اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضہ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ اس کا منکردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام کتب حدیث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نہیں ‘‘ ۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہے جب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے اور تمام منہیات سے پرہیز کیا جائے ورنہ انسان حج وعمرہ کے ا جروثواب سے محروم رہے گا ۔ حج وعمرہ ایسی عبادت ہے جس میں انسان بڑی مقدار میں مال بھی صرف کرتا ہے ۔ نقل وحرکت بھی کرتا ہے اور شدید قسم کی جسمانی سعی ومشقت بھی کرتا ہے ۔ اسلئے حج وعمرہ میں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ انسان انھیں سنت طریقے کے مطابق بجالائے ۔ ان عبادات کا جتنا اجر وثواب ہے ان کے بجالانے میں احتیاط بھی اسی قدر ضروری ہے ۔ حج وعمرہ کے ثواب میں رسول اللہ ﷺ سے بے شمار احادیث موجود ہیں جن سے ان عبادات کی اہمیت وفضیلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حج وعمرہ کیلئے جانے والے اکثر لوگ ان کے بجالانے میں بہت سی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے ارکان حج وعمرہ کے رائیگاں جانے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب تیار کی ہے ۔ یہ کتاب حجم میں جتنی مختصر ہے موضوع کے اعتبار سے اتنی ہی اہم ہے ۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس میں شامل عنوانات سے کیا جاسکتا ہے ۔مثلاََ : ارکان حج کتنے ہیں ؟ فرائض حج کون کون سے ہیں ؟ اقسام حج کتنے ہیں ؟ مردوں اور عورتوں کے لیے احرام حج کی پابندیاں کون سی ہیں ؟وہ کون سے ایسے کام ہیں جو احرام کی حالت میں کیے جاسکتے ہیں ؟ کوئی شخص احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو اس کی تدفین کیسے کی جائے ؟ میقات پر کیا جائے ؟ مکہ کی طرف روانگی کے تقاضے کیا ہیں ؟ مسجد الحرام میں کیسے داخل ہواجائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے ؟ مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟ صفا ومروہ کی سعی کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حلق یعنی ٹنڈ کروانے کے احکامات کیا ہیں ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے اور دوران طواف کیا پڑھا جائے ؟مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟منیٰ کی طرف روانگی ( آٹھ ذی الحجہ ) کے دن کرنے والے کام اور دعائیں ؟ منیٰ پر پہنچے کے بعد کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ میدان عرفات(9ذی الحجہ ) میں کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ مزدلفہ میںرات کیسے گزاری جائے ، اس کے آداب ، تقاضے اور دعائیں ؟ یوم النحر ( 10ذی الحجہ ) والے دن کیا کیا جائے ؟ ایام تشریق ( 11,12,13ذی الحجہ ) میں کرنے والے ؟ طواف وداع اور اس کی دعائیں ؟ حج اکبر کا کیا مطلب ہے ؟ مسجد نبوی شریف کی زیارت کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھاجائے ؟ مسجد قبا اور بقیع قبرستان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھا جائے ؟ حج یا عمرے سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کے معمولات کیا تھے ؟ ۔ ان عنوانات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اپنے ایک جامع اور رہنما کتاب ہے ۔ حجم میں بالکل مختصر ہے اسے دوران سفر ساتھ رکھنا آسان بھی ہے ۔کتاب کی قیمت 200روپے ۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ باتصویر ہے جس سے حج وعمرہ کی عبادات بجا لانا بالکل آسان ہوگیا ہے ۔ لہذا اب جبکہ حج مبارک کی تیاریاں جاری ہیں حج پر جانے والے تمام مردو وخواتین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب کے علاوہ ’’ مسنون عمرہ ، مکمل طریقہ ، فضیلت وآداب اور دعائیں ‘‘ کے نام سے ایک اذکار کارڈ بھی دستیاب ہے ۔ یہ کارڈ بھی بہت جامع اور نافع ہے ۔ عمرہ کے خواہشمند احباب کے لیے اس کارڈ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔
Author: باغی بلاگز
-

ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی
سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
اپنی منزل سے مل نہ سکا!
مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
اک پل میں مسل ڈالا تم نے
روئیں گے بدن کے زخم میرے
جب روح کے زخم دکھاؤں گا
میں خدا کو بتاؤں گا
میں خدا کو بتاؤں گا
جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
"عمر کو انصاف دو ۔” -

سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی
باتیں جمہوریت کی سیاست مفادات کی
پاکستانی سیاسی گلیاروں کا المیہسیاسی گلیاروں میں اصولوں کے دعوے، مگر عملی رویے مفادات کے تابع
تجزیہ شہزاد قریشی
بقولِ شاعر:
چلن سب کا ہے کوفیوں جیسا،
باتیں حسینؓ کی کرتے ہیں”
آج اگر پاکستان کے سیاسی گلیاروں پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ سیاسی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اصولوں، اخلاقیات اور قومی مفاد کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی سیاست کا منظر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ الزامات، کردار کشی، ذاتی دشمنیاں، ویڈیو و آڈیو سکینڈلز اور اقتدار کی بے رحم کشمکش نے سیاست کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بنا دیا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام سیاسی شور شرابے میں نہ جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی سیاسی کلچر میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی یا ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کا مقصد قوم کی رہنمائی نہیں بلکہ صرف اقتدار تک رسائی رہ گیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں مؤثر تھنک ٹینک کا شدید فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس ماہرین، دانشوروں، معیشت دانوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ٹیمیں ہوتی ہیں جو مستقبل کی حکمتِ عملی، قومی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی سیاسی فائدے، جذباتی نعروں یا شخصیات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاست میں برداشت کم اور انتشار زیادہ نظر آتا ہے۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت کمزور، اختلافِ رائے ناپسندیدہ اور میرٹ اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب سیاسی قیادت اپنے اندر فکری تربیت، پالیسی سازی اور نظریاتی استحکام پیدا نہیں کرے گی تو جمہوریت محض انتخابات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ فکری سیاست کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جو قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے، نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ امید دے، اور اقتدار کے کھیل سے نکل کر قومی تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ ورنہ “باتیں حسینؓ کی” اور “چلن کوفیوں جیسا” والا طعنہ ہمارے سیاسی رویّوں پر مسلسل چسپاں رہے گا۔ -

ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی
شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔
مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔
انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔
حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔
پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
"بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
"بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
"میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔” -

اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان
اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی، کتے مارنے کی کمائی اور بے بس عدلیہ،جھاڑو سے پیسے اکٹھا کرتا ستھرا پنجاب
وزیراعلی نوبل انعام لے سکتی تھیں لیکن نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے انہیں بد دعائیں مل رہی ہیں۔ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے کتے مارنے پر لگائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے پر اجاڑے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں ؟سینٹری ورکرز اور درجہ چہارم کے ملازمین سمیت پرائیویٹ افراد کو کتے مارنے پر لگا دیا گیا، ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک فی کتا پیسے چارج کیے جا رہے ہیں جب کتے مارنے پر پیسے ملیں گے تو قاتل گھروں میں گھس کر بھی زہر دے دیں گے۔ اس کتا مار مہم میں بھی بیوروکریسی اربوں روپے ڈکار رہی ہے۔
کرپشن میں غرق افسران، صرف پیسہ لوٹنے کے لیے وحشی درندے بن گئے ہو، ظالمو، سفاک قاتلو یہی پیسہ تم ویکسینیشن اور شیلٹر ہوم کی کرپشن سے بھی کما سکتے تھے۔ ساری گیم تو پیسے کی ہے ڈی سیز کو خدشہ تھا کہ Strychnine زہر کی طرح ویکسینیشن میں بھی سینٹرل پرچیز والے کما جائیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریونیو میں تھوڑا پیسہ کما رہے ہو جو ان معصوموں کو قتل کر کے نوچ رہے ہو، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کتنا پیسہ چاہیے تمہیں، چھوٹی سے چھوٹی تحصیل اور ضلع میں بھی کچھ نہ کر کے بھی "آٹو سیٹ” رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دنوں میں امیر ہو جاتے ہو، ضلعی جوڈشری کو مفلوج کر کے اے ڈی سی آر کو فائنل اتھارٹی بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ "سپیڈ منی” ریٹ 20 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک چل رہا ہے۔اے ڈی سی آر کے منہ کھل گئے ہیں فوری کیس کا حل چاہتے ہو تو اتنے فیصد لاؤ، ساتھ دھمکاتے بھی ہیں کہ یاد رکھو میرا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہے۔
میڈیا پر فخر سے ڈرامہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اتنے فیصلے کیے جبکہ حقیقت میں کیسز کے فوری حل کے پیچھے "سپیڈ منی” کا فگر اتنا بڑا ہے کہ لوکل کیلکولیٹر پر پورا نہیں آ سکتا اہم ضلع کے اے ڈی سی آر کا ڈائلاگ مشہور ہو چکا ہے کہ یہاں کام کروانا ہے تو حصہ دینا ہوگا پچھلا ایماندار تھا تو اس نے دو سال میں کسی کا کام بھی نہیں کیا۔
اے ڈی سی آر کو عدالتی اختیارات دینا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ غریب کی کمائی کا 20 سے 50 فیصد تو "سپیڈ منی” میں اے ڈی سی آر لے جاتا ہے کمائی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع کے اے ڈی سی آر مل کر پی آئی اے خرید سکتے ہیں۔ اختیارات میں اضافے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ڈپٹی کمشنر معزز شہریوں سے انتہائی بدتمیزی اور حقارت سے بات کرتے ہیں۔
ایسے میں چند لاکھ کی کرپشن کرنے والے اے ڈی سی جی کو مال بنانے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا ایم سی ایل والے بھی ریڑی اور تجاوزات سے پیسہ اکٹھا کر کے تھک گئے تھے اس لیے کتے مارنے کی کمائی کا نیا راستہ آسان منزل لگا، ویسے ستھرا پنجاب والے صفائی کریں نہ کریں لیکن جتنا مال بنا رہے ہیں انہوں نے جھاڑو کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرنے والی مثال سچ کر دکھائی تفصیلات اگلے کالم میں۔سارے افسران کرپٹ اور بدتمیز نہیں ہوتے بہت سارے اچھے افسران بھی ہیں چند کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو واقعی دیانت اور اخلاقی اقدار میں قابل تقلید ہیں۔
عدالتی احکامات کے باوجود سرعام کتوں کے قتل پر توہین عدالت کی کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟
روز قیامت ان معصوم و مقتول کتوں کی قاتل کے طور پر صرف ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں ہوں گے بلکہ انصاف میں تاخیر کرنے والے ججز ظالم کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے والے دیگر افسران و افراد شدید عذاب میں جبکہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے والے بھی کسی حد تک اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے۔
اگر معصوم کتوں کو قتل کرنے کی بجائے اینیمل قوانین کے مطابق ویکسینیشن کر کے سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا، پنجاب میں "مریم کے مہمان” کے نام سے شیلٹر ہوم بنائے جاتے جہاں پر ان بے گھروں کو گھر اور کھانا ملتا تو آج نہ صرف مریم نواز کو کروڑوں دعائیں ملتی بلکہ انہیں اس نیک کام کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا تھا، کتوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیمیں وزیراعلی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے جانور دوست پالیسی پر مریم نواز زندہ باد کے بینرز لگاتیں۔بے زبان و بے گھر جانوروں کی آواز اور سہارا بننے پر مریم نواز کو یقینی طور پر نوبل انعام ملنا تھا، دنیاوی عزت و اکرام کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب اور اللہ کا خصوصی کرم بھی شامل حال ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے بزدار زدہ بیوروکریسی نے وزیراعلی کو ہیرو بنانے کی بجائے معصوم کتوں کی ملزم بنا کر رکھ دیا۔ ڈی سی سرعام کہہ رہے ہیں کہ ہم وزیر اعلی کے حکم پر کتے مار رہے ہیں۔ میڈم وزیراعلی جانوروں پر ظلم بند نہ کیا گیا تو ان بے گناہوں کی سسکیوں سے دنیاوی اور عارضی بادشاہت کا تخت سرکنے لگے گا، ابھی بھی وقت ہے قتل عام کی بجائے ان کو ویکسینیشن کریں، سایہ دیں، روٹی کھلائیں اور ان کی دعائیں لیں مظلوموں کی آہ اور دعا دونوں ہی عرش سے فرش اور فرش عرش پر پہنچا دیتی ہیں۔
جناب فیلڈ مارشل قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو آپ کا ادارہ محافظ بن کر سامنے آتا ہے آج ان بے زبانوں کو سہارے اور تحفظ کی ضرورت ہے ان معصوم کتوں کا سہارا بنیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس سرزمین پاک کو بے گناہ کتوں کا مقتل نہیں مسکن بنائیں۔
-

پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی
کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔
پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟
کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔
-

مسنون حج وعمرہ ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد
اِسلامی عبادات میں حج کی ایک خاص اہمیت وفضیلت ہے۔ اِسے اِسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں حج کو استطاعت کے ساتھ فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کی درست اور مسنون ادائیگی کو گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میںحج مبرور کی جزا اور صلے میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِسی طرح عمرے کی مسنون ادائیگی پر اس کی فضیلت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حرمِ کعبہ میں ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ اسی طرح حرمِ نبوی کی ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی ہزار نمازوں سے افضل بتایا گیا ہے۔ حج وعمرے کی یہ اہمیت وفضیلت اور اس کے دوران میں اذکار و عبادات کی یہ قدر و منزلت صرف اِسی صورت میں ممکن ہے کہ مناسک حج کو مسنون طریق پر نبوی منہج کے عین مطابق ادا کیا جائے۔ حج کااجروثواب بے مثال ہے بیت اللہ کی زیارت اورحج وعمرہ کرنے کاارمان ہرصاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتاہے۔دنیا کے مختلف اطراف واکناف سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرے کی سعادت کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔جبکہ لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ جوزندگی میں ایک دوبارہی اس سعادت سے مستفیدہوپاتے ہیں۔اسی مناسبت سے سبھی کی آرزوہوتی ہے کہ یہ مقدس فرض قرآن سنت کی تعلیمات کے مطابق اداہوجائے تاکہ عبادات کے بجالانے میں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔اس مقصد کے لئے ہرشخص کوایسی رہنماکتاب کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس میں حج وعمرہ کے احکام ومسائل آسان زبان میں قرآن وحدیث سے بتائے گئے ہوں۔خاص طورپرمحترم خواتین ایسی کتاب کی جستجومیں رہتی ہیں جس میں حج وعمرہ کے دوران ان کے مخصوص مسائل کادینی حل پیش کیاگیاہو۔ ان حجاج کرام اور عمرہ ادا کرنے والے معتمرین کی ایک کثیر تعداد صرف اْردو زبان کے حوالے سے اِسلامی تعلیمات کو سیکھ سکتی ہے۔ اْردو خواں طبقے کی اِسی ضرورت کے پیش نظر دار السلام نے مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد حج وعمرہ کے تمام ضروری، ضمنی اور ذیلی مسائل کے موضوع پر مستند مواد کے حوالے سے ’’مسنون حج وعمرہ … فضیلت واہمیت احکام ومسائل ‘‘ کے عنوان سے تین مختصر مگر جامع کتب تیار کی ہیں۔ان کتب میں حج وعمرہ کے تمام احکام و مسائل قرآن وسنت کی روشنی میں جزئیات سمیت بہ تمام وکمال بتائے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے دوران پڑھی جانے والی اورروزمرہ کی دیگردعائیں بھی درج کردی گئی ہیں۔مزیدبراں تمام مقدس مقامات کونہایت ہی خوبصورت تصویروں اورنقشوں کے ذریعے بخوبی اجاگرکیاگیاہے۔ان کتابوں کی خصوصیات یہ ہیں کہ ان کے تمام مندرجات صرف کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں۔کتابوں میں بفضل اللہ تعالیٰ کسی ایک موضوع یا ضعیف حدیث کا حوالہ نہیں ملے گا، نیز تمام احادیث کی مکمل تخریج بھی کر دی گئی ہے۔ حج اور عمرے کے دوران میں پیش آنے والے تمام مسائل کی اصطلاحات کو حج وعمرے کے مناسک کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ حج وعمرہ کی ادائیگی کے دوران پیش آمدہ مسائل کو مرحلہ وار لکھا گیا ہے۔ان کتب میں خصوصیت کے ساتھ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والے خواتین کے مخصوص مسائل بھی درج کردیے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے مختلف مناسک کے دوران پڑھی جانے والی مسنون دعائوں اور اذکار کو آسان اْردو ترجمے کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔کمسنون دعائیں بھی پیش کی گئی ہیں تاکہ حرمین میں ہمارے شب و روز مسنون دعائوں اور اذکار سے مزین ہو سکیں۔
یہ مستند کتب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر علمائے کرام عمار فاروق سعیدی ، مولانا عبدالصمدرفیقی مرحوم ،مولاناعبدالجبار اورحافظ عبدالخالق جیسے ممتاز محققین نے ترتیب دی ہیں۔یہ کتب تین سائز میں دستیاب ہیں۔۔۔بڑا سائز جو کہ 176صفحات پر مشتمل ہے اس کی قیمت 1000روپے ہے ۔ دوسرا پاکٹ سائز ہے جو کہ باآسانی جیب میں آسکتی ہے اس کی قیمت 430روپے ہے ، تیسری گائیڈ بک ہے جسے باآسانی گلے میں لٹکایا جاسکتا ہے اس کی قیمت 220روپے ہے ۔ تینوں کتابوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور حجم کے اعتبار سے ان میں مسائل بیان کئے گئے ہیں۔یہ تینوں کتب باتصویر ہیں جس سے حج وعمرہ کی عبادات بجالانے میں بہت رہنمائی ملتی ہے ۔ دارالسلام ریسرچ سنٹر کی یہ کتب خودبھی پڑھئے اورعزیزواقارب کوبھی پیش کیجیے تاکہ ہرمسلمان حج وعمرہ کے فرائض مسنون طورپرآسانی اورسہولت سے اداکرسکے اورحج وعمرہ کی عبادات کے ضائع ہونے کاذرہ بھی احتمال نہ رہے۔یہ کتاب دارلسلام کے مرکزی شو روم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
-

خدا کے لیے اب پاکستان کا سوچیں، کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں پر فیصلہ کن وقت،تجزیہ:شہزاد قریشی
قوم کب تک قیمت چکائے گی؟ قومی مفاد کے منصوبوں کو سیاست کی نذر نہ کریں
پاکستان کی خوشحالی کا راستہ ذاتی مفادات نہیں، قومی فیصلے چاہئیں
تجزیہ شہزاد قریشی
کالا باغ ڈیم محض ایک منصوبہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے آبی، زرعی اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ سمجھا جاتا رہا۔ اس پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ قومی نوعیت کے منصوبوں کو صرف سیاسی کشمکش اور وقتی مفادات کی نذر کر دینا قوموں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پانی اور بجلی کے بحران پر بحث کے دوران کالا باغ ڈیم کا ذکر پھر شدت سے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کا سوال بھی محض سیاست نہیں بلکہ انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی اکائیاں بڑھائیں، کیونکہ عوام تک اختیارات اور سہولیات کی رسائی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر فیصلے ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو پاکستان اپنے وسائل اور صلاحیت کے اعتبار سے ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے۔
پاکستان ایک عظیم ملک ہے، جسے قدرت نے بے شمار وسائل، زرخیز زمین، نوجوان آبادی اور بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی معاملات میں ضد، انا اور وقتی سیاست کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ جب قیادت اور سیاسی قوتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچتی ہیں تو قومیں ترقی کی نئی منازل طے کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ قربانی دی ہے، اب وقت اس بات کا ہے کہ فیصلے بھی قوم کے بہتر مستقبل، خوشحالی اور استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان دیکھ سکیں۔
شعر:
وطن کی خیر میں جو اپنی خواہشیں ہارے،
وہی چراغ ہیں جو قوم کے مقدر سنوارے۔ -

انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی
کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔
"میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔
-

دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی
میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
"ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔
دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔
والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔
میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔
کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔
آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔
اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
"وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
اب اس کا حال سنائیں کیا!
اک آگ غمِ تنہائی کی
جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو
پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
تادیر اسے دہرائیں کیا!
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”
مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔
میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔
جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔
بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔
