Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پہلگام ڈرامہ،  ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مودی سرکار اپنی ناکامیوں، ظلم و جبر، کرپشن اور انتہاپسندانہ پالیسیاں چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی پلوامہ، کبھی اوڑی، اور اب "پہلگام”لیکن اس بار بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ہر الزام کا دنداں شکن جواب دیا بلکہ اتحاد، جرأت اور حب الوطنی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بھارت نے حسبِ عادت انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی، تو پاکستانی قوم نے جواب دیا "اگر جنگ مسلط کی گئی تو تمہیں وہ سبق سکھائیں گے جو تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی!”افواجِ پاکستان نے کمر کس لی، سیاستدانوں نے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں بات کی، میڈیا نے دلیرانہ انداز اپنایا، اور عوام پاکستان نے سوشل میڈیا کو مورچہ بنا کر دشمن کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔

    اس جنگ میں سچائی کے سپاہیوں کی صفِ اول میں ایک نام نمایاں ہے،مبشر لقمان ، وہ اینکر، وہ صحافی، جسے نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے،پہلگام واقعے کے فوراً بعد مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل” پر مسلسل پروگرامز کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ مودی سرکار کے جھوٹ، بھارتی میڈیا کے جھانسے، آر ایس ایس کے ایجنڈے، اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کے پروگرام "کھرا سچ” نے وہ سچ دکھایا جو بھارتی عوام سے چھپایا جا رہا تھا۔بھارت، جسے خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا زعم ہے، سچ برداشت نہیں کر سکا۔ مودی سرکار نے مبشر لقمان سمیت کئی پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بھارت میں بند کر دیے۔یہ صرف ایک یوٹیوب چینل کی بندش نہیں، یہ آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی شرمناک کوشش ہے.ایک طرف بھارت دنیا کو آزادی کا سبق دیتا ہے، دوسری طرف سچ سننے کی سکت نہیں رکھتا۔ جو سوال کرتا ہے، جو آئینہ دکھاتا ہے، جو حق بولتا ہے ، اس کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھو مودی،سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا

    کھرا سچ کبھی نہیں جھکتا،پاکستان کے دلیر صحافی، عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ ہمارا پیغام صاف ہے "اگر تم جنگ چاہتے ہو، تو ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں! لیکن سچ سے مت بھاگو، سچ کو سنو”مبشر لقمان جیسے صحافی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی علامت ہیں۔ اور جب تک ایسے چراغ روشن ہیں، پاکستان کا موقف دنیا تک پہنچتا رہے گا، چاہے تم کتنے ہی چینل بند کرو، کتنے ہی پراپیگنڈے کرو ..”کھرا سچ” ہمیشہ بولے گا، گونجے گا، اور تمہاری نیندیں حرام کرتا رہے گا

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    اسلام میں نکاح کا اعلان کرنا ایک مؤکد سنت ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف نسب کی حفاظت ہے بلکہ معاشرتی فتنوں اور بدگمانیوں سے بچاؤ بھی ہے۔ نکاح کا اعلان کسی خاص انداز یا میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں۔۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی مشہور شخصیات کے نکاح کے معاملے میں یہ اصول اور زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ نکاح عام عوام کے علم میں ہو۔۔۔۔
    ایسا شخص اگر اپنی ازدواجی زندگی کو میڈیا کی چمک دمک سے بچا کر رکھتا ہے،۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کی تصویریں تفصیلات یا نجی معلومات عام نہیں کرتا،
    تو یہ بالکل جائز اور قابل احترام بات ہے۔ بلکہ قابل ستائش ہے۔۔۔۔
    اسلام بھی پردے، رازداری اور گھریلو وقار کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
    لیکن شرط یہ ہے کہ
    نکاح کا وجود،
    عام لوگوں کے علم میں ہو۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ
    نکاح ہی چھپا لیا جائے، ازدواجی رشتہ ہی پوشیدہ رکھا جائے، یا عوام کو علم ہی نہ ہو کہ اس شخص کی شریعت کے مطابق کوئی اور بیوی موجود ہے۔۔۔۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجی زندگی کو حد میں رکھنا اورنکاح کے وجود کو چھپانا — یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کو میڈیا سے دور رکھنا نجی زندگی کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے، اور اسلام پردے، حیاء اور پرائیویسی کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن نکاح کے بارے میں اعلانیہ بتانے کا حکم دیتا ہے کہ کسی قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اور ذاتی زندگی کو حد میں رکھتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ گزارا جائے۔۔۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح کو علانیہ کرو، اور اسے مسجد میں انجام دو اور دف بجاؤ۔” (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف دو افراد کا باہم رشتہ قائم کرنا نہیں، بلکہ معاشرت میں ایک پاکیزہ تعلق کو واضح اور اعلانیہ بنانا بھی ہے۔ اگر نکاح چھپایا جائے تو نہ صرف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں بلکہ بعض اوقات بڑے فتنوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ایک اسلامی حکمت ہے تاکہ معاشرتی نظام سلامت رہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور شفافیت قائم ہو اور بے جا قیاس آرائیاں نہ پھیلیں۔۔۔۔

    لیکن ساتھ ہی میں اس رویے کی مذمت کرتی ہوں کہ سلیبرٹیز کی ذاتی زندگی، ان کی فیملی اور بالخصوص ان کی اولاد کے بارے میں زبان درازی یا منفی گفتگو نہ کی جائے۔ میں دوبارہ اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں کہ کسی کی اولاد کو اچھا یا برا کہہ کر جج کیا جائے یا ان کی تربیت پر طعن کیا جائے۔۔۔۔
    اولاد کسی بھی انسان کا سب سے نازک معاملہ ہوتی ہے اور ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو بہترین تربیت دے۔ ہم ظاہر کو دیکھ کر کسی کے معاملات کے اندرونی پہلوؤں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے، اس لیے کسی کی اولاد کے کردار یا تربیت پر گفتگو کرنا بدگمانی اور غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کی نوک کی تراش خراش نرمی سے کریں۔۔۔۔ اور دوسروں کے نجی معاملات میں تنقید سے پرہیز کریں۔ اصلاح اگر کرنی ہو تو اصولوں پر بات کی جائے، افراد کی ذاتیات میں اتر کر نہیں۔ یہی اسلامی اخلاق اور مہذب معاشرت کا تقاضا ہے۔۔۔۔!!!

  • ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    اسلامی جمہوریہ پاکستان، وہ عظیم ریاست جسے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا، آج مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،ایک ایسا ملک جہاں کبھی خوشحالی کے خواب دیکھے جاتے تھے، اب ہر طرف مایوسی کے سائے چھا چکے ہیں،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے،پہلے کے ادوار میں اگرچہ مشکلات تھیں، مگر ہر طبقے کے افراد کسی نہ کسی طرح اپنا نظام زندگی چلا لیتے تھے،آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقے کے افراد، بلکہ خوشحال خاندان بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تڑپتے نظر آتے ہیں،معیشت زوال پذیر ہے اور ہر گزرنے والا دن عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے حکمران، جو عوام کی بہتری کے وعدے لے کر اقتدار میں آتے ہیں، خود عوامی مسائل کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں،ان کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی، مگر بدانتظامی اور خود غرضی کے سبب ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا،اگر وہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے

    آج ملک میں صرف انسان کی جان ہی ارزاں رہ گئی ہے،زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو چکی ہے۔ وہی روٹی، جو کبھی پانچ روپے میں دستیاب تھی، اب پچیس روپے میں ملتی ہے،روزمرہ کی اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،غربت اور بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ محنت کش، جو اپنی عزت نفس کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے
    آخر اس کمر توڑ مہنگائی میں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟
    یہی صورتحال ہمیں صلاح الدین ایوبی کے اس دردناک قول کی یاد دلاتی ہے:
    "جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے، وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں: عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔”
    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اصلاح احوال کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب حالات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے سنجیدگی سے معیشت کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے.
    کیونکہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیائی نقشوں پر باقی رہ جاتی ہیں دلوں میں نہیں

  • پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس کے رویوں میں بہتری اور رشوت کے خاتمے کیلئے مختلف تجربے کیے جاتے رہے کبھی وردی کا رنگ تبدیل کیا گیا تو کبھی چار، چھے ماہ بعد آئی جی کی تبدیلی لیکن نہ تو پولیس کے رویے بہتر ہوسکے اور نہ ہی رشوت کلچر کا خاتمہ۔ پی ٹی آئی کی بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پولیس احتساب سے بالا تر مخلوق بن چکی ہے۔ ناکوں پر تعینات پولیس والوں کو دیکھ کر تحفظ سے زیادہ لٹنے کا احساس ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ خطرناک اور شرمناک پہلو یہ تھا کہ پولیس افسران عوامی تحفظ کے اصل کام کی بجائے سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں میں پڑ کر ٹک ٹاک سٹار بننے پر لگے ہوئے تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کی غیر قانونی سیلف پروجیکشن پر پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریٹک مارشل لاء کا خاتمہ کرتے ہوئے عوامی طرز حکومت کی طرف پیش قدمی کی۔
    مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی محکمہ پولیس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے پر توجہ مبذول کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، قیام امن اور بہترین سروس ڈیلیوری کیلئے محکمہ پولیس کیلئے ”کی پرفارمنس انڈیکیٹرز“ (KPIs)متعارف کروائے۔ مریم نواز نے اس بنیادی مرض کو بھی سمجھ لیا کہ نمبر گیم اور سب اچھا دکھانے کیلئے پولیس مقدمات کا اندراج ہی نہیں کرتی اس لیے وزیراعلیٰ نے سختی سے ہدایات کیں کہ جعلی نمبر گیم کیلئے عوام کو مقدمے کے اندراج کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ مریم نواز کے عوامی طرز عمل کے باعث عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ اگر پولیس کی کسی بھی زیادتی کی شکایت وزیراعلیٰ آفس تک پہنچ جائے تو اس پر فوری کاروائی ہوتی ہے۔ اس اعتماد سازی کو پختہ اور فیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ایڈیشنل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر سیف انور جپہ کا ہے جو وزیراعلیٰ آفس میں آنے والی ہر شکایت کو ذاتی حیثیت میں ”فالو“ کرتے ہیں اور گھنٹوں اور دنوں میں دادرسی کو ممکن بناتے رہے ہیں، اسی بے مثال کرگردگی کی وجہ سے سیف انور جپہ کو سپیشل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس تعینات کردیا گیا ہے تاکہ اور موئثر انداز میں عوامی شکایات کا ازالہ اور پولیس کو عوام دوست پولیس بنایا جاسکے۔ ماضی میں لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس کی سیٹ پر جونئیر پولیس افسران کی تعیناتی سے پولیس کے جرائم فائلوں میں دب جاتے تھے اور حکمرانوں تک سب اچھا کی جعلی رپورٹس جاتی تھیں جس وجہ سے پولیس میں بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ چکیں تھیں۔
    لاہور پولیس میں کڑے احتساب، ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کی عوام کیلئے بنا سفارش اوپن ڈور پایسی کی وجہ سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران خان، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل اور آرپی او گوجرانوالہ طیب حفیط چیمہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔
    پنجاب میں مجموعی امن عامہ کے قیام، کریمینل گینگز کے خلاف آپریشن کلین اپ اور قانون شکن عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کارروائیوں کیلئے کرائم کنڑول ڈیپارٹمنٹ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت اور بہترین فیصلہ ہے۔ پنجاب کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر کرپٹ افراد کے خلاف قابل زکر کاروائیاں کرنے اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنانے والے سہیل ظفر چٹھہ اور وقاص حسن کی قیادت میں بننے والی سی سی ڈی پنجاب کو جرائم فری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے تحت تھانوں کے روایتی کلچر کو عوامی خدمت مراکز میں تبدیل کیا۔ عالمی معیار کے سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس اسٹیشنز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو ضروری خدمات برق رفتاری سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ پولیس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں، نائٹ ویژن ڈرون سمیت جدید تقاضوں کے عین مطابق ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ خدمت مراکز پر ایک چھت تلے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویری فکیشن، وہیکل ویری فکیشن، گمشدگی رپورٹ، کرائم رپورٹ، خواتین کی قانونی راہنمائی، ایف آئی آر کی نقول، کرایہ داری اور گھریلو ملازمین کے اندراج، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خدمات فراہم کی گئیں۔

    پنجاب کو جرائم اور کرپشن فری صوبہ، پولیس کو کرپشن اورجرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے کیلئے مجرموں سے ساز باز کرنیوالے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کوسزائیں دے کر مثال بنایا جارہا ہے، سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب احمد عزیز تارڑ پراسیکیوشن محکمہ کی مکمل اوورہالنگ اور مضبوطی پر کام کررہے ہیں تاکہ ہر طرح کے عدالتی مقدمات میں حکومت پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ٹریفک پولیس کی کارگردگی ابھی تک زیرو ہے خاص طور پر لاہور میں تیز فلیشر لائٹ، بنا نمبر پلیٹ رکشوں، گاڑیوں اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔

  • کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    زندگی انمول ہے۔زندگی پیدا ہونے سے شروع ہوتی ہے ۔اور اس کا اختتام موت سے ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر نظر ثانی کی ہے۔ کیا زندگی بادشاہی ہو یا فقیری میں ہی گزاری ہو۔کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا۔ یہ سوال ہر بنی نوع انسان کو خود سے کرنا چاہیے۔اگر مجھ سے پوچھیں تو کیا ہم مال و دولت عیش عشرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نکل پائے۔ کیا اللّٰہ پاک رب العالمین کے احکامات کے مطابق ہم نے زندگی گزاری؟ ہمارا مقابلہ مال و دولت اور آسائش میں آگے بڑنا نہیں ہے۔ بلکہ بحثیت اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے نیک کاوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہی انسانیت یہی اصل زندگی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ شائد اس زمانے کے لیے لکھا تھا۔ ،،نیکی میں جو کام نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے، اس بے فیض سنگی سے بہتر یار اکیلے،، کچھ عرصہ قبل تک ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوا کرتی تھیں، روزمرہ کے کام کاج اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقے ، ہماری روٹین سب کچھ ایسا تھا جس میں ہم خود کو پُرسکون محسوس کرتے تھے ، ہمارے اردگرد کے لوگ اور اب کی صحبتیں ایسی ہوا کرتی تھیں جس سے ہم اور ہمارے پیارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے، مثال کے طور پر، مل جل کر رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے پیاروں اور آس پاس بسنے والوں کا خیال کرنا، بڑوں کی عزت و احترام اور چھوٹوں سے پیار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ حیات میں تلخی ہے مگر خیر چل زری شکوہ جو تُو کرے، تو خدا روٹھ جائیگا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ہم دورِجدید میں داخل ہوتے گئے، نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف ہر سُو افراتفری کا عالم ہے جہاں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہر شخص بے سکونی میں مبتلا ہے سب کے پاس زندگی گزارنے کی تمامتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی بے چینی کی کیفیت طاری ہے، یہاں تک کے نماز ادا کرنے میں بھی ہر شخص جلدبازی کر رہا ہے ۔ لوگ نماز کی اہمیت بھول رہے ہیں اور بس اس فرض کو بھی کسی صورت سر سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں.. اس دنیا میں رہتے ہوئے ۵ منٹ کی نماز ادا کرنے گھر کے ساتھ تعمیر کی گئی مسجد میں جایا نہیں جاتا اور مرنے کے بعد ہم جنت کے طلبگار ہیں ۔۔ زمانہ بھی کیا سے کیا ہوگیا، بھلا کر انسانیت خدا سے جدا ہوگیا، ہماری کچھ عرصے پہلے کی زندگی میں ہمارے حال کی نسبت کافی حد تک فرق تھا ،اور وہ فرق ایسے تھا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی بہت بہترین طریقے سے بسر کر رہے تھے، ہر کام کے لئے مکمل فرصت تھی، گھر کے سب کام وقت پر ہوتے تھے سب کے پاس اپنے پیاروں کو دینے کے لئے ڈھیروں محبتیں ہوتی تھیں ۔۔

    اس دور میں اتنی مشینری بھی میسر نہ تھی اس کے باوجود بھی کام اپنے مقررہ وقت پر ہوجاتے تھے ۔۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اُس محنت اور لگن سے کام کرنے والے دورہِ حیات میں جب ہم خوش اسلوبی سے جی سکتے تھے تو آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں جی پاتے ؟؟ جبکہ ابھی تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اعلی سے اعلی مشینری بھی موجود ہے ۔۔ دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا میرے خیال میں وہ دور ہی سنہرا تھا ۔۔ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دلوں میں گنجائش پیدا کریں کسی کی بات کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کریں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر محسوس کرنا سیکھیں تو انشاءاللہ اس دور میں بھی پرسکون زندگی گزار سکیں گے ۔

  • شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہر دلعزیز اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے انچاس برس بیت گئے لیکن وہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے اپنے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    منور ظریف 2 فروری 1940 ء کو گوجرانولہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے صرف 36 سال عمر پائی ۔ آج سے ٹھیک انچاس برس قبل فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ اپنے کیریئر کے عروج میں ہی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔
    منور ظریف نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 ء میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان فلم انڈسٹری پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پچاس برس بیت گئے لیکن ان کی خود ساختہ اداکاری اور ان کے فی البدیہ جملوں کی برجستگی کی آج بھی دنیا معترف ہے ۔
    دنیائے ظرافت میں یوں تو رنگیلا ، معین اختر ، ایم اسماعیل ، زلفی ، نرالا ، خلیفہ نذیر ، دلجیت مرزا ، علی اعجاز ، ننھا اور اداکار لہری نے خوب نام کمایا لیکن جو نام اور مقام منور ظریف کا ہے وہ کسی اور کامیڈین کا نہیں ہے ۔
    اپنے فنی سفر کا آغاز انہوں نے فلم ” اونچے محل” سے کیا ، جس میں انہوں نے مزاحیہ کردار ادا کر کے حاضرین و ناظرین کی خوب داد سمیٹی اور اس کے بعد ان کی ایک پنجابی فلم ڈنڈیاں اور چاچا خواہ مخواہ منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد تو ایک سے بڑھ کر ایک فلم اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، جس میں پیار کا موسم ، بہارو پھول برساؤ ، استاد شاگرد ، چکر باز ، دیا اور طوفان ، بد تمیز ، ہتھ جوڑی ، زمیندار ، ہیر رانجھا ، زینت ، نمک حرام ، پردے میں رہنے دو ، دامن اور چنگاری ، رنگیلا اور منور ظریف ، بدلہ ، ملنگی ، چڑھدا سورج اور بابو جی جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں ۔
    ابتدا میں منور ظریف کو چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کو ملے ، لیکن جلد ہی منور ظریف نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جگہ ان بڑے بڑے اداکاروں میں بنا لی جن کا اس دور میں ایک نام تھا ۔
    اپنے مخصوص انداز ، لب و لہجے اور منفرد کام کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی فلم انڈسٹری پر اپنے کام کے گہرے نقوش چھوڑے ۔ فیس ایکسپریشن ، باڈی لینگوئج ، برجستہ کلمات کی ادائیگی اور اپنے منفرد لب و لہجے سے انہوں نے شہنشاہِ ظرافت کا خطاب اپنے نام کیا ،

    منور ظریف مزاحیہ اداکاری کی ان تمام جملہ اصناف میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔
    منور ظریف جب بھی پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو حاضرین و سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا جو ملکہ منور ظریف کو حاصل تھا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
    اپنے سولہ سالہ فلمی کیریئر میں منور ظریف نے لگ بھگ 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا ۔
    ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لئے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان موجود ہوتا ۔ ان کے پرستار ان کی ہر ادا اور ہر ڈائیلاگ پر جھوم جھوم جاتے ۔
    منور ظریف ایک حیرت انگیز مزاحیہ اداکار تھے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے جیسا اداکار دور دور تک نظر نہیں آتا ۔

    منور ظریف سمیت ان کے بھائیوں نے فلمی دنیا میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے لیکن جو کامیابی ظریف اور منور ظریف کے حصے میں آئی وہ باقی تین بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی ۔
    50 کی دہائی میں اداکار ظریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے جو شہرت حاصل کی منور ظریف نے اس سے کئی گنا زیادہ شہرت و مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔
    منور ظریف دنیائے ظرافت اور لالی وڈ سینما کا وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔
    لالی وڈ انڈسٹری چاہ کر بھی کوئی منور ظریف ثانی پیدا نہیں کرسکی ۔
    منور ظریف کا کوئی گیت یا کوئی کلپ سامنے آ جائے تو ہم اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتے ۔
    دنیائے ظرافت کا بے تاج بادشاہ منور ظریف اپنی حرکات و سکنات اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔
    منور ظریف کے کیریئر میں چند ایک ایسی فلمیں بھی ہیں جن کے ذکر کے بغیر ان کے فنی سفر کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ، جن میں جیرا بلیڈ ، نوکر ووہٹی دا ، اج دا مہینوال ، بنارسی ٹھگ اور فلم خوشیا شامل ہے ۔ ان فلموں میں منور ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا ۔
    منور ظریف کی فلم ” نوکر ووہٹی دا ” کو بھارت نے بھی کاپی کیا ، جس میں بھارتی اداکار دھرمیندر نے منور ظریف کا کردار ادا کیا ۔
    بعد میں دھر میندر نے اعتراف بھی کیا کہ وہ منور ظریف جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    منور ظریف ہر سال اوسطاً 20 سے زائد فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ہر فلم میں ان کا انداز دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ۔ انہوں نے کبھی خود کو مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ہیرو ، ولن اور سائیڈ ہیرو کے کردار میں بھی جلوہ گر ہوئے ۔
    منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گیت فلمائے گئے ۔
    منور ظریف اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی انجمن تھے ، ایسے باصلاحیت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔
    فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کر کے صرف 36 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا ۔
    اللّٰہ تعالیٰ منور ظریف کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

  • ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    یہ ایک اہم نقطہ تھا جو اکثر خاندانوں میں مسئلہ جس پر مجھے لکھنا مناسب لگا۔ لیکن اس عنوان کو اکثر ہلکل پھلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کزن کا مطلب ہی نہیں جانتے میں ایک بار اپنے عزیز و اقارب کے رشتہ داروں کے پاس گیا! وہاں کزن کا ذکر چھڑا تو انہوں نے برا منایا پھر میں نے بتایا کہ بھئی یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے ہمارے دور پار کے بہن بھائیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ پھر کزن سسٹر اور کزن پر بحث ہوتی رہی کہ کزن سسٹر جو ہے چچازاد ہے اور کزن ماموں پھپھو خالہ زاد میں نے کہا بھئی نظریہ ہے ورنہ خالہ زاد اور دوسرے کزنز کو بھی بہن بھائی کہتے ہیں۔ پھر فرسٹ سکینڈ تھرڈ کزنز پر بات ہونے لگی۔ میں نے بتایا کہ یہ بھی نظریہ ہے حقیقت نہیں کزن کزن ہی ہوتا ہے اکثر ہم کزنز کے ساتھ فرینک ہونے لگ جائیں تو ہم پر شک کیا جاتا ہے اور چچازاد پر نہیں۔ بات محبت کی ہے تو محبت تو کچھ بھی نہیں دیکھتی اور کزنز کا رشتہ دوستانہ ہے یہ انجیل بتاتی ہے کہ یوحنا یسوع کا خالہ زاد تھا۔ محبت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے ہم روک نہیں سکتے جہاں ہونی ہوتی ہے ہو جاتی ہے! ایک مثال ہے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ ہے جو کہ بہن بھائی کی شادی بھی کر دیتا ہے تو کیا ہم ان سے بھی پرہیز کریں ؟ لیکن قانون قدرت ہے کہ ان رشتوں میں ویسی محبت نہیں ہوتی اگر ہو تو ہوس کہلاتی ہے سو مسیحیت میں کزنز میرج نہیں کزن فرینڈ شپ جائز ہے کزن میرج ہماری وہ غلطی ہے جس نے ہمیں نہ صرف شک بلکہ آپس میں دوریاں رکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اور یہ تو میڈیکل میں بھی غلط ہے اور خروج میں بھی لکھا ہے

    یورپ میں ہر رشتے کا دن منایا جاتا ہے ہر جنس کا بھی چوبیس جولائی کو کزنز ڈے بھی منایا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ان کا اور ہی مطلب لیا جاتا ہے
    ” تو اپنے کسی قریبی رشتے دار کے پاس نہ جانا خواہ وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی کیونکہ وہ تیرا اپنا خون ہے ” خروج 17 باب ” اور لفظوں پر غور ضرور کریں لیکن انکی پکڑ سے گریز کریں کیونکہ وہ ہمارے بس میں نہیں اور بچوں کی چھیڑ چھاڑ نہ کیجئے کیونکہ اس سے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرد و عورت کا ایک ہی رشتہ ہے اور عشق انتہا ہے اس لیے صرف خدا سے ہے
    ” فی امان اللہ "

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سری نگر, پہلگام حملے کے بارے میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے واقعات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکورٹی ذرائع مودی انتظامیہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے "جھوٹے فلیگ آپریشن” کا نام دے رہے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق، ایف آئی آر – پہلگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی – ان تضادات کو ظاہر کرتی ہے جس سے حملے کی صداقت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن مبینہ واقعہ کی جگہ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ دوپہر 1:50 سے 2:20 کے درمیان ہوا، لیکن حیران کن طور پر، ایف آئی آر سرکاری طور پر صرف 10 منٹ بعد 2:30 بجے درج کی گئی۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ غیر معمولی طور پر تیزی سے ایف آئی آر کا اندراج پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، ایف آئی آر میں نامعلوم "سرحد پار دہشت گردوں” کو مجرم قرار دیا گیا ہے – ایک بیانیہ جو ہندوستانی حکومت اکثر بیرونی عناصر سے حملوں کو منسوب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایف آئی آر میں اس حملے کو اندھا دھند فائرنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے اسے مسلسل "ٹارگٹ کلنگ” کے کیس کے طور پر بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں استعمال کی گئی اصطلاحات، بشمول "غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے مشتبہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر کی رہائی نے مبینہ طور پر پہلگام کے جھوٹے فلیگ آپریشن کو سیاسی جوڑ توڑ کی ایک ناقص کوشش کے طور پر بے نقاب کردیا ہے، جس کا مقصد ایک اسٹریٹجک بیانیہ کے طور پر تھا جسے مودی حکومت کے لیے قومی شرمندگی میں بدل دیاہے۔بھارتی حکومت کی جھوٹ پر مبنی پالیسیوں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ اس بار مقام ہے مقبوضہ کشمیر کا خوبصورت مگر زخم خوردہ علاقہ "پہلگام” اور وقت ہے 22 اپریل 2025۔ کہنے کو یہ ایک عام دن تھا لیکن چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی پنڈت ایک طوفان برپا کر چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام میں "سرحد پار سے آئے دہشت گردوں” نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایف آئی آر سامنے آئی جو اس سارے ڈرامے کی حقیقت کو نہ صرف بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد سیاسی مفادات سمیٹنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور جھوٹے دعوے نئی بات نہیں۔ لیکن اس بار ایف آئی آر ہی نے مودی سرکار کا پردہ چاک کر دیا۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے جو ایف آئی آر درج کی گئی، اس میں وقت، ردعمل، اور الفاظ کے انتخاب نے سیکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 پر شروع ہوا اور 14:20 پر ختم ہوا۔ حیرت انگیز طور پر صرف دس منٹ بعد یعنی 14:30 پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 6 کلومیٹر دور پولیس اسٹیشن تک اطلاع پہنچی، وہاں سے ٹیم آئی، جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، رپورٹ تیار کی گئی اور صرف دس منٹ میں مکمل ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ یا پھر یہ سب کچھ پہلے سے ہی تیار شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا؟ یہ پہلے سے لکھی کہانی تھی؟ایف آئی آر کے متن میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ایک "ریہرسل شدہ” اسکرپٹ تھی۔ ’’نامعلوم سرحد پار دہشت گرد‘‘، ’’بیرونی آقاؤں کی ایماء‘‘، ’’اندھا دھند فائرنگ‘‘ جیسے الفاظ چند منٹ میں کسی سپاہی یا محرر کے ذہن میں نہیں آتے جب تک انہیں پہلے سے لکھا نہ گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ ایسے فالس فلیگ آپریشنز سے بھری پڑی ہے جنہیں یا تو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا یا پھر کسی سفارتی دباؤ سے بچنے کے لیے۔یہ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے،اب سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کو اس فالس فلیگ سے کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب بھی ایف آئی آر کے فوراً بعد سامنے آ گیا۔ بھارت نے اگلے ہی روز سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی ایک دن پہلے پہلگام میں "حملہ”، اگلے دن "معاہدہ معطل”۔ یہ واضح ہے کہ فالس فلیگ حملے کو بنیاد بنا کر ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا ہمیشہ سے مودی سرکار کا ترجمان رہا ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے بغیر تحقیق کے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر ڈال دیا۔ حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹا ایف آئی آر کی زبان اور جلدبازی نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا۔ ایک طرف ایف آئی آر میں "اندھا دھند فائرنگ” کا ذکر ہے، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اسے "ٹارگٹڈ کلنگ” کہہ رہا ہے۔ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کہیں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار تھا۔ یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی دوران بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ کا ناٹک رچا کر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے، مظلوم ہے، اور پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ایف آئی آر کی قبل از وقت تیاری اور اس میں شامل الفاظ نے ان کا بیانیہ زمین بوس کر دیا۔تاریخی جھوٹ اور فالس فلیگز ،یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پٹھان کوٹ، اوڑی، اور پلوامہ جیسے واقعات میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد تو باقاعدہ الیکشن جیتنے کے لیے فضائی حملہ کیا گیا، جس میں نہ کوئی ہلاکت ہوئی، نہ نقصان۔ بس ایک درخت گرا۔ آج تک دنیا بھارت سے سوال کرتی ہے کہ پلوامہ میں آخر کیا ہوا تھا؟ اور اب پہلگام اس جھوٹ کی تازہ ترین قسط ہے۔پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ اس کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا یہ نیا ڈرامہ دراصل اصل مسئلے یعنی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ عالمی برادری کے سامنے لائے، صرف الزامات کافی نہیں۔کشمیری عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پر مسلط حکمران جھوٹ کے کتنے ماہر ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں نے جس انداز میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ قابل ذکر ہے۔ ’’یہ حملہ ہم پر نہیں، ہماری سچائی پر ہے‘‘ جیسے جملے وائرل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ ان کا اصل مجرم کون ہے اور اصل نجات کہاں سے آئے گی۔

    پہلگام واقعہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، شفاف تحقیقات، اور امن کی دعوے دار ہے تو اسے اس واقعے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ فالس فلیگ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے جائز تصور کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خطرناک مثال بنے گی۔

    پہلگام فالس فلیگ واقعہ مودی حکومت کے لیے ایک نیا ہتھیار ضرور تھا، مگر ایف آئی آر کی جلد بازی نے اس ہتھیار کو خود انہی کے خلاف استعمال کر دیا۔ اب نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان جان چکے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر جھوٹ کے پہاڑ پر چڑھ کر خود ہی پھسل گیا ہے۔ ایسے جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ آج اگر ایف آئی آر ہی نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، تو کل کوئی عالمی فورم ان کے خلاف فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ فالس فلیگ کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، اور سچائی کی کرنیں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں