ہوں جو نعمتیں میرے پاس ہیں اس میں خوشی تلاش کر لیتی ہوں جو میرے رب نے عطا نہیں کیں اسے رب کی حکمت سمجھتے ہوئے مطمئن رہتی ہوں۔ دور حاضر میں قلب مطمئن سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو گی بھلا۔ میں کبھی بڑی خوشیوں کا انتظار نہیں کرتی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی سی خوشیوں کو بھی بڑی خوشیوں کی طرح مناتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پیغام میرے موبائل کے ان باکس میں آیا پرانے زمانے کی بات ہوتی تو میں کہہ سکتی تھی کہ کھڑی کھول کے دیکھو یہ کون پیغام رساں آیا ہے مگر اس دور میں تو پیغام موبائل پر ہی آتے ہیں تو میں بات کر رہی ہوں اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی اور مجھے "شان پاکستان” ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ دل کی سچی بات بتاؤں؟ شاید یہ بات پڑھ کر بہت سے افراد کو برا بھی لگے لیکن میں تو اپنے قصہ زیست کی داستان سنا رہی ہوں بھلا کیوں کسی کو برا لگے گا۔ ایورڈ ملنے سے ذیادہ خوشی مجھے لوگوں سے ملنے میں ہوتی ہے۔ تقریب کے دن قریب آ رہے تھے اور میرا سٹریس بڑھ رہا تھا کہ کیسے جاؤں لاہور؟ بچوں کی چھٹیاں ان کے اسکول کا کام، امتحانات کی تیاری اور بہت کچھ لیکن الحمدللہ فائنلی پروگرام بن ہی گیا۔ ارے یہ کیا! جانے سے ایک دن پہلے سعد کی طبیعت کافی خراب ہو گئی اب تو مجھے لگا کہ لاہور جانا ناممکن ہے تو خاموشی سے بس اللّٰہ کے فیصلے کا انتظار کرنے لگی آخر کار سب ٹھیک ہو گیا اور میرا چھوٹا سا قافلہ لاہور جانے کو تیار ہو گیا۔ جلدی جلدی گھر کے سارے کام سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھے لاہور جانا اپنے آپ میں خاص ہے۔ یہ جو لاہور سے محبت ہے دراصل کسی اور سے محبت ہے تو یہ بات مجھ پر بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ نانی امی کا گھر سب ماموں ان کی محبت اور سب پیارے رشتے وہیں تو ہیں میرے اب تو میرے بچے بھی لاہور سے اور لاہور والوں سے محبت کرنے لگے ہیں۔ یہ سچ ہے جہاں محبت اور عزت ملے وہیں پر انسان کا دل لگتا ہے تو بات ہو رہی تھی اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی تو لاہور پہنچتے ہی بچوں کو ماہ پارہ اور بھابھی کے پاس چھوڑا سب سے مل کر میں پاک ہیری ٹیج ہوٹل پہنچی جہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ علی بھائی، سفیان بھائی اور اسلم بھائی بہت جی جان سے کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ ان سب سے مل کر میں واپس گھر آئی اور اگلے دن کی تیاری کرنے لگی۔

    اگلی صبح بہت خوبصورت تھی۔ طلوع فجر سے ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے سلسلے کا آغاز ہو گیا تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ماحول کو مذید خوش گوار بنایا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ موسم کے اثرات آپ کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں تو کچھ ایسا ہی ہوا اس دن، میں سوچ رہی تھی اٹہتر سال پہلے بھی مسلمانوں نے جب سر زمین پاک پر قدم رکھے ہوں گے تو ان کو بھی لاہور کی فضا اتنی ہی حسین اور پر سکون لگی ہو گی۔ ہجرت کے غموں کو بھول کر جب پاک زمین کی مٹی کو چوما ہو گا تب ان کے دل خوشی سے سر شار ہوئے ہوں گے۔ آج جس ملک میں ہم آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں وہاں تک پہنچنا آسان نہیں رہا ہو گا۔ کتنی ہی قیمتی جانیں قربان ہوئی ہوں گی۔ ماؤں نے بیٹے، بیویوں نے سہاگ، بہنوں نے بھائی قربان کئے ہوں گے تب جا کر یہ آزادی ہمارا مقدر بنی ہو گی۔ دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما لے اور نعمتوں کا قدر کرنے والا بنائے۔ آمین!

    اپنی گزشتہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن نے بھی یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جہاں دنیائے ادب کے عظیم شاہکاروں کو اکٹھا کیا، وہیں نومولود پودوں کو فراموش نہیں کیا گیا۔ یہ ننھے ادیب ان ننھے پودوں کی ہی طرح ہیں جن کو اپنے بڑوں کے سائے سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع اپووا فراہم کرتی ہے۔ بہت سے افراد اکثر پروپگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہو رہا ہے مختلف ادبی تنظیموں کے اندر ایوارڈ ایوارڈ کھیلا جاتا ہے اور میں ہمیشہ کہتی ہوں نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر جگہ دوسرے کی ٹانگ کھینچا، کسی دوسرے پر منفی تنقید کرنا ہر بندہ اپنا فرض سمجھ کرتا ہے وہیں اگر کچھ اپووا جیسی تنظیمیں دوسروں کی زندگی میں چند پل خوشی کے دیتی ہیں تو جلنے والوں کا پھر منہ کالا ہی اچھا ہے۔ یہاں میں کسی تنظیم کا ساتھ نہیں دے رہی غیر جانبدار ہو کر بات کروں گی کیونکہ قلم آزاد ہے۔ جو بھی افراد معاشرے میں مثبت کام کر رہے ہیں وہ قابلِ عزت ہیں، قابل تعریف ہیں۔ چلیں جی بہت سنجیدہ باتیں ہو گئیں اب کچھ غیر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ خواتین کا ازلی مسلہ، کسی بھی تقریب میں جانا ہو تو بھری ہوئی الماریاں بھی خالی ہی لگتی ہیں ایسا لگتا ہے ڈھنگ کا کچھ ہے ہی نہیں ہمارے پاس لیکن خوش قسمتی سے میرا شمار ان خواتین میں نہیں ہوتا کیونکہ جو میرے پاس ہے اس پر اللّٰہ کا شکر ہے تو فیصلہ ہوا کہ بہت پہلے سے خریدا ہوا سفید عیابا پہنا جائے جو میں صرف خاص موقعوں پر ہی نکالتی ہوں تو ثابت ہوا استحکام پاکستان کانفرنس بہت خاص تھی جلدی سے تیار ہو کر میں اور بی بی پاک ہیری ٹیج پہنچے، جہاں سب سے پہلے اپووا کے روحِ رواں ایم ایم علی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ علی بھائی سے رشتہ بہت خاص ہے مگر اس وقت زاہد بھائی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی یقیناً علی بھائی کو بھی ان کی کمی محسوس ہوئی ہو گی۔ عموماً اپووا کی تقریبات میں علی بھائی ہال کے اندر کے انتظامات سنبھالتے ہیں اور استقبالیہ پر ہمیشہ زاہد بھائی ہی ہوتے ہیں۔ جی تو آپ سوچ رہے ہوں گے اگر اتنے ہی خاص ہیں زاہد بھائی تو وہ کہاں ہیں تو جناب اللّٰہ کے فضل و توفیق سے وہ ان دنوں عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ استقبالیہ پر علی بھائی نے تروتاز پھولوں کا گلدستہ پیش کیا وہیں پر پیارے چھوٹے بھائی نادر فہمی سے ملاقات ہوئی۔ ایسے سلجھے ہوئے نوجوان بچوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے۔ نادر! اللہ پاک آپ کو ڈھیروں کامیابیاں نصیب فرمائے آمین! تو اب چلتے ہیں اندر ہال میں جو ماشاءاللہ کھچا کھچ ادبی دنیا کے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے ستارے اکٹھے زمین پر سجے بہت خوش نما لگ رہے تھے۔ سب سے فرداً فرداً ملی مجھے لوگوں سے ملنا ان سے بات کرنا ان کو اپنی یادوں میں سمیٹنا بہت پسند ہے۔ میں کبھی انتظار نہیں کرتی کہ کوئی مجھ سے آ کر ملے میں خود آگے بڑھ کر ملنا پسند کرتی ہوں۔ سفیان بھائی، اسلم بھائی، مسکراتی مدیخہ کنول، زندگی سے بھر پور اقرا لاریب، بہت پیاری ایمن سعید اور عابدہ نذر سے ملاقات کے بعد جیسے ہی نشت سنبھالی تو پیاری حفصہ خالد کی آمد نے دل کو باغ و بہار کر دیا۔ سلامت رہیں حفصہ آپ مجھے ہمیشہ بہت پیاری لگتی ہیں۔ اللّٰہ رب العزت آپ کو استقامت عطا فرمائے اور آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین!
    آج کا دن ایک خاص فرد کے نام جس سے میرا رابطہ کسی ادبی گروپ کے ذریعے ہوا اور مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو گیا۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ سب کی تعریف ہی کر رہی ہوں میری زندگی میں کوئی دھوکے باز، منفی سوچ اور غلط افراد کیوں نہیں تو جناب بتایا نا کہ ایسے افراد کو میں بھول جاتی ہوں۔ اسامہ معاویہ چکوال سے تشریف لائے اور سب افراد مصروف تھے تو میں نے ہی اپنے بھائی کا پھولوں سے استقبال کر لیا پھر اسے نادر سے ملوایا اور اس کے حوالے کیا۔ اسامہ میرے لیے چکوال سے وہاں کی خاص ریوڑی لائے اور جو ڈائری میں اس کے لیے لائی فورا اسے دے دی ان تمام قیمتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا نہ بھولی۔ سلامت رہیں اسامہ اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین! اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپووا نے اپنے مہمانوں کے لیے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا۔ دور دراز سے آئے ادبی ستارے پیٹ پوجا کے بعد ایک دم تروتاز ہو گئے۔ ناشتے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔ میرے لیے یہ بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔ آج سے پہلے میں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شکریہ اپووا! الحمدللہ رب العالمین میرے سوہنے رب جس نے وطن عزیز کی پر امن فضا عطا فرمائی۔ موسم بھی بہت سہانا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اور ہوا میں پرچم آسمان میں لہرایا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز سفیان بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ ایک بار پھر مجھے زاہد بھائی کی کمی محسوس ہوئی۔ عائشہ شکیل کی نعت سے ماحول میں تازگی آ گئی۔ قومی ترانے نے جو دل کے تاروں کو مزید جوش و جذبہ عطا کیا۔ ایمان کی ساٹھ شاخیں ہیں وطن سے محبت بھی ایمان کے پودے کی ایک شاخ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کرتے ہوئے مدیخہ کنول نے پروگرام کو آگے بڑھایا اور ایوارڈز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ننھے ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں بہت روشن ستاروں کی موجودگی باعث رحمت تھی۔ پروگرام کی صدارت ناصر بشیر صاحب نے کی جو نہایت ہی عاجز اور سادہ انسان ہیں۔ اس کے علاؤہ اورنگزیب لغاری صاحب جو کہ بے حد خوش اخلاق اور ملنسار انسان ہیں۔ عذرا آفتاب صاحبہ اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج کی رونق کو بڑھا رہی تھیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب کو مل کر ایسا لگا کہ آپ بلند اپنے کام اور کرادر سے ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کی سادگی ہی ان کی کامیابی ہے۔ اختر عباس صاحب کی آمد نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ علی بھائی کے ایک جملے نے ساری فضا کو تازگی بخش دی۔ جب ان کی واسکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ شاید وہ اپنی شادی پر بھی اتنے اچھے نہیں لگتے ہوں گے تو اس بات کا انہوں نے جواب دیا کہ "وہ قید کا دن تھا اور آج 14 اگست آزادی کا دن ہے۔” اس بات نے سب کے چہروں پر ایک تبسم بکھیر دیا۔

    اب تقریب میں آمد ہوتی ہے ایک خاص انسان کی جن کا سینہ قرآن پاک سے منور ہے۔ جی تو میں بات کر رہی ہوں قومی ایوارڈ یافتہ قاری القرآن عمر دراز خان صاحب کی۔ ان کی پر سوز آواز نے تقریب میں موجود ہر فرد کے دل کو چھو لیا۔ سر! اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے آمین! سر شہزاد نیر کی باتیں اور کلام ہمیشہ کی طرح بہت جاندار تھا۔ گوجرانولہ کی پیاری شاعرہ کی شاعری اور آواز دونوں دل کو چھو گئے۔ ارے اس سفر میں مجھے ایک پیاری سی لڑکی قرۃالعین حیدر بھی ملی جو اپنے بابا کے ساتھ تھی۔ اس کو میں فیس بک پر اس کے بابا کے ساتھ تصاویر میں دیکھا۔ مجھے لگا اس کا اپنے بابا سے ویسا ہی رشتہ ہے جیسا میرا میرے ابو جی کے ساتھ۔ کتنے پیار سے رکھتے ہیں نا باپ اپنی بیٹیوں کو، ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور کتنا آئیڈلائز کرتی ہیں نا بیٹیاں اپنے باپ کو، مجھے لگتا ہے بیٹیاں اپنے شریک حیات میں ہمیشہ اپنے والد والی خوبیاں تلاش کرتی رہ جاتی ہیں اور یہیں پر وہ غلطی کرتی ہیں۔ او! کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا معاملہ۔ چلو بھی ڈھونڈ لاتے ہیں پیارے بچپن کو، میرے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک یاد "عینک والا جن” بھی ہے۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے جب ہم مسجد میں قاری صاحب سے بہانے بنا بنا کر گھر کی طرف بھاگتے تھے کہ عینک والے جن کا کوئی سین مس نہ ہو جائے۔ اپووا کی اکثر تقریبات میں حسیب پاشا صاحب کو دیکھا لیکن ملنے کا موقع آج ملا۔ ان سے بات کر کے لگا ہی نہیں کہ وہ اتنے بڑے آدمی ہیں انتہائی عاجزی سے ملے۔ واقعی بڑے سچ ہی کہتے ہیں جو ڈالی جھک جاتی ہے اس پر پھل ذیادہ لگتا ہے۔ انہوں نے جٹ سے اپنا کارڈ نکالا اور بچوں کو عینک والا جن دیکھنے کی دعوت دی۔ پروگرام اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا لیکن میری پسندیدہ شخصیت لگتا ہے اس پروگرام میں بھی نہیں آ سکیں گی۔ اسامہ معاویہ کو واپس چکوال جانا تھا تو اسے اللّٰہ حافظ کرنے میں باہر آئی۔ ارے یہ کیا سر افتخار افی کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا جٹ سے سر کو سلام کیا، اسامہ کو اللہ خافظ کہا اور دوبارہ سے ہال میں واپس آ گئی۔ سر کو ڈائری گفٹ کی اور تصویر بنائی۔ میرا تو دن بن گیا بعض دفعہ کسی کی کہی روٹین کی عام سی باتیں آپ کے لیے خاص بن جاتی ہیں اور آپ کو آگے بڑھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیشگی صرف اللّٰہ رب العزت کا خاصا ہے انسان تو بس آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ لوگوں کے آنے اور جانے سے کاروان زندگی رکتا نہیں۔ کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا ہاں مگر زندگی گزارنے کا انداز بدل جاتا ہے اور یہ بھی جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے کے رشتے پر منحصر ہے کہ زندگی کس انداز میں بدلتی ہے۔ ملک یعقوب اعوان صاحب کو اپووا کی تقریب میں مہمان کی صورت دیکھا تھا آج ان کی میزبانی و قیادت میں ایک مکمل اور بھر پور پروگرام دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کاروان زندگی کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا یہ تو چلتا ہی جاتا ہے۔ زندگی ویسے ہی رہتی ہے بس زندگی کے اسٹیج کے کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ دنیا فانی اس کا ہر رشتہ فانی ہے جانے والوں کو کوئی یاد نہیں کرتا اگر انسان اپنے سے جڑے رشتوں کا جوگ پال لے تو زندگی میں آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن کی تمام ٹیم کو اتنے شاندار پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ دنیا اگر مکمل لگنے لگے تو انسان اسی میں دل لگا لیتا، دنیا کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ ہر چیز کی کمی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مکمل تو رب کی ذات ہے۔ بہت سے افراد کو شاید استحکام پاکستان کانفرنس میں کچھ کمی محسوس ہوئی ہو مگر اپنی سوچ کو مثبت رکھیں کوتاہیوں اور غلطیوں کو نظر انداز کریں اور کوششوں کو سراہا سیکھیں۔ زندگی جو دے ان حسین لمحوں کو وقت کی مٹھی میں قید کرتے ہوئے میں نے اپنے اس دن کے ہمسفر الماس العین خالد کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ بچے بھی گھر پر منتظر تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیں مثبت رہیں۔ ان شاءاللہ! پھر کسی قصہ زیست کے ساتھ ملیں گے۔ اے میری پیاری ڈائری اللّٰہ نگہبان!