Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عمر گریزاں کا سفر بے شک تیزی سے گزررہا ہے لیکن اس کا دورانیہ کچھ بڑھ جائے یا زندگی کی چند سانسوں کی مزید مہلت مل جائے توخوشیاں مسرتیں محبتیں امن ،کرب تکلیفیں مصیبتیں ان کیفیات کا احساس بیدار ہونے لگتا ہے اور سمجھ بوجھ یعنی عقل سلیم عطا ہو تی ہے دینے والا وہ رب ذوالجلال ہے کچھ بھی دے سکتا ہے دکھ غم روگ تکلیفیں خوشیاں محبتیں امن سکون اس شہنشاہ کی اپنی مرضی،
    گزشتہ کچھ روزکربناک اور اعصاب شکن رہے یہ زندگی بس گزر جاتی ہے مقصد بڑا ہو تو یہ بڑی دلچسپ بھی ہو جاتی ہے بے مقصد زندگی تو ویسے ہی فضول سی گزرتی ہے ہم بھی اسی بے مقصد زندگی کا حصہ ہوئے دشوارگزار کٹھن اور ہاں کبھی کبھی کچھ لمحوں کی خوشیاں بھی نصیب ہوئیں یعنی کبھی خوشی کبھی غم۔۔۔۔ لیکن رواں دواں تھی خوب چل رہی تھی ہم سفر ہے کبھی ہنساتی ہے کبھی رلاتی ہے ساتھ تو چلنا ہے نا اسے جینا تو ہے لیکن اچانک سے گھٹیا دشمن اپنی طاقت کے زعم اور اپنی چوہدراہٹ دکھانے۔۔۔ امن کا دشمن بن گیا بدامنی کا خوف چھاگیا اور ایسا چھایا کہ بہت کچھ سکھا گیا ہمارا پڑوسی ملک بھارت گھٹیا ترین دشمن ۔۔۔وہی دشمن جو اپنے دیس کے انسانوں اور مسلمانوں کا بھی دشمن ہے
    اس نے امن کا ماحول تہس نہس کردیا اور ہم پر زبردستی جنگ تھوپ دی نجانے اس خطے کا بدمعاش بننے کا شوق کہاں سے چرا لایا پرامن بستیوں کو اجاڑنے کا خواب تو دیکھ لیا لیکن اس کی تعبیربھی نہ پاسکا کود پڑا ہمیں شکست دینے۔۔۔
    خیر اس نے اپنے دانت کھٹے کروانے اور لیٹ کر مارکھانے کے بعد اپنے آقا سے کہا کہ حضور اب ہمیں بچا لیجئے ہماری صلح کروا دیجئے یہ پاکستان ہمیں کھا جائے گا

    سو تادم تحریر جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے سکون کی وہ گھڑیاں واپس لوٹ آئی ہیں اور سکھ کے سانس آنے جانے لگے ہیں ،اگر انسان گھر کی باتیں باہر چوک پر سنانے لگے تو وہ گھر تادیر سلامت نہیں رہتے ہاں گھر کے اندر بہت دفعہ جھگڑے ہوتے ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن اگر گھر کے دروازے پر کوئی دشمن آتشیں اسلحے سے لیس ہوکر سامنے کھڑا ہو اور اندر جھگڑے جاری ہوں تو تب امن سلامت نہیں رہتا دشمن موقع سے فائدہ اٹھاکرپورے گھرکو ختم کرسکتا ہے

    بہت سے لوگوں کو اپنی افواج سے اختلافات اور تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن یہ افواج نہ ہوں تو سلامتی خطرے میں رہتی ہے اور گھر سلامت رہیں تو ہمیشہ کے یہ مسائل بعد میں بھی سلجھائے جاسکتے ہیں چونکہ میں یہ کالم گزرے تکلیف دہ اور اعصاب شکن ایام میں تحریر کررہا تھا جب ملک بھر میں دشمن اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہم پر وار کررہا تھا اس تحریر کو مکمل نہ کرسکا کالم کا بقیہ حصہ آج مکمل کرنے کا وقت ملا تو ہماری فوج تب بھی دشمن کو للکاررہی تھی جب سرحدوں پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی اور آج بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے یہ ہمارے ہی بیٹے ہیں ہمارے ہی بھائی ہیں بھوک پیاس نیند کو بھلا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں اور ہم سب نے گزشتہ دنوں یہ راتیں بھی سکون سے بے فکر ہوکر گزاری ہیں یہ سکون کی نیندیں انہی ماؤں کے بیٹوں کی بدولت ہیں جن پر ہمیں پوری امیدیں ہیں آج دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے پاگل ہوچکا ہے اور پاگل پن میں تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے اپنی پاک فوج کی ہمت بڑھائیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں فوج ہے تو ملک ہے اور ملک ہے تو ہم ہیں امن سکون اورترقی کے لئے وطن کے بیٹوں کا حوصلہ بنیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف پراپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں یہ دشمن کی وارداتیں ہیں اپنوں کا ساتھ دیں اپنے گھر کی سلامتی کو ترجیح دیں اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو بکھیرنے کا سبب بنیں نہ کہ چیخوں کی ۔۔۔۔

    جنگیں سفاک ہوتی ہیں بے رحم ہوتی ہیں ان کی راہوں میں جو کچھ آتا ہے مٹ جاتا ہے تباہی اور بربادی مقدر بن جاتی ہے ہم امن کے داعی ہیں دونوں طرف انسانیت ہے خون نہیں چاہتے لیکن گھٹیا دشمن ہمارے سر پر سوار ہے پاک فوج انشااللہ ہمیشہ اسے سبق سکھاتی رہے گی یہ فوج ہمارا فخر ہے ہمیں اپنےان جانبازوں پر مان ہے وقت کا تقاضا ہے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیں دشمن کی کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اپنے پیارے وطن کے محافظوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں اللہ تعالی ہماری افواج کو سلامت رکھے اوریہ گلشن امن محبتوں اور خوشیوں کا مسکن رہے اور یوں ہی سدا مہکتا رہے
    پاکستان پائندہ باد
    فیڈبیک کے لئے قارئین واٹس ایپ پر رابطہ کرسکتے ہیں
    03004897576

  • بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    پاکستان کی بری، فضائی، اور بحری افواج نے دنیا کی عسکری تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا دیا ، بھارت کو پہلگام میں دہشت گردی کے ڈرامے کو پاکستان کے سر تھوپ کر ، پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم پر اسے نہ صرف شکست فاش ہوئی بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پاکستان بھارت جنگ اور باہمی تعلقات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں تعینات سفراء پریس اور دیگر افسران کو بھی خواب خرگوش سے بیدار ہو کر جعفر ایکسپریس، ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں، بی ایل اے کی بلوچستان میں کاروائیوں، کلبھوشن سے لیکر جعفر ایکسپریس میں بھارت کے پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اقوام عالم کو بتانا ہو گا بلاشبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاک بھارت تنازعہ کے دوران شب و روز ہمہ تن مصروف رہے اور تمام دوست ممالک کی اعلی قیادت کیساتھ رابطے میں رہے بیرون ملک تعینات سفارت خانوں میں تعینات افسران کو پاکستان کیساتھ ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پرچار کرنا ہو گا (بلاشبہ ہماری عسکری قیادت سرحدوں کی حفاظت پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے) بھارتی وزیر اعظم کے ماضی سے ایک عالم گواہ ہے کہ وہ کن بھارتی شہر گجرات سمیت بہت سی کاروائیوں میں ملوث رہے اصل مسلہ پاکستان کو چین کے قریب ہونے اور سی پیک کی سزا مل رہی ہے بھارت نے پہلگام کروا تو دیا جسکے ثبوت اس کے پاس نہیں بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چین بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن کر حائل ہے .

    یاد رہے عالمی طاقتوں کے یہ بات نوٹس میں ہے کہ بھارت میں پہلے ہی کئی ریاستوں میں علیحدگی پسند تنظیمیں موجود ہیں، اصل میں بھارت پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے آئی ایم ایف سے بھی کہا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر نقصان ہو، پاکستان کی موجودہ ابھرتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، حکومت پاکستان کو معیشت کو مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دینی چاہیے بھارت پہلگام کی دہشت گردی پاکستان کے نام کرکے ترقی و حمایت کی راہیں محدود کرنے کی ناکام کوشش کی ہے مودی سرکار ابھی تک دنیا کو پہلگام واقعہ کے ثبوت فراہم نہ کر سکا پاکستان کی ابھرتی معاشی صورتحال کو رکاوٹوں سے دوچار کرنے کے لیے کشیدگیاں و تلخیاں مودی سرکار نگر نگر گھوم رہی ہے کہ کہیں ہندو توا کا تاج گر نہ جائے بلاشبہ امریکی صدر اور دیگر اقوام نے پاک بھارت جنگ میں مداخلت کرکے پورے خطے کو بچا لیا مودی سرکار کو روس اور چین کی بڑھتی ہوئی قربتیں اچھی نہیں لگ رہیں، عالمی ذرائع کے مطابق روس چین تعلقات کو ایک نئے عالمی نظام کے قیام میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے ، نام نہاد جمہوریت کے روپ میں عالمی دنیا اگر آمریت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بھارت کے اندرونی علیحدگی پسند تنظیموں کو دیکھنا ہو گا، مودی کا ماضی اور حال اور پہلگام کے خودساختہ خونی ڈرامے کی نمائش سامنے آجائے گی،

  • مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    دنیا کی بناوٹ کو اس کے وجود کے اعتبار سے دیکھتا ہوں تو زمین پر ہوئی ساری کی ساری تخلیق قدرت کی مصوری کا پتا دیتی ہے اور خدا کو جاننے کے تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا کاسب سے پسندیدہ مشغلہ تخلیق ہی رہا ہے اور ہر تخلیق اپنی ابتدا سے ہی اپنے حسن پر برقرار کھڑی ہے اور زمین کا سارا انتظام انسانی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے تو یہ جو پانی پہ زمین کا تخت انسان کے لیے سجایا گیا ہے اس پہ دنیا نام کی کیا حقیقت ہے جس کو اس کے بنانے والے نے بھی برائیوں فتنوں خرابیوں حقیر اور ناجانے کیا کیا ناپسندیدہ القاب سے پکارا بتایا سمجھایا ہے تبھی تو خدا کے محبوب بندوں نے دنیا کبھی دنیا بنانے والے سے بھی نہیں مانگی۔ میں بہت غور و فکر اور ذاتی زندگی کے تجربے سے جس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا نام کی ساری خرابیوں کو جمع کرکے اسے کوئی نام دیا جائے تو وہ مال و دولت ہی ہوگا جس سے دنیا کے سارے فتنے رونما ہوتے ہیں ویسے تو ایمان والوں کے لیے دولت کے علاوہ بھی کئی صورتوں کو فتنے کا نام دیا گیا ہے مگر جس نے سب سے زیادہ سکون انسانی برباد کیا وہ مال ہی ہے جسکی غیرموجودگی نے اچھوں کو برا کر دیکھایا اورموجودگی نے بروں کو اچھا بنا کر پیش کیا۔ اصل میں دنیا ہی ہے مال کا نام جس کی حوس ایمان ہی کیا پورے کے پورے انسان کو ہی کھا جاتی ہے تبھی یہ انسان نگلنے والی بلا سے نفرت کے تناظر میں خدا اور خدا کے بندوں کے سخت اقوال خوب وضاحت کرتے ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے قول علی ؓہے کہ دنیا میرے نزدیک ایسے ہے جیسے سور کی انتڑیاں جو کوڑھے کے ہاتھوں میں ہو۔

    جس انسان کی جائز ضرورتوں کو اس کے لیے آسان رکھ کر اسے مال کی حوس سے آزاد کردیا گیا اُس کی غربت بھی بادشاہی کا اک روپ ہے اور جیسے ضرورتوں سے زیادہ ما ل دے کرمزید مال کی حوس میں جکڑ دیا گیا اس شخض کی اپنی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے میں نے لاکھوں کرڑوں کے ایسے کئی مالک دیکھے ہیں جن کے پاس مال تو ہے مگر خود دوکوڑی کے بھی نہیں ہوتے ان بے قیمت لوگوں کو پا کر میں سوچتا تھا دنیا جتنی خود گری ہوئی ہے اس کا انتخاب خود سے زیادہ گرے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں یعنی دنیا اُنہی کے پاس جاتی ہے جو دنیا کے مزاج کے ہوتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ روحیں جنہیں دنیا راس ہی نہیں آتی اور وہ دنیاوی نظام کو ٹھکرا کر آسمانی دنیا کے دھیان میں رہتے ہیں جنہیں لوگوں نے غربت کی نفرت میں ددھکار دیا وہی لوگ آسمان والے کے لاڈلے ٹھہرے ہیں۔ دنیا کی مشکلیں صبر کرنے والوں کے لیے اگلے جہان کی آسانیاں ہیں مگر میں ایمان و انسان کے سارے رشتے کھا جانے والی دولت نامی بلا کی اتنی اہمیت کیوں بنائی پر مبنی سوال بارگاہ خداوندی میں کرتا تو جواب آتاکہ ایمان صورت حسینی میں جتنی نایاب و پاکیزہ دولت ہے اسے آزمانے کے لیے یزیدی دنیا ہی درکار تھی اپنے اردگرد کی دنیا دیکھئے مال کے چکر میں ایمان کی بدصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے دولت دنیا نے انسان کے ہاتھوں ہی انسان کو بے قیمت بنا کر رکھا دیا انسانیت کی جگہ کثرت مال دیکھ کر عزت و اہمیت دی جاتی ہے جبکہ یہ عزت و اہمیت دولت کی طرح جھوٹ کی وہ تصویر ہے جیسے مفاد کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    کثرت زر کی حوس میں ڈوبی بدبودار رُوحیں حقوق کی زمین پہ فساد کی جڑ ہیں ان کی زندگی کا واحد اصول۔ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔ یہ قدرت کی طرف سے رکھا گیا حلال بھی اپنی حوس زدہ سوچ سے حرام بنا کر برکت کی توہین کے گنگار لوگ ہیں اسلامی معاشرے کا سب سے بھیانک چہرہ اُن لوگوں کا ہے جواسلامی حیلے میں دنیا جمع کرنے کے لیے اخلاقی شرعی قانون کی حرمت پامال کرتے ہیں مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر شرافت کا ڈھونگ کرتے ہیں جبکہ ان کی شرافت شر اور آفت کا مجموعہ ہوتی ہے میں نے پانچ وقت کے حرام خور نمازی بھی دیکھے ہیں جو نہ نماز چھوڑتے ہیں نہ حرام چھوڑتے ہیں ان کی عبادت عبادت نہیں عادت ہے جو ان کی اندر کی حرام حوس کو مارنے پربے اثر رہتی ہے ان پر بات کی جائے تو یہ اپنے بدکردار کی نشاندہی کوتوہین مذہب سے جوڑ کر اللہ کے بدمعاش بن جاتے ہیں دنیا کے عاشق دنیا کے حیلے میں ہی کماؤ دین کا لبادہ اُوڑھنا ہے تو دین کوکردار میں اپناؤ خریدا ہوا مال واپس اور تبدیل کرنے کے ساتھ شرعی منافع رکھوکیا یہ غرض مال دنیا کی منافقت نہیں کہ خریدتے وقت عیب نکالیں جائیں اور وہی چیز فروخت کرتے ہوئے تعریفیں بیان کی جائیں

    اپنی دکانوں کے باہر لوگوں کا راستہ کرایے پر دینے والوں کو اس حدیث پر ایمان کیوں نہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے راستے کی جگہ پہ تو نمازتک نہیں ہوتی جب سب سے افضل عبادت جائز نہیں ہوتی تو روزی کیسے جائز ہو سکتی ہے اس عمل سے منسلک دونوں افراد حرام کا شکار ہیں طالب دنیا کے پھیلائے فتنوں پہ جتنی بھی بات کرو یہ پھیلتی ہی چلی جائے گئی آپ کے اپنے زہن میں بھی بے شمار حوالے آ رہے ہوں گے جو روزمرہ کی زندگی میں اپنے معاشرے کے طرزعمل سے سب کو نظر آتے ہیں ان ساری خرابیوں پر بات کرنے کی سمجھداری تو سبھی رکھتے ہیں مگراصل ضرورت اس بات کی ہے جس سے اصلاح کا ایسا نظام کیسے بنایا جاسکے جس سے انسان انسان کو حوس دنیا میں ڈسنا بند کر دیں اس کے لیے پہلے تو دنیا کی اُس نفرت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خدا اور خدا کے محبوب بندوں میں پائی جاتی ہے۔یہ کیامسلمانیت کی بدقسمتی ہے کہ آسمانی معیار کی سوچ کو چھوڑ کر زمینی خرابیوں کو اصول زندگی بنا لیا جائے مصنوعی مہنگائی اور زمینی بے روزگاری کے طوفان کے آگے پل باندھنے کی بجائے اس کے نئے راستے اُس جانب کھولے جائیں جہاں مجبور بے بس انسان بستے ہیں اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے حالاتوں سے سمجھوتہ کرکے اوپر کے ظلم نیچے والوں پہ تقسیم کرنے کی بجائے ظالم کو اصلاح پہ مجبور کیا جائے ریاست کی ترقی کے لیے انسانیت کے اخلاقی کردار کو مسخ کرنے والے صاحب اختیار لوگوں کی جگہ صاحب ضمیر لوگوں کو بیٹھایا جائے غربت اگر اتنی ہی بری ہوتی تو خدا اپنے ہرمحبوب بندے کو یہ تحفے میں نہ دیتا بدکردار دولت مندی کی بجائے باکردار غربت پہ فخر کرنا شیوہ پیغمبری ہے حلال و جائز زرائع سے روزی کمانا عین عبادت ہے اور اس عبادت کو قضا کرنے والے کی خدائی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی دین کے نام پر لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے کی بجائے لوگوں کی دنیا دین کے مطابق بنانا دین سے سب سے بڑی خدمت ہے دنیاوی نظام کو دینی نظام میں ڈھالنا ہی آخرت کی تیاری ہے دنیاوی زندگی میں آسانی ہے۔ بندہ کسی بندے کا گنہگار نہ نکلا تو بخش دیا جائے گا مگرکسی بندے کا گنہگار نکلاتوہمیشہ ہمیشہ کی زلتوں میں جکڑ دیا جائے گا

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان کی دفاعی تاریخ میں جب بھی ذکر ہوتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ خاص لمحے ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔ ان لمحوں میں سے ایک وہ وقت،دس مئی، بعد نماز فجر،جب پاکستان نے اپنے دشمن بھارت کو ایک زبردست فوجی جواب دیا۔ اس آپریشن کا نام تھا "بنیان مرصوص”، اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل کا نام تھا "الفتح”۔

    "الفتح” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "فتح” یا "کامیابی”۔ یہ نام اس میزائل کو دیا گیا کیونکہ اس کا مقصد دشمن کو شکست دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا تھا۔ "الفتح” ایک جدید اور انتہائی طاقتور میزائل تھا، جو کسی بھی دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس میزائل کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ دشمن کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔پاکستان کے اس فوجی آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھا گیا، جو کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے اتحاد اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "بنیان مرصوص” کا لغوی معنی ہے "ایک مضبوط دیوار” یا "ایک مضبوط قلعہ”۔ اس آپریشن کا مقصد دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کرنا تھا۔ آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے اس کا نام "بنیان مرصوص” بہت مناسب ثابت ہوا۔

    آپریشن کا وقت بھی ایک خاص روحانیت اور تاریخ سے جڑا ہوا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک حدیث سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے،”جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہو، تو تمہاری کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”یہ حدیث مسلمانوں کے عزم و حوصلے کو بڑھاتی ہے، اور اس آپریشن کی کامیابی میں اس کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپریشن کی کامیابی اور طاقت کے پیچھے ایک عظیم ایمان اور عزم کا راز تھا۔

    پاکستانی فوج کے ہر آپریشن کی طرح اس آپریشن کی ابتداء بھی "بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم” سے کی گئی۔ یہ نہ صرف ایک روحانی آغاز تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد شامل ہے۔ فوجی افسران اور جوانوں نے اس کلمے کے ذریعے اپنے دلوں میں عزم پیدا کیا اور دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعائیں کیں۔جب آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو حاصل کیا گیا، تو اس کا اختتام بھی ایک روحانی انداز میں کیا گیا۔ اس کا اختتام "الحمدللہ رب العالمین” سے کیا گیا، یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔” یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اس عظیم کامیابی کا سارا کریڈٹ اللہ کی ذات کو جاتا ہے۔ اس اختتام سے یہ پیغام دیا گیا کہ جب انسان اپنی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو کامیابی خود بخود ملتی ہے۔

    آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کو ایک ایسا جواب دیا جس نے اس کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کی دفاعی حکمت عملی اور طاقت کے باوجود، پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کی تباہی کا منظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی فوج کی طاقت اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی چالاکیوں کو بے نقاب کر دیا۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن کے بعد، بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی۔ اس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی کامیابی کا واضح پیغام تھا۔یہ تمام واقعات نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے، بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ "الفتح” میزائل اور "بنیان مرصوص” آپریشن کی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔

  • "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    6 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے بزدلانہ وار کیا گیا اور رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت مزائل حملے کیے گئے جن میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا بقول ڈی جی آئی ایس پی ار احمد شریف کے بھارت نے مریدکے ، بہاولپور، مظفرباد، کوٹلی، شکرگڑھ اور دیگر مقامات پر میزائل حملے کیے۔ جن کی وجہ سے مساجد اور نہتے بے گناہ عام پاکستانی شہید ہوئے۔یہ خالصتا سویلین آبادی پر حملہ ہے اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔بھارت نے نہ صرف بین الا قوامی قوانین کی سرحد پار کی بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ہماری مسجدیں، مدرسے، بچے ،خواتین اور نہتے شہری شہید ہوئے بھارتی میزائل ہمارے گھروں تک آگئے ہیں۔ یہ بھارت کی ننگی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔

    حملے کے تمام اہداف خفیہ نہیں تھے بھارتی سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ کن جگہوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ اس کے باوجود ہم اتنے غیر تیار کیوں رہے؟ بہرحال افواج پاکستان کا دفاعی رد عمل بلا شعبہ قابل تعریف رہا ۔ پاکستانی ایئر فورسز کی جانب سے گرایا جانے والا بھاری رقم کے عوض فرانس سے خریدا گیا زبردست جنگی طیارہ رافیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے باعثِ ندا مت بنا۔بھارتی کھلی جارحیت کے بعد 7 مئی 2025 کو رانا ثنا اللہ کی جانب سے بیان دیا جاتا ہے کہ "افواج نے کاروائی کی ہے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے اگر بھارت مزید کوئی کاروائی نہیں کرے گا تو ہم بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کاروائی نہیں کریں گے” دشمن پہلے ہی گھر میں گھس کر ہمارے لوگوں کو شہید کر چکا ہے اس پر ایسا غیر سنجیدہ اور احمقانہ بیان پاکستان کو ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی نہایت کمزور دکھا رہا ہے اور پھر ہوتا کیا ہے کہ بھارت اپنی مزید جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے ایک ہی روز میں پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، کراچی، پنڈی، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں تقریبا 77 ڈرون اٹیکز کرتا ہے۔ یہ انتہا ہے کہاں کہاں سے ڈرونز گر رہے ہیں، بھارت مسلسل جارحیت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے جاسوسی کر کے جو معلومات حاصل کرنا تھی وہ کر چکا ہے یہ ڈرونز فرا دینا محض دفاعی رد عمل ہے،

    قابل غور بات ہے کہ اگر بھارت واقعی اس معاملے کو بڑھانا چاہے تو اس کے پاس تمام معلومات دستیاب ہیں جن کی بنا پر وہ پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ دفاع کرنے اور جواب دینے میں کافی فرق ہے۔ جیسا کہ بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا اور پاکستان کے 35 لوگ جن میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں شہید کر دیے اور پھر پاکستان اسی حملے کے دفاع میں بھارتی طیارے اور ڈرونز گراتا ہے بھارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ صرف دفاع ہے جواب نہیں۔ دفاع کا مطلب ہوتا ہے اپنے نقصان کو روکنا، اپنی حفاظت کرنا، دشمن کی طرف سے کیے گئے وار کو ناکام بنانا، انہیں روکنا جبکہ جواب کا مطلب ہوتا ہے دشمن کو یہ احساس دلانا کہ جو نقصان تم نے ہمیں پہنچایا ہے اس کی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی تاکہ آئندہ دشمن ایسا حملہ اور ایسی حماقت کرنے کی جرات نہ کر سکے .

    بھارت جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کے شہروں کے اندر اآکر نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے وزیر دفاع خواجہ اصف کی طرف سے بیان آتا ہے کہ” ہم بھارتی شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے” بطور پاکستانی ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جرات بھارت نے دکھائی ہے اس کا جواب دندان شکن ہونا چاہیے۔ اگر بھارتیوں کو نشانہ نہیں بھی بنانا تو مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آے والے دریاؤں پر بنائے گئے تمام چھوٹے بڑے ڈیمز آپریشن تجاوزات کی طرح گرانا بے حد ضروری ہیں ۔موجودہ حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کی بھارتی جارحیت پر خاموشی قابل افسوس ہے اس پر عطا تاڑ کا بزدلانا بیان” بھارت نے پاکستانی سرزمین پر جارحیت کی عالمی برادری نوٹس لے” نہایت شرمناک ہے۔

    ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ دشمن کی طرف سے کی جانے والی ہر جارحیت کے بعد ہم صرف جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیا ہم یہ کہنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں کہ بھارت ہمارے گھر تک آگیا اور ہم نے ان کے جہاز گرا دیے یا سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت کے اس عمل کی مذمت کی جائے۔ پاکستانی عوام کو یہ کہہ کر مطمئن نہ کیا جائے بلکہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ بھارت کو آئندہ ایسی ننگی جارحیت کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے۔ قوم پاکستان، افواج پاکستان کی طرف سے دفاعی رد عمل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھرپور منہ توڑ جواب دینے کی منتظر ہے ایسا جواب جب پوری دنیا میں پاکستان کی طاقت کا لوہا منوا سکے۔ پاکستان زندہ باد

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں

  • صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کی حفاظت اور صحافت کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوامی معلومات تک رسائی کی اہمیت کو سمجھانا اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر سچائی کا پتہ چلا سکیں اور آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

    آزادی صحافت کی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ صحافت، جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف حکومتوں کی نگرانی کرتا ہے بلکہ عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلیوں کو سامنے لاتا ہے۔ آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں مختلف جگہوں پر صحافیوں کو خطرات، ہراسانی اور تشویش کا سامنا ہے۔یہ دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد صحافت کے لئے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دینا ہے تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو آزادانہ طور پر پورا کر سکیں۔

    پاکستان میں صحافت کی آزادی ایک پیچیدہ اور مشکل سفر رہا ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آئین میں صحافت کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، مگر حقیقت میں صحافیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کو سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات، اور بعض اوقات تشویش یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ صحافی جو سچائی بیان کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں، تشدد، یاپھر جان بھی لے لی جاتی ہے،

    صحافیوں نے ہمیشہ عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی سیاسی کشمکش، اور دیگر مسائل پر صحافیوں کا کردار اہم رہا ہے۔ تاہم، انہیں مسلسل خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں خود مختاری کی کمی، معلومات کی آزادی پر قدغن، اور میڈیا کی آزادی کو دبانے کی کوششیں شامل ہیں،صحافیوں کو پاکستان میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں بھی دیں، سب کی خبر دینے والے صحافی اپنی تنخواہ نہ ملنے کی خبر کسی کو نہیں دے سکتے، صحافیوں کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا معاشی استحصال نہ کیا جائے،

    دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک اہم موقع ہے۔ کئی ممالک میں صحافیوں کے لئے حالات بہتر ہو رہے ہیں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عالمی سطح پر حکومتوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ صحافیوں کی آزادی کی حفاظت کریں اور صحافتی اداروں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت دیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں آزادی صحافت محدود ہے، صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیاں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوریت کے استحکام کی طرف ایک قدم ہیں۔ صحافیوں کو حقائق کی تلاش اور معلومات کی ترسیل میں آزاد ہونے کا حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ عوام کو صحیح اور غیر متنازعہ معلومات فراہم کر سکیں۔

    آزادی صحافت کا عالمی دن ایک یاد دہانی ہے کہ صحافت ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کا مقصد معاشرتی تبدیلی، انصاف اور سچائی کی تلاش ہے۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صحافی بغیر کسی خوف کے اپنے فرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی آزادی نہ صرف صحافیوں کے حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ یہ جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی بنیادی حقوق کی ضمانت ہے۔

  • ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ہمارے آباؤ اجداد نے گوروں سے آزادی کی خاطر کون سی ایسی قربانی ہے جو نہ دی ہو اس داستان کو اگر تفصیل میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ جانے کتنے صفحات لکھنے کے بعد بھی مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ سینکڑوں قربانیاں دینے ،اذیتیں اور درد اٹھانے کے بعد حاصل ہونے والی آزادی میں کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ پاکستان کی موجودہ صورتحال دیکھنے کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سفر محض غلامی سے غلامی تک کا ہی ہے۔ 1947 میں جو آزادی انگریز راج سے حاصل کی گئی تھی وہ اب ان کے پیروکاروں کی غلامی میں بدل چکی ہے۔ تاریخ کس طرح سے اپنا دہرا رہی ہے اس کا اندازہ قیام پاکستان سے پہلے جلیانوالہ باغ امرتسر پنجاب میں ہونے والے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوا کچھ اس طرح سے تھا کہ اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ امرتسر میں سکھوں کا مذہبی تہوار بیساکھی منانے اور حصول آزادی کی خاطر جلسہ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس وقت برٹش آرمی کے موجودہ جنرل ڈائر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں برسانے کا حکم دیا۔ جنرل ڈائر کے حکم پر پر تا بڑ توڑ گولیاں برسائی گئیں اور ایک ہجوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہر وہ آواز دبا دی گئی جو اس ظلم کے خلاف اٹھی لوگوں کی عزتیں اتارنا شروع کر دی گئیں ایسا خوف و ہراس پھیلایا گیا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ایسی سفا کانہ سزائیں دی گئیں جن کا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    انگریز بھی بات تو برابری کی ہی کرتا تھا مگر جب بھی کوئی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھاتا تو جوابی رد عمل انتہائی سنگین ہوتا پاکستان میں بھی اس وقت کوئی انسانی حقوق کسی کو حاصل نہیں ہے ذرا سی تنقید برداشت نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں عوام کی رائے کا احترام کرنا تو دور کی بات ہے بولنے پر بھی پابندی ہے۔ آوازیں دبا دی جاتی ہیں،
    ہمارا عروج یہ تھا کہ خلیفہ وقت سے بھی سوال ہوا تھا کہ اضافی چادر کہاں سے آئی؟
    زوال یہ ہے کہ سوال اٹھاؤ گے تو اٹھا لیے جاؤ گے۔
    اس ظلم و جبر کے تانے بانے آج بھی انگریز راج سے جڑے ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم پر اگر نظر ڈالیں تو پاکستانی نظام تعلیم آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 کو فالو کر رہی ہے۔ جہاں نمبرز کو اہمیت دی جاتی تھی اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپ اپنی قابلیت سے ٹاپ کر رہے ہیں یا رٹا لگا کر کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے یونیورسٹیز اور کالجز کے سٹوڈنٹس کو کنسپٹ سمجھنے کے لیے گھر جا کر یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنا پڑتی ہیں جہاں یہ سٹوڈنٹس اپنا کنسپٹ کلیئر کر رہے ہوتے ہیں وہ تمام تر ویڈیوز 90 فیصد انڈین کی ہوتی ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بزنس اورینٹ تو دور جاب اورینٹ بھی نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹیز اور کالجز میں کوئی ٹیکنیکل یا پریکٹیکل نالج نہیں دی جاتی ہے ۔ ٹیکنیکل نالج کے لیے سٹوڈنٹس کو یا تو کوئی تین چار مہینے کا کورس کرنا پڑتا ہے یا ان پیڈ انٹر ن شپ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس تمام کامیاب ممالک میں جدید طرز سے سٹوڈنٹس کو پریکٹیکل اور ٹیکنیکل طریقہ کار سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ مگر ہمارے نوجوان اسٹوڈنٹس آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سب کے علاوہ وہی پرانا ڈبل سٹینڈرڈ طرز زندگی جس طرح انگریز پر آسائش زندگی گزارا کرتے اور باقی عام عوام نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے آج بھی پوش علاقوں میں جا کر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی یورپی ملک میں آگئے ہوں،دوسری طرف عام عوام کے علاقے دیکھ لیں جہاں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ کھڈ ے، تنگ گلیاں ان میں ابلتے ہوئے گٹر چھوٹے چھوٹے گھر بنیادی سہولیات سے محروم غریب عوام کی پسماندگی کو چیخ چیخ کر ظاہر کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں اور پسماندہ علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ایک غیر منصفانہ نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مخصوص طبقہ عوام کے تمام تر حقوق اور وسائل پر قابض ہے۔ جن کی نظر میں انگریزوں کی طرح پاکستانی محض غلاموں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947 میں حاصل کی گئی آزادی کے بعد بھی عام عوام آزادی کا اصل مزہ لینے سے محروم ہے اور آزادی کس چڑیا کا نام ہے اس بات سے مکمل طور پر لا علم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے نہ اسلامی قوانین کی کوئی پاسداری ہے۔ ایک غیر منصفانہ جبری نظام رائج ہے۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک بار پھر عوام کو متحد ہو کر اپنے حقوق چھیننا ہوں گے اور اصل آزادی حاصل کرنا پڑے گی جس کے لیے عوام کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں قران پاک میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے اگر اپ عوام اپنی آزادی کے لیے اپنے حقوق کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو کوئی آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے یہی سبق ایک معروف شاعر کے اس شعر سے بھی ملتا ہے۔
    جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
    اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
    ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
    مٹ جاؤ یا قصر پامال کرو
    ( حبیب جالب)۔

  • ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    0300-6668477

    میرا نام مزدور ہے۔میں صبح کے دھندلکے میں گھر سے نکلتا ہوں، جب تمہاری۔آنکھیں ینند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں وہ ہوں جو تمہارے لیے عمارتیں کھڑی کرتا ہے، تمہاری سڑکیں بناتا ہے، تمہاری فیکٹریاں چلاتا ہے، تمہارے بچوں کی کاپیاں بناتا ہے، اور کبھی کبھی تمہارے بچوں کو اپنی محنت کا خون پلا کر تعلیم سے محروم کر دیتا ہے۔
    میں وہ ہوں جو رکشہ چلاتا ہے، جو نالی صاف کرتا ہے، جو اینٹیں ڈھوتا ہے، جو ہوٹل پر برتن مانجھتا ہے۔ میرے ہاتھ کھردرے ہیں، میرے ناخنوں میں مٹی ہے، میرے جسم سے پسینہ بہتا ہے۔ مگر تمہیں شاید اس کی بو آتی ہے۔ تم مجھے سلام کرنے سے بھی کتراتے ہو۔
    سال میں ایک دن تم مجھے یاد کرتے ہو — یکم مئی کو۔
    مجھے عجیب لگتا ہے جب سفید پوش لوگ، اے سی ہالوں میں بیٹھ کر، میرا دن مناتے ہیں۔ میری غربت پر تقریریں کرتے ہیں، میری مزدوری پر اشعار پڑھتے ہیں، میرے بچوں کے لیے فلاحی اداروں کے وعدے کرتے ہیں۔ میں ان کے بیچ اپنی میلی قمیض اور پائوں میں ٹوٹی چپل لیے کھڑا ہوتا ہوں، جیسے کوئی مزار پر فقیر کھڑا ہو — ہاتھ پھیلائے، آنکھیں بند کیے، دعا کی امید میں۔
    مگر کیا تم جانتے ہو؟
    مجھے صرف ایک دن کی ہمدردی نہیں چاہیے۔
    مجھے انصاف چاہیے، عزت چاہیے، زندہ رہنے کا حق چاہیے۔
    میں خیرات نہیں مانگتا، حق مانگتا ہوں۔
    تم کہتے ہو غلامی ختم ہو چکی۔ میں کہتا ہوں، نہیں!
    میں آج بھی اُس فیکٹری میں غلام ہوں جہاں مجھے کم از کم تنخواہ سے بھی کم پیسے ملتے ہیں۔
    میں اُس کھیت میں غلام ہوں جہاں زمین کا مالک صرف مجھے ’’ہاری‘‘ کہہ کر بلاتا ہے، نام سے نہیں۔
    میں اُس گھر میں غلام ہوں جہاں میں بیوی بچوں سمیت چوبیس گھنٹے ملازم ہوں اور چھٹی کا تصور تک نہیں۔
    تم نے غلامی کا نام بدل دیا ہے — بس!
    اب یہ "ٹھیکیداری نظام” کہلاتا ہے، "کنٹریکٹ ورکر” کہلاتا ہے، "ڈیلی ویجز” کہلاتا ہے۔
    میری چھت نہیں ہے، میرے گھر میں چولہا اکثر نہیں جلتا۔
    اسی لیے میرا دس سالہ بچہ بھی مزدور ہے۔ تم نے اسے "چائلڈ لیبر” کہا، میں نے اسے "روزی” کہا۔
    تم نے اس پر قانون بنایا، میں نے اس پر آنسو بہائے۔
    کیا تمہیں کبھی سڑک کنارے شیشہ صاف کرنے والے، چائے کے ہوٹل میں کام کرنے والے، یا فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرنے والے بچے نظر آئے؟ وہ سب میرے بچے ہیں۔
    ان کے کندھوں پر بستے نہیں، ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی انگلیوں میں پین نہیں، چھالے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خواب نہیں، تھکن ہے۔
    یکم مئی کو میرے نام پر بینرز مت لگاؤ، مجھے تقریروں میں مت یاد کرو، میری تصاویر کو سجاوٹ نہ بناؤ۔
    مجھے وہ قانون دو جو میری محنت کا تحفظ کرے۔
    مجھے وہ سہولت دو جو میرے بچوں کو تعلیم دے، میری بیوی کو دوا دے، اور میرے بڑھاپے کو تنہائی سے بچائے۔
    میری یونینیں مت خریدو، میرے نمائندے مت جھوٹے وعدوں میں جکڑو۔
    مجھے میرے حق کا ایک سچا، مختصر سا وعدہ دے دو — ’’میرے پسینے کا پورا معاوضہ۔‘ میں خواب دیکھتا تھا — چھوٹے سے مکان کا، بچوں کی تعلیم کا، اور بیماری سے نجات کا۔
    مگر تم نے ان خوابوں کو ’’مہنگائی‘‘ کے شکنجے میں دبا دیا۔
    ہر مہینے آٹے کی قیمت بڑھتی ہے، ہر ہفتے بجلی کا بل دوگنا ہوتا ہے، اور ہر دن میری اُجرت کم لگنے لگتی ہے۔
    مجھے بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے — مگر میرا چولہا آج بھی ٹھنڈا ہے۔
    میں اکیلا ہوں مگر کمزور نہیں۔
    میری محنت سے تمہارے شہر روشن ہیں، تمہاری فیکٹریاں آباد ہیں، تمہاری زندگی رواں ہے۔
    اگر میں ہڑتال کر دوں تو تمہاری سہولتیں رک جائیں۔ اگر میں سڑک پر آ جاؤں تو تمہیں اپنی گاڑی سے اترنا پڑے گا۔مگر میں فساد نہیں چاہتا۔ میں فقط عزت چاہتا ہوں۔
    اگر واقعی تم میرا دن منانا چاہتے ہو تو:
    میرے بچوں کو اسکول بھیجو۔
    میری تنخواہ بروقت اور پوری ادا کرو۔
    مجھے دو وقت کی عزت دار روٹی دے دو۔
    میری بیماری کا علاج کروا دو۔
    میرے بڑھاپے کو سڑک پر نہ چھوڑو۔
    میرا نام مزدور ہے — میں تمہاری بنیاد ہوں، تمہاری طاقت ہوں، تمہاری ترقی کا پہیہ ہوں۔
    اگر تم نے مجھے پہچان لیا تو کل کا پاکستان روشن ہوگا۔ اگر مجھے بھلا دیا تو صرف عالیشان عمارتیں بچیں گی — اندر سے خالی، باہر سے روشن۔
    تم آج یکم مئی مناتے ہو؟
    چلو مان لیا — مگر خدا کے لیے، کل مجھے پھر نہ بھول جانا…….!
    تپتی سڑکوں پر ننگے پاؤں سفر کرتے ہیں
    یہ وہ لوگ ہیں جو پتھر کو بھی تر کرتے ہیں
    دھوپ سہتے ہیں، پسینے میں نہاتے ہیں مگر
    یہ تو ہر حال میں ہمت کو بشر کرتے ہیں
    بھوک چپ چاپ لبوں پر جو سجا رکھی ہے
    دل کے زخموں کو ہنستے ہوئے پر کرتے ہیں
    کب کوئی پوچھتا ہے اِن کے دکھوں کا موسم
    وہ دعاؤں سے ہی قسمت پر صبر کرتے ہیں
    خون ، پسینہ، خواہشیں ، ان کی ہیں شاہد
    شہر کے خواب کو وہ ، تعبیر سفر کرتے ہیں