کچھ عرصے سے دلی کیفیت ایسی ہے کہ کچھ المیے، کچھ سانحے، اپنی جڑیں دل کے ساتھ دماغ میں بھی پیوست کر جاتے ہیں۔ اور کچھ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زیرِ تحریر لانا بھی محال ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جنہوں نے دلی طور پر بہت اداس کر دیا، اور ان گونگے جذبات کو لفظوں کے ذریعے زبان ملتی رہی۔ یقین جانیےبجب کسی کے درد کو تحریر کرتی ہوں تو لفظ خود نشتربن کر مجھے کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ تب سوچتی ہوں کہ اس درد سے گزرنے والوں کے لیے کتنی اذیت ہوتی ہو گی۔
کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں عورتوں، بچوں سمیت 47 شہری شہید اور تقریباً سو زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 20 فوجی جوان بھی شامل تھے۔ کل ہی یکے بعد دیگرے دو واقعات نے دل چیر دیا: ایک بزرگ کو بیوپاری نے نقلی نوٹ دے کر جانور لے لیا۔ جب وہ اشیائے خوردونوش خریدنے گئے تو پیسے جعلی نکلے۔ اس بزرگ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا۔
دوسرا واقعہ یہ کہ ایک ڈرائیور نے جرمانے اور گاڑی ضبطگی کے خوف سے، گاڑی میں بیٹھے اہلکار سمیت کوسٹر کو دریا بُرد کر دیا۔ کوسٹر دریا بُرد ہوئی اور بمشکل دونوں کی جان بچائی جا سکی۔ اور شہر مظفرآباد میں ہی ایک بزرگ نے قربانی کے جانور فروخت کیے۔ سگا بیٹا تین لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا اور بزرگ در بدر سڑکوں پر پھرتے رہے کرایے کے پیسے بھی نہیں تھے۔تہوار ہمیشہ سے ان لوگوں کے لیے مشکل رہے ہیں جنہوں نے اپنے جاں سے پیارے رشتے کھو دیے۔ ہم ہنستے، بولتے، کھاتے پیتے ہیں بس جیتے نہیں۔ عمر راٹھور کے ساتھ انصاف کی دہلیز پر ہونے والی بے انصافی۔ اس کا چہرہ نہیں ہٹتا۔ اس کی تکلیف ان لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو لفظ بیان کر سکتے ہیں۔ پانچ سال میں یہ پہلی عید ہے جس پر مجھے اپنا نوحہ، اپنا دکھ ہی یاد نہیں رہا۔ جب شوہرِ محترم کہتے ہیں کہ “آپ بہت بدل گئی ہو” تو میں ان سے یہی کہتی ہوں:
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا!!
راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!!
آپ سب کو پھر بھی، دل کی گہرائیوں سے، عید الاضحیٰ مبارک ہو۔
