Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بعض اوقات حضرت انسان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مٹی کا بنا انسان جو ذر اور اپنی شہرت کے پیچھے بھاگتا بھاگتا خالی ہاتھ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ زر اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والے انسان کو جو دنیا میں رخصت ہوتے وقت ایک سرٹیفکیٹ ملتا ہے اس سرٹیفکیٹ کا نام ہے ڈیتھ سرٹیفکیٹ۔ قبر میں تنہا جائے گا اور روز حشر تنہا ہی اپنے اعمال کا حساب دے گا لیکن اس تمام حقیقت کے باوجود دنیا بھر کا انسان غفلت میں پڑا ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں نے رحمٰن کے راستے کو ترک کر کے شیطان کا راستہ اختیار کر لیا انسان اگر سوچے اور غور کرے تو اسے سمجھ آ جائے۔ عجب تماشہ ہے مٹی کا انسان تکبر بھی کرتا ہے تکبر اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں یہ سراسر شرک ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی انسانوں کی سرزمین ہے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہیں اور جو سرزمین خدا کی ملکیت ہے اس زمین کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے کے لیے بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا کیا کھیل اور تماشے سامنے آ رہے ہیں ۔

    اس وقت کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانہ کمزور درآمداد زیادہ اور برآمداد کم روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور مہنگائی عام آدمی کے لیے بڑا مسلہ ہے۔ توانائی بحران بجلی اور گیس کی قلت صنعت و زراعت کو متاثر کرنا ہے۔ جمہوری ادارے کمزور ہیں اور اکثر سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات پر چلتی ہیں اختیارات کی کھینچا تانی نے ان مسائل میں اضافہ کیا۔ تعلیم کا نظام کمزور اور یکساں نہیں سرکاری۔ پرائیویٹ۔ مدرسہ نظام الگ الگ ہیں۔ صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور نوجوانوں کو مواقع کی کمی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ کرپشن اور رشوت کا کلچر اور اس پر قانون سازی کی کمی صوبائی اور لسانی اختلافات یہ وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے ہم کہاں جا رہے ہیں؟

    پانی کی کمی اور دریاؤں پر بڑھتے دباؤ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خشک سالی جنگلات کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی اگر ان تمام مسائل پر توجہ دی جائے غور کیا جائے۔ سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے اگر حکومت اور ادارے ایمانداری شفافیت اور قابلیت کے ساتھ کام کریں تو یہ مسائل آہستہ آہستہ حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اپنی توجہ ملک اور قوم کے مسائل پر مرکوز رکھیں۔ پاک بھارت جنگ اور پاک امریکہ تجارتی معاہدوں کے بعد امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں عسکری قیادت پاک فوج اور دیگر ادارے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جبکہ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز یہ ادارے ہیں۔ پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی نے امریکہ اور مغربی ممالک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہے جس کی تکلیف ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بہت زیادہ ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اب وقت آگیا ہے پوری قوم پاکستان کے وقار، پاکستان کی سلامتی اور ملک و قوم کے جو اصل مسائل ہیں اس پر توجہ دے۔

  • "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    یادوں کی پٹاری کھولوں تو 14 اگست 2025 کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہوں گی۔ میری یادداشت بھی عجیب ہے کبھی کبھی تو عرصہ دراز کے واقعات یاد ہوتے ہیں تو کبھی کل کی بات بھول جاتی ہوں۔ سفر زیست میں مجھے ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، الحمدللہ! مجھے اچھی باتیں اور اچھے لوگ یاد رہ جاتے ہیں اور بری باتیں اور برے لوگوں کو میں خود فراموش کر کے سفر زیست میں آگے بڑھ جاتی ہوں۔ گلا شکوہ نہیں کرتی بلکہ وہ راستہ اور اس طرف جانے والے ہر راستے کو چھوڑ دیتی ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللّٰہ ہی بہترین کار ساز ہے۔ ارے ہم باتوں باتوں میں کہا نکل گئے۔ ہم تو بات کر رہے تھے ماہ اگست کی، اگست کا مہینہ آزادی کی خوشخبری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللّٰہ رب العزت نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے دین اسلام کی پیروی میں آزاد ہیں۔ میں ایک سادہ سی گھریلو خاتون ہوں جو نعمتیں میرے پاس ہیں اس میں خوشی تلاش کر لیتی ہوں جو میرے رب نے عطا نہیں کیں اسے رب کی حکمت سمجھتے ہوئے مطمئن رہتی ہوں۔ دور حاضر میں قلب مطمئن سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو گی بھلا۔ میں کبھی بڑی خوشیوں کا انتظار نہیں کرتی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی سی خوشیوں کو بھی بڑی خوشیوں کی طرح مناتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پیغام میرے موبائل کے ان باکس میں آیا پرانے زمانے کی بات ہوتی تو میں کہہ سکتی تھی کہ کھڑی کھول کے دیکھو یہ کون پیغام رساں آیا ہے مگر اس دور میں تو پیغام موبائل پر ہی آتے ہیں تو میں بات کر رہی ہوں اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی اور مجھے "شان پاکستان” ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ دل کی سچی بات بتاؤں؟ شاید یہ بات پڑھ کر بہت سے افراد کو برا بھی لگے لیکن میں تو اپنے قصہ زیست کی داستان سنا رہی ہوں بھلا کیوں کسی کو برا لگے گا۔ ایورڈ ملنے سے ذیادہ خوشی مجھے لوگوں سے ملنے میں ہوتی ہے۔ تقریب کے دن قریب آ رہے تھے اور میرا سٹریس بڑھ رہا تھا کہ کیسے جاؤں لاہور؟ بچوں کی چھٹیاں ان کے اسکول کا کام، امتحانات کی تیاری اور بہت کچھ لیکن الحمدللہ فائنلی پروگرام بن ہی گیا۔ ارے یہ کیا! جانے سے ایک دن پہلے سعد کی طبیعت کافی خراب ہو گئی اب تو مجھے لگا کہ لاہور جانا ناممکن ہے تو خاموشی سے بس اللّٰہ کے فیصلے کا انتظار کرنے لگی آخر کار سب ٹھیک ہو گیا اور میرا چھوٹا سا قافلہ لاہور جانے کو تیار ہو گیا۔ جلدی جلدی گھر کے سارے کام سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھے لاہور جانا اپنے آپ میں خاص ہے۔ یہ جو لاہور سے محبت ہے دراصل کسی اور سے محبت ہے تو یہ بات مجھ پر بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ نانی امی کا گھر سب ماموں ان کی محبت اور سب پیارے رشتے وہیں تو ہیں میرے اب تو میرے بچے بھی لاہور سے اور لاہور والوں سے محبت کرنے لگے ہیں۔ یہ سچ ہے جہاں محبت اور عزت ملے وہیں پر انسان کا دل لگتا ہے تو بات ہو رہی تھی اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی تو لاہور پہنچتے ہی بچوں کو ماہ پارہ اور بھابھی کے پاس چھوڑا سب سے مل کر میں پاک ہیری ٹیج ہوٹل پہنچی جہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ علی بھائی، سفیان بھائی اور اسلم بھائی بہت جی جان سے کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ ان سب سے مل کر میں واپس گھر آئی اور اگلے دن کی تیاری کرنے لگی۔

    اگلی صبح بہت خوبصورت تھی۔ طلوع فجر سے ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے سلسلے کا آغاز ہو گیا تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ماحول کو مذید خوش گوار بنایا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ موسم کے اثرات آپ کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں تو کچھ ایسا ہی ہوا اس دن، میں سوچ رہی تھی اٹہتر سال پہلے بھی مسلمانوں نے جب سر زمین پاک پر قدم رکھے ہوں گے تو ان کو بھی لاہور کی فضا اتنی ہی حسین اور پر سکون لگی ہو گی۔ ہجرت کے غموں کو بھول کر جب پاک زمین کی مٹی کو چوما ہو گا تب ان کے دل خوشی سے سر شار ہوئے ہوں گے۔ آج جس ملک میں ہم آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں وہاں تک پہنچنا آسان نہیں رہا ہو گا۔ کتنی ہی قیمتی جانیں قربان ہوئی ہوں گی۔ ماؤں نے بیٹے، بیویوں نے سہاگ، بہنوں نے بھائی قربان کئے ہوں گے تب جا کر یہ آزادی ہمارا مقدر بنی ہو گی۔ دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما لے اور نعمتوں کا قدر کرنے والا بنائے۔ آمین!

    اپنی گزشتہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن نے بھی یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جہاں دنیائے ادب کے عظیم شاہکاروں کو اکٹھا کیا، وہیں نومولود پودوں کو فراموش نہیں کیا گیا۔ یہ ننھے ادیب ان ننھے پودوں کی ہی طرح ہیں جن کو اپنے بڑوں کے سائے سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع اپووا فراہم کرتی ہے۔ بہت سے افراد اکثر پروپگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہو رہا ہے مختلف ادبی تنظیموں کے اندر ایوارڈ ایوارڈ کھیلا جاتا ہے اور میں ہمیشہ کہتی ہوں نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر جگہ دوسرے کی ٹانگ کھینچا، کسی دوسرے پر منفی تنقید کرنا ہر بندہ اپنا فرض سمجھ کرتا ہے وہیں اگر کچھ اپووا جیسی تنظیمیں دوسروں کی زندگی میں چند پل خوشی کے دیتی ہیں تو جلنے والوں کا پھر منہ کالا ہی اچھا ہے۔ یہاں میں کسی تنظیم کا ساتھ نہیں دے رہی غیر جانبدار ہو کر بات کروں گی کیونکہ قلم آزاد ہے۔ جو بھی افراد معاشرے میں مثبت کام کر رہے ہیں وہ قابلِ عزت ہیں، قابل تعریف ہیں۔ چلیں جی بہت سنجیدہ باتیں ہو گئیں اب کچھ غیر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ خواتین کا ازلی مسلہ، کسی بھی تقریب میں جانا ہو تو بھری ہوئی الماریاں بھی خالی ہی لگتی ہیں ایسا لگتا ہے ڈھنگ کا کچھ ہے ہی نہیں ہمارے پاس لیکن خوش قسمتی سے میرا شمار ان خواتین میں نہیں ہوتا کیونکہ جو میرے پاس ہے اس پر اللّٰہ کا شکر ہے تو فیصلہ ہوا کہ بہت پہلے سے خریدا ہوا سفید عیابا پہنا جائے جو میں صرف خاص موقعوں پر ہی نکالتی ہوں تو ثابت ہوا استحکام پاکستان کانفرنس بہت خاص تھی جلدی سے تیار ہو کر میں اور بی بی پاک ہیری ٹیج پہنچے، جہاں سب سے پہلے اپووا کے روحِ رواں ایم ایم علی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ علی بھائی سے رشتہ بہت خاص ہے مگر اس وقت زاہد بھائی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی یقیناً علی بھائی کو بھی ان کی کمی محسوس ہوئی ہو گی۔ عموماً اپووا کی تقریبات میں علی بھائی ہال کے اندر کے انتظامات سنبھالتے ہیں اور استقبالیہ پر ہمیشہ زاہد بھائی ہی ہوتے ہیں۔ جی تو آپ سوچ رہے ہوں گے اگر اتنے ہی خاص ہیں زاہد بھائی تو وہ کہاں ہیں تو جناب اللّٰہ کے فضل و توفیق سے وہ ان دنوں عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ استقبالیہ پر علی بھائی نے تروتاز پھولوں کا گلدستہ پیش کیا وہیں پر پیارے چھوٹے بھائی نادر فہمی سے ملاقات ہوئی۔ ایسے سلجھے ہوئے نوجوان بچوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے۔ نادر! اللہ پاک آپ کو ڈھیروں کامیابیاں نصیب فرمائے آمین! تو اب چلتے ہیں اندر ہال میں جو ماشاءاللہ کھچا کھچ ادبی دنیا کے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے ستارے اکٹھے زمین پر سجے بہت خوش نما لگ رہے تھے۔ سب سے فرداً فرداً ملی مجھے لوگوں سے ملنا ان سے بات کرنا ان کو اپنی یادوں میں سمیٹنا بہت پسند ہے۔ میں کبھی انتظار نہیں کرتی کہ کوئی مجھ سے آ کر ملے میں خود آگے بڑھ کر ملنا پسند کرتی ہوں۔ سفیان بھائی، اسلم بھائی، مسکراتی مدیخہ کنول، زندگی سے بھر پور اقرا لاریب، بہت پیاری ایمن سعید اور عابدہ نذر سے ملاقات کے بعد جیسے ہی نشت سنبھالی تو پیاری حفصہ خالد کی آمد نے دل کو باغ و بہار کر دیا۔ سلامت رہیں حفصہ آپ مجھے ہمیشہ بہت پیاری لگتی ہیں۔ اللّٰہ رب العزت آپ کو استقامت عطا فرمائے اور آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین!
    آج کا دن ایک خاص فرد کے نام جس سے میرا رابطہ کسی ادبی گروپ کے ذریعے ہوا اور مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو گیا۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ سب کی تعریف ہی کر رہی ہوں میری زندگی میں کوئی دھوکے باز، منفی سوچ اور غلط افراد کیوں نہیں تو جناب بتایا نا کہ ایسے افراد کو میں بھول جاتی ہوں۔ اسامہ معاویہ چکوال سے تشریف لائے اور سب افراد مصروف تھے تو میں نے ہی اپنے بھائی کا پھولوں سے استقبال کر لیا پھر اسے نادر سے ملوایا اور اس کے حوالے کیا۔ اسامہ میرے لیے چکوال سے وہاں کی خاص ریوڑی لائے اور جو ڈائری میں اس کے لیے لائی فورا اسے دے دی ان تمام قیمتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا نہ بھولی۔ سلامت رہیں اسامہ اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین! اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپووا نے اپنے مہمانوں کے لیے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا۔ دور دراز سے آئے ادبی ستارے پیٹ پوجا کے بعد ایک دم تروتاز ہو گئے۔ ناشتے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔ میرے لیے یہ بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔ آج سے پہلے میں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شکریہ اپووا! الحمدللہ رب العالمین میرے سوہنے رب جس نے وطن عزیز کی پر امن فضا عطا فرمائی۔ موسم بھی بہت سہانا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اور ہوا میں پرچم آسمان میں لہرایا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز سفیان بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ ایک بار پھر مجھے زاہد بھائی کی کمی محسوس ہوئی۔ عائشہ شکیل کی نعت سے ماحول میں تازگی آ گئی۔ قومی ترانے نے جو دل کے تاروں کو مزید جوش و جذبہ عطا کیا۔ ایمان کی ساٹھ شاخیں ہیں وطن سے محبت بھی ایمان کے پودے کی ایک شاخ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کرتے ہوئے مدیخہ کنول نے پروگرام کو آگے بڑھایا اور ایوارڈز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ننھے ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں بہت روشن ستاروں کی موجودگی باعث رحمت تھی۔ پروگرام کی صدارت ناصر بشیر صاحب نے کی جو نہایت ہی عاجز اور سادہ انسان ہیں۔ اس کے علاؤہ اورنگزیب لغاری صاحب جو کہ بے حد خوش اخلاق اور ملنسار انسان ہیں۔ عذرا آفتاب صاحبہ اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج کی رونق کو بڑھا رہی تھیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب کو مل کر ایسا لگا کہ آپ بلند اپنے کام اور کرادر سے ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کی سادگی ہی ان کی کامیابی ہے۔ اختر عباس صاحب کی آمد نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ علی بھائی کے ایک جملے نے ساری فضا کو تازگی بخش دی۔ جب ان کی واسکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ شاید وہ اپنی شادی پر بھی اتنے اچھے نہیں لگتے ہوں گے تو اس بات کا انہوں نے جواب دیا کہ "وہ قید کا دن تھا اور آج 14 اگست آزادی کا دن ہے۔” اس بات نے سب کے چہروں پر ایک تبسم بکھیر دیا۔

    اب تقریب میں آمد ہوتی ہے ایک خاص انسان کی جن کا سینہ قرآن پاک سے منور ہے۔ جی تو میں بات کر رہی ہوں قومی ایوارڈ یافتہ قاری القرآن عمر دراز خان صاحب کی۔ ان کی پر سوز آواز نے تقریب میں موجود ہر فرد کے دل کو چھو لیا۔ سر! اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے آمین! سر شہزاد نیر کی باتیں اور کلام ہمیشہ کی طرح بہت جاندار تھا۔ گوجرانولہ کی پیاری شاعرہ کی شاعری اور آواز دونوں دل کو چھو گئے۔ ارے اس سفر میں مجھے ایک پیاری سی لڑکی قرۃالعین حیدر بھی ملی جو اپنے بابا کے ساتھ تھی۔ اس کو میں فیس بک پر اس کے بابا کے ساتھ تصاویر میں دیکھا۔ مجھے لگا اس کا اپنے بابا سے ویسا ہی رشتہ ہے جیسا میرا میرے ابو جی کے ساتھ۔ کتنے پیار سے رکھتے ہیں نا باپ اپنی بیٹیوں کو، ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور کتنا آئیڈلائز کرتی ہیں نا بیٹیاں اپنے باپ کو، مجھے لگتا ہے بیٹیاں اپنے شریک حیات میں ہمیشہ اپنے والد والی خوبیاں تلاش کرتی رہ جاتی ہیں اور یہیں پر وہ غلطی کرتی ہیں۔ او! کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا معاملہ۔ چلو بھی ڈھونڈ لاتے ہیں پیارے بچپن کو، میرے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک یاد "عینک والا جن” بھی ہے۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے جب ہم مسجد میں قاری صاحب سے بہانے بنا بنا کر گھر کی طرف بھاگتے تھے کہ عینک والے جن کا کوئی سین مس نہ ہو جائے۔ اپووا کی اکثر تقریبات میں حسیب پاشا صاحب کو دیکھا لیکن ملنے کا موقع آج ملا۔ ان سے بات کر کے لگا ہی نہیں کہ وہ اتنے بڑے آدمی ہیں انتہائی عاجزی سے ملے۔ واقعی بڑے سچ ہی کہتے ہیں جو ڈالی جھک جاتی ہے اس پر پھل ذیادہ لگتا ہے۔ انہوں نے جٹ سے اپنا کارڈ نکالا اور بچوں کو عینک والا جن دیکھنے کی دعوت دی۔ پروگرام اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا لیکن میری پسندیدہ شخصیت لگتا ہے اس پروگرام میں بھی نہیں آ سکیں گی۔ اسامہ معاویہ کو واپس چکوال جانا تھا تو اسے اللّٰہ حافظ کرنے میں باہر آئی۔ ارے یہ کیا سر افتخار افی کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا جٹ سے سر کو سلام کیا، اسامہ کو اللہ خافظ کہا اور دوبارہ سے ہال میں واپس آ گئی۔ سر کو ڈائری گفٹ کی اور تصویر بنائی۔ میرا تو دن بن گیا بعض دفعہ کسی کی کہی روٹین کی عام سی باتیں آپ کے لیے خاص بن جاتی ہیں اور آپ کو آگے بڑھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیشگی صرف اللّٰہ رب العزت کا خاصا ہے انسان تو بس آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ لوگوں کے آنے اور جانے سے کاروان زندگی رکتا نہیں۔ کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا ہاں مگر زندگی گزارنے کا انداز بدل جاتا ہے اور یہ بھی جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے کے رشتے پر منحصر ہے کہ زندگی کس انداز میں بدلتی ہے۔ ملک یعقوب اعوان صاحب کو اپووا کی تقریب میں مہمان کی صورت دیکھا تھا آج ان کی میزبانی و قیادت میں ایک مکمل اور بھر پور پروگرام دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کاروان زندگی کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا یہ تو چلتا ہی جاتا ہے۔ زندگی ویسے ہی رہتی ہے بس زندگی کے اسٹیج کے کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ دنیا فانی اس کا ہر رشتہ فانی ہے جانے والوں کو کوئی یاد نہیں کرتا اگر انسان اپنے سے جڑے رشتوں کا جوگ پال لے تو زندگی میں آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن کی تمام ٹیم کو اتنے شاندار پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ دنیا اگر مکمل لگنے لگے تو انسان اسی میں دل لگا لیتا، دنیا کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ ہر چیز کی کمی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مکمل تو رب کی ذات ہے۔ بہت سے افراد کو شاید استحکام پاکستان کانفرنس میں کچھ کمی محسوس ہوئی ہو مگر اپنی سوچ کو مثبت رکھیں کوتاہیوں اور غلطیوں کو نظر انداز کریں اور کوششوں کو سراہا سیکھیں۔ زندگی جو دے ان حسین لمحوں کو وقت کی مٹھی میں قید کرتے ہوئے میں نے اپنے اس دن کے ہمسفر الماس العین خالد کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ بچے بھی گھر پر منتظر تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیں مثبت رہیں۔ ان شاءاللہ! پھر کسی قصہ زیست کے ساتھ ملیں گے۔ اے میری پیاری ڈائری اللّٰہ نگہبان!

  • ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی

    دور حاضر سفارتکاری اور سرمایہ کاری کا زمانہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس عصری تقاضے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جاپان کے اہم دورے پر ہیں جو جدید ترقی یافتہ پنجاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چین سمیت کئی اہم ممالک کے دورے کئے۔ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پنجاب میں خدمت اور تعمیر و ترقی کے وہ باب رقم کر جائیں گی جس کا تقابل دوردور تک نہیں مل سکے گا۔ پی ٹی آئی کے بدترین دور حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت کی بدانتظامی کے باعث خالی خزانے اور مختلف کنٹریکٹرز کے کھربوں روپے کے زیرالتواع بلز کی ادائیگی کا مشکل ترین مرحلہ درپیش تھا۔ دن رات اور انتھک محنت سے مریم نواز شریف نے سیاسی پشین گوئیوں اور صحافتی تجزیہ کاروں کے سب دعوے غلط ثابت کردیے۔ پنجاب معاشی مشکلات سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔31سال سے قرضوں میں جکڑے پنجاب کو مقامی بینکوں کے قرض سے آزاد کروا دیا۔ 17ماہ کے مختصر عرصے میں مریم نواز شریف نے پنجاب میں تعمیروترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے کہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔مریم نواز کی وزارت اعلیٰ نہ صرف تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح وبہبود انکا خاصہ بن گیا بلکہ صحت مند، ترقی کرتا اور محفوظ پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر کردکھایا۔ حکومت کے ابتدائی17ماہ میں 120سے زائد عوامی فلاح وبہبود کے پراجیکٹس کا آغاز اور 70سے زائد پراجیکٹس کی تکمیل اپنی مثال آپ ہے۔ درجنوں ایسے منصوبے ہیں جو محض خواب سمجھا جاتا تھا لیکن مریم نواز شریف نے اس کی تعبیر کو ممکن بنایا۔ مریم نواز کی17ماہ کی کارگردگی کا مختصر خلاصہ یہی ہے کہ نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی ہی ہے۔

    موجودہ سیاسی لاٹ میں مریم نواز واحد شخصیت ہے جو ناصرف نوجوان طبقہ میں انتہائی مقبول اور پسندیدہ لیڈر ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پنجاب اور پاکستان کی موئثر نمائندگی کررہی ہیں۔ اہل پنجاب انتہائی خوش قسمت ہیں کہ انہیں مریم نواز شریف کی صورت ایسی وزیر اعلیٰ ملی ہیں جو عوام دوست اور انتہائی متحرک ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی زیر قیادت ہر شعبہ زندگی میں ریکارڈ تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے جہاں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، میرٹ ایمانداری کی شاندار روایات قائم کی ہیں وہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے فنڈز میں بچت کی روایات کو پروان چڑھایا ہے۔ اور قومی دولت کو عوام کی امانت سمجھتے ہو ئے استعمال کیا ہے۔حکومت پنجاب نے صوبے کے بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔پنجاب سیف سٹیز اٹھارٹی اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی جیسے اداروں میں عالمی معیار کی جدیدت، پاکستان اورپنجاب کی پہلی SMART ماحولیاتی تحفظ فورس کا باقاعدہ آغاز۔ قبضہ مافیا سے 40ہزار ارب کی سرکاری زمینیں واگزار کروانے کیلئے تجاوزات کا خاتمہ مشن امباسیبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کا کوئی ثانی ہی نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے ای ٹینڈرنگ۔

    مستحقین کی سوشل اکنامک رجسٹریشن، نوجوانوں کو قرض، طلبا و طالبات کو ای بائیکس اور ہونہار سکالر شپس مل رہی ہیں۔ مریضوں کو مفت ادویات اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولیات، نئے ہسپتالوں کی تعمیر، ”مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز“ ”نواز شریف کینسر اسپتال“۔ تمام بڑے شہروں میں سیوریج اور نکاسی آب کا نیا سسٹم رائج کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کا جال بچھا کر پنجاب کو ترقی کے نئے دور میں داخل کردیا گیاہے۔ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے TEVTA کو مزید فعال جبکہ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے زیعے 6 لاکھ افراد کو تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی کا ٹارگٹ بنایا گیا۔ پنجاب میں زرعی انقلاب لانے کے لئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شعبہ تعلیم کی بات کی جائے تو بوٹی مافیہ کا خاتمہ کیا۔ پنجاب کے تمام سکولز اور کالجز کو جدید ترین آئی ٹی لیب سے آراستہ کرنا۔ پنجاب ایجوکیشن کریکلم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اٹھارٹی کی صورت نصاب سازی، ٹریننگ اور تعلیمی وظائف کو ون ونڈو سولوشن بنا دیاگیا ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ڈی ایچ کیوز کی تعمیر و اپگریڈیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی میں شفافیت اورجدیت کیلئے اقدامات، صاف پانی، ایکو فرینڈلی الیکٹرک بسیں، مریم نواز نے پہلے دن سے ہی سیاحت کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا ہے اور سینکڑوں نئے سیاحتی مقامات متعارف کروانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ پنجاب کی ایک ہزار سالہ تاریخ کو محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے پنجاب کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو فروغ ملے گا۔ پنجاب کے 170 تاریخی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکزمیں تبدیل کرکے پنجاب کو تہذیب و سیاحت کا انٹرنیشنل مرکز بنایا جارہا ہے۔پنجاب کے کلچر اور ثقافتی میلوں کی بحالی۔تمام شعبوں میں مثالی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ نوجوان طبقہ آئندہ الیکشن میں مریم نواز شریف کو وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہ رہا ہے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کا دل مینگورہ، آج ایک المیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب نے علاقے کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھر، کاروبار، خواب اور زندگی کی ساری رونقیں پانی میں بہہ گئیں۔مینگورہ شہر کا نصف حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔10 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔گھروں اور دکانوں میں دس دس فٹ پانی داخل ہوا، جس کے بعد گارا اور کیچڑ نے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے فوری اور منظم امدادی سرگرمیاں شروع کیں،مرکزی مسلم لیگ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوراً مینگورہ، بونیر، سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں کے ذریعے روزانہ دو ہزار سے زائد افراد کو پکا پکایا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں الرجی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ماہر ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل طبی ٹیمیں مختلف شہروں سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اب تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بارش سے وقتی پناہ لے سکیں۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اب تک 500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن (آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی وغیرہ) تقسیم کیا جا چکا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بچوں کے لیے دودھ، بسکٹس اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم خود مینگورہ میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت خدمت کا ہے، سیاست کا نہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں نوجوان، مرد و خواتین، بزرگ اور طبی عملہ رضاکارانہ بنیادوں پر سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں۔ وہ گھروں سے کیچڑ نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔متاثرین کو نفسیاتی سہارا اور حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔صفائی ستھرائی، پانی کی نکاسی اور بیماریوں کی روک تھام کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔لیکن افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے، کیونکہ ہر متاثرہ گھر کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وقت سیاست، قومیت یا مسلک کے فرق کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک ہونے کا ہے۔ سیلاب متاثرین آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کریں،مالی، طبی یا رضاکارانہ خدمات پیش کریں،سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں،دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کا بھی مظاہرہ کریں

    مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیوں سے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو کسی بھی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ جنگ صرف ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں، ہم سب کی ہے۔

  • راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    میں فیلڈ جرنلسٹ نہیں ہوں، میں ڈاٹس کونیکٹ کرکے خبر تلاش کرتا ہوں اور اسے خبر کی بنیاد پر تجزیہ پیش کرتا ہوں، جو کم و بیش درست ہوتا ہے۔ آج سپیرئیر یونیورسٹی کے تاریخی ہال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، یہ وہی ہال تھا جہاں چند سال پہلے میں نے لفافہ جرنلزم پر اپنا ریسرچ پیپر پیش کیا تھا، لیکن آج کی میٹنگ مختلف نوعیت کی تھی، سٹیج پر سپیرئیر گروپ کے کاروباری حریف میاں عامر محمود صوبوں کی تقسیم پر دلائل دے رہے تھے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جائے، اور ملک کو 33 انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے، ہر صوبے میں 16 محکمے بنانے کی تجویز کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمشنر کو چیف سیکرٹری بنا دیا جائے، انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ "ابھی آتے ہوئے کسی نے ایک لفافہ دیا ہے، جس میں کچھ مزید تجاویز ہیں جو میری نظر میں قابل عمل ہیں۔” لفظ کسی کو سنتے ہی میں نے ڈاٹس ملانا شروع کر دئیے، معدنیات بل کی مخالفت، نہروں کے معاملے پر احتجاج، ستائیسویں ترمیم پر شور شرابا، ان تین نکات نے مقتدر حلقوں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم سے فی الحال سیاسی جماعتوں کا اثر کم کرنے کا تاثر ملتا ہے، جیسے پیپلز پارٹی کو دیہی سندھ تک محدود کرنا، کراچی، حیدر آباد اور سکھر پر پرو اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کا اثر بڑھے گا، پنجاب میں ن لیگ کو جی ٹی روڈ یا شمالی پنجاب کی جماعت بنانا جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اثر کم ہو جائے گا، کیا تقسیم سے زیادہ بلدیاتی نظام کو بہتر نہیں بنانا چاہیے؟ کیا اس تقسیم سے اپنی پسند کا وزیرِ اعلیٰ لانے میں آسانی نہیں ہو جائے گی؟ اس ساری بحث سے لگ رہا ہے کہ مسائل حل کرنا مقصود نہی بلکہ عوام کو مزید چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا ہے تاکہ نظام کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بہرحال ہال میں موجود نوجوانوں نے اسی سے ملتے جلتے سوالات کئے، لیکن کسی سوال کا جواب نہیں ملا اور تشنگی ابھی باقی ہے،

    بہرحال سپیرئیر کے ریسرچ ہال میں بریانی، قورمہ اور چائے پی کر میں نے دفتر کی راہ لی، کمرے میں بیٹھ کر تصویر بنائے اور اپنے گھر میں بستر پر بیٹھے یہ روداد تحریر کردی ہے، بہرحال مولانا فضل الرحمان، زرداری ، نواز شریف اور ایم کیو ایم اگر وسیع تر قومی مفاد میں ایک ہوسکتے ہیں تو لاہور کی دو بڑی کاروباری حریف شخصیات کے ساتھ بیٹھنے پر بھی حیرانی ہر گز نہیں ہونی چاہیے، جنریشن زی کو خواب دکھانے کے سفر کا آج آغاز ہوچکا ہے، ون یونٹ سے لیکر اٹھارویں ترمیم تک تجربے ہوچکے ہیں، ایک اور تجربہ سہی، کیونکہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے اور یہاں جنگ کے ڈیزائن بھی سیاست دان ہی بناتے ہیں

  • جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب جمہوریت کو نقصان پہنچا یا اس کا خاتمہ ہوا تو اس جمہوریت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی شامل نہیں رہی بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے بھی کسی نہ کسی انداز میں کردار ادا کیا ہے سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائیاں اکثر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں نتیجہ جمہوریت کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوا اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی رہنما اکثر اصولوں پر سمجھوتا کرتے رہے خود سیاسی جماعتوں نے آمروں کے ساتھ اتحاد کیا یا انہیں جائز قرار دیا تاکہ اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنا سکیں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر قائم کرنے میں ناکام رہیں ایوب خان کے مارشل لاء میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے حمایت کی ضیاء الحق کے دور میں بھی کئی سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ شامل ہوئیں پرویز مشرف کے دور میں کنگز پارٹی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہر دور میں کچھ نہ کچھ سیاسی عناصر نے آمریت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا تاریخ گواہ ہے اقتدار کی حوس اور آپسی اختلافات کے باعث جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ تحریک انصاف جمعیت علماء اسلام متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی کئی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگے ایک دوسرے کے دور حکومت میں قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں بھی دیں اور غلطیاں بھی کیں ان سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار یہ رہا آئین کی بحالی عوامی نمائندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی ادا کرتے رہے اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرپشن خاندانی سیاست اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش قصہ مختصر جہاں جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں وہاں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بھی کیا پارلیمان کو فعال کرنے کے بجائے زیادہ زور سڑکوں کی سیاست اور دھرنوں پر دیا گیا جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا جمہوریت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا جمہوریت ہی نہیں جمہوری نظام کو بدنام کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم نے سن 1973 کا آئین دیا جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اس آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا بھٹو کے بنائے گئے آئین کا آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے پھر بھی ہمارے سیاسی رہنماؤں سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا تاہم جمہور کی حالت قابل رحم ہے

  • معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے وجود، عقیدے اور نظریے کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار معرکے ہیں جن میں وطن کے بیٹے، ایمان کی حرارت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ معرکے صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، فکری اور سماجی میدانوں میں بھی جاری رہے۔ انہی معرکوں کے نتیجے میں ہمارے پاس وہ گراں قدر سرمایہ شہداءو غازیان ہے، جن کی قربانیاں ہمارے آج اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔
    معرکہ حق” کا مطلب محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے موقف اور جدوجہد کا نام ہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک حق کا، جس میں قربانی اور استقامت درکار ہے، اور دوسرا باطل کا، جو وقتی سہولت اور ظاہری کامیابی فراہم کرتا ہے۔ معرکہ حق میں شریک ہونے والے افراد محض سپاہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ حق کے نمائندے اور باطل کے سامنے جرات واستقامت اور بہادری وشجاعت کا مینار بن جاتے ہیں۔
    پاکستان کی تاریخ میں 1947ءسے لے کر آج تک کئی ایسے مواقع آئے جب غازیوں اور شہیدوں نے اپنی جان، مال اور آسائش کو قربان کر کے قوم کو سربلند کیا۔
    1948ءکی جنگِ کشمیر — قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب کشمیر کے مسلمان بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے، پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے معرکہ حق میں شرکت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 1965ءکی جنگ — جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1971ءکا دفاعی معرکہ — اگرچہ اس کے نتائج قوم کے دلوں کو غمگین کر گئے، لیکن اس معرکے میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی بہادری آج بھی قابلِ فخر ہے۔ کارگل معرکہ 1999ئ— بلند و بالا پہاڑوں پر لڑنے والے جوانوں نے معرکہ حق کی نئی مثال قائم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ — 2001ءکے بعد سے پاکستانی افواج، پولیس اور عوام نے جس طرح قربانیاں دیں، وہ ایک طویل مگر لازوال داستان ہے ۔
    پاکستان کی تاریخ کا تازہ ترین معرکہ حق 10مئی کو لڑا گیا جس میں پاکستان نے اپنے دشمن بھارت پر شاندار فتح حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے جوانوں نے جرا¿ت و بہادری کی ایسی مثال قائم کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اس معرکے میں وطنِ عزیز کے کئی سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ بے شمار جوان غازیوں کے رتبے پر فائز ہوئے۔بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرا¿ت، حکمتِ عملی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں عسکری مبصرین کو حیران کر دیا۔ عالمی میڈیا نے اس کارروائی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب قرار دیا۔ بی بی سی، رائٹر اور الجزیرہ جیسے بڑے اداروں نے لکھا کہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی میں مہارت دکھائی بلکہ جارحانہ اقدام کے وقت بھی بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی پاسداری کی۔ امریکی اور یورپی دفاعی ماہرین نے اس کارروائی کو “ Precision Strike” یعنی انتہائی درست اور کامیاب حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تیاری اور افواج کے باہمی تعاون نے دشمن کو غیر متوقع انداز میں پسپا کر دیا۔ عرب میڈیا نے اسے امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ بھارتی دفاعی مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنی عسکری برتری اور جنگی تیاری کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 مئی کی یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی عزم کی زندہ مثال ثابت ہوئی، جس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
    پاکستان کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے شہیدوں اور جانیں ہتھیلی پر رکھ دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے غازیوں کی عظیم قربانیوں اور لازوال خدمات کے اعتراف میں اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، معززین اور شہداءکے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداءہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ غازیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ شہداءکے اہلِ خانہ کو تمغے اور اسناد پیش کی گئیں۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا اختتام دعائے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرہ تکبیر سے ہوا، جس سے ماحول جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہو گیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ غازی اور شہید — امت کی متاعِ گراں قدر ہیں ۔ اسلامی تعلیمات میں شہید کو زندہ قرار دیا گیا ہے، جنہیں اللہ کے ہاں رزق ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (البقرہ: 154)شہید کا مقام نہ صرف آخرت میں بلند ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اعزاز و افتخار سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غازی وہ ہے جو معرکہ حق میں شریک ہو کر زندہ واپس آئے۔ غازی کی زندگی، ایمان و عمل کا چلتا پھرتا پیغام ہوتی ہے۔
    پاکستان میں شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کا ایک منظم نظام موجود ہے، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ عوامی شعور میں بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے تو اس کے اندر باہمی محبت اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔نوجوان نسل میں وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنے محافظوں کی قدر جانتا ہے۔معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کی خدمات کو صرف تقریبات یا اعزازات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تذکرے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں — ان کے کارنامے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نئی نسل ان سے واقف ہو۔معرکہ حق کے غازی اور شہید وہ چراغ ہیں جو قوم کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے لیے اعزاز و اکرام نہ صرف ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ یہ ملک اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتا۔ ہمیں بطور قوم یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہداءو غازیوں کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ رکھیں بلکہ ان کے مشن کو بھی آگے بڑھائیں — تاکہ پاکستان ہمیشہ سر بلند، محفوظ اور باوقار رہے۔

  • ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    الاسکا میں ٹرمپ اور پوٹن ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کے باوجود کوئی امن معاہدے یا جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں ہوا روس نے کوئی جنگ بندی قبول نہیں کی ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اصل مسائل پر کوئی اثر نہیں ڈالا روسی صدر جنگ بندی کی شرطوں سے منحرف رہا، صرف مذاکرات کا تاثر پیدا کرنے تک محدود رہا تاہم روسی صدر کے لیے پہلی مرتبہ مغربی زمین پر ایسا اعزاز ملا حقیقی طور پر جنگ کا خاتمہ محض ڈپلومیسی سے ممکن نہیں، یوکرائن کی مزاحمت مغربی ممالک کی مدد اور روس یہ اقتصادی دباؤ ہی اسے جلد ممکن بنا سکتے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پورے یورپ اور مغربی اتحادی ممالک کی شمولیت لازمی ہے اس کی چند بڑی وجوہات ہیں،

    یورپی سلامتی کا مسئلہ نیٹو کے ممالک روسی جارحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یہ مسئلہ صرف امریکی صدر اور روسی صدر کا نہیں ہے

    پاکستان میں اور دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہین ثابت کرتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں قوم تو زندہ ہے مگر نام نہاد سیاسی جماعتیں جو قومی سیاسی جماعتوں سے اب صوبائی اور علاقائی ہو چکی ہیں اپنے کرتوتوں سے خود تو اجڑ چکی ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ذاتی اقتدار ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو تقسیم کر دیا ملک و قوم کی حفاظت پر معمور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف ماضی اور حال میں افواہیں پھیلائیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے انکو گمراہ کیا قوم تھوڑا نہیں پورا سوچے اور غور کرے جن سیاسی جماعتوں سے اقتدار چھن جاتا ہے وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف صدائیں بلند کرتے ہیں ماضی حال ان سیاسی جماعتوں کا دیکھ لیں عوام کی لاشیں پانی میں بہتی دیکھ کر سندھ طاس معاہدے پر سینہ کوبی کرنے والے سیاست دانوں نے ڈیم بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی؟ کبھی ان قومی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی؟ نئے جھوٹ اور نئے فریب انکی تقریروں سے آپکو ملیں گے جمہوریت کے نام پر خود تو اجڑے ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے امریکہ سے لیکر مغربی ممالک میں انکے اعمال کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی پاک امریکہ تعلقات کی دوبارہ بحالی پاک فوج کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بھارت بالخصوص مودی کو کون سمجھائے ہماری پاک فوج صرف فوج نہیں انکے اندر جذبہ جہاد ہے اگر دوبارہ کوئی قدم اٹھایا تو بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

  • پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا

    "پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
    یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
    ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
    "ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
    لبیک یا حسین علیہ السلام
    سلام شہنشاہ وفا
    جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئی

    ضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں

    یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے

    لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
    اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
    پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔

    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج وہی جماعتیں صوبوں تک محدود ہو چکی ہیں زیادہ تر جماعتیں یا تو علاقائی سیاسی قوتیں ہیں یا عملا اس مقام تک پہنچ چکی ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی۔ پی ٹی آئی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے یہ جماعت بھی اب پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی طرح صوبے تک محدود ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتوں میں دو قسم کے گروپ موجود ہیں ایک مزاحمتی اور ایک مفاہمتی گروپ مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروپ پر حاوی ہے۔ جس سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں چھوٹی اور علاقائی مذہبی جماعتوں کا تعاون درکار ہو وہ جماعت قومی جماعت نہیں کہلوا سکتی ان سیاسی جماعتوں کی قومی حیثیت ختم ہو چکی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی تحریک انصاف روایتی طور پر قومی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں ان جماعتوں کا اثر متعدد صوبوں میں رہا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مضبوط تھی نواز شریف کی بار بار حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اسکے اثرات ان کی جماعت پر پڑے کسی بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نے (ن) لیگ بطور جماعت کو مقبول کرنے پر توجہ نہیں دی تاہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ن لیگ کے ورکروں اور عہدداروں کو پنجاب میں زندہ رکھا آج اس جماعت کی حیثیت یہ ہے کہ قومی سطح پر اسکی حمایت محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہے کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی طرف دیکھا گیا ہے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہ جماعت بھی اب قومی جماعت کہلوانے کے قابل نہیں رہی قیادت کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے اور روایتی قومی جماعتوں کی چنگاری ماند پڑ رہی جمہوری اداروں کی بہت سے قومی اور بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے جمہوری اداروں کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ناکام آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل نہیں کیا پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے نہ سیاسی گلیاروں میں سیاست نظر آتی ہے نہ جمہوریت نہ جمہور کی فکر جمہور کی فکر کا عالم یہ ہے شدید گرمی میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ